سیلاب اور عذاب کی کہانی


انسان مختلف حرکات سر انجام دیتا ہے۔ اس کے خیالات و اعمال کے، اس کی شخصیت، کردار اور زندگی پر کچھ نتائج اور اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہر عمل اس طرح انسانی سماج اور ہماری کائنات سے بھی منسلک ہوتا ہے۔

انسانی سماج اور نظام زندگی جس طرح کچھ اصول و ضوابط کے تحت قائم ہیں، اسی طرح کائنات بھی کچھ قواعد کے تحت چلتی ہے اور اگر ان قواعد سے چھیڑ چھاڑ کی جائے تو مزاحمت بھی کرتی ہے۔ ہاں، اس پر تو بحث کی جا سکتی ہے کہ یہ قواعد کس نے وضع کیے ؟ لیکن ان کے ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کائناتی خوبصورتی اور زندگی کی رونقوں سے کما حقہ مستفید ہونے کے لیے ان قواعد کو سمجھنا، جاننا اور ان کے مطابق انسانی سرگرمیاں ترتیب دینا از حد ضروری ہے۔

دوسری صورت میں انسان اور کائنات کے بیچ کا احساس و احترام کا رشتہ ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور دھرتی ماں اپنے عیال کو بچانے کے لیے مزاحمت شروع کر دیتی ہے۔ فطرت کی مزاحمت بھی بڑی اصول پرست ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ہم صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کریں تو وہ سورج کو چھپا دے یا آسمان کو برسا دے۔ صحت کے معاملات میں گڑبڑی کی سزا خراب صحت ہی کی صورت دے گی۔ خیالات کی خرابی ذہنی صحت کو متاثر کرے گی۔ ہاں، کچھ اعمال کا دائرۂ اثر وسیع ہو سکتا ہے۔ جیسے جذبات میں بے قاعدگی سے جذباتی صحت کمزور ہوگی اور جذبات انسانی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تو اس جوڑ سے آپ کے معاشرتی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

فطرت بے اصول نہیں ہوتی۔ اس کا ہر عمل ایک ترتیب اور نظام کا پابند ہے۔

ہم مسلمان یہ مانتے ہیں کہ کائنات کے یہ قواعد اللہ تعالیٰ نے وضع کیے ہیں۔ جو بڑا مہربان، انسانوں پر شفقت کرنے والا اور ان کا نگہبان ہے۔ ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس کی ہر تخلیق بڑی منظم ہے۔ اس کا انصاف بے لاگ ہے۔ سزا و جزا کا پورا نظام ہے۔ خلاف فطرت عمل کرنے پر تنبیہات بھی کرتا ہے۔ کچھ صورتوں میں مخصوص آبادیوں کو عذاب سے دوچار کرنے کا بیان بھی ہے۔

یہ سب درست ہے۔ اور ایک حد تک مسلمانوں کا متفقہ بیان بھی، لیکن پتہ نہیں کیوں ہمارے ہاں کچھ حلقوں کا اور ان کے توسط سے عوام کا تصور خدا کچھ اس طرح کا بنا ہوا ہے کہ جس سے نہ کسی منتظم کا پتہ لگتا ہے، نہ کسی ترتیب کا اشارہ ملتا ہے، اصولوں کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ ہر قدرتی آفت چند گنے چنے گناہوں کی سزا اور عذاب باور کرائی جاتی ہے۔ زمین ہلے، آسمان برسے، سمندر ابل پڑے، پہاڑ گریں چاہے کوئی بھی مصیبت ٹوٹ پڑے۔

یہ طے ہے کہ ملبہ ہمیشہ فحاشی و عریانی اور شراب نوشی پر گرایا جائے گا۔ بے نمازیوں کو کوسا جائے گا۔ بے پردگی پر ملامت شروع کردی جائے گی۔ یہ اور ایسے چند گنے چنے گناہ ہی سب مصیبتوں کے سبب سمجھے بتائے جاتے ہیں۔ اور ان کا حل بھی بڑا سادہ، عمومی انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ سب نمازی ہوجائیں، شراب نوشی ختم کردی جائے، فحاشی و عریانی اور بے پردگی سے توبہ تائب ہوا جائے تو ساری مصیبتیں یک قلم ختم ہو جائے گی۔

میرے عزیز، ایسا نہیں کہ یہ گناہ نہیں لیکن ہر مصیبت ان گناہوں کی پاداش میں ہے۔ یہ کچھ نامعقول سی بات لگتی ہے۔ علم و عقل، انسانی تاریخ اور مشاہدہ، سب ان سے ابا کرتے ہیں۔

دوسرا اس بیانیے کا فائدہ ظالم طبقوں اور نا اہل لوگوں کو ملتا ہے۔ وہ اپنی نا اہلی اس بیانیے کی آڑ میں چھپا لیتے ہیں۔ بارش برس جائے تو اس کے پانی کو اپنے لیے کیسے رحمت کا سبب بنانا چاہیے اس پر محنت کرنے کی بجائے، عوام کو صرف دعاؤں میں مشغول رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تا کہ عوام اپنے ساتھ ہونی والی زیادتی اور اپنے استحصال کو تقدیر کا اٹل فیصلہ سمجھ کر خاموش بیٹھی رہے۔

بارش قدرت نے برسائی لیکن اس سے منہ زور سیلابی صورتحال ان نا اہل لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ جن کی ذمہ داری تھی کہ ملک میں کوئی ایسا جدید آبی سسٹم بناتے جس سے پانی کو مستقبل کی ضروریات کے لیے محفوظ کیا جاسکتا، بارش کے نقصانات سے عوام کو ممکن حد تک بچایا جاسکتا۔ ایسی بارشوں سے نمٹنے کی بروقت تیاری کی جاتی، کوئی لائحہ عمل بنایا جاتا۔ جن کی ذمہ داری تھی کہ سیلاب زدگان کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرتے، ان کے کھانے پینے کا باعزت اہتمام کرتے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بس ہوا تو یہ ہوا کہ عوام کو دعاؤں کی تلقین کی جاتی رہے۔ مسبب الاسباب خدا کے عطا کردہ عقل و شعور سے کوئی تدبیر نہ کرسکے ہم لیکن یہ کفران نعمت مسلسل کر رہے ہیں۔

یہ حالیہ سیلاب بھی بقول آپ کے عذاب تھا۔ ہاں عذاب تو تھا لیکن فحاشی اس کا سبب نہیں۔ یہ سیلاب ہماری نا اہلی، بد انتظامی، کرپشن، ذاتی اور گروہی مفادات پر اجتماعی مفادات کو ترجیح دینے کا انجام تھا۔ یہ سیلاب ہماری اجتماعی بے حسی اور عقل و شعور کی معطلی کا عذاب تھا۔

Facebook Comments HS