معاصر ادب کا انسان سے تعلق اور دو سوال
بدقسمتی سے ہم اس عہد میں زندہ ہیں جہاں اپنے اطراف موجود شہرت یافتہ شخصیت کی پگڑی اچھالنے، اس کے بارے سطحی گفتگو کرنے کی خصلت ایسا فیشن بن چکی ہے جو ایسے بد زبان اور بد تہذیب کو دانشور قرار دیتی ہے۔ آپ ادب کے میدان سے وابستہ ہیں تو اپنے شہر میں حیات قد آور شخصیت پر شخصی اور سماجی تناظر میں انتہائی پست درجے پر لکھیں، اس کے روزمرہ معاملات، زندگی کے متفرق عوامل پر پست ذہنی تبصرے کریں تو آپ کو فوری طور پر دانشور ہونے کی سند حاصل ہو جائے گی۔
طرہ کمال یہ ہے کہ جس قدر آپ کی زبان پست، تہذیب پست ترین اور گفتگو لوچ دار ہوگی اسی قدر اونچی مسند دانشوری پر آپ کو براجمان کیا جائے گا۔ اس پر آپ ادھر ادھر سے، اساتذہ سے سن کر، اردگرد پھیلے لاتعداد صفحات میں سے ٹکڑے جوڑ کر ایک کتاب بھی لکھ ماریں تو آپ کا دانشور ہونا پکا ہے۔ ان کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ یہ کتاب تھامے گلی گلی شہر شہر قاری کی تلاش کرتے ہیں اور اس کو کتاب پیش کر کے اپنی اور اس کی عظمت پر تبرا کرتے ہیں (حالانکہ خاکسار کی رائے میں جس کتاب میں پچیس فیصد بھی مصنف کے شعور کا اظہار ہو تو قاری خود وہ کتاب تلاش کرتا ہے نہ کہ صاحب کتاب کو قارئین تلاش کرنے کی ضرورت آن پڑتی ہے ) مگر یہ ہرگز نہ جانیے گا کہ کتاب لکھنے والا، خواہ کس قدر اعلی درجے کا خلاق یا نقاد ہو دانشور/ادیب نہیں ہوتا (رائج معنوں میں) کیونکہ یہ اعلیٰ کرسی پست کرداری اور اعلی شخصیات کی کردار کشی کے عوض ہاتھ آتی ہے اور اس کی روایت ہمارے ہاں موجود ہے۔
ملتان کی مثال لیں جہاں جو جتنی پست اور سطحی زبان میں پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد کی شخصیت اور سماجی زندگی پر زہر اگلے گا اسی تیزی سے دانشور بن جائے گا۔ یہی چلن کوئی دو عشرے پہلے سے شعبہ اردو میں پروفیسر ڈاکٹر ممتاز کلیانی کے حوالے سے رائج تھا کہ جس کسی کو شعبہ کے انتظامی نمائندگان کی قربت کا دعویٰ کرنا ہوتا وہ کچھ گنے چنے ناموں کے اشارے پر ڈاکٹر ممتاز کلیانی کے خلاف سطح جملہ بازی کرتا، ان کی کلاسوں کے بائیکاٹ کرتا تاکہ مطلوبہ شخصیت کی خوشنودی حاصل کر سکے، ان کی شخصیت پر ٹھٹھہ کرنے والا یہ فرد ہزار خوبی دیکھتے ہی دیکھتے شعبہ کے مرکزی دھارے میں آنکھ کے تارے کی سی حیثیت اختیار کر لیتا۔ مگر چونکہ وقت بڑا بے رحم ہے تو مڑ کر آتا ہے اور پھر وہی انہی لوگوں کی توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دکھائی دیتے ہیں جنہیں وہ کبھی آڑے ہاتھوں لیتے تھے اور قیمت محض ایک ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری قرار پاتی ہے۔
ملتان کی طرح اسلام آباد میں پرویز ہود بھائی کے خلاف لکھنا ، بولنا، ان کی نجی زندگی پر حملہ آور ہونا ایک طرح سے دانشوری کے خطاب تک رسائی میں مددگار تو ہے ہی مگر ساتھ میں اسلام اور جنت کی سند بھی اضافی ملتی ہے۔ کراچی میں ساحر صاحب اور احمد شاہ ہر ایسے سطحی اقوال کسنے والے دیکھتے دیکھتے دانشور بن جاتے ہیں اور دانشوری کا یہ شارٹ کٹ معمولی زمانی وقفوں میں ہمارے درمیان سے دانشور غائب کر دیتا ہے۔ جس کے اسباب میں خود ان دانشوروں کی اپنے مقاصد تک رسائی کے بعد منظر سے پردہ، گہری فکریات کی عدم موجودگی کے سبب سے جینؤئن لوگوں سے گریز، اپنی سطح پر کسی دوسرے کاروبار میں کی گئی کوشش میں کامیابی سمیت دیگر کئی وجوہات ہوتی ہیں اور معاشرہ جسے ادیب کی آواز کی ضرورت ہوتی ہے اپنا سا منہ لیے کھڑا رہتا ہے۔
اپنے ادب اور اپنی زمین سے عدم وابستگی اور شارٹ کٹ کے حصول سے مال و دولت کے حصول کا وسیلہ جہاں ایک طرف اس خطے کے لیے علمی معذوری کا باعث بنا ہے تو دوسری طرف ایک خاص طرح کی خوشامدی، شارح، چربہ ساز نسل نے قوم کی مجموعی ساخت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
آج کا دانشور یا تو مشاعروں میں اداکاری کا ماہر ہو گا جس کی بنیاد جون ایلیا نے رکھی (مگر جون کا کلام اپنے عہد کی نفسیات کا عکس ہے) تو دوسری طرف استعمار کے پیش کردہ منصوبے کا جانے انجانے میں پیشکار ہوتا ہے۔ اس مجموعی ذہنی ساخت میں آج کے اردو ادیب کی فکری نہاد نہایت مختصر اور محدود ہوتی ہے یہ چیزوں کو سطحی اور اوپری سطح سے دیکھنے کے قابل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ روز بروز ابتذال اور سطحیت کے گڑھے میں گرتا چلا جا رہا ہے۔
فیشن تو سیاست دان، فوجی، ریاستی مشینری کو گالی دینا ہے انہیں برا بھلا اور ہر برائی کی جڑ قرار دینا ہے لیکن میری رائے میں زیادہ تر برائیوں کا منبع رسمی اور مدرسانہ تعلیمی نظام سے جڑے اساتذہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں سے پرائمری، مڈل، میٹرک، بی اے، ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی تک تعلیم یافتہ معاشرے کی غالب تعداد اخلاقی اور تہذیبی سطح پر بے ایمان، خوشامدی اور پرلے درجے کی پست ذہن واقع ہوئی ہے۔
آج کے اردو مصنف، نقاد، تخلیق کار کی توجہ زمینی حقائق سے کٹ چکی ہے جس کا سبب وہی ہے جو اوپر درج کر دیا گیا ہے اگر کسی شخص کو پروفیسر انوار احمد/پروفیسر پرویز ہود بھائی/پروفیسر گوہر نوشاہی/احمد شاہ وغیرہ وغیرہ کو تبرا کرنے اور ان پر جملے کسنے ایسی فضولیات گوئی سے توجہ مل سکتی ہے تو کیوں وہ کتب بینی اور گہرے تجزیاتی ماڈل کے عذاب میں خود کو مبتلا کرے اور زندگی کی کئی آسانی سے میسر سہولتوں سے کنارا اختیار کرے؟
تخلیق کار نقاد کا کام محض گل و بلبل کے نغمے لکھنا نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کا ناقد، مبصر اور منصوبہ ساز ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم کی رسی سے معاصر حکمرانوں کے گرد گھیرا تنگ کرتا ہے۔ وہ ماضی کی سستی یا ظلم پر حاکم کا گریبان پکڑتا ہے۔ حال کی سفاکیت پر اس کی باز پرس کرتا ہے اور مستقبل کے اندیشے پر اسے تیاری کی ترغیب دلاتا ہے۔
ملک بھر میں سیلاب کی صورت دیکھ لیں۔ اس وقت دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے علاوہ مصنفین بھی کسی نہ کسی صورت حرکت میں ہیں۔ مگر یہ دو مہینے کا سیزن ہے جس کے بعد رو دھو کر خاموش ہو جائیں گے اور باقی کے دس مہینے ”دوستو/سہیلیوں /سجنوں /بیلیوں“ کی تکرار پر گزر جائیں گے اور پھر سے یہ آفت آ جائے گی اور پھر سے انقلابی رونا دھونا شروع ہو جائے گا۔
انسانی لاشے کپاس کے پودے کے ٹہنے کی مانند پانی میں تیرتے پھرتے ہوں گے ، ہر طرف سڑاند پھیلی ہوگی اور ایک غصے کی لہر بھی اس میں شامل ہو جائے گی جو جھاگ کی طرح بتدریج بیٹھ جائے گی۔
مصنف کا کام ریاست کے ضمیر کو سال کے تین سو ساٹھ اور پندرہ دن جھنجھوڑنا ہوتا ہے وہ بار بار ان حالات کی نشاندہی کرتا ہے جو ماضی میں ریاست کے چہرے پر بدنما داغ ہوتے ہیں۔ وہ حال کی بدحالی اور سفاکیت کو حاکم کے روبرو رکھتا ہے اور مستقبل میں پیش آمدہ مسائل پر منصوبہ سازی پر آمادہ کر کے اس کی سنگینی کو ختم کرنے یا کم از کم کمزور ترین کرنے کی کاوشوں میں معاون ہوتا ہے مگر اردو دنیا کے مصنفین اور دانشور ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں رہے کم از کم گزشتہ پانچ دہائیوں سے تو بالکل بھی نہیں رہے ہیں (اگر ہیں تو نشاندہی کیجیے تاکہ ہم بھی ان کتب اور گوشواروں کا مطالعہ کر سکیں )
اس کی سادہ سی وجہ ایک طرف کاروباری لوگوں کا بڑی تعداد میں ادبی دنیا میں داخل ہو جانا ہے بہت سے لوگوں کے لیے ادب آج ایک بہترین کاروبار ہے وہ غلہ منڈی کی آڑھت پر ادب کی دنیا میں بروکری کو پسند کرتے ہیں کیونکہ یہاں وہ پیسے کے علاوہ دوسری بھی کئی دل چسپ چیزیں حاصل کرتے ہیں۔ اس ساری صورت حال کو حالیہ دو واقعات سے سمجھانے کی کوشش کروں گا تاکہ قاری کے ذہن میں مفروضے کا بہتر سے بہتر تمثال بن سکے۔
اول وفاقی حکومت نے بجلی کے نرخ میں بے پناہ اضافہ کیا (گو یہ ہر شعبہ زندگی میں ہوا مگر بجلی کے ساتھ مجبوری کے تعلق کی وجہ سے اس معاملے میں موجود حقائق زیادہ تیزی کے ساتھ منظر عام پر آئے ) نرخوں میں بے پناہ اضافے کے بعد بھی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا ایک بدشکل دیو ہر مہینے صارف کے گھر کے دروازے سے گھر میں چھوڑا گیا تاکہ وہ تمام افراد خانہ کا جینا حرام کر دے اور متوسط طبقے کے گھرانوں میں بسے افراد تیزی کے ساتھ سطح غربت کی لکیر سے نیچے گرتے چلے جائیں۔
ایک عوامی احتجاج پر (یاد رہے عوامی احتجاج پر کسی شاعر کی نظم یا مصنف کے لکھے پر نہیں) شاطر حکمرانوں نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو جون میں 200 یونٹ استعمال کرنے والوں گھرانوں کے لیے ختم کر دیا گیا مگر عام آدمی سادہ ہوتا ہے جو حکمران کی شاطری اور چالاکی کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ یہ 200 یونٹ کا لولی پاپ جون جولائی کے مہینے میں کسی پر لاگو نہ ہو سکے گا اور عوام کے خون سے نہانے کا حکومتی عمل جاری رہے گا۔
افسوس کہ عام آدمی کی زندگی سے جڑے اتنے اہم مسئلہ پر اردو مصنفین کی کوئی متحد آواز نہیں ہے وہی شاعر اور لکھاری جو لفافوں کے عوض جناب صدر کی دعوت پر ان کی رہائش گاہ جانے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے اس موضوع پر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
دوسرا معاملہ تعلیمی نظام کے بارے ہے جس میں ناشر اور دکان دار کے درمیان شراکتی بدمعاشی سے کتب کی فروخت منہ مانگے داموں پر جاری ہے۔ صرف ایک شہر سرگودھا کی مثال لے لیں کیونکہ اس کو پنجاب کی سطح پر علمی حوالے سے اہمیت حاصل ہے۔ پنجاب اور وفاق سے متصل اس صوبے کی یہ حالت ہے تو سندھ اور بلوچستان میں کیا حالات ہو گے اور عام آدمی کیونکر اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے گا؟
ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کے حصول میں سرگرداں ہزاروں طالب علم سرگودھا میں فیڈرل بورڈ آف تعلیمات کے زیر انتظام سندی نظام تعلیم کا حصہ بنتے ہیں جن کے نصاب کی کتب، نیشنل بک فاؤنڈیشن شائع کرتا ہے شہر بھر کے سینکڑوں کتاب گھروں کی بجائے محض ایک کتاب خانے ”امین بک ڈپو“ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا وہ چہیتا ادارہ ہے جہاں سے یہ تمام نصابی کتب ملتی ہیں۔ یہ دکاندار کئی کئی ہفتے کتابیں چھپانے کے بعد طلباء کو مہیا کرتا ہے اور دگنی سے بھی زیادہ قیمت وصول کرتا ہے۔ کسی قسم کے مکالمے پر وہ سادہ لوح کم پڑھے لکھے ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے اور کتاب ہاتھ سے چھین کر دھمکاتا ہے کہ ”جاؤ پورے شہر سے جہاں سے مرضی لے لو“
سبب اس دھمکی کا یہ ہے کہ امین بک ڈپو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے افسران کو مال پانی کے عوض شہر بھر اپنے علاوہ کسی دکاندار کو کتاب نہ دینے کا منصوبہ بناتا۔ ہے اور یوں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سرکاری نمائندگان کتاب کسی دوسرے دکاندار کو نہیں دیتے۔ جس کی وجہ سے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کوئی کتاب خواہ وہ نویں جماعت کی ہو، دسویں جماعت کی ہو یا انٹرمیڈیٹ کی سطح کی ہو کسی دوسرے کتب فروش پر دستیاب نہیں ہوتی اور یہی وقت ہوتا ہے سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے اور ملک کے حساس، سوچنے والے اور دانشور طبقے کے چہرے پر تھپڑ رسید کرنے کا۔
کیا اردو کے کسی مصنف نے علم اور عام آدمی کے بچوں سے وابستہ اتنے اہم موضوع پر کبھی کوئی منظم آواز اٹھائی؟ اٹھائے بھی کیسے اس سے تو ”کتاب سفارت کار“ کا اعزاز اور اس سے جڑے فوائد چھین لیے جائیں گے۔ ایسے پی حالات بلوچستان میں عام آدمی کی گمشدگی کے ہاں جن پر چند انفرادی آوازوں کے مسلسل توجہ دلانے کے باوجود اردو ادیب اس انسانی حقوق کی پامالی کو مسئلہ نہیں سمجھتا یا پھر اس میں اتنی فکری صلاحیت نہیں کہ وہ کھل کر ان موضوعات کے دور رس اور خوفناک نتائج پر لکھے۔
جن معاشروں میں ادیب سماجی درد کی حرکیات اور اس کی شدت کی گہرائی کو اپنے اندر محسوس کرنے کی بجائے کاروباری نفسیات کو اپنا لیتے ہیں وہاں تعلیمی اداروں میں ایسے معذور پڑھے لکھے ہی پیدا ہوتے ہیں۔
ایسے معاشروں میں سیلاب ہر سال کئی گھروں کی دیواریں اور چھتیں نگلنے کے ساتھ، زندہ آدمیوں کو خوراک بنانے کے علاوہ انسانی اجسام کی سڑاند کو چار سو پھیلاتا رہتا ہے اور موسمی آہ و زاری کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اس جرم میں انتظامیہ اور حکومت کے ساتھ معاصر مصنف بھی بہت سے مقامات پر کہیں نہ کہیں پہلے کردار کے طور پر بطور مجرم شامل ہوتا ہے۔
ادھر ادھر سے کاغذات، بڑے بڑے علمی موضوعات کے ٹکڑے تو خاکروب بھی جمع کر لیتا ہے مگر مصنف ان ٹکڑوں سے پہلے اپنے اور پھر اپنے سماج کی شعور کی کئی نئی سطحیں تراش لیتا ہے وہ خود کو مانجھ مانجھ کر بہتر سے بہتر شکل دیتا رہتا ہے اور اپنے معاشرے کے حقوق کی جنگ میں شانہ بشانہ رہتا ہے خواہ سرکاری وسائل دست یاب ہوں یا نا ہوں مگر بات سمجھنے کی ہے اگر کوئی سمجھے تو ورنہ۔
(سنجیدہ اور ادب سے جڑے افراد کے لیے اخلاص و احترام)


