”دامنِ یوسف یا دامنِ تار تار“ : فیض کی محبوبہ سے سید سبط حسن کا عشق
مختصر یہ کہ فیض کے خط بہت اہم ہیں۔ اردو کے پس ماندہ اور درماندہ محققین کے لیے یہ ایک نیا موضوع ہے اب وہ برسوں ان خطوں پر تحقیق کرتے رہیں گے۔ خود محترمہ کے نزدیک ان خطوں کی اہمیت کیا ہے، اس کا اندازہ ان کے ان الفاظ سے کیجے : ”میں جب فیض صاحب کے ان خطوں ان کی باتوں ان کے لفظوں اور ان کے پس منظر میں سانس لیتے جذبوں کو اپنی ذات کے حوالے سے دیکھتی ہوں تو یہ سب مل کر مجھے میرے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے جیسے ابدی ہجرت میں میں میرا زاد سفر ہو گا اور کبھی کبھی تو میرا یہ گمان ایمان کا روپ دھار لیتا ہے کہ جب میری روح مکاں سے لا مکاں کی وسعتوں میں تحلیل ہو رہی ہو گی تو حد نظر پر کسی مقدس سمت سے اچانک کوئی خوشبو دھنک رنگ لہجے میں سرگوشی کرے گی ’ارے بھئی میرے خط کہاں ہیں؟ وہیں دنیا میں چھوڑ آئی ہو؟‘ کیا ایسا ممکن ہے؟ کاش ایسا ممکن ہو۔“ ( 188 )
فیض کے خطوں کے اس مجموعے میں ابن انشا اور سید سبط حسن کے بھی چند خطوط شامل ہیں۔ ممکن ہے ان دونوں کے اور خطوط بھی ہوں جو الگ الگ مجموعوں کی صورت میں شائع ہوں۔ زیر نظر کتاب میں صرف وہی خطوط ہیں جن کا تعلق فیض صاحب سے ہے۔
پہلے ذرا ابن انشا کی استادانہ نثر کے کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیے :
”فیض صاحب کے واپس آ جانے کا اور وہاں موجود ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ اور کوئی باقی نہیں رہا۔ سورج اپنی جگہ چاند اپنی جگہ چھوٹے موٹے ستارے اپنی جگہ۔ بعض ایسی راتیں بھی ہوتی ہیں کہ سورج ہوتا ہے نہ چاند ہوتا ہے۔ بس ستاروں کو دیکھ کر اور گن کر دل بہلانا پڑتا ہے بلکہ گننے اور دل بہلانے کے لیے ستارے زیادہ اچھے رہتے ہیں۔ سورج صرف ایک ہے چاند بھی ایک ہے اسے کوئی کہاں تک گنے گا؟ “(ص 36 )
” اس دور الفت میں دیکھنا اپنے ہاتھ وغیرہ نہ کٹا لینا۔ یہ ہر قسم کی چوری پر کاٹا جاسکتا ہے۔ سینہ زوری پر دونوں کٹنے چاہئیں۔“ ( 37 )
”۔ ۔ ۔ اب تو میرا تعارف اس حیثیت سے کرایا جاتا ہے کہ ان سے ملو، یہ معمولی آدمی نہیں ہیں یہ بیگم سرفراز اقبال کے جاننے والے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب اس شخص کا نام فیض، قدرت اللہ شہاب وغیرہ کی فہرست میں آتا ہے تو یہ بھی کچھ تو ہو گا۔ ایسے ویسے کو تو بیگم اقبال منھ لگانے سے رہیں۔ میں آپ کا فین ہوں“ ۔ ( 39 ) 25
این انشا تو خیر مزاح نگار تھے ان سے اس قسم کی باتیں غیر متوقع نہیں لیکن خدا جانے سید سبط حسن جیسے سنجیدہ آدمی کو کیا ہوا کہ انھوں نے فیض صاحب کے انتقال کے فوراً بعد ان کی ”متروکات سخن“ کو ”متروکات منقولہ“ سمجھ کر قبضہ کرنے کی ٹھانی۔ انھوں نے فیض کے انتقال پر تعزیت بھی محترمہ ہی سے کی۔ تعزیتی خط کے یہ الفاظ قابل توجہ ہیں :
”میرے اچھے دوست! محبت بہت لطیف بہت پاکیزہ جذبہ ہے۔ لیکن بہت کم لوگ ہیں قدرت جن کو یہ جذبہ عطا کرتی ہے۔ وہ ساری عمر گزار دیتے ہیں۔ نہ کسی سے محبت کر پاتے ہیں نہ کوئی ان سے محبت کرتا ہے۔ مگر آپ تو ان خوش قسمت اور خوش خصلت انسانوں میں سے ہیں جن کو محبت کرنا آتا ہے۔ مجھ کو کبھی کبھی فیض صاحب پر رشک آتا تھا ان کو کتنا پیارا چاہنے والا ملا ہے۔ مگر وہ تو خود بہت ٹوٹ کر پیار کرتے تھے۔ مجھ میں وہ دل داری کی صلاحیت کہاں، لیکن کوشش کروں گا کہ آپ کے غموں کو جہاں تک ممکن ہو ہلکا کر دوں یا بانٹ لوں۔“ ( 121 )
سید صاحب نے غموں کو ہلکا کرنے یا بانٹنے کی بات محض تکلفاً نہیں لکھی۔ وہ واقعی غم کی تصویر بن گئے :
” میری مہربان دوست! خوش رہو۔ مگر تم بتاؤ یہ کوئی دوستی ہوئی کہ نہ خط نہ ٹیلی فون نہ تصویر میں جن کا تم نے وعدہ کیا تھا۔ اب میں صبح شام اپنے ڈاک کے ڈبے کھولتا ہوں کہ شاید تمھارا کوئی خط ہو مگر ناکامی ہوتی ہے۔ پھر بھی ہم فیض صاحب کا احسان کبھی نہ بھولیں گے جن کی بدولت تم سے ملنا نصیب ہوا ورنہ اتنے بھرے دربار میں اس فقیر گوشہ نشین کی رسائی محال تھی۔ کئی دن سے تم بہت یاد آ رہی ہو۔ کل بھی بہت گھبرایا تو نسخہ ہائے وفا کی ورق گردانی شروع کر دی۔ پھر شعر گنگناتے گنگناتے کچھ مصرعے بننے لگے۔ بس تک بندی کی ہے اور شاعری کا خون کیا ہے۔ بہرحال جس کی یادوں نے یہ الٹے سیدھے شعر کہلوائے ہیں اس کی نذر ہیں“ ۔ (ص 224 )
سید سبط حسن اور شاعری؟ جی ہاں انھوں نے شاعری بھی کی ہے۔ ان کی زندگی کی پہلی اور آخری نظم ایک ادبی ”شاہ کار“ ہے۔ یہ نظم ملاحظہ فرمائیے اور اس کی داد دیجے کہ سید صاحب نے بارہویں مصرعے میں محترمہ کا نام کس خوب صورتی سے استعمال کیا ہے :
میرے محبوب کے ہونٹوں کی مٹھاس
میرے محبوب کے ہونٹوں کی حرارت
لب گویا! تری شیری گفتار کہاں سے لاؤں؟
تیرا انداز نظم جس سے خوش ہوئے وفا آتی ہے
چاہت کی مہک پیار کے پھول
الفت و مہر کا مژدہ لائے
عہد و پیمان کا نغمہ جن کو
میرے کانوں نے سنا میری آہوں نے سنا
اور قلب مضطر نے تسلی پائی
میرے غم خانے میں یہ کون آیا
آیا اور درد کا درماں بن کر
مجھ کو سرافراز کیا
خوشبوؤں کا در باز کیا
اور اب یادوں کی سب رنگ دھنک
تجدید ملاقات کا ارماں بن کر
ان کی بانہوں کی طرح
میری فرقت کے شب و روز کو
اپنی آغوش محبت میں سکوں بخشتی ہے
فیض صاحب نے اپنے خطوں میں نثر میں شاعری کی ہے۔ سید صاحب نے شاعری میں نثر لکھی ہے۔ پہلے کام کی طرح یہ کام بھی بہت مشکل ہے۔
سید صاحب نے محترمہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے ایک خط میں بیگم ایلس فیض کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے : ”ایلس کی بے رخی کا شکوہ فضول ہے۔ وہ فیض صاحب کی کسی چاہنے والی کو پسند نہیں کرتیں بلکہ اپنا رقیب سمجھتی ہیں۔ یہ ان کا احساس کمتری ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ آپ اپنا دل میلا نہ کریں۔“ (ص 131 )
محترمہ ایلس فیض کی نظر سے جب یہ الفاظ گزریں گے تو انھیں رنج ہو گا کہ فیض کا ایک اتنا قریبی دوست ان کے بارے میں کیا رائے رکھتا تھا۔ ہماری دلی ہمدردیاں بیگم فیض کے ساتھ ہیں لیکن ہماری ہمدردیوں سے کیا ہوتا ہے! سنا ہے بیگم سرفراز اقبال کے پاس فیض کے کئی اور قریبی دوستوں کے خطوط بھی ہیں۔ جب یہ خطوط شائع ہوں گے تو معلوم ہو گا کہ فیض کیسے کیسے دوستوں کے درمیان زندگی بسر کر گئے!
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کتاب کا نام ”دامن یوسف“ کی بجائے ”دامن تار تار“ ہونا چاہیے کیونکہ اس کے ہر صفحے پر دست زلیخا کی کار فرمائیاں نظر آتی ہیں۔ ہمیں اس رائے سے اتفاق نہیں۔ اس کتاب میں پاکی داماں کی حکایت بیان کی گئی ہے اس لیے وہی نام درست ہے جس نام سے یہ کتاب چھپی ہے۔ ویسے بھی نام میں کیا رکھا ہے۔ اصل چیز تو فریقین کا طریقہ واردات ہے اور پڑھنے والوں کو اس سے سروکار رکھنا چاہیے۔
ایک قاری نے یہ شکایت کی ہے کہ کتاب کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ صرف 126 صفحات ہیں اور قیمت 70 روپے ہے۔ ناشر نے زیادہ صفحات کا تاثر دینے کے لیے کتاب کے آخری چار صفحات میں نمبر شمار میں سو کا اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے 126 صفحات 226 ہو گئے ہیں۔ محترم قاری کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ کتاب ہرگز مہنگی نہیں ہے۔ 70 روپے دراصل اس تصویر کی قیمت ہے جو کتاب کے عقبی سرورق پر چھاپی گئی ہے جس میں فیض صاحب شب خوابی کا لباس پہنے ہوئے پلنگ پر نیم دراز ہیں اور ان کے شانوں پر ہاتھ رکھے کوئی اور بھی موجود ہے۔ ستر روپے میں یہ تصویر خریدیے کتاب اس کے ساتھ مفت ملے گی۔
( 8 / مارچ 1989 ء)

