سندھ ڈوبا یا ڈبویا گیا ہے!


سندھ میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں اب بھی جاری ہیں، سب سے زیادہ سندھ صوبہ متاثر ہوا ہے۔ اس کے بعد بلوچستان، کے پی کے اور جنوبی پنجاب بھی سیلاب کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں موضوع ہے کہ سندھ ڈوبا ہے یا اسے ڈبویا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس دو دن سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ جنہوں نے سکھر، لاڑکانہ، قمبر، اوستہ محمد، نصیر آباد کا دورہ کیا اور فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔

سکھر ائرپورٹ پر وزیر اعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دیگر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بریفنگ دیتے ہوئے عالمی برادری سے امداد اور مدد کی اپیل بھی کی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہباز اور بلاول بھٹو زرداری کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی تیاری کی نہ کوئی کام کیا گیا ہے۔ شاید ان کا کہنا تھا کہ اگر ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لئے کوئی کوشش کی ہوتی تو آج نہ ڈوبتے ۾۔

عالمی میڈیا کے نمائندوں روز سے سندھ میں بارشوں کی تباہ کاریاں اور ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹنگ بھی کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کی سب سے بڑی نا اہلی لاپرواہی یہ ہے کہ انہوں نے الرٹ جاری کرنے کے باوجود کوئی تیاری نہی کی ہے۔ بلوچستان میں ڈیم ٹوٹنے کی وجہ سے نصیر آباد سے نے والے پانی نے سندھ میں تباہی مچانا شروع کردی۔ سندھ حکومت نے گزشتہ 15 سالوں بلکہ 1995 ع اور 2010 ع کے سیلاب کے سے ہونے والی تباہی کے باوجود کوئی تیاری نہیں کی۔

محکمہ آبپاشی جو اس وقت بھی آصف علی زرداری فریال تالپر کے قریبی رشتہ دار علی حسن زرداری چلا رہے ہیں۔ 99 فیصد کام نہ ہونے کی وجہ سے بندوں کے پشت کمزور پڑ گئے۔ جبکہ ایل بی او ڈی حالت زار بھی کمزور تھی۔ مجبوراً ہم نے فصلیں بچانے کے لئے شہروں کو ڈبویا۔ ایل بی او ڈی کو کٹ لگانے پڑے۔ حمل جھیل اور منچھر جھیل کو کٹ لگانے پڑے۔ ہم نے ندیوں نالوں پر پہلے سے ہی قبضہ کر رکھے تھے۔ پانی کو دریائے سندھ یا سمندر میں براہ راست راستہ نہ دینے پر قمبر شہداد کوٹ سے لے کر نصیر آباد، سجاول، کے این شاہ، میہڑ، جوہی، سید بھان آباد سمیت دیگر شہروں کو ڈبویا گیا اب دادو ضلع کے لئے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

نوشہرہ فیروز، کنڈیارو، ہالانی، گمبٹ، کھڑا، راضی دیرو، کوٹڑی کبیر، ٹھری میرواہ سمیت روہڑی، پنوعاقل، صالح پٹ، سانگھڑ مٹیاری سمیت دیگر علاقے اور شہر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سندھ میں عدالتی حکم کے باوجود بندوں پر کٹ دیے گئے ہیں۔ جس سے ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق تقریباً 17 لاکھ سے زائد گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، ملک بھر میں 1400 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، تقریباً 35 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے، 12 لاکھ ہیکٹر ( 29 لاکھ ایکڑ) سندھ کہ زرعی زمینوں پر لگائی گئی فصلیں اور باغات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

7 ہزار کلومیٹر سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ سکھر میں سینیئر صحافی حامد میر کے ساتھ ملاقات ہوئی جو کچھ روز قبل کوریج کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقے رہائش کے لئے ممنون قرار دیے جائیں، بندوں کینالوں پر بیٹھے لوگوں کو خالی کرایا جائے اور جو قدرتی پانی کا راستہ ہے وہ خالی ہونے سے آئندہ اتنی تباہی نہی پھیلے گی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین وفاقی وزیر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بارشیں اتنی ہوئی ہیں جس کی امید نہی تھی۔

مطلب الرٹ جاری کرنے کے باوجود کوئی تیاری نہی کی گئی تھی۔ یہاں تک کہ شہروں میں ڈرینیج، نالوں کی صفائی تک نہی کی گئی۔ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سکھر شہر سمیت سندھ کے متاثر علاقوں میں کشتیاں چلی ہیں۔ سندھ میں اس وقت بھی 55 لاکھ سے زائد افراد کھلے آسمان تلے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ سندھ کا مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔ ریلوے لائن روہڑی سے کراچی تک ابھی تک بحال نہی ہوئی ہے۔ انڈس ہائی وے ڈوبا ہوا ہے۔

سارا ٹریفک کا دباؤ قومی شاہراہ پر ہے مگر وہ بھی 5 گھنٹے کا سفر 18 گھنٹوں میں ہو رہا ہے۔ قومی شاہراہ بھی جگہ جگہ ٹوٹا ہوا ہے۔ اگر گزشتہ حکومت میں سکھر سے حیدر آباد موٹر وے بن جاتا تو آج یہ دن بھی دیکھنے نہ پڑتے۔ سندھ سرکار کی جانب اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے 23 اضلاع بارش اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ بارشوں اور سیلاب سے 577 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، 6.2 ملین لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ 1732 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں 5 لاکھ 76 ہزار افراد کو رکھا گیا ہے۔

صوبے میں 32 لاکھ 79 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ”120,000 جانور مر گئے جبکہ ان علاقوں میں پولٹری اور فش فارمز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک صوبے میں 3 لاکھ خیمے، 14 لاکھ 10 ہزار مچھر دانیاں اور 1 لاکھ 71 ہزار راشن بیگز فراہم کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ 100,000 خیمے، 390,000 مچھر دانیاں اور 618,000 راشن بیگز بھی منگوائے گئے ہیں۔ جبکہ مزید 5,65,000 خیمے، 2,700,000 مچھر دانیاں اور 7,11,000 راشن بیگز کی ضرورت ہے۔

سندھ بھر میں 1100 صحت مراکز متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت سندھ نے ادویات کی دستیابی کے لیے 750 ملین بھی جاری کر دیے۔ متاثرہ علاقوں میں 240 لائیو سٹاک کیمپ ہسپتال قائم کیے گئے ہیں۔ جانوروں کے لیے 100 موبائل ہسپتال بھی بنائے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردی اعداد و شمار ٹیبل پر بنائی گئی رپورٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ جو سرکار دعوہ کر رہی ہے اس کے برعکس متاثرین کے لئے دس فیصد بھی نہی کیا ہے۔

سندھ میں 55 لاکھ لوگوں کو رہنے کے لئے ٹینٹ نہی ہیں۔ لاکھوں افراد ایک وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہیں۔ ہم ایک طرف عالمی برادری سے امداد کی اپیل کر رہے ہیں دوسری جانب متاثرین کو کھانا نہی کھلا سکتے۔ 55 لاکھ لوگوں کو خیمے فراہم نہی کر سکے ہیں۔ جانوروں کے لئے چارہ فراہم نہی کر سکے ہیں۔ حکومت کے اتحادی جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے بتایا کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کے لئے کام کر رہے ہیں۔

صوبائی یا وفاقی حکومت نے انہیں ایک ٹکہ تک نہی دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب تک چندہ کر کے 20 کروڑ روپے کا سامان، خیمہ، ٹینٹ راشن متاثرین کو دے چکے ہیں جو سلسلہ جاری ہے۔ 20 ہزار خاندانوں کو راشن دے چکے ہیں۔ میڈیکل کیمپس لگا کر ایک کروڑ روپے سے زائد کی ادویات متاثر مریضوں کو دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنا مدرسہ اور چھ بھائیوں کے گھر خالی کر کے 300 فیملیز کو پناہ دے چکے ہیں جہاں پر ان کو گھر کی طرح کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

سندھ میں جماعت اسلامی کے مطابق سندھ سمیت ملک بھر میں اب تک اربوں روپے کی امداد فراہم کر چکی ہیں، جی ڈی سی جعفریہ ڈزاسٹر مینجمنٹ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں راشن کے ٹرک متاثرین تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ ٹی ایل پی، اللہ اکبر تحریک، جامعہ بیت الرحمن، سنی تحریک، بیت السلام انصار الاسلام سمیت دیگر مذہبی جماعتیں اپنی مدد آپ کے تحت خدمت میں پیش پیش ہیں۔ ایک بات افسوس کہ ساتھ کہنا پڑ رہی ہے جو اس وقت مشکل وقت میں کہنی نہی چاہیے کیونکہ اس وقت مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت بھی سندھ میں روزانہ عالمی امداد کے جہاز بھر بھر کے آرہے ہیں مگر متاثرین کو نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس وقت بھی منتخب نمائندوں اور افسران کی جانب سے متاثرین کا سامان، راشن، امداد غبن کہ جا رہی ہے۔ متاثرین کی بحالی ریلیف اور امداد کے مد میں دی جانے والی رقم خرد برد کی جا رہی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے سینئر جسٹس ظفر احمد راجپوت نے متاثرین کی بحالی کے لئے دائر درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز، مختیار کار اور دیگر افسران اسٹیٹ کے آگے جوابدہ ہیں مگر یہ وڈیروں کے نوکر بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ متاثرین بے یار و مددگار قومی شاہراہوں پر کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ ان متاثرین کی امداد ایم این ایز ایم پی ایز اور وڈیروں کے بنگلوں اوطاقوں پر جمع کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کی سربراہی میں عدالتی کمیشن بنایا جائے جو تفتیش کرے کہ سندھ ڈوبا ہے یا ڈبویا گیا ہے۔ 2010 ع کے سیلاب کے بعد رقم کہاں خرچ کی گئی اور وہ کام کہاں کیا گیا تھا نظر کیوں نہیں آیا۔ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ بدعنوانی نے سندھ کو ڈبویا ہے پانی نے؟ اگر کمیشن درست تفتیش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یقیناً آئندہ نہ سندھ ڈوبے گا نہ پاکستان۔

Facebook Comments HS