دیوار : افسانہ


”وہ ایجنٹ کا بچہ کئی روز کے سفر کے بعد ترکی اور مشرقی یورپ سے ہمیں کسی صورت مشرقی برلن تک لے آیا تھا۔ اور راستہ بھر تو یہی کہتا رہا تھا کہ بس ادھر سے ایک سٹاپ سے ٹرین پر بیٹھو گے اور کچھ ہی دیر میں ادھر مغربی سمت اتر جاؤ گے۔ وہاں پہنچتے ہی اپنے پاسپورٹ پھاڑ کر اسٹیشن کے واش روم میں بہا دینا اور باہر نکل کر سیاسی پناہ کی درخواست دے دینا۔ مگر وہ خبیث اچانک ہی غائب ہو گیا ہمیں چھوڑ کر ۔ مشرقی یورپ کا باشندہ تھا وہ۔

شاید ہنگری کا یا شاید پولینڈ کا ۔ یہ مشرقی یورپ کے لوگ بڑے فراڈ ہوتے ہیں سر جی۔ بس پھر کسی نہ کسی صورت شہر سے دور جاکر دیوار پھلانگنے کا منصوبہ بنایا۔ اتنی اونچی اور پکی دیوار! میرا دوست علی تو کہتا تھا کہ یہ ضرور جنات نے بنائی ہوگی۔ حالانکہ جنات نے تو دیوار چین بنائی تھی۔ گاؤں میں تو یہی سنتے تھے ہم۔“

میں اس کے بھولپن میں تصنع کی مقدار کو جانچ رہا تھا۔

”تو تم نے جنات کی بنائی دیوار اتنے آرام سے پھلانگ لی۔ تم تو بہت بہادر ہو بھئی۔“ ۔ میں نے بدستور مسکراتے ہوئے اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔

”آرام سے کہاں سر جی۔ بڑی مشکل سے پار کی۔ ہمارے ایک ساتھی کو گولی بھی لگ گئی تھی۔ اس دیوار کے ٹکڑوں پر چمکتے رنگوں میں کسی کے خون کا رنگ بھی ہو سکتا ہے۔ اصل خون کا ۔ دیوار کیا تھی سر جی۔ نری بد دعا تھی کسی کی جو قبول ہو گئی تھی۔ پر مجھے میری امی کی دعا لگ گئی تھی اس لیے میں بچ گیا اور میرے ساتھ میرے دو دوست بھی۔ بس ہم بچ گئے۔ اللہ کا شکر ہے۔“

اب میں اس کی باتیں بھی سن رہا تھا اور ’ہوں، ہوں‘ کرتے ہوئے دیوار برلن کے ٹکڑوں کا جائزہ بھی لیتا جاتا تھا۔

”آپ کیا دیکھ رہے ہیں ان چیزوں کو ؟ کچھ لیں گے کیا؟“ اچانک اس نے پوچھا تھا۔
ہاں، میں سوچ رہا ہوں یہ دیوار برلن کا قدرے بڑا ٹکڑا۔ ”“

”کیا کریں گے آپ وچھوڑے کی یہ نشانی خرید کر ۔ چھوڑیں پرے، سر جی۔ یہ وچھوڑے ڈالنے والی شے نہ ہی ساتھ لے جائیں تو اچھا ہے۔“ اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا تھا۔

”یہ تو ایک تاریخی شے ہے۔ ایک یادگار کے طور پر سجا کر رکھوں گا اس وچھوڑے کی نشانی کو ۔“ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا تھا۔

”وچھوڑا تو دکھ دیتا ہے نا سر جی اور دکھ کی یاد دلانے والی نشانی رکھ کر دکھی کیوں ہونا، خواہ مخواہ۔“ اس کے لہجے میں اداسی در آئی تھی۔ اپنوں سے دوری کے باعث اس کی اداسی کا سبب جاننا میرے لیے مشکل نہ تھا۔ اس بار مجھے اپنی سوچ پر یقین تھا۔

”تو کیا تم سمجھتے ہو کہ جدائی کی یہ علامت جدائی ڈالنے کی کوئی پراسرار قوت رکھتی ہے؟“ یہ کہتے ہوئے جانے کیوں بے ساختہ میری ہنسی نکل گئی تھی۔

”دیواریں تو ہمسائے کو ہمسائے سے دور ہی کرتی ہیں۔“ وہ بولا تھا۔
”ایسا نہیں ہے، دیواریں حفاظت بھی تو کرتی ہیں۔ ہمیں حدود کا احساس بھی دلاتی ہیں۔“

”سرجی۔ یہاں کی بجائے اگر یہ دیوار برلن انڈیا اور پاکستان کے درمیان بنا دی جاتی تو کیسا رہتا؟ کیسا آئیڈیا ہے ویسے؟“

”ان دو پڑوسیوں کے درمیان تو پہلے ہی بہت تلخی بھرے فاصلے ہیں۔ سرحدیں بھی فاصلاتی دیواریں ہی تو ہیں۔“
تو نہیں ہونی چاہئیں دیواریں؟ ”“

”نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ دیواریں اتنی اونچی نہیں ہونی چاہئیں کہ ہمسائے سے بچنے کے چکر میں ہم ہوا کے جھونکوں ہی سے محروم ہوجائیں۔“

”اب سمجھا۔ آپ دیوار تو چاہتے ہیں لیکن چھوٹی تاکہ ہمسائے سے سلام دعا بھی لے سکیں اور تازہ ہوا کے مزے بھی“ ۔

”رابرٹ فراسٹ کو پڑھا ہے تم نے؟ مشہور امریکی شاعر گزرا ہے۔ اس کی ایک نظم ہے ’مینڈنگ وال‘ ۔ دو ہمسایوں کی مشترکہ زمین پر بنی دیوار کو مرمت کرنے کی ضرورت کے بارے ہی میں ہے۔“ میں کہتا چلا گیا تھا۔

”تو وہ امریکی شاعر صاحب بھی یہی کہتا ہے کہ دیواریں بنانی چاہئیں؟“ اس نے معصومیت سے استفسار کیا تھا۔

”نہیں، وہ تو دیوار کو غیر ضروری سمجھتا ہے مگر اس کا ہمسایہ دیوار کو اچھی ہمسائیگی کی ضمانت قرار دیتا ہے“ ۔

تو پھر نہیں بناتے وہ دیوار۔ ہے نا؟ ”“

”نہیں، یہ اچھا ہم سایہ ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور اختلاف رائے کو بالائے طاق رکھ کر دیوار مرمت کرنے میں اس کی مدد کرتا ہے۔“

”تو اپنی بات منوا نہیں پاتا وہ اپنے ہم سائے سے۔ تو ڈاہڈا ہوا اس کا ہم سایہ۔“

”بعض اوقات اپنا موقف بتا دینا ہی کافی ہوتا۔ اختلاف ہوتے ہوئے بھی ہم مل کر چل سکتے ہیں۔ زبردستی بات منوانا ضروری نہیں ہوتا۔ اس کا ہم سایہ دیوار کے فائدے کا قائل تھا سو اس نے اس کی خواہش کا احترام ضروری سمجھا۔ ویسے بھی نظم کو کئی ڈھنگ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اچھی تخلیق ایک سے زیادہ رنگ رکھتی ہے اور پھر۔“

”رنگ سے میرا خیال اس ٹکڑے کی طرف چلا گیا ہے۔ یہ والا ٹکڑا لے لیں آپ دیوار کا ۔ نیلا، سرخ اور ہلکا زرد۔ دیکھیں رنگ اس میں بھی ڈھیروں ہیں“ ۔ اس نے بات کا رخ موڑتے ہوئے کاروباری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔

”ٹھیک ہے۔ یہ پیک کردو۔ اور ہاں، مجھے دو ٹکڑے اور چاہیے ہوں گے اپنے دو دوستوں کے لیے۔ اگر یہ سفر سرکاری نہ ہوتا تو آج وہ دونوں میرے ساتھ ہی ہوتے یہاں۔ ہم اکٹھے ہی سیر و تفریح کرتے ہیں۔“

”یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ کے دوست ہیں۔ بڑا سہارا ہوجاتا ہے ان کا ۔ اکیلے بندے کی بھی کوئی زندگی ہے، سر جی۔ اور وہ بھی پردیس میں۔“

”یہ ملک میرے لیے پردیس نہیں۔ میں اس کا شہری ہوں۔ ٹیکس دیتا ہوں۔ اپنا گھر ہے، انتخابات میں ووٹ دینے کا حق رکھتا ہوں۔ البتہ یہ بات تم نے درست کہی کہ دوستوں کا سہارا بہت ہوتا ہے۔ ان کے بغیر میں واقعی ادھورا سا محسوس کرتا ہوں۔“

”آپ کے وہ دوست جرمن ہیں کیا؟“ اس نے شیشے کے چھوٹے سے کیس میں بند دیوار برلن کے ٹکڑے کو پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے ہوئے اور پاس سے گزرتے ایک جوڑے کو سر کی جنبش سے ’آداب‘ کہتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔

”نہیں۔ وہ یہاں کے شہری نہیں۔ مہمان ورکرز ہیں۔ انہیں ویزے وغیرہ کی مشکل نہیں۔ کچھ سال سے یہیں ہیں۔ اپنے وطن آتے جاتے رہتے ہیں۔ بہت اچھے ہیں۔ بس فیملی ممبرز ہی کی طرح“

”تو اپنے ان دوستوں کے لیے چاہئیں آپ کو دو اور! تو سر جی آپ یہ سفید اور مالٹے رنگ والا اور وہ ہرا اور بینگنی والا، میرا مطلب ہے سبز اور قرمزی والا۔ ٹھیک کہا نا میں نے؟ وہ دو لے لیں۔“ فضل نے مزید دو ٹکڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

وہ ٹکڑے کچھ زیادہ بڑے تو نہ تھے مگر رنگ دار خوب تھے۔ کچھ آدھے ادھورے ڈیزائن بنے ہوئے تھے۔ کسی گریفیٹی یا کسی نعرے کا حصہ رہے ہوں گے کبھی۔ اب ان کو با معنی ہم نے خود بنانا تھا۔

” کیا انھیں شیشے کے کیس سے نکال کر دیکھ لوں؟“ میں نے پوچھا
”نہیں سر جی، بند ہی رہنے دیں ابھی انہیں“ ۔ وہ منع کرتے ہوئے بولا
اچھا ٹھیک ہے۔ لیکن یہی والے کیوں؟ ”میں نے پوچھا“

”سارے ٹکڑے تھوڑی اصلی ہوتے ہیں، سر جی! آپ تو میرے گرائیں میرا مطلب ہے میرے ہم وطن ہیں آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا۔“

فضل نے شرارت سے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب! ؟ ”“

”چھوٹا موٹا فن کار میں بھی ہوں، سرجی۔ پینٹر کا نہ سہی کارپینٹر کا بیٹا تو ہوں نا۔ رنگ رنگ کر لیتا ہوں کچھ میں بھی“ ۔

سپرے پینٹ کی بوتل دکھاتے ہوئے وہ کھلکھلا کر ہنس دیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا ہیرشمٹ نے مجھے آواز دی کہ گاڑی ہمیں لینے کو پہنچ چکی تھی۔ مجھے جلدی کرنا پڑی۔ مجھے یاد آ گیا تھا کہ کولون واپسی سے پہلے ہمیں ایک نیوز ایجنسی کے بیورو چیف سے بھی ملنا تھا۔ میں نے ان تین ٹکڑوں کے لیے پندرہ مارک ادا کیے اور یہ جانتے ہوئے کہ ہم پھر کبھی نہ ملیں گے پھر سے ملنے کی امید کے رسمی جملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے ہیرشمٹ کی طرف بڑھ گیا۔

گاڑی کی طرف جاتے ہوئے ہیرشمٹ پوچھنے لگے :
کیا باتیں ہوئیں اس نوجوان سے؟ ”“
”ہم دنیا کی کچھ اہم دیواروں کے بارے میں بات کر رہے تھے“ ۔ میں نے بات گول مول کرتے ہوئے جواب دیا۔

”اہم دیواروں کے بارے میں؟ تو ضرور یروشلم کی تاریخی دیوار گریہ کا ذکر بھی ہوا ہو گا۔ نہیں کیا؟“ ہیرشمٹ نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”ارے، اس کا تو تذکر نہیں ہوا حال آں کہ میں جانتا ہوں کہ وہ دیوار بھی بہت اہم ہے۔ کوئی ایک سو ساٹھ فٹ طویل اور ساٹھ باسٹھ فٹ اونچی یہ دیوار بیت المقدس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور تینوں بڑے مذاہب کو ماننے والوں کو عزیز ہے۔“ میں نے اپنی دل چسپی اور معلومات بکھیری تھیں۔

”طوالت اور بلندی سے زیادہ اہم اس کا تاریخی ہونا ہے اور پھر لوگوں کی عقیدت۔ میں نے یہودیوں کو آہ و بکا کرتے ہوئے بھی خود دیکھا ہے وہاں اور اس دیوار کے شگافوں میں اپنی دعاؤں کی پرچیاں ٹھونستے ہوئے بھی۔“ ہیرشمٹ نے کہا تھا۔

”آپ کو اس ثقافت سے خاصی دل چسپی ہے۔ میں جانتا ہوں۔ اسی شوق میں آپ نے عبرانی زبان بھی تو سیکھی تھی۔“ میں نے کہا

”جی، ٹھیک کہا آپ نے۔ اسی لیے میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ آپ کے پاس دیوار کا جو بڑا ٹکڑا ہے اس پر عبرانی زبان کا ہی ایک لفظ لکھا ہوا ہے۔“

”واقعی! ؟ میں تو سمجھا کوئی تجریدی فن کاری ہے یہ۔ کیا لکھا ہے یہ؟“
گریہ! ”“
”کیا؟ عجیب بات ہے۔ یہاں تو تاریخی دیواریں مدغم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”ایسا ہی لگتا ہے۔ لیکن یہ بتائیں وہ لڑکا کچھ اصلی نقلی کی بات بھی کر رہا تھا۔ کچھ ایسے الفاظ میں نے سنے تھے۔ کیا کہہ رہا تھا وہ؟“ ۔

ہیرشمٹ کو ایک تو ویسے ہی زبانیں سیکھنے کا شوق تھا دوسرے وہ کچھ عرصہ ہندوستان میں بھی رہ چکے تھے۔ اس لیے کچھ کچھ اردو ہندی سمجھ لیتے تھے۔

”وہ کہہ رہا تھا اس کے پاس دیوار کے سبھی ٹکڑے اصلی نہیں البتہ جو ٹکڑے اس نے مجھے دیے ہیں وہ اصلی ہیں۔ اور یہ کہ میں اس کا ہم وطن ہوں اس لیے اس نے۔“

”خوب۔ تو وہ ہم جرمنوں کو بے وقوف بنانا جائز سمجھتا ہے۔ اس لیے آیا ہے وہ یہاں! ؟“ ۔ انھوں نے اپنے ٹکڑے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے خفگی کے لہجہ میں کہا۔

”شاید وہ ہر خریدار کو ایسا ہی کچھ کہتا ہو اپنی دکانداری چمکانے کے لیے۔ ویسے بھی وہاں آپ کے علاوہ شاید ہی کوئی جرمن ہو۔ زیادہ تر تو سیاح تھے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے۔“

پھر بھی وہ الو تو بنا رہا تھا! ”“
”کون سا کاروباری ہے جو پوری دیانت داری کا دعویٰ کر سکے! ؟“
پھر بھی۔ ہم جرمن بات اور وعدے کے پکے ہوتے ہیں۔ ”“

”جی بے شک۔ اور پاکستانیوں میں بھی بہت سی خوبیاں ہیں۔ محنتی ہیں، مہمان نواز ہیں اور۔ اور پھر اچھے برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں“ ۔ میں نے اپنے لہجہ میں تلخی لائے بغیر دفاعی انداز میں کہا تھا۔ جانے کیوں میں نہیں چاہتا تھا کہ انھیں پتہ چلے کہ ان کی بات مجھے ناگوار گزری ہے۔

برلن سے واپسی کا بیشتر سفر بس خاموشی سے گزر گیا۔
۔ ۔

کولون پہنچ کر تاریخی دیوار برلن کا ایک یادگار رنگین ٹکڑا شیشے کے کیس سے نکال کر میں نے اپنے اپارٹمنٹ کے ڈرائنگ روم میں کارنس پر سجا لیا۔ اپنے فیملی فوٹو اور آئیفل ٹاور کے دھاتی ماڈل کے عین درمیان۔ ویک اینڈ پر میرے دوست راؤؔ اور جوشی ؔ دونوں میرے ہاں آئے تو اس بار پر تکلف کھانے سے زیادہ انہیں کارنس پر رکھا دیوار برلن کا رنگین ٹکڑا پسند آیا۔ کھانا کھاتے اور چائے پیتے ہوئے میں نے انھیں سفر کی باتیں بھی سنائیں اور فضل سے اپنی گفتگو کی کچھ تفصیلات بھی۔ وہ خوب محظوظ ہوئے۔ بعد ازاں رخصت کرتے ہوئے جب میں نے انہیں شیشے میں بند دیوار کا ایک ایک ٹکڑا تحفتاً پیش کیا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔

ہم تینوں دوست کئی برس سے جرمنی میں اکٹھے تھے۔ کام پر بھی ایک ساتھ ہوتے اور جہاں تک ہو سکے، کام کے بعد بھی۔ یورپ بھر کی آوارہ گردی ہم نے مل کر کی۔ کئی ایسی مہمات اکٹھے سرکیں جنہیں کرنے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ہر سال ہی اپنے اپنے ملک جاتے تھے اور چھٹیاں گزار کر لوٹ آتے تھے اور میرے لیے وہاں سے نت نئے قصوں کہانیوں کی سوغاتیں لاتے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3