”دامنِ یوسف یا دامنِ تار تار“ : فیض کی محبوبہ سے سید سبط حسن کا عشق


”تم نے ہمیں ٹی وی پر دیکھ لیا لیکن ہم کیسے دیکھیں۔ شاعر لوگ کہتے ہیں کہ دل میں تصویر رکھنی چاہیے اور جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی۔ اس سے زیادہ آرام دہ صورت تو یہی ہے کہ بار بار گردن جھکانے کے بجائے تصویر کہیں سامنے ہی رکھ لی جائے لیکن وہ تو تصویر ہوئی اس سے بات کیسے کی جائے یا اس کی آواز کیسے سنی جائے۔ ( 88 )

” تمھارا کہنا غلط ہے کہ تمھیں ملاقات کی ہم سے زیادہ طلب ہے۔ تمھارے پاس تو پھر بھی وہاں دل لگی کا بہت سا سامان موجود ہے (خواہ اس سے کچھ نہ کچھ گڑ بڑ کیوں نہ ہوتی رہے) یہاں تو یادوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم دامن چھڑا کر ادھر ادھر نکل جاتے ہیں لیکن وہاں وہ چیز تو نہیں ملتی جو پہلے نمبر 104 اور اب سنا ہے کسی نئے تاج محل میں ہے“ ۔ (ص 91)

(محترمہ کے پرانے مکان کا نمبر 104 تھا ”نے تاج محل سے مراد نیا مکان ہے )

”ہم نے تمھاری عادتیں بگاڑ دی ہیں تو یہی شکایت یہاں تم سے بھی ہے اور اس بگاڑ کی وجہ سے اپنا کمرہ اور اپنا بستر زیادہ یاد آتا ہے“۔ (ص 95 )

”کراچی سے روانگی سے پہلے تمھاری آواز سن کر خوشی ہوئی۔ تمھارا بہت ہی اچھا خط بھی ملا تھا۔ ہم کبھی کسی کا خط رکھتے نہیں ہیں لیکن یہ میں رکھ لیا ہے تاکہ سند رہے اور تم بھاگ نہ سکو“ ۔ (ص 114 )

ان اقتباسات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فیض کی عادتیں کسی حد تک بگڑ چکی تھیں اور آخری اقتباس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ محترمہ کے خطوط بنام فیض ادب عالیہ کا نمونہ تھے۔ افسوس کہ فیض نے نہ جانے کن اندیشہ ہائے دور دراز کی وجہ سے محترمہ کے سارے خطوط ضائع کر دیے اور ایک خط جو بطور سند کے یا محترمہ کو ”بھاگنے سے روکنے کے لیے“ محفوظ رکھا تھا وہ بھی معلوم نہیں اب کہاں ہے۔ کاش محترمہ اپنے خطوں کی نقلیں اپنے پاس رکھ لیتیں تو ان کی شمولیت سے کتاب دو آتشہ بلکہ سہ آتشہ ہو جاتی۔ سہ آتشہ اس لیے کہ ایک آگ پڑھنے والے کے دل میں بھی تو بھڑک اٹھتی!

فیض کی شاعری میں ”رشک“ کا مضمون ذرا کم ہی نظر آتا ہے۔ وہ اتنے فراخ دل ہیں کہ رقیب سے مفاہمت کر لیتے ہیں۔ یعنی سانجھے کی ہنڈیا کے چٹخارے لیتے ہیں۔ لیکن ان خطوں میں معاملہ بر عکس ہے۔ ذرا دیکھیے غالب کی طرح فیض کس کس انداز سے رشک کا مضمون باندھتے ہیں۔

رقیبوں پر نظر رکھنے کے لیے جاسوس مقرر کرنے کی سوچتے ہیں

”تمھیں نیا گھر مبارک ہو۔ یہ افسوس ضرور ہے کہ ہم نے نہیں دیکھا۔ اس میں ہمارا کوئی کمرہ ہو گا۔ خیر کبھی وہ بھی ہو جائے گا لیکن اگر تمھارا ریٹائر ہونے کا ابھی ارادہ نہیں تو اس دوران میں کیا ہو گا۔ خالد سعید بٹ کو لکھتے ہیں کہ جاسوسی کے فرائض انجام دے“ ۔ ( 75 )

”تم نے ہمارے دوست میر علی احمد تالپور صاحب کو بھی دریافت کر لیا۔ بھلا تم سے کوئی کیسے بچ سکتا ہے۔ لیکن کسی خوب صورت عورت کو میر صاحب کی رکھوالی میں دینا تو گوشت اور بلی والا معاملہ ہے“۔ ( 82 )

”غلط قسم کے دوست چننے میں جو تمھیں مہارت حاصل ہے اس کا کچھ علاج ضرور ہونا چاہیے۔ مسکرا کر خیر مقدم کرنے تک تو ٹھیک ہے، لیکن اگر مسکرانے کا انداز ہی ایسا ہو کہ کسی کے دل میں لڈو پھوٹنے لگیں تو اس میں کسی کی کیا خطا۔ اس کے جواب میں تم کہو گی کہ ہم کیا کریں۔ ہماری صورت ہی ایسی ہے تو وہ بات بھی ٹھیک ہے۔“ (ص 103 )

”رشک“ کے معاملے میں محترمہ بھی فیض سے کم نہیں۔ فیض نے ایک خط میں کسی خاتون سے ملاقات کا ذکر کیا اس کی باتیں انھیں پسند آئیں اور ان باتوں پر ایک گیت لکھ دیا۔ یہ گیت انھوں نے محترمہ کو بھیجا۔ محترمہ نے لکھا: ”میں بھی تو باتیں کرتی ہوں“ ۔ اس کے جواب میں فیض لکھتے ہیں : ”تم نے چاہنے والوں کا ذکر کیا ہے وہ تو ہیں اور اللہ انھیں خوش رکھے لیکن ہر کسی سے تو وہ کچھ نہیں مانگ سکتے نہ مل سکتا ہے جو حسن اتفاق سے وہاں میسر آ گیا تھا اور جس کی طلب ہمیشہ کی طرح باقی ہے۔ تم نے لکھا تھا کہ تم بھی تو باتیں کرتی ہو اور شاید اسی وجہ سے اچھی لگتی ہو۔ تم اچھی ضرور لگتی ہو لیکن اس میں باتیں کرنے کے علاوہ اور چیزوں کو بھی دخل ہے“ ۔ (ص 84 )

خطوں کی تو نیچی عبارتوں میں محترمہ نے بھی جگہ جگہ شاعری کی ہے۔ مثلا:

”میرا جی چاہتا تھا کہ فیض صاحب مجھ سے ملیں تو میں ان کو یہ خط واپس کر دوں۔ لیکن میں ایسا نہ کر سکی۔ کر ہی نہیں سکتی تھی۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ بھلا کوئی شخص چودھویں کے چاند کو کیسے کہہ سکتا ہے کہ تم اپنی چاندنی کا یہ حصہ واپس لے لو جو ندی کے پانی کی بجائے اداس ہوا میں تیرتا جا رہا ہے“ ۔ ( 293 )

”فیض صاحب کی شخصیت دراصل اب میرے لیے اس سنگ میل کی طرح تھی، زندگی کے سارے راستے جس سے ہو کر گزرتے ہیں“ ۔

”فیض کو الوداع کر کے۔ جہاز کو دیکھ کر میں نے بے ساختہ ہاتھ ہلایا مجھے اپنا وجود جہاز کے پیچھے اڑتا ہوا محسوس ہوا۔ اس وقت میرا جی چاہا میں بھی ایک پرندہ ہوتی“ ۔ ( 57 ) (یکم مارچ 1989 ء)

( 2 )

دامن یوسف فیض کے سدا بہار خطوں کا مجموعہ ہے۔ فیض شاعری میں نئی طرز سخن کے موجد تھے ہی نثر میں بھی انھوں نے ایک نئے انداز و اسلوب کی بنیاد رکھی ہے۔ کوئی تعجب نہیں آگے چل کر غالب کی طرح فیض بھی اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ زیر نظر خطوں کے حوالے سے یاد رکھے جائیں۔ فرق یہ ہے کہ غالب:

خط لکھیں کے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو

پر عامل تھے۔ فیض کا کوئی خط اور خط کا کوئی جملہ بھی بغیر ”مطلب“ کے نہیں ہے۔ غالب نے خط دل لگا کر لکھے تھے، فیض نے خطوں میں اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے۔

اوپر کہیں ہم نے عرض کیا ہے کہ اس مجموعے میں محترمہ سرفراز اقبال کے بچوں کے نام فیض کے جو دو چار خط ہیں، ان میں بھی روئے سخن محترمہ ہی کی طرف ہے۔ اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔

ایک بچے نے اپنے خط میں محترمہ کے حوالے سے فیض صاحب کو بے وفائی کا طعنہ دیا۔ ماشاء اللہ کتنا سمجھ دار اور معاملہ فہم بچہ ہے! اس کے جواب میں وہ فرماتے ہیں : ”امی سے کہہ دینا یہ بے وفائی نہیں دنیا داری ہے“۔ ( 32 )

ایک اور خط میں ارشاد ہو تا ہے : ”امی کے خط مل گئے ہیں تم جواب میں ہماری طرف سے پیار کر لینا“۔ (ص 44 )

اسی طرح یہ جملہ بھی بیک وقت خوشی اور غم کا آئینہ دار ہے : ”تم نے امی کا جو حال لکھا ہے اسے پڑھ کر کچھ اداس بھی ہوں لیکن دل کچھ خوش بھی ہوا کہ ہمیں کوئی یاد تو کرتا ہے“ ۔ ( 60 )

فیض بچوں کی نفسیات سے پوری طرح واقف ہیں اور ان سے انھیں کی سطح پر آ کر باتیں کرتے ہیں : ”امی سے تم نے مقابلہ کب سے شروع کیا ہے۔ تم نے خود ہی لکھا ہے کہ وہ کبھی کبھی یاد کر کے رو بھی دیا کرتی ہیں لیکن تم نے کتنے آنسو بہائے ہیں؟“ (ص 63 )

فیض کے خطوں پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن ابھی ہمیں ابن انشا اور سید سبط حسن کے خطوں کا ذکر بھی کرنا ہے اس لیے فیض کے خطوں کی صرف ایک اور خصوصیت بیان کرنے پر اکتفا کی جاتی ہے اور وہ ہے ان کا مزاحیہ انداز۔

ایک مرتبہ محترمہ حج کر کے آئیں تو فیض نے، میں لکھا: ”خوشی کی بات یہ ہے کہ تمھارے نو سو تو پورے ہو گئے۔ اگلے نو سو ہونے تک تمھیں کافی لمبی چھٹی ہے“ ۔ (ص 108)

اپنی اور محترمہ کی عمروں کے حوالے سے یوں گل افشانی ہے : ”تمھیں ابھی سے اپنی عمر کی فکر کیوں ہونے گئی۔ ابھی تو ۔ ۔ ۔ ۔ تمھیں اپنے دامادوں کو رام کرنا ہے اور تمھاری یہی صورت رہی تو ان کی اولادوں کو بھی۔ البتہ ہمیں اب کبھی کبھی یہ خیال ضرور آنے لگا ہے کہ اس عمر میں دنیا والوں سے منھ موڑ کر اللہ اللہ کرنا چاہیے لیکن تم جیسے لوگ یہ کرنے ہی نہیں دیتے۔ بلکہ اب ہم دہلی گئے تو تم جیسے لوگوں میں ایک آدھ کا اور اضافہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ بات تم سے نہیں کرنی چاہیے“ ۔ ( 88 )

محترمہ جب پہلی مرتبہ نانی اماں بنیں تو فیض صاحب نے جو برسوں پہلے نانا ابا بن چکے تھے، انھیں مبارک باد کا خط لکھا۔ یہ خط نانا نانی کے باہمی ربط کی خوب صورت عکاسی کرتا ہے : ”۔ ۔ ۔ آپ خدا کے فضل سے نانی اماں بن چکی ہیں مبارک ہو۔ میرے خیال میں اب تم اپنے لیے ایک ”گرینڈ مدر“ کا بیج بنوا لو جو بوقت ضرورت سامنے لگا لیا کرو لیکن خیر نانی پن سے تم میں کیا فرق آئے گا۔ البتہ اب ہم واقعی ریٹائر ہونے کی سوچ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کچھ دن تمھارے ساتھ گزار لیتے تو اچھا تھا۔“ (ص 103 )

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3