فہیم بلوچ: کراچی سے بلوچی کتابوں کے پبلشر کی مبینہ جبری گمشدگی، بازیابی کے مطالبات


بلوچستان کی تاریخ اور شخصیات پر لکھتے وقت جب بھی کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے تو فہیم بلوچ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کون سی کتابیں کام آئیں گی اور ان کے مصنف کون ہیں۔ اُنھوں نے کراچی کے اردو بازار میں علم و ادب کے نام سے پبلشنگ ہاؤس قائم کر رکھا ہے جو بلوچستان کی تاریخ، ادب، شاعری و کہانیوں پر کتاب شائع کر رہا ہے۔

اردو بازار میں واقع ایک عمارت کی تیسری منزل پر واقع ان کے دفتر ’ادارہ علم و ادب‘ میں ان سے متعدد بار ملاقات ہوئی، جمعے کی رات کو نو بجے کے قریب ایک دوست جو چشم دید گواہ ہیں نے ٹیلیفون کر کے بتایا کہ کچھ لوگ پولیس وردی اور کچھ سادہ لباس میں آئے اور دریافت کیا کہ کیا اُنھوں نے کتابیں جرمنی بھیجی تھیں، اُنھوں نے کہا اثبات میں جواب دیا تو وہ اُنھیں اپنے ساتھ لے گئے۔

فہیم بلوچ کے والد اور والدہ انتقال کر چکے ہیں جبکہ بھائی بیرون ملک ہیں۔ اُن کی کزن ام حبیب نے سنیچر کو کراچی کے پولیس سٹیشن پریڈی کے ایس ایچ او کو ایک درخواست دی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اُنھیں گذشتہ شب فہیم کے دوستوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ دو پولیس موبائلوں میں سوار باوردی اور سادہ لباس اہلکار فہیم ولد حبیب اللہ کی دکان میں آئے اور فہیم کے بارے میں پوچھنے کے بعد اپنے ساتھ لے گئے۔

درخواست گزار کے مطابق گھر والوں کو جیسے اطلاع ملی وہ کراچی آئے اور متعلقہ تھانے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان کا بھائی کہاں ہے لیکن کسی پولیس اہلکار نے مثبت جواب نہیں دیا لہٰذا اب وہ تھانے آئی ہیں تاکہ اپنے بھائی کے اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کروا سکیں۔

بی بی سی کی جانب سے جب ایس ایچ او پریڈی سجاد سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے پاس نہ کوئی درخواست آئی ہے اور نہ اُنھوں نے اس کو لینے سے انکار کیا ہے۔

فہیم بلوچ کے ایک دوسرے قریبی رشتے دار سے بھی رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ اس وقت وہ اس صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے اور صورتحال واضح ہو جائے پھر ہی کچھ کہیں گے۔

دوسری جانب اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں نظر آتا ہے کہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد اور تین سادہ قمیض شلوار میں ملبوس لوگ جنھوں نے چہرے پر سرجیکل ماسک لگائے ہوئے ہیں عمارت میں داخل ہوتے ہیں، اس کے بعد فہیم کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ایجنسیوں کا نام کیوں لیا؟ ایف آئی آر درج نہیں ہوگی‘

’غلطی ہوئی ہے تو ادارے حفیظ بلوچ سے معافی مانگیں‘

’ہم مولویوں کو بتا دیں گے کہ آپ وقاص کے والدین ہیں وہ خود آپ کا گھر جلا دیں گے‘

’بیبگر کو جیسے گھسیٹتے ہوئے لے جایا گیا وہ منظر کبھی نہیں بھول سکتا‘

فہیم بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کی سوشل میڈیا پر ادیبوں، سیاست دانوں اور طلبہ تنظیموں نے مذمت کی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ فہیم بلوچ ایک ادب دوست شخص ہے اور بلوچی ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے، اس کی جبری گمشدگی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے، اُنھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

https://twitter.com/DrMalikBalochNP/status/1563434569281716225

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے فہیم کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے، اُنھوں نے بھی فہیم کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی این پی کے رکن اسمبلی ثناللہ بلوچ لکھتے ہیں کہ اس آزمائش الٰہی سیلاب کی صورتحال میں تو کچھ رحم کریں۔ نامور ناول نگار اور صحافی محمد حنیف لکھتے ہیں ملک کا تین تہائی حصہ ڈوبا ہوا ہے جبکہ سندھ حکومت اور اس کے گاڈ فادرز آزاد پبلشر فہیم بلوچ کے اغوا میں مصرف ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp