سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کمی


ایوب خان اور ضیا جیسے ڈکٹیٹروں کے دور میں پاکستان غریب ممالک میں شامل نہیں ہوتا تھا لیکن جیسے ہی جمہوریت کے سائے مملکت خداداد پر منڈلانا شروع ہوتے پاکستان دینے والوں کی فہرست سے نکل کر امداد لینے والے ممالک کی قطار میں کھڑا ہو گیا۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے کیوں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ عمران خان کے دور میں مہنگائی کا آغاز ہوا تو عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف کم ہونے لگا۔ عمران خان کے جوش خطابت کے باعث اکثر اپوزیشن کو کوئی نہ کوئی ایسا جملہ ضرور مل جاتا جو عمران خان اور تحریک انصاف پر ہفتے بھر کی تنقید کے لئے کافی ہوتا تھا۔

عمران خان کو گھر بھیجنے والا اتحاد اس دعوے کے ساتھ بڑی کرسی پر بیٹھا تھا کہ ہم عمران خان کے تمام غلط فیصلوں سے عوام کو نجات دلائیں گے۔ یہ دعوی ’صرف دعوی‘ ہی ثابت ہوا اور خاص کر عوام کی امیدوں پر اس وقت پانی پھرا جب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے باعث ہمیں ہر فیصلے سے قبل ان سے مشورہ لینا پڑتا ہے۔ ملک میں اس وقت مہنگائی کا جو طوفان برپا ہے وہ عمران خان کے دور میں بھی نہ تھا۔ جمعیت علما اسلام کے کارکنان اپنے سیاسی قائد کو اپنا مذہبی قائد بھی مانتے ہیں اس لئے مولانا فضل الرحمان کے کارکنان ان کی مخالفت کرتے دکھائی نہیں دیتے لیکن سوشل میڈیا کہ اس دور میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے اپنے ہی جیالے و متوالے ان کے اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔

بجلی اور پیٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ملک میں ہر پندرہ دن بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ معیشت کے ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدے کے باعث پیٹرول کی قیمت دو سو اسی روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان رکنے کو نہیں آ رہا اور حکمران اتحاد کی تمام جماعتیں جو ماضی میں تجربہ کار ہونے اور ملکی معیشت کو سنبھالنے کی دعویدار تھیں اس صورتحال سے عوام میں غیر مقبول ہو رہی ہیں۔

حکمران اتحاد کی تمام جماعتیں ہی اس وقت عوامی محاذ پر دفاعی پوزیشن میں کھڑی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے متعلق بھی یہ تاثر عام تھا کہ وہ ایک اچھے منتظم ہیں اور معاملات کو ہینڈل کرلیتے ہیں لیکن یہ تاثر بھی اب غلط ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ نون لیگ کے رہنما اب خود ہی اپنی قیادت سے اظہار ناراضگی کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اظہار عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنی سیاست کو بچانے کے لئے کیا جا رہا ہے لیکن نون لیگ کے لئے یہ خطرناک ثابت ہو گا۔ نون لیگ کے اندر سے ہی اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسی کیا مجبوری تھی کہ ہم نے ایک ایسے وقت میں حکومت میں آنا گوارا کیا جب ماضی کی حکومت اپنی عدم مقبولیت کی انتہا پر تھی، یہ فیصلہ کیونکر اپنے سر لیا گیا؟ یقینی طور پر یہ فیصلہ سیاسی دانشمندی سے تعلق نہیں رکھتا۔

جہاں نون لیگ کی مقبولیت کا گراف نیچے آ رہا ہے وہیں پیپلز پارٹی کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ بالخصوص سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انتخابات کے التوی ’کی کوئی بھی وجہ پیش کرے عوامی تاثر یہی ہے کہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی بڑھتی مقبولیت کے باعث انتخابات سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ رہی سہی کسر بارشوں نے پوری کردی۔ سیلاب نے سندھ کے پیرس بن جانے کے دعوے کو بھی بے نقاب کر دیا۔

سندھ کے تمام شہروں میں ہی اس وقت سیلاب متاثرین کی وہی حالت ہے جو بلوچستان میں ہے۔ سندھ کے دوسرے شہروں سے لوگ ہجرت کر کے کراچی میں پناہ لے رہے ہیں اور یہ پناہ بھی حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ سماجی تنظیموں، عام شہریوں، مسجدوں، مدرسوں، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کی جانب سے دی جا رہی ہے۔ لوگوں کے گھر تباہ ہوچکے ہیں، سڑکوں کا نام و نشان نہیں۔ متاثرہ شہروں کا دوسرے شہروں سے رابطہ ختم ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں خوراک کی کمی ہے۔

حکومت اس مشکل گھڑی میں دوست ممالک سے امداد مانگ رہی ہے اور عوام فلاحی تنظیموں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی ذخائر انتخابات پر تو لٹائے جا سکتے ہیں لیکن عوام پر نہیں۔ تصور کیجئے کہ مشکل میں عوام کو اپنے وزرا، ایم این ایز اور ایم پی ایز کے بجائے الخدمت، سیلانی، چھیا اور ایدھی کے رضا کاروں کا انتظار ہے کیا ایسی صورتحال میں حکومتی اتحاد کی کوئی بھی جماعت اپنی مقبولیت یا کامیابی کا دعوی‘ کر سکتی ہے؟

اگر کر بھی لے تو سیاسی جماعتوں میں موجود مفاد پرست ٹولے کے سوا کوئی اسے سچ تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ ٹولا یا تو گھوسٹ ملازمین کا ہے یا پھر اس امید میں کہ ہمیں بھی کوئی جناتی ملازمت مل جائے لہذا دن بھر سوشل میڈیا پر ”شکریہ صاحب“ اور ”سلام صاحب“ کی پوسٹیں لگاتے رہتے ہیں۔ عوام اب ان کی باتوں میں آتے نہیں لگتے۔

عوامی حلقوں میں غیر مقبول ہو جانے والی جماعتوں کو اس مشکل گھڑی میں عوام کا ساتھ دینا ہو گا۔ یہ ان جماعتوں کی ذمہ داری ہے اور ایسا کرنے سے ہی ایک بار پھر انہیں عوام کے دلوں میں جگہ مل سکتی ہے۔ حکومتی اتحاد کا حصہ جماعتیں اگر اب بھی اس اہم مسئلے کے حل کے بجائے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مہم میں مصروف رہیں تو ان کے لئے عوامی حلقوں کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ حالیہ ضمنی انتخابات سے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتیں اس بات سے واقف ہو ہی گئی ہیں کہ انہیں عوام میں کس قدر مقبولیت حاصل ہے۔ اگر اس سیلابی صورتحال میں بھی حکومتی اتحاد عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہا تو یہ اس اتحاد میں شامل ہر جماعت کی سیاسی شکست ہوگی۔

فلاحی تنظیمیں اس ضمن میں بہترین کام کر رہی ہیں لیکن اس وقت ملک کی جو صورتحال ہے ہم سب کو اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ہی اپنوں کو بچانے کے لئے آگے بڑھنا ہو گا بصورت دیگر عوام سیاسی قیادت کو کبھی معاف نہیں کریں گے بحیثیت انسان آفت زدہ علاقوں سے باہر بسنے والے ہر شخص کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار نبھانا ہو گا کیوں کہ روز قیامت سوال ہم سب سے ہو گا۔

Facebook Comments HS