ادب، سماج، ثقافت، انقلاب اور دانشور: ”تھنکرز، ڈریمرز، اینڈ ڈوارز“ پہ ایک نظر
ڈاکٹر عارف آزاد کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب اپنے اندر فکر، نظریات، مزاحمت اور معاصر رجحانات کا ایک جہاں سموئے ہوئے ہیں۔ اتنے وسیع اور متنوع موضوعات کو ایک کتاب میں یوں پرونا کہ ہر موتی اپنی انفرادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس بڑی تصویر کا حصہ نظر آئے ڈاکٹر صاحب کا ہی خاصہ ہے۔ جیسے فرانسس بیکن کے مضامین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’ڈسپرسڈ میڈیٹیشنز‘ ہیں ڈاکٹر صاحب نے بھی ’ہائی کلچر‘ اور ’ہائی آرٹ فارمز‘ کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پہ بات نہ کی ہو۔
کتاب کے متنوع موضوعات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھلتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب ’کاسموپولیٹن انٹیلیجنشیا‘ کی ایک نمائندہ آواز ہیں۔ ان کے مضامین جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں سے بہت بالاتر ہیں۔ یہ ’ڈیلیوز‘ کے ’نومیڈ‘ کے تصور کی بڑی واضح جھلک ہے کہ کس طرح ایک ’ڈی ٹیریٹوریلائزڈ‘ فرد ’بیکمنگ‘ کے مختلف تجربات سے گزر رہا ہے اور ان کی مٹھاس کشید کر کے اپنے قاری سے سانجھی کرتا ہے۔
اس کتاب میں کل 72 مضامین شامل ہیں اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ اس سے کم یا زیادہ کیوں نہیں اور ڈاکٹر صاحب کے فکری پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے کسی روحانی واردات کا امکان بھی کم کم ہی نظر آتا ہے۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے۔
ان مضامین کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصہ موضوعاتی تنوع کے باوجود دوسرے سے جدا نہیں ہے۔ پہلے حصے میں جوزف راتھ سے وی ایس نیپال اور شیکسپئر کے ادبی شاہکاروں کا بہت ہی مختصر اور دلچسپ جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی حصے میں قومی ادب کے تصور پہ سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ اس بحث میں ’پوسٹ کولونیل‘ زاویے کی ایک نمائندہ آواز ’گوگی وا تھیانگو‘ کے مختلف افسانوی اور فلسفیانہ تخلیقات کا حوالہ ملتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس بحث کو ’لوکلائز‘ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اردو کے قومی زبان قرار دیے جانے سے ہماری شناخت پہ کیا اثر پڑا اور کس طرح علاقائیت اور علاقائی زبان و ادب کو ’مارجنلائز‘ کیا گیا۔
کتاب میں ’وی ایس نیپال‘ جسے عالمی پذیرائی حاصل ہے اور جو اپنے انتہائی شدت پسندانہ نظریات کی وجہ سے مشہور ہے پہ بھی ایک مختلف زاویے سے بات کی گئی ہے۔ اس کا تعلق دانشوروں کی اس قبیل سے ہے جو دنیا کو ’کولونیلزم‘ اور ’امپیریلزم‘ کا مثبت چہرہ پیش کرتے ہیں جو کہ مبنی بر حقیقت نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول ”بھلے نیپال ایک اچھا لکھاری ہی کیوں نہ ہو اس کی پہنچ بہت محدود ہے اور اس کے نظریات سے اتفاق ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک تخلیقی لکھاری سے زیادہ ایک ’پراپیگنڈسٹ‘ کی شہرت رکھتا ہے۔“
ڈاکٹر صاحب کا مضمون ’شیکسپئر ایٹ 400‘ اس کتاب کے دلچسپ ترین حصوں میں سے ہے۔ اس مضمون کے تعارفی جملے ہی یہ بات واضح کر دیتے ہیں کہ لکھاری کا شیکسپیئر سے رومانس کتنا گہرا ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اگر دنیا لکھاریوں کو بھلانا شروع کر دے تو شیکسپئر سب سے آخری ادیب ہو گا جسے بھلایا جائے گا۔ لنکن، مارکس، جناح اور بھٹو سبھی شیکسپئر کے شیدائی تھے۔
مختلف انقلابی شعرا، ادیبوں، فلسفیوں اور سیاستدانوں پہ بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب 1968 کا ذکر کرتے ہیں جب فرانس سے جنم لینے والی طلبہ کی جدوجہد کے اثرات پہلے یورپ اور بعد میں دنیا کے گوشے گوشے میں محسوس کیے گئے۔ اس جدوجہد سے ہی فلسفے، ادب اور دوسری آرٹ فارمز میں پوسٹ سٹرکچرل ازم اور پوسٹ ماڈرنزم کا آغاز ہوا۔
فیض اور ذوالفقار علی بھٹو پہ لکھے گئے مضامین ڈاکٹر صاحب کی جذباتی وابستگی اور کچھ کھو جانے کے احساس کی غمازی کرتے ہیں۔ ضیا دور میں فیض نے لبنان میں جلاوطنی کا کچھ وقت گزارا اور وہاں ان کی ملاقات ایڈورڈ سعید سے ہوئی۔ اقبال احمد کہتے ہیں کہ جب فیض نے ایڈورڈ سعید کو اپنا کلام سنایا تو باوجود اس کے کہ اسے اردو نہیں آتی تھی وہ ہمہ تن گوش رہا اور فیض کے انداز بیاں نے اسے مسحور کر دیا۔
ڈاکٹر صاحب پاکستان میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور سماجی تحریکوں پہ بڑی مفصل بات کرتے ہیں اور ان کے ہر ہر جملے سے اس بات کی جھلک نظر آتی ہے کہ وہ نہ صرف ان کے مسائل سے آگاہ ہیں بلکہ ان کا ’ریوائیول‘ بھی چاہتے ہیں۔ وہ یثرب تنویر (ڈاکٹر لال خان) کی بائیں بازو کے لئے خدمات اور جدوجہد کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
اس کتاب میں اتنا کچھ ہے کہ ایک بلاگ یا کالم میں اس کے ہر پہلو پہ بات کرنا ممکن نہیں۔ جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو محمد حنیف صاحب کے موقف کی تائید کرتے ہیں کہ یہ ایک کتاب ہمیں بہت سی اور کتابیں پڑھنے پہ اکساتی ہے۔ ادب، تاریخ، فلسفہ، سیاست، سینما، صحافت اور مزاحمتی تحریکوں کی حرکیات میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لئے یہ کتاب ایک ’ٹریٹ‘ ہے۔


