فرقہ عمرانیہ کے مبلغ صحافی ارشد شریف، عمران ریاض، صابر شاکر اور جمیل فاروقی کہاں ہیں؟


ریاستی بندوبست چاہے جیسا بھی ہو اس سے ٹکرانا دانشمندی نہیں ہوتی۔ ہاں تنقید ضرور کی جا سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے مگر اس کا معیار تعمیری ہونا چاہیے نا کہ تخریبی۔ چونکہ چیزیں ایوولوشن یا ارتقائی عمل سے ہی گزر کر آگے بڑھتی ہیں اور ارتقا کا عمل انتہائی سست ضرور ہوتا ہے مگر اس عمل کا سب سے بڑا معجزہ دھیرے دھیرے آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے۔ ارتقا کا جو متضاد یا الٹ ہے اسے ریولوشن یعنی انقلاب کہا جاتا ہے، یہ لفظ سننے میں انتہائی دلکش اور حسین لگتا ہے مگر اس کی اہمیت آئیڈیلزم یا خیالی پلاؤ سے زیادہ نہیں ہوتی۔

انسانی تاریخ خونی انقلابات کی گواہ ہے کہ کیسے طاقتوروں نے تخت یا بادشاہی کے حصول کے لیے ”انقلاب انقلاب“ کے خونی کھیل کھیلے اور اپنے مفادات کے چکروں میں بے بس لوگوں کی لاشیں بچھا کر اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کوششیں کیں۔ مطلب انقلاب ایک ذہنی ہیجان ہوتا ہے جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہوتا ہے اور اس تباہی کا ایندھن معاشرے کے وہ افراد ہوتے ہیں جو پہلے ہی سطح غربت کے انتہائی نچلے درجے پر ہوتے ہوئے کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔

کیونکہ طاقتوروں کی لڑائی میں کمزور ہی پستے ہیں طاقتور کا کچھ نہیں بگڑتا۔ طاقتوروں کی محض اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے بھڑکائی ہوئی آگ ان کے محلات کا کچھ نہیں بگاڑتی البتہ غریبوں کی جھونپڑیوں کا صفایا کر کے رکھ دیتی ہے۔ غربا کی جھونپڑیوں کی راکھ کے اوپر طاقتوروں کے محلات دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں مگر بچے کھچے غریب ساری عمر چھت کو ترستے رہ جاتے ہیں۔ اس لئے انقلاب محض ایک ڈھکوسلہ ہوتا ہے جسے طاقتور لوگ اپنی رعایا کے سامنے ایک حسین خواب بنا کر پیش کرتے ہیں اور اس خواب کی تعبیر سسٹم کے اشرافیہ کے لئے ہمیشہ اچھا شگون اور غریبوں کے لئے برا شگون یا ایک طرح سے ڈراؤنے خواب کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

وطن عزیز میں بھی آج کل ”انقلاب انقلاب“ کی گردان چل رہی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس انقلابی مہم کا حصہ وہ لوگ ہیں جن کا شعوری سفر ہی عمران خان کے 126 دنوں کے دھرنے کے بعد سے شروع ہوا ہے اور ابھی ان کا وژن ابتدائی مرحلے میں ہے یا یوں کہہ لیں کہ ان کا فہم ابھی کچا یا خام ہے۔ ابھی تو ذہنی کلی چٹخی ہے پھول بننے میں کافی وقت درکار ہے مگر بیچاروں کے ساتھ ذہنی سفر کے اس پڑاؤ میں ایک ایسا حادثہ یا ہاتھ ہوا جس کے اثرات سے نکلنے میں کافی وقت لگے گا۔

اس حادثے کو ہم ذہنی اغوا کا نام دے سکتے ہیں۔ دو پارٹی سسٹم کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے ایک ہنگامی بندوبست کی بساط بچھائی گئی اور اس بندوبست کا سربراہ ایک ایسے مہاتما کو منتخب کیا گیا جس نے اپنی ساری زندگی بطور پلے بوائے تمام رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے میں بسر کی اور اب بھی انتہائی بے فکری اور لاپرواہی والی زندگی بسر کرنے میں مصروف ہیں۔ مہاتما کے انقلابی منشور میں جو کچھ بھی شامل تھا اس کی حقیقت ایک سراب کے سوا کچھ نہیں تھی اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے تصوراتی جہان میں ہر بات کی تشریح و توضیح دنیا بھر کے اسٹینڈرڈ مفاہیم سے بالکل ہی مختلف تھی اور اس نے اپنے سوا سب کو میڈیا ہائپ یا پروپیگنڈے کے ذریعے سے چور اچکے ثابت کر دیا اور خود بطور ”ماڈل“ رجسٹرڈ قسم کا صادق و امین بن بیٹھا۔

اب جو نسل اس کے سامنے تھی وہ عمر کے اس حصے میں تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ”ہر چمکتی چیز سونا دکھائی دینے لگتی ہے“ چاہے وہ چمکنے والی چیز جعلی یا دو نمبر ہو مگر دل کو بہت بھاتی ہے۔ یہ نسل اس جعلی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئی اور ان کو ذہنی طور پر مطمئن کرنے کا فریضہ ایسے بھوت دانشوروں یا اینکرز  نے سر انجام دیا جو اس جعلی ہائپ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر دنوں میں مقبول ہونے کے سپنے اپنی گول مٹول آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے۔

ان کے لیے تو یہ سنہری موقع تھا اپنے اپنے یوٹیوب چینلز کی فالونگ یا ریٹنگ بڑھانے کا۔ عمرانی فرقہ کے مبلغ اینکرز  نے اپنے اپنے چینل کو فرقہ عمرانیہ کی ترویج کے کے لیے استعمال کرتے ہوئے عوام کو یقین دلا دیا کہ اگر فلاح چاہتے ہو تو اس فرقہ میں داخل ہو جاؤ۔ موجودہ وقت میں اس کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ خبط عظمت میں مبتلا فرقہ عمرانیہ کے مبلغ صحافیوں نے دروغ گوئی کی ایک اعلی مثال قائم کرتے ہوئے بیہودہ گوئی میں تمام حدیں پار کر ڈالیں اور بے پر کی اڑا نے میں ان کو جو مہارت حاصل تھی اس صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لاتے ہوئے عوام میں یک شخصی ہسٹریا یا ہیجانی منظر نامہ تخلیق کر ڈالا۔

ارشد شریف، صابر شاکر، عمران ریاض خان اور جمیل فاروقی جیسے حادثاتی صحافیوں نے اپنی چرب زبانی سے عوام کو یقین دلا دیا کہ پاکستان کی جو تاریخ ان کے سینے میں دفن ہے صرف وہی مستند ہے اور ان کے علاوہ طاقت کے ایوانوں کے مخفی راز کوئی اور نہیں جانتا۔ مگر حیرت کی بات ہے جب سامنا کرنے کا وقت آیا تو ارشد شریف اور صابر شاکر اس ملک سے فرار ہو گئے جس سے محبت کا دعوی کیا کرتے تھے، عمران ریاض خان کو ائرپورٹ سے واپس بھیجا گیا اور جمیل فاروقی کا ویڈیو کلپ آج کل وائرل ہے جسے آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ جس میں وہ کسی صحافی کے گلے لگ کر زار و قطار روتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے متعلق بتا رہے ہیں۔ تشدد کی تو کسی صورت میں بھی حمایت نہیں کی جا سکتی مگر یہ بھی کوئی دانشمندی نہیں کہ آپ اپنے سینے پر صحافی کا تمغہ سجا کر کیپیٹل پولیس کو بد نام کرنے کے لیے فرضی کہانیاں گھڑ لیں یا ریاستی اداروں میں محض ایک بندے کی خوشنودی کے لئے پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کریں۔ مہاتما سے محبت کی دوڑ میں اول آنے کی خاطر تمام اخلاقی و اصولی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے بے ہودہ قسم کے الزام لگانا مضحکہ خیزی ہوتی ہے جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر اٹھاتے ہیں۔

نفسیات کا گیان رکھنے والے بتاتے ہیں کہ ذہنی بیماریاں بہت کمپلیکس ہوتی ہیں اور بہت سے ذہنی امراض ایسے بھی ہوتے ہیں جو مریض کو اس قسم کے زعم کا شکار بنا دیتے ہیں کہ وہ کرہ ارض پر واحد ہیں جو انسانیت کے لیے عظیم تحفہ ہیں اور انسانوں کا جو درد ان کے دل میں موجود ہے دوسروں میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں اور انسانیت کی فلاح و بہبود کا جو فارمولا ان کے پاس ہے وہ کسی اور کے پاس بالکل نہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس جو بھی پلیٹ فارم میسر ہوتا ہے اسی کا سہارا لے کر حقائق پیش کرنے کی بجائے ”جذباتی تک بندیاں“ کرتے ہوئے عوام کو ایک طرح کے جذباتی ہسٹریا میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مہاتما سے شروع ہونے والے بندوبست کے نتیجہ میں آج جس صورتحال کا ہمیں سامنا ہے وہ انہی مبلغین قسم کے صحافیوں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے فرقہ عمرانیہ کو مقبولیت کے پر لگانے کے لیے بغیر سوچے سمجھے ایسے بیہودہ کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے جس کا خمیازہ شاید ایک لمبے عرصہ تک بھگتنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS