کوہ قاف، کوہ ندا اور نیؔرہ نور
قیام پاکستان کے بعد چنیوٹ میں آرہے۔ دوسری جماعت کا طالبعلم مگر پڑھنے کی استعداد اچھی تھی اور کھیل کود کی نسبت مطالعہ ترجیح۔ تیسری جماعت میں پہنچتے پہنچتے جتو تھان چوک میں چاولہ بک ڈپو تک رسائی ہو چکی تھی جو آنہ لائیبریری بھی تھی اور بچوں کی کہانیاں ایک یا دو پیسہ پر مل جاتیں اور روزانہ ایک آنہ خرچہ ملتا۔ سکول سے واپس آتے بستہ رکھ دوڑتے پہلا پڑاؤ ڈاکٹر اسماعیل کے کلینک کے سامنے والی گلی کی نکڑ پہ ہوتا جہاں چھابڑی والے سے دو پیسے کے مصالحہ پڑے گرما گرم چکڑ چھولے کھائے جاتے، جن کا سواد ابھی آتا ہے اور پھر چاولہ بک ڈپو سٹاپ ہوتا۔
سلطانہ ڈاکو، بہرام ڈاکو، فلاں جن اور فلاں دیو، شکاری شہزادہ قسم کی چند صفحوں کی کہانیاں ختم کرنے کے بعد چھوڑتے۔ میرے ہم عمر بھانجے کو بچوں کا ہفتہ وار رسالہ ”پھول“ لگوا دیا گیا تو جس دن وہ ڈاک سے آنا ہوتا وہ شام ہم آپا کے گھر نکل جاتے اور دونوں مل کے ختم کرتے۔ مجھے اس میں چھپی پھول شہزادی کی کہانی یاد ہے کہ اس پر ہوتے ظلم کے ذکر پر ہم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوتے اور آنسو بہہ رہے ہوتے۔ پریوں اور جنوں اور جادو گروں اور جنگل میں شہزادے کو ملنے والے فقیر کے لئے دعا نکلتی کہ وہ کوئی انگوٹھی یا نگینہ یا تعویذ دیتا جو ہر مشکل وقت کام آتا اور شہزادے شہزادی کی شادی ہونے کے بعد ”وہ دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے“ کے الفاظ دھڑکتے دلوں کو خوشی بخشتے اور ہم بھی ہنسی خوشی سکول کا کام کر چین سے سو جاتے۔
جنوں پریوں والی داستانوں والے کتابچے پڑھتے کو قاف کی پریوں اور شہزادوں کی داستانیں شروع ہوئیں تو کوہ ندا کا ذکر بھی کبھی آ جاتا جس طرف بے رحم دیو شہزادی کو اٹھا لے جاتا اور شہزادہ چھڑانے جاتا۔ یہ کوہ ندا دل میں کچھ اس طرح بسا کہ بھولا نہیں۔ کوہ قاف کی وادیوں میں ایک پہاڑ کہ جب کوئی مسافر اس کے قریب پہنچتا تو ایک دل فریب سحر انگیز آواز اسے پکارنا شروع کرتی اور وہ اس کی طرف نا چاہتے بھی کھنچتے چلے جانے پہ مجبور اس کی طرف انجانے راستے پہ بڑھتا جاتا۔ اور بوڑھے فقیر نے اس کی نشانی یہ بتائی ہوتی کہ اس راستے پہ چلتے مسافر کا سایہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ آواز اپنے پیچھے لگائے اسے انجانی تاریکیوں میں لے جاتی اور اس راستے پہ گیا کوئی انسان واپس آتے نہیں دیکھا گیا تھا۔
بچوں کی کہانیوں سے آگے بڑھتے اخباروں رسالوں تاریخ کی کتب ناولوں اور کبھی کبھار کی سنیما ہال میں دیکھی جانے والی فلم کا دور گزرتے ہم بیگم کی قید میں آچکے تھے جہاں یہ سب گل چھرؔے اشجار ممنوعہ کا درجہ پا کے کوہ ندا جیسی آواز کے سحر میں مبتلا کر چکے تھے کہ جہاں بیگم کے حکم سے سب سائے ساتھ چھوڑ چکے تھے اور رستہ ایک ہی تھا ”جہاں پہ جا کے پھر کبھی کوئی واپس نہیں آتا“
ایسے میں بھلا ہو پاکستان ٹی وی کا کہ انیس سو اڑسٹھ سے تہتر تک کے شوں شاں شڑپ، آ گیا، نہیں آیا، بادل ہے آ جائے گا اینٹینا گھماؤ، کے دور سے نکلتے بوسٹر مینار چالو ہوتے فیصل آباد میں پروگرام صاف نظر آنے لگے اور کبھی کبھار دکان سے واپس آ کچھ سکون سے ٹی وی دیکھنے کا موقعہ مل جاتا اکثر تو ہمسائیگی میں واحد ٹی وی ہوتے محلے کی خواتین اور بچوں کے قبضے میں ہوتا۔ ایسی ہی ایک شام کوئی مزاحیہ سا پروگرام یک دم سامنے سادہ سے لڑکے لڑکی کو لے آیا جس کی مدھر آواز دل میں کھبتی گئی او ساتھ دھیمی دلکش مردانہ آواز اور سادہ الفاظ سرور بخش لگے۔
اب ہر ہفتہ اس پروگرام کا آخری آئٹم ان دونوں آوازوں یا ان میں سے ایک کی آواز کے سحر میں جکڑتا۔ ) اس ہفتہ پڑھے مضامین سے اندازہ ہوا کہ پروگرام شاید ”سچ گپ“ تھا ) ۔ اور یہ آواز نیؔرہ نور کی تھی جو کوہ ندا کی آواز بن اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی۔ ہاں دوسری آواز کا ساحر کون تھا بالکل یاد نہیں۔ شاید شہر یار زیدی ہی ہو کہ بعد میں جیون ساتھی بنا اور نبھاتا رہا۔ ( کسی قاری کو پتہ ہو تو رہنمائی فرمائیں، نیز ان گیتوں کو کوئی وجود یو ٹیوب وغیرہ پہ ہو تو اس کی راہ دکھائیں ) ۔
زندگی کی مصروفیت بہت کچھ بھلا چکی تھی۔ اور یہ گیت بہت کچھ بھول گئے تھے مگر ایک کا پہلا شعر دماغ میں جم سا گیا تھا۔
ممکن ہے اصل الفاظ میں کچھ فرق ہو۔
ہم نے تو تم سے کہا نا صنم
پیار کرنا جو ہم سے، نبھانا صنم
اب ٹی وی پہ علیحدہ بھی اس بالکل سادہ دھان پان سی لڑکی آواز گونجنے لگی اور ہم اس کی آواز کے مداح ہوتے گئے۔ ایک سے بڑھ ایک دل میں اترتی روح میں سماتی لے۔ مگر کیسٹ کا زمانہ آتے کہ کار چلاتے رم جھم کرتے موسم میں اکیلے ڈرائیو کرتے مزا لیتے۔ سب گیت بہت اچھے مگر ”تیرا سایہ“ ”جلے تو جلاؤ گوری۔ پیت کا الاؤ گوری“ اور ”کبھی ہم خوبصورت تھے“ ریشماں کے ”میری ہم جولیاں، کچھ یہاں کچھ وہاں“ اور ”اکثر شب تنہائی میں“ اور فیروزہ بیگم کے ”تم بھلائے نہ گئے، ہائے بھلائے نہ گئے“ کی طرح پسند کی معراج پہ رہے۔
زمانے کی دست دراز یاں اور نصیبوں نے کینیڈا لا پٹخا تو یہ کیسٹ نہ رہیں۔ مسی ساگا سے لگنے والے پاکستانی ریڈیوز میں کبھی کبھار یہ سر بھی سننے کو مل جاتے۔ پھر ہم ریٹائر ہو چکے تھے اور زمانہ یو ٹیوب اور فیس بک کا آ گیا تھا بچوں نے ہمیں وقت گزاری کے لئے ان کی راہ دکھا دی اور چالیس کی دہائی میں انتہائی بچپن میں ماموں کے گھر چابی والے ہز ماسٹر وائس گراموفون پہ سنے گیت اور اپنی اولین پسند کے پرانے نئے کو یک جا کر کے پلے لسٹ بنانے کا طریق نواسے سکھا گئے نیؔرہ نور کے بہت سے گیت اس میں شامل تھے۔
دو ہزار تیرہ میں نئی آبادی میں اپنے نئے گھر منتقل ہوئے تو پچھواڑے کے گھر میں ہمارے سے کچھ بعد منتقل ہونے والا گھرانا پاکستانی لگا۔ یہ عدنان قوی کا گھر تھا مشہور ایکٹر محمد قوی کے بیٹے کا۔ اونٹ پٹانگ حرکتوں اور بے تکی اچھل کود کے مزاحیہ اداکاری کے دور میں ہلکے دلچسپ مزاح والے محمد قوی کی ادا کاری ہمیں پسند تھی۔ گو بہت کم فلمیں دیکھی تھیں۔ عدنان سے ملاقات سکول بس سٹاپ پر بچوں کو چھوڑتے شناسائی تک ہی رہی۔
ایک دن یو ٹیوب پہ نیؔرہ نور اپنے سادہ انداز میں وہ گیت سنا رہی تھی جو مجھے بھانا تو تھا ہی، بچپن کے کوہ قاف کے گرد گھمانے لگ کیا ”سنا ہے اک ندائے اجنبی، باہیں پھیلائے، جو آئے، اس کا استقبال کرتی ہے“ سنتے ظالم دیو معصوم شہزادی کو اٹھائے اس راستے پہ بڑھ رہا تھا جہاں جا کے کبھی کوئی واپس نہیں آتا، تصور میں دکھا رہا تھا۔ پتہ نہیں میں نے یہ گیت پہلے کبھی کیوں پہلے کبھی نہ سنا تھا۔ اب یہ بھی یو ٹیوب پہ میری ٹاپ پسند کی پلے لسٹ میں شامل ہو چکا تھا۔
کوئی دو تین سال قبل اوپر بستر میں لیٹے کھڑکی سے چھائے بادلوں کا لطف لیتے یو ٹیوب کھولا تو سامنے ”چلو اب ہم بھی اس کوہ پر چڑھ جائیں“ کے عنوان کے نیچے انتہائی بوڑھے ضعیف قوی کی تصویر تھی اور ایک ضعیفہ اس کے گھٹنے پہ سر رکھے تھی۔ وڈیو آن کر دی۔ اس کا لطف اور درد ہی نرالا تھا میرے لئے۔
” جہاں پہ جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آ تا“
” سنا ہے اک صدائے اجنبی، باہیں پھیلائے، جو آئے، اس کا استقبال کرتی ہے
اسے تاریکیوں میں لے کے آخر ڈوب جاتی ہے
یہی وہ راستہ ہے جس جگہ سایہ نہیں جاتا،
جہاں پر جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا ”
میں کو قاف اور کوہ ندا اور واپس نہ آنے دینے والے راستے کے بچپن کے تصور میں ڈوب پہلی مرتبہ دیکھی اس ویڈیو میں ڈوب چکا تھا جس کے آخر میں ”دور جنوں“ انیس سو تراسی ”محمد قوی“ اور نوید شہزاد ”لکھا تھا۔
نیچے آ کے بیک یارڈ کا دروازہ کھول دیکھا تو پچھواڑے گھر کے صحن میں کرسی پر بیٹھی بالکل وہی شکل میرے سامنے براجمان تھی تقریباً اسی پوز میں مسکراتی کچھ کم بوڑھی لگتی۔ یہ قوی تھے۔ اپنے بیٹے کے گھر میں۔ اور اس گیت کے درد کے ساتھ میں یہ سوچ رہا تھا کہ کوئی سینتیس برس قبل کا قوی چالیس کے پیٹے میں ہو گا مگر وہ میک اپ کرنے والا کس کمال اور تصور کے کس معراج کا ہو گا کہ آج سینتیس برس کے بعد بالکل وہی، اسی شکل میں، مگر کچھ کم عمر لگتا، مسکراتا قوی مجھ سے کوئی دس بارہ میٹر دور اپنے صحن میں بیٹھا تھا۔
اور اب تین چار روز قبل غروب آفتاب کی کرنوں کے نیچے بیٹھے اچانک اوپر نیچے فیس بک دوستوں کی پوسٹس ابھرنے لگیں کہ نیؔرہ نور بھی جا چکیں۔ اسی کوہ پر شاید جس کا تذکرہ اس کے لب ہفتہ دو ہفتہ میں ایک آدھ بار مجھ سے ضرور کرتے۔
اگلے دنوں نورالہدی شاہ کی تحریر آئی۔ کئی اور مضمون آئے۔ ہمارے دوست ثناءاللہ خاں احسن کی انٹرنیٹ اور پرنٹ میڈیا کی چھان پھٹک کا نتیجہ اس کی زندگی کے بہت سے پہلو اجاگر کر گیا۔ اور میں اب دن میں کئی بار پی ٹی وی کے ڈرامہ، دور جنوں، کے آخری منظر پہ نظر جما سوچتا ہوں کہ نیؔرہ بھی اس کوہ پر جا چڑھی۔ جہاں جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا۔ ہاں ندائے اجنبی اسے باہوں میں سمیٹے، اکیلے کو لے گئی۔ کہ وہاں تو سایہ بھی ساتھ نہیں جا سکتا۔ ہاں کوئی سر اس کے بستر کی پٹی کے ساتھ لگا اس کا ہاتھ تھامے تھا کہ نہیں۔ مجھے نہیں معلوم۔
ہاں تم ہمیشہ خوب صورت تھیں اور پیت کا الاؤ روشن رکھنے والی۔ نیؔرہ، موسیقی کی دنیا کا نور۔


