سیلاب: آپ، میں اور ہم
نام حیا، سر پر چادر، پاؤں ننگے، آنکھوں سے بہتے آنسو۔ اس بچی سے پوچھا گیا آپ کو کیا چاہیے وہ رو دی، کپکپاتی آواز میں بولی ”روٹی“ چاہیے۔ یہ سیلاب سے متاثرہ ایک بچی کی دکھ بھری کہانی ہی نہیں ہمارے معاشرتی وجود کی تعفن زدہ لاش تھی جو چیخ چیخ کر حکمران اشرافیہ اور ہم سب کو کہہ رہی تھی مٹ جائے گی مخلوق تو امداد کرو گے۔ یہ دکھ سن کر بھی آپ کا کلیجہ نہیں پھٹا تو یقین کیجیے ہمارے جسم میں دل نہیں پتھر ہے۔
اس بوڑھی ماں نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا رکھے تھے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر بیٹھی اپنی بے بسی کا ماتم کر رہی تھی، گویا یہ ماتم ہمارے قومی وجود کی لاش پر تھا۔ بوڑھی ماں نے بتایا اس کے دو پوتے اور دو بہو سیلاب میں بہہ گئے، کہاں گئے نہ جانے زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ کچھ معلوم نہیں۔ میرا دل کہتا ہے یقیناً وہ دونوں مائیں اپنے بچوں کو بچاتے بچاتے اپنی جان پر کھیل گئی ہوں گی، آخر ماں تھی ناں۔ بچے تو چھوڑ جاتے ہیں مگر ماں کبھی نہیں چھوڑتی، یوں دونوں مائیں بچوں کو بچاتے بچاتے خود بھی جان دے کر چلی گئیں، ان کی ڈیڈ باڈیز کہاں ہوں گی ہمارے کسی ادارے کو کچھ پتہ نہیں۔
پورا جسم سیلابی مٹی میں دبا ہوا صرف ہاتھوں کی انگلیاں باہر تھیں۔ یہ دردناک تصویر جنوبی پنجاب پر جو قیامت گزری اس کی ہلکی سی ایک جھلک تھی۔ سلام ہے اس بہادر شخص کو جو دوسروں کو بچاتے بچاتے خود سیلاب کی منہ زور لہروں کی نذر ہو گیا۔ پانی نے اسے مار دیا مگر اس کا جذبہ نہ مار سکا۔ وہ خود کو تاریخ میں رقم کر گیا۔ عمر ہو گی کوئی 70 سال کے قریب وہ شخص کیچڑ میں لتھڑا دہائیاں دے رہا تھا کہ انہیں بچا لو۔ اس کا سب کچھ بہہ گیا باقی بچی تھی تو صرف جان وہ بھی نہ جانے بھوک افلاس اور دکھ سہتے سہتے نکل جاتی۔
وہ جو کہتے ہیں نا مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جاتے۔ اس کا عملی مظاہر سیلاب متاثرین نے کر دکھایا۔ سر پر اپنے عزیز کی ڈیڈ باڈی اٹھائے چل رہے تھے اور چارپائی پر ڈیڈ باڈی اٹھا کر چلنے والوں کے اپنے جسم پانی میں ڈوبے ہوئے تھے صرف ان کے منہ اور سر پانی سے باہر تھے۔ تلاش تھی کسی ایسی خشک جگہ کی جہاں دفنا سکیں مگر سوکھی جگہ بچی ہی کہاں تھی ہر طرف تو سیلاب تھا۔
یہ چند تصویروں کو میں نے الفاظ کی شکل دی ہے۔ ایک ایک تصویر میں دکھ، کرب اور بے بسی ایسی تھی کہ خدا کی پناہ۔ ہم سب میں سے اکثر نے یہ تصویریں فیس بک یا سوشل میڈیا پر ضرور دیکھی ہوں گی۔ ہم چند منٹ کے لئے اداس ہوئے، ایک آدھ کمنٹ کیا، حکمرانوں کو دو چار گالیاں دیں اور پھر اپنے زندگی کے چکروں میں چکرا گئے۔
ایک منٹ کے لئے ذرا سوچیے میں نے، آپ نے یا ہم سب نے ان مصیبت زدہ سیلاب کے مارے اپنے بہن بھائیوں کے لئے کیا کیا؟ عملی طور پر تو ہم نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ ہم سب کو چاہیے کہ جتنی ہو سکے سیلاب متاثرین کی مالی مدد کریں، خالی باتیں کرنے یا دو چار پوسٹیں لگانے سے ان کے گھر بحال نہیں ہونے، ان کے مال مویشی جو بہہ گئے وہ واپس نہیں آنے۔
اس لیے عملی قدم اٹھائیے اپنی استطاعت کے مطابق جنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی مالی مدد کیجیے۔ مجھے بھی اللہ نے جتنی ہمت دی ہے میں اس میں حصہ ضرور ڈالوں گا۔ آپ بھی عملی قدم اٹھائیے اور اپنے بھائیوں کے ڈولتے قدموں کو سہارا دیجیے!


