سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کی ’اسلامی اقدار‘ کی خلاف ورزی پر نیٹ فلکس کو تنبیہ


نیٹ فلکس
Netflix / Jurassic World: Camp Cretaceous
سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے نیٹ فلکس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’اسلامی اور معاشرتی اقدار اور اصولوں‘ کی خلاف ورزی کرنے والے تمام مواد کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے۔

سعودی اور خلیج تعاون کونسل کے میڈیا سے متعلق نگراں اداروں نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ نیٹ فلکس پر موجود مواد، بشمول بچوں کے لیے بنایا گیا مواد، ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

تاہم اس بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

لیکن سعودی سرکاری ٹی وی نے نیٹ فلکس پر موجود اینیمیٹڈ شو ’جراسک ورلڈ: کیمپ کریٹاسیئس‘ کے چند دھندلے کلپس دکھائے ہیں جس میں دو نوعمر لڑکیاں ایک دوسرے سے محبت کرنے کا نہ صرف اعتراف کرتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کا بوسہ بھی لیتی ہیں۔

الآخباریہ ٹی وی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ میں متنازع فلم کیوٹیز کی فوٹیج بھی شامل کی گئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک عبارت کے ذریعے نیٹ فلکس پر ’سنیما کے آڑ میں غیر اخلاقی پیغامات دینے اور بچوں کی صحت مند پرورش کو متاثر‘ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

الاخباریہ کی ویب سائٹ پر موجود ایک اور ویڈیو میں الزام لگایا گیا ہے کہ سٹریمنگ سروس (نیٹ فلکس) ’ہم جنس پرستوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ مرکوز کر کے ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہی ہے۔‘

اس چینل نے چند معروف شخصیات کے انٹرویو بھی لیے جنھوں نے نیٹ فلکس پر ایسے ہی الزامات عائد کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

https://twitter.com/alekhbariyatv/status/1567143336225431554


یہ بھی پڑھیے

’نیٹ فلکس کو لگتا ہے ہم بولڈ ڈرامے نہیں بنا سکتے‘

وہ چار چیزیں جنھوں نے نیٹ فلکس کو کامیاب بنایا

نیٹ فلکس: دنیا کی سب سے بڑی سٹریمنگ سروس انڈیا سے مایوس کیوں؟

سیما آنٹی پر دوبارہ تنقید: ’نیٹ فلکس نے اس شو پر پیسہ لگایا جو عورتوں سے نفرت کو فروغ دیتا ہے‘

سعودی جنرل کمیشن برائے آڈیو ویژیول میڈیا اور خلیجی تعاون کونسل کی کمیٹی آف الیکٹرانک میڈیا آفیشلز کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نیٹ فلکس سے اس مواد کو ہٹانے کے لیے، بشمول بچوں کے لیے ہدایت کردہ مواد، اور قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔‘

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’حکام ہدایات پر عمل درآمد کریں گے اور غیر اخلاقی مواد نشر ہونے کی صورت میں تمام ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

نیٹ فلکس کی جانب سے ان الزامات پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

نیٹ فلکس

Netflix

اگرچہ سنی مسلم اکثریت والے ملک سعودی عرب میں جنسی رجحان یا صنفی شناخت کے حوالے سے کوئی قانون نہیں ہے، تاہم شادی کے علاوہ جنسی تعلقات بشمول ہم جنس پرست تعلقات کی سختی سے ممانعت ہے۔

ملک کے اسلامی قوانین کے مطابق رضامندی سے جنسی تعلقات یا ہم جنس پرست تعلقات استوار کرنے کی سزا موت یا کوڑے ہیں اور اس سزا کا تعین انفرادی کیس کی نوعیت کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔

اپریل میں، سعودی عرب کے سینما گھروں میں فلم ’ڈاکٹر سٹرینج ان دی ملٹیورس آف میڈنس‘ کی نمائش اس وقت نہیں کی گئی تھی جب ڈزنی نے سعودی حکام کی جانب سے ہم جنس پرستی سے متعلق مواد کو حذف کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

اور اسی طرح اینیمیٹڈ فلم ’لائٹ یئر‘ جس میں ہم جنس افراد کو بوسہ لیتے دکھایا گیا ہے کو جون میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں نمائش پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جبکہ اس دوران گذشتہ ماہ سعودی حکام نے یوٹیوب پر اسلامی اقدار کی خلاف ورزی کرنے والے ’نامناسب اشتہارات‘ کی اجازت دینے کا الزام لگایا تھا۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp