”دامنِ یوسف یا دامنِ تار تار“ : فیض کی محبوبہ سے سید سبط حسن کا عشق
فیض احمد فیض بلاشبہ اردو کے مقبول ترین شاعروں میں سے ہیں۔ غالب و اقبال کے بعد وہی ایک شاعر ہیں جنھیں بر صغیر پاک و ہند سے باہر بھی جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ فیض کی مقبولیت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ ان سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے بھی ان کے شعروں مصرعوں اور شعری ترکیبوں کو اس طرح استعمال میں لاتے ہیں جیسے یہ مال غنیمت ہو۔
فیض کے کلام کو مالی غنیمت سمجھنے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ بلکہ ہم نے تو ہمیشہ خود فیض صاحب کو بھی مال غنیمت سمجھا اور ان کے بارے میں بیسیوں ”سخن گسترانہ“ کالم لکھے۔ فیض صاحب سے ہمیں نیاز مندی کا شرف حاصل تھا۔ ہمارے بہت سے کرم فرما ہمارے کالموں کے حوالے سے فیض صاحب کے کان بھرتے تھے لیکن مرحوم نے ان باتوں کو کبھی درخور اعتنا نہ سمجھا اور ہمیشہ ہم سے محبت اور شفقت سے پیش آتے رہے اور یوں ہمیں فیضیات میں مضامین نو کے انبار لگانے کے مواقع ملتے رہے۔ فیض کے انتقال کے بعد ہم نے ان کے بارے میں کبھی کچھ نہیں لکھا۔
فیض پر لکھنے کا مزہ تو ان کی زندگی میں ہی تھا۔ مگر آج ہم اپنی اس روایت کو توڑ رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہمارے سامنے ایک ایسی کتاب ہے جسے پڑھنے کے دوران احساس ہوا جیسے فیض صاحب ہمارے درمیان موجود ہوں اور ہم انھیں چلتے پھرتے ہی نہیں دوسروں کو ٹہلاتے بھی کچھ رہے ہوں۔ فیض پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور آئندہ بھی بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن اس وقت جو کتاب ہمارے سامنے ہے اس کے بارے میں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ایسی کتاب بھی نہیں لکھی گئی اور شاید آئندہ بھی نہ لکھی جائے۔
اس کتاب کا نام ہے ”دامن یوسف“ اور یہ تالیف لطیف ہے محترمہ سرفراز اقبال کی۔ محترمہ نے اپنے نام فیض کے خطوں کو ان کے پس منظر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب ان کی آپ بیتی کی صورت اختیار کر گئی ہے، ایک ایسی آپ بیتی جسے فیض کی سوانح حیات کا ایک باب بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کا آغاز فیض کے اس معنی خیز شعر سے ہوتا ہے:
عشق دل میں رہے تو رسوا ہو
لب پہ آئے تو راز ہو جائے
محترمہ سرفراز اقبال کون ہیں؟ زیر نظر کتاب میں شامل خطوں کے حوالے سے عرض ہے کہ وہ ایک ادب نواز خاتون ہیں جن کے ہاں شاعروں فن کاروں اور دوسرے معززین کی آمدورفت رہتی ہے۔ ان کا دولت خانہ ادب و فن کا مرکز ہے۔ محترمہ کے ہاں کی محفلوں کا تذکرہ ابن انشا نے اپنے ایک خط میں کیا ہے جو اسی کتاب میں شامل ہے۔
وہ لکھتے ہیں : ”آپ کو محفل آرائی اور دوست نوازی اور دیگر آرائیوں اور نوازیوں سے فرصت نہیں تھی تاہم ہم کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ کے سول اور ملٹری دوستوں کا کیا احوال ہے۔ افسوس کہ آپ کا گھر چھوٹا ہے لیکن سامنے کا پلاٹ خالی ہے۔ وہاں شامیانے لگوا کر ہر روز صبح کو آپ کو اپنا دربار بھی منعقد کرنا چاہیے اور نذریں وصول کرنی چاہئیں اور خلعت و انعام تقسیم کرنے چاہئیں۔ حد ہے اتنے دنوں سے وہ جگہ خالی ہے اور آپ لوگوں نے اس پر قبضہ کر کے اسے کچی آبادی نہیں بنایا جو کبھی نہ کبھی تو مستقل ہوتی“ ۔
محترمہ نے خود اپنا تعارف ان لفظوں میں کرایا ہے : ”بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ یہ دوستی محبت، عشق، چاہت یہ سب کیا ہے لیکن مجھے اعتراف ہے کہ مجھے اس کی حقیقت سمجھ میں نہیں آ سکی۔ ممکن ہے بہت سے دوست یا لوگ اسے میری کمزوری تصور کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ میں اس کے باوجود ان لفظوں کی معنویت کے اعتبار اور وقار پر پورا یقین رکھتی ہوں۔ ان باتوں کے بارے میں سوچتا اور سننا اچھا لگتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ لفظ کاش کبھی مجسم ہو کر مجھ سے ملنے آئیں، میں انھیں اپنے کمرے میں بٹھا کر دروازے کی چٹخنی چڑھا دوں اور پھر ان کی باتیں سنوں۔ سنتی جاؤں، سنتی ہی جاؤں حتی کہ سننے سنانے کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔ آوازیں ختم ہو جائیں کمرہ خالی رہ جائے۔ (ص 107 )
وہ بقول خود اس قسم کی باتیں سوچتے ہوئے فیض کو خط لکھا کرتی تھیں اور اسی خط نگاری کے نتیجے میں زیر نظر کتاب وجود میں آئی، اور یہ کتاب بھی اس لائق ہے کہ دروازے کی چٹخنی چڑھا کر پڑھی جائے۔
محترمہ پہلی مرتبہ احمد فراز کے ذریعے فیض صاحب سے متعارف ہوئیں۔ فون پر بات چیت ہوئی۔ وہ اس پہلی بات چیت میں فیض سے کہنا چاہتی تھیں : ”مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو“ مگر نہ کہہ سکیں۔ (شاید اس لیے کہ کہیں احمد فراز یہ نہ سمجھے کہ روئے سخن اس کی طرف ہے۔)
اس غائبانہ ملاقات کا محترمہ پر کیا اثر ہوا اس کا اندازہ ان الفاظ سے کیجے : ”فیض صاحب کا فون ریسیو کرنے کے بعد میری اس روز کی حالت کوئی نہیں جانتا۔ اپنی باتوں اور اپنے انداز سے فیض صاحب مجھے کتنے معصوم لگے تھے اور میرا جی چاہا تھا کہ میں باہر صحن میں بیٹھ کر شگفتہ پھولوں اور معصوم چڑیوں کو دیکھتے ہوئے ساری عمر گزار دوں یا پھر اڑتے بادلوں کی نرماہٹ سے اپنے مکان کی دیواروں پر اتنی بار فیض صاحب کا نام لکھوں کہ دیواریں اور بادل دونوں ختم ہو جائیں ( 20 ) ۔
بادلوں کی نرماہٹ سے دیواروں پر کسی کا نام لکھنا ایک نیا اور اچھوتا خیال ہے۔ بلاشبہ فیض بہت بڑے شاعر تھے لیکن خیال کی ایسی ندرت تو ان کے کلام میں بھی نہیں ملتی۔
کچھ عرصے بعد کراچی میں پہلی ملاقات ایک ہوٹل میں ہوئی۔ اس کے بعد خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دوسری ملاقات پشاور کے ایک ہوٹل میں ہوئی جہاں احمد فراز محترمہ کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس ملاقات کا حاصل یہ مصرع تھا جو فیض نے ایک کاغذ پر لکھ کر اور اپنے دستخط کر کے محترمہ کو پیش کیا :
فراز اوج پہ پہنچے تو سرفراز ہوئے
محترمہ کا بیان ہے کہ: ”فراز آج تک اس مصرع کی تاب نہ لا سکا۔ اس ملاقات کا محترمہ پر جو اثر ہوا وہ انھیں کے الفاظ میں یہ ہے :“ اگلے روز میں راولپنڈی واپس پہنچی تو فیض صاحب میرے لیے اس روشن ستارے کی مانند تھے، اندھیری رات کے مسافر جس سے رہنمائی حاصل کر کے منزلوں سے قریب تر ہوتے ہیں۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ جب بھی مجھے کوئی مشکل ہوگی میں ان سے ضرور مشورہ کروں گی کیوں کہ یہ وہ شخص ہے جو مجھے یوں محسوس کر سکتا ہے جیسے میں خود کو محسوس کرتی ہوں ”۔ (ص 35 )
اس کے بعد خطوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بیچ بیچ میں محترمہ کی باتیں بھی جاری رہتی ہیں۔ کہیں وہ کسی خط کا پس منظر پیش کرتی ہیں، کہیں کسی غیر واضح جملے کی تشریح کرتی ہیں، کبھی فیض صاحب سے اپنی کسی ملاقات کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔ انداز بیاں اتنا خوب صورت ہے کہ کہیں کہیں تو فیض کی شاعری محترمہ کی نثر کے سامنے ماند پڑتی نظر آتی ہے۔ محترمہ کی عقیدت اس حد تک پڑھی ہوئی ہے کہ وہ فیض کے بعض سرسری اور بے مزہ خطوں کو بھی اپنی توضیح و تشریح سے ادب پارہ بنا دیتی ہیں۔
اس کتاب میں فیض کے کل 56 خطوط ہیں۔ چند خط محترمہ کے بچوں کے نام ہیں لیکن ان میں بھی روئے سخن محترمہ ہی کی طرف ہے۔ تین چار کے علاوہ باقی سب خط مختصر ہیں لیکن ان کے اختصار میں ایک جہان معنی نظر آتا ہے۔ ابتدائی دو چار خط ”عزیزی“ سے شروع اور ”فقط“ پر ختم ہوتے ہیں۔ ان کے بعد کے خطوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتے ہیں۔ پڑھنے والا ان کی ابتدا سے پہلے اور اختتام کے بعد بھی بہت کچھ پڑھ سکتا ہے اور بین السطور میں جو کچھ ہے اس سے استفادہ کرنے کے لیے چشم بینا کی نہیں ذہن رسا کی ضرورت ہے۔ ان خطوں میں کیا کچھ ہے اس کا کچھ اندازہ ذیل کے اقتباسات سے کیجیے :
”جو تم نے لکھا ہے کیفیت اپنی بھی کچھ دیسی ہی ہے۔ یعنی جہاں تک بد عادتوں کا تعلق ہے۔ تمھاری عادت ہمیں بھی کچھ اتنی پڑ چکی ہے کہ آنکھ کھلتے ہی، صبا کے ہاتھ میں نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی، کا مضمون ذہن میں آتا ہے“ ۔ (ص 61 )
”۔ ۔ ۔ تمھارے لیے اچھی بات یہی ہے کہ ہم تمھیں ٹکٹ بھجوا دیتے ہیں، تم میاں سے مہینے بھر کی چھٹی لے کر ہمارے پاس آ جاؤ اور ہم ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ تمھیں صحیح و سالم واپس کر دیں گے“ ۔ (ص 66 )
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


