کئی ہزار برس کا قصہ


ایتھنز کی گلیوں میں دیو جانس کلبی ہاتھ میں لالٹین لیے گھومتا تھا۔ وہ سینوپ میں پیدا ہوا تھا، سقراط کے فلسفے سے جنم لینے والی تین بڑی تحریکوں میں کلبیت نے آنے والے دور پر بڑا اثر ڈالا۔ یونانی اس کے لیے ”سنیسزم“ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ رہبانیت بھی اسی کی آغوش میں پروان چڑھی۔ پرانی دھات سے بنی ایک لالٹین جس کی مدھم سی روشنی رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی ہلکا سا خلل ہی پیدا کر سکتی ہو گی، اس کی تنقیدی بصارت کی رفیق تھی۔ جون ایلیا نے فرنود میں دیو جانس کلبی کو اپنا مرشد کہا ہے۔ دیکھیے جون نے سوال کرنے کی جرات، شاعری میں استفہامیہ لہجہ اور اور طنز کی کاٹ، یہ سب کہاں کہاں سے اکٹھا کیا۔ بات کرنے کا غیر روایتی ڈھنگ اور مادی دنیا سے بے نیازی بلکہ بیزاری دیو جانس کلبی کی وجہ شہرت رہی ہے۔ ملگجی گدڑی میں لپٹا ہوا، ہاتھ میں لالٹین پکڑے دن کی سفیدی میں کچھ ڈھونڈتا آدمی۔ ہمارے دور کے درویشوں سے ذرا مختلف تھا۔ سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ وہ سوچنا جانتا تھا۔ یونان کی دانش گاہیں اور فکری خانقاہیں انھیں فلسفیوں کی دین تھیں۔ کسی نے سوال کیا دیو جانس کیا ڈھونڈتے ہو؟ کہا میں دیانتدار آدمی تلاش کر رہا ہوں ؛اس نے بد دیانتی پر ایسا طنز کیا جو تاریخ کا حصہ بن گیا۔ دیو جانس کلبی سوچنے کا فن جانتا تھا۔

سوچنا بڑا عظیم عمل ہے۔ 1988 میں جون ایلیا کے بھائی رئیس امروہوی کو ایک انتہا پسند تنظیم نے قتل کروایا تو جون ایلیا نے قاتل کے دماغ پر حملہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ”بھائی دماغ ہی تو تھے“ ایک مفکر، ادیب، شاعر کا اس سے بہتر کیا تعارف کروایا جا سکتا تھا؟ رئیس امروہوی نے ادب، فلسفہ، علم نفسیات و مابعد نفسیات پر اعلی پائے کا کام کیا۔ سوچنے والے دماغ سے ہمیشہ خائف رہنے والے طبقات میں انھیں مل بھی کیا سکتا تھا؟ ستم ظریفی دیکھیے کہ ہم نے رئیس امروہوی کے بعد آج تک زیادہ تر رٹنے والے دماغ ہی پیدا کیے ہیں۔ ویسے اس سے بڑی ذہنی عیاشی اور کیا ہوگی کہ غور و فکر کے مخمصے میں پڑے بغیر اندھی تقلید کر لی جائے۔

جب زیادہ اچھا یاد کرنے کو ہی دماغی قابلیت تصور کیا جائے گا تو تخلیقیت کہاں سے پیدا ہو گی؟ خاصی دلچسپ بات ہے کہ یہ قابلیت چھوٹی سی ڈسک یا یو۔ ایس۔ بی میں بھی انسان سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جتنا چاہے ڈیٹا سٹور کیجیے۔

آپ ہمارے پورے تعلیمی نظام کو کھنگالیے اور غور کیجیے کہ اس میں کتنے ایسے مواقع پیدا ہوتے ہیں جو سوچنے کی تحریک دیتے ہوں؟ یعنی تصور کرنا اور سوجھ بوجھ کا عمل اور تخلیق کرنا جو اعلی ترین ذہنی صلاحیتوں میں شمار کیے جاتے ہیں ہمارا موضوع ہی نہیں، نہ مقاصد میں شامل ہیں۔ ایک طرف رٹ لینا، یاد کرنا تعلیمی مشق ہے تو دوسری طرف میکانیکی پرکھ اور ناپ تول نے گویا تدریس کا بیڑہ ہی غرق کر دیا۔ تحقیقی اداروں میں جس طرح کی سرگرمی کو ہم تحقیق کا نام دے رہے ہیں اس کا ذہنی جستجو، تلاش اور دریافت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ بھاڑے کے ٹٹو پر سوار ہو کر کے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔

میں تصور کے ساتھ متخیلہ کا ذکر بھی کرتا چلوں بلکہ ایس ٹی کالرج کا ”متخیلہ“ ۔ کالرج کے مطابق متخیلہ ہی وہ قوت ہے جو مختلف اشیا اور ان کی صفات کے مابین فرق کرنا اور ان کا ربط تلاش کرنا سکھاتی ہے۔ خصوصاً ”ثانوی متخیلہ“ سیکنڈری امیجینیشن جو اشیا کے بارے میں انوکھے وسیلے سے نیا رویہ عطا کرتا ہے۔ متخیلہ کی تخلیقی قوت تمام اشیا کے تضادات سے بلند ہو کر انھیں مربوط کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ انسانی زندگی میں یہیں سے تخلیقیت کا آغاز ہوتا ہے۔ اور انتظار حسین کے بقول تخلیقیت مجموعی طور پر تب پروان چڑھتی ہے جب کسی سماج کے روز مرہ کا حصہ بن جائے۔ پھر تخلیقیت دکانوں اور باورچی خانوں سے سفر شروع کرتی ہے اور قوم کا مجموعی چلن بن جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو باتوں میں تازگی تک ختم ہو جاتی ہے۔ دو درجن الفاظ کے استعمال سے ہی ہر بات بیان کر لی جاتی ہے بلکہ سارا دن بولا جا سکتا ہے۔ سوچیے ایسی مشق کتنے بڑے دماغ پیدا کر سکتی ہے؟

در اصل تہذیب بھی فکر کی تازگی سے آگے بڑھتی ہے اور تعلیمی سلسلے کی ہر نئی سیڑھی معاشرے کو ترقی دیتی جاتی ہے۔ اگر دماغ ہی منجمد ہوں تو تعلیمی نظام میں گھس بیٹھیے داخل ہو جاتے ہیں۔ وہ گھس بیٹھیے جنھیں سوچنا نہیں آتا۔ بد دیانتی کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔ مضحکہ خیز کرداروں کی نشو نما پر وسائل صرف کیے جاتے ہیں اور بد دیانتی کی تجسیم کر کے اسے معاشرے میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ میرے نزدیک افسوس کی بات یہ نہیں کہ ہم سنجیدہ لوگ پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے مسخرے بھی تیسرے درجے کے ایجاد کیے ہیں۔ اس بد دیانتی کا نتیجہ یہ حالات ہیں کہ ہر جگہ بھاڑے کے ٹٹو گھوم رہے ہیں اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد دیو جانس کلبی کی لالٹین کی موہوم سے روشنی بھی گم ہو گئی ہے۔

اب آپ دیانتدار آدمی کو اپنے ڈھنگ سے تلاش کیجیے گا۔ اپنے اوزار اٹھائیے اور ناپ تول کیجیے۔ مکھی پر مکھی مارنے والوں میں بہتر مکھی مار کا انتخاب کیجیے اور تعلیمی سرٹیفیکیٹ پر جلی حروف میں ان کا نام لکھیے۔ یہ بھی نہ کر سکیں تو خوشامدیوں کا ریوڑ اکٹھا کیجیے اور زیادہ زور سے تالی مارنے والے کو ہار پہنائیے۔

حضور! کچھ سوچیے ورنہ ہمارے ارد گرد چلتی پھرتی یاد کرنے والی مشینیں ہی باقی رہ جائیں گی۔

آخر میں یاسر اقبال کے اشعار دیکھیے

ہم زرد کتاب کے جلتوں نے تعبیروں کا ہنگام کیا
جب لفظوں کو سرسبز کیا تو پیش نگاہ بہشت رکھی
ہر سمت زمین میں تہہ در تہہ شجرے کے جنگل نقش ہوئے
ہم لوح و قلم کے وارث تھے، آثار میں صرف نوشت رکھی
جب افلاطون کا اندھا برگد پھیلا تو غلطان ہوا
سب تن کی جوانی کاٹ گئی تو خشک لبوں پر ہشت رکھی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments