دیوار : افسانہ


لیکن اب کے عجیب بات یہ ہوئی کہ ہماری اس ملاقات کے کچھ عرصہ بعد ہی پہلے جو شیؔ اپنے ملک لوٹ گیا کیونکہ اس کے والد کے اچانک گزر جانے سے اس کے گھر والوں کو اس کی بہت ضرورت تھی۔ رہ گیا راؤؔ تو اس کے ساتھ یہ معاملہ بنا کہ اس بار اس کے ویزہ کی توسیع نہ ہو سکی کیونکہ جرمن اتحاد کے بعد مشرقی جرمنی کے شہریوں کو ملازمتیں دینے کی پالیسی پر عمل درآمد زوروں پر تھا۔ اور یوں راؤؔ بھی مستقلا اًپنے وطن سدھارا۔ میں ایک دم ہی تنہا ہو گیا۔ شب و روز کا رابطہ یوں دیکھتے ہی دیکھتے منقطع ہو گیا تھا کہ یقین ہی نہ آتا تھا۔ پھر ان سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی دھیرے دھیرے معدوم ہو گیا۔ شاید ان کے پتے بھی بدل گئے تھے۔ خاموشی آہستہ آہستہ پراسرار اور دبیز تر ہوتی چلی گئی۔

میں اپنے دل کو سمجھانے میں لگا رہتا تھا کہ ہم تینوں بچھڑ چکے ہیں۔ اپنے اپنے خطوں اور اپنی اپنی تنہائیوں میں قید ہو چکے ہیں۔ ایک شام ڈرائنگ روم میں تنہا بیٹھے جب میں نے کارنس کی طرف دیکھا تو مجھے صاف لگا کہ دیوار برلن کا رنگین ٹکڑا بڑا ہوتا جا رہا ہے۔ برلن کو تقسیم کرنے والی فصیل اب ان دیکھے انداز میں میرے اور دوسروں کے درمیان وچھوڑے کی علامت بن کر حائل ہو رہی ہے۔ جیسے معمار جنات نے اسے برلن سے اٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا ہو۔ کسی مقبول بدعا کی طرح۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا؟ ایسا ہوتا تو دنیا میں کتنے ہی لوگوں نے جو دیوار کے ٹکڑے لیے تھے ان سب کے مابین دیواریں حائل ہوتیں۔ شاید ہوں بھی۔ کیا واقعی! نہیں نہیں ایسا کچھ ہوتا تو میرے یا میرے دوستوں کے ساتھ ہی کیوں ہوتا سب کے ساتھ ہوتا۔

میں سوچ رہا تھا اور مسلسل بلند ہوتی دیوار پر بکھرے گریہ کے رنگوں میں مجھے اچانک فضل کا مسکراتا چہرا دکھائی دیا۔

سارے ٹکڑے تھوڑی اصلی ہوتے ہیں، سر جی ”“
وہ آنکھ مارتے ہوئے فن کارانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
۔ ۔

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3