باجوہ صاحب ہمیں بھی ہاروڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے دیں


کل پاک فوج کے تعلقات عامہ کے توسط سے ایک خبر آنکھوں سے گزری تو آنکھوں کی پتلی میں جیسے نقش ہو گئی۔ خبر تھی کہ عزت مآب جناب سپہ سالار سلطنت پاکستان یعنی باجوہ صاحب نے ایک نامور امریکی یونیورسٹی ہارورڈ کے کچھ طالب علموں سے گفتگو فرمائی اور انھیں حالیہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کے امن وامان کے کردار پہ روشنی ڈالی جس پہ سوالات کے تبادلہ کے بعد طلباء کے وفد نے شکریہ ادا کیا۔ اس رپورٹ میں سپہ سالار سلطنت پاکستان کی جو تصویر دکھائی گئی آس میں ان کی مسکراہٹ دل میں سرایت کر گئی۔

باجوہ صاحب ایسے بھی خوش اخلاق ہیں اور سونے پہ سہاگا یہ کہ پچھلے ہفتے ہی بیلجیئم میں آزادی کی ایک منعقدہ تقریب نے ان کے نکھار میں غیر معمولی طور پہ اضافہ کر دیا ہے۔ میں سپہ سالار سلطنت سے جان کی امان چاہتے ہوئے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ شاہ جی اللہ دا نا جے سانو وی پڑھ لین دیو! اسی وی ہارورڈ جانا چاہنے آں تاکہ اس بہانے تآڈے نال گل بات ہو سکے! تو اڈے بچے جیوندے رہن سانوں وی ودھ پھل لین دیو! سدا بادشاہی روے تو آڈی پر سانوں وی ساں لین دیو! اسی تے چلو تو اڈے دتے ساواں دی بین وجاندے رواں گے پر کم از کم ساڈیاں نسلوں نو پڑھ لکھ لین دیو! تو اڈا چلھا بلدا روے پر ساڈا چلھا تے نہ بجھاؤ! رب دا واسطہ جے سانوں اے کھدڑ کھنڈی دی کھیڈ ہور نہ کھڈاؤ سانوں اے پاکستان دی آزاری تو آزاد کر دیو!

باجوہ جی! مودبانہ گزارش ہے کہ جس طرح پاکستان میں ہر مشکل میں (یعنی معاشی نظام کی بہتری کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے درخواست کرنی ہو یا اس ضمن میں امریکہ پہ دباؤ ڈالنا ہو، چیئرمین واپڈا لگانا ہو یا کسی اور اہم ادارے کی باگ ڈور سنبھالنی ہو، فرٹیلائزرز کی سپلائی کرنی ہو یا زراعت کے شعبے کو تقویت دینے کے لیے اوکاڑہ اور ملتان کی زمینوں کو سنبھالنا ہو یا پھر آبی کھیلوں اور ماہی گیری کے فروغ کے لیے راول ڈیم کا کنٹرول سنبھالنا ہو یا پھر مارگلہ ہل نیشنل پارک کا معاملہ ہو، یا وزیرستان میں امن و امان بحال کرنے کے لیے متعلقہ معاملات سنبھالنا ہو، یا پھر عدلیہ کی تعمیر نو کا کام ہو یا کوئی بھی سیاسی، سماجی معاملہ ہو آپ ہر جگہ ہر وقت کسی آندھی، طوفان، الیکشن، اور اہم ملکی فیصلہ سازی میں پیش پیش ہوتے ہیں) فوج پاکستانی ہجوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے اور بار بار کھڑی ہوتی ہے باوجود اس کے کہ ہر کام کے لیے متعلقہ ادارے موجود ہیں لیکن پھر بھی فوج ہی محض ایک قابل اعتماد ادارہ ہے جو بروقت معاملات کو اپنے ہاتھ لے کر مکمل ریلیف فراہم کرتا ہے، بالکل اسی طرح فوراً ہماری تعلیم کا مکمل نظام بھی اپنے ہاتھ میں لے کر فوری ریلیف فراہم کریں تاکہ ہم آور ہمارے بچے بھی ہارورڈ یونیورسٹی سے تدریس حاصل کر کے آپ سے گفتگو شنید کی عزت پا سکیں اور اپنے اپنے علاقے کے امن وامان، معاشی مساوات، صحت عامہ، عدل و انصاف، زراعت، آبی وسائل اؤر ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاملات پہ تبادلہ خیال کر سکیں۔

ساڈا وی دل کر دا کہ اسیں وی پاکستان دی علاقائی صورتحال تے تواڈے نال تبادلہ خیال کریے تاکہ جا کے منظور پشتین تے علی وزیر جے غداران وطن دیا اکھاں چ اکھاں پا کے گل کر سکیے! کشمیریاں نو دس سکیے کہ ہر دفعہ یکجہتی واسطے ریلیز ہوون آلے گانیاں دی کی لاجک اے! ساڈا وی حق اے کہ جس پاکستان دی شہریت سانوں تفویض کیتی گئی اے اودی علاقائی صورتحال دا سانوں وی پتہ ہووے! من لیا کہ اسی امریکی غلام آں تے رواں گے پر اک ہولی جئی درخواست اے کہ جدوں کدی اگے تو ہارورڈ آلیاں نو بلاؤ تے ایک کرسی ساڈی وی لا دیا جے یا فر ٹاٹ شاٹ وچھا دیا جے تاکہ کم از کم سانوں پتہ لگدا روے کہ سانوں ہن کہڑے ٹرک دی بتی پچھے لانا!

پچھلے ایک سو پچتہر سال سے ہماری نسلیں سسک سسک کے مر رہی ہیں آپ سے پہلے برطانیہ سرکار کا سو سالہ سنہرا دور اور پھر آپ سرکار کا پچھتر سالہ دور ہم پہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ کبھی آپ سے افسران سے بات کرنے کے لیے کرسی نشینی کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جاتے رہے اور اب امریکہ کے پاسپورٹ پہ آنے والے خوش بخت حضرات کی شان قابل ذکر ہیں۔ ہم جو بلڈی سویلین پیدا ہوتے ہیں اور تا عمر روٹی کپڑا اور مکان جیسے ٹچے نعروں کا تحفظ کرتے کرتے زمیں بوس ہو جاتے ہیں۔

نہ ہماری روٹی پوری ہو نہ ہمیں کسی اور شے کی ہوش خبر رہے۔ کبھی بھٹو زندہ کرتے ہیں، کبھی ناموس رسالت کی حفاظت، کبھی جہاد فی سبیل اللہ، کبھی ملکی سالمیت کی خاطر قربان، کبھی آپ کا شوق ہوا تو اوکاڑہ کی زمین چھوڑ بھگا دیے جاتے ہیں اور جو کبھی دل ہوا تو کسی ریمنڈ ڈیوس کے ریوالور کا نشانہ بنا دیے جاتے ہیں مگر جو نصیب نہیں تو کوئی ایسا تعویذ اور تعلیم نصیب نہیں جو ہمیں آپ کی برابری تو خیر نصیب دشمناں! بس آپ سے بات کرنے کے قابل ہی بنا دے۔

تاکہ ہم جاہل، گنوار، بدبخت طالب علم جو پاکستان کی بڑی بڑی جامعات (جامعہ قائداعظم، جامعہ زرعیہ، جامعہ کراچی، جامعہ بلوچستان، جامشورو یونیورسٹی، جامعہ اسلامیہ بہاولپور، جامعہ پشاور) سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جان سکیں کہ سچ کیا ہے۔ یہ جو علاقائی امن و امان کی صورتحال میں آپ کا کردار ہے وہ کتنا اور کس حد تک ہے۔ ایسا کون سا امن ہے جو ہماری نسلیں اپاہج ہو گئیں پر امان تک نہیں پہنچ پا رہا! پھر یہ جو آپ کی افغان طالبان سے محبت کی پینگیں ہیں اور ان پینگوں پہ جھولتے ہوئے پاکستانی طالبان ابھی تک کیوں ہمارے خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی والوں کے جتنا نہ سہی پر تھوڑا بہت تو بتا دیں کہ ایسی کون سی چھوت کی بیماری ہے ہم میں کہ آپ کے بچے پیدائشی بزنس مین اور ہم پچھلی سات نسلوں سے سر پیٹ پیٹ کر ایک کنال گھر تک لینے سے قاصر ہیں۔ ہمیں بھی کوئی گیدڑ سنگی دیں کہ ہم بھی کوئی نیویارک میں جاگیر خرید سکیں، کسی آسٹریلیا میں جزیرہ نہ سہی ٹرپ ہی لگا سکیں۔ ہم جو آزادی کے بہکاوے میں ادھر ہجرت کر کے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آئے ہیں، اتنا تو بتا دیں کہ اس ملک میں یہ سرکس کب تک چلے گا۔

ہماری کتنی اور نسلیں اچھوت مریں گی۔ کب تک ہمیں چوکوں چوراہوں سے کیڑے مکوڑوں کی طرح اٹھا اٹھا کر گمنام موت مارا جاتا رہے گا۔ کب تک ہم اسلام اسلام کھیلتے رہیں گے۔ یہ جمہوریت کا ننگا ناچ کب ختم ہو گا۔ چلو یہ تو مشکل سوال ہیں آپ یہ ہی بتا دیں کہ آپ کے علاوہ اور کون کون سے ادارے نیوٹرل ہیں۔ ویسے دکھنے میں تو سبھی نیوٹرل لگتے ہیں کیوں کہ کسی کو چنداں پرواہ نہیں کہ یہ اچھوت زاد کیسے اور کیوں مرتے ہیں انھیں روٹی ملتی ہے یا نہیں، ان کی بلا سے یہ گندا پانی پی کر مریں یا کتے کے کاٹے سے۔

یا پھر آپ نے خود ہی سب کو نیوٹرل کیا ہوا ہے تاکہ توازن برقرار رہے۔ خیر جو بھی ہو، جیسے بھی ہو، آپ کا اقبال بلند رہے، ایکسٹنشن ملتی رہے اور دراز عمر پائیں تاکہ آکسفورڈ اور کیمبرج کے طلباء کو بھی علاقائی امن و امان کی صورتحال پہ بریف کر سکیں۔ باقی ہم اداس نسلوں کا کیا جاتا ہے۔ قربان ہی ہونا ہے نا دو چار نسلیں اور سہی!

باقی اینج ای ہسدے وسدے رہو! مولا خوش رکھے!

Facebook Comments HS