ملکہ کو اپنے پالتو ’کوگی‘ کتوں سے کیسے محبت ہوئی اور پھر انھوں نے اس روایت کو کیسے فروغ دیا؟

ریبیکا سِیلز - بی بی سی نیوز


The queen pictured at Balmoral with Susan in 1952. The queen leans on a wall in a pale green suit. Susan is a dark red corgi with a pointed, foxy face, and an almost smiling expression
Bettmann/getty images
ملکہ کی اپنی پالتو کتیا 'سُوزن' کے ساتھ بالمورل قلعے میں لی گئی سنہ 1952 کی تصویر، وہ اسی سال تخت نشین ہوئی تھیں
ملکہ کی موت کے بعد سے، ان کے پالتو 'کوگی' نسل کے کتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اب اُن کا کیا بنے گا۔ یہ وہ پالتو جانور ہیں جن کا ایک بڑا غول ملکہ نے اپنے بچپن سے ہی جمع کر رکھا تھا۔ اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس کے پیارے کتوں کی دیکھ بھال ان کا بیٹا پرنس اینڈریو اور اس کی سابقہ بیوی ڈچز آف یارک کریں گی۔ یہ ان کی کہانی ہے کہ کس طرح الزبتھ اور اس کے 'کوگی' ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے۔

Short presentational grey line

سنہ 1959 کی ایک تصویر جس میں ملکہ الزبتھ دوئم، 32 سال کی عمر میں جب وہ دو بچوں کی ماں چکی ہیں، اپنے کتے کے لیے قبر کے پتھر کا ڈیزائن کر رہی ہے۔

سوزن اپنی 18 ویں سالگرہ پر دکھائی دی، اور چند سال بعد ملکہ کی شہزادہ فلپس کی شادی کے بعد کے بعد وہ گیٹ کریش کیا، جب ایک شاہی گاڑی میں اسے ایک قالین میں لپیٹ کر محل میں سمگل کیا گیا۔

ملکہ نے اپنے غم میں لکھا کہ ‘مجھے ہمیشہ اسے کھونے کا خوف تھا، لیکن میں ہمیشہ اس بات کی شکر گزار ہوں کہ مجھے اُس کی جدائی کی تکلیف بہت عرصے کے لیے سہنا پڑی۔’

سوزن کے شاہی گھڑی چلانے والے اور محل کے ایک نوجوان سنٹری کو کاٹنے کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں، حالانکہ ان واقعات کا ذکر اس کے قبر کے کتبے پر نہیں کیا گیا ہے۔ اسے سینڈرنگھم کے پالتو جانوروں کے قبرستان میں دفن کیا گیا، اس قبرستان کی بنیاد مشہور سوگوار ملکہ وکٹوریہ نے رکھی تھی۔ .

ایک پیمبروک ویلش کوگی کا خاتمہ – لیکن یقینی طور پر یہ ملکہ معظمہ کے لیے ایک خاتمہ نہیں، جن کے دور کا حال ہی میں آغاز ہوا تھا۔ اگلی چھ دہائیوں کے دوران وہ سوزن کی 30 سے زائد اولادوں کی مالک ہو جاتی ہیں، وہ تنِ تنہا ہی اس پست قد کے ‘ویلش کیٹل’ کے لیے ایک بڑے پیمانے پر فروغ کا اہتمام کرتی ہیں، اور شہزادی مارگریٹ کے ایک پیارے سے اور دلکش ڈچ شنڈ نسل کے کتے، ‘پپکِن’ کی مدد سے حادثاتی طور پر ایک نئی نسل ‘ڈورگی’ پیدا کرواتی ہیں۔

A graphic of a corgi

آخر 'کوگی' نسل ہی کیوں؟ اس کا جواب جس کا ان کے والدین کے ساتھ تعلق میں نظر آ سکتا ہے، یہ ہے کہ سنہ 1933 میں جب شہزادی الزبتھ سات سال کی تھیں تو وہ اس وقت اس کتے کو حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ ایسا ایک کتا ان کے چند دوستوں کے گھروں میں تھا۔

‘پیمبروک کوگی’ (Pembroke corgis) ویلز میں کتے کی ایک جانی پہچانی نسل تھی، لیکن انگلینڈ کے لیے بالکل نیئ نسل تھی۔ ڈیوک آف یارک، الزبتھ کے والد نے ‘تھیلما گرے’ نامی ایک معروف بریڈر سے رابطہ کیا جس نے جنوبی انگلینڈ کی کاؤنٹی سرے میں اپنے |روزویل کینلز’ سے شاہی خاندان کے تین کتے پیش کیے۔

شاہی خاندان کا ایک چھوٹی کوگی پر دل آگیا، جسے سرکاری طور پر ‘روزاول گولڈن ایگل’ کہا گیا، کیونکہ وہ واحد کتا تھا جس کی دم اس کے اپنے قد سے زیادہ بڑی نظر آتی تھی – اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کب خوش ہے۔ لیکن اس کتے کو اب ڈُوکی کے نام دے دیا گیا، اور مبینہ طور پر جب کتے کے گھر کے عملے نے سنا کہ ڈیوک آف یارک اس کے مالک بننے جا رہے ہیں تو یہ نام پکّا ہو گیا۔

ڈوکی نے بہت برے سلوک کا مظاہرہ کیا، درباریوں اور مہمانوں کو کاٹ لیا کرتا تھا – لیکن اس رویے کے باوجود الزبتھ اور اس پستہ قد کے ظالم کتے کی ایک تصویر جو اخبارات کے لیے جاری کی گئی تھی، نے پیمبروک کوگی کو عوام میں ایک دلکش کتے کی نسل کے طور پر متعارف کرایا۔

Princess Elizabeth pictured walking down stairs at Glamis Station with a small Pembroke Corgi - Dookie

Imagno/Getty Images
شہزادی الزبتھ نے ڈوکی کے ساتھ گلیمز اسٹیشن پر اس کے شاہی خاندان میں شامل ہونے کے فوراً بعد تصویر کھنچوائی۔

ایک اور کتے کا بچہ، لیڈی جین، چند سال بعد اسی سرے کاؤنٹی کے اُسی بریڈر سے پیش کیا گیا۔ سنہ 1936 کی کرسمس کے موقع پر پھر تعلقاتِ عامہ کی ایک نئی کوشش کے نتیجے میں بچوں کی ایک کتاب – ہماری شہزادیاں اور ان کے کتے – کی شکل میں اس کتے کو دیکھا گیا جس نے یارک اور ان کے پالتو جانوروں کو ‘ایک بہت ہی انسانی خاندان’ کے طور پر پیش کیا۔ کتے کی تصویروں اور خاندانی اقدار سے بھری یہ کتاب ڈیوک کے بڑے بھائی کے تخت سے دستبردار ہونے سے چند دن پہلے فروخت ہوئی، جس کے نتیجے میں الزبتھ کے والد نئے بادشاہ بنے تھے۔

بکنگھم پیلس ملکہ کے کتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کے بارے میں انتہائی خـاموش رہتا ہے کیونکہ شاہی خاندان اسے ایک نجی معاملے’ کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ شاہی خاندانوں نے کوگی کا ایک نرم طبیعت والا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی۔

Princess Elizabeth, beaming in a dress and sandals aged about 10, cradles one Corgi while another stands at her feet.

Lisa Sheridan/Studio Lisa/Hulton Archive/Getty
شہزادی الزبتھ اپنی پہلی کورگی – ڈوکی اور جین کے ساتھ – اپنے بچپن کے گھر پیکاڈیلی، لندن، جولائی سنہ 1936 میں۔

کینیل کلب (کتوں کے مالکان کی ایک تنظیم) کے سنہ 1936 کے اعداد و شمار میں پیمبروک کوگی رجسٹریشن کی تعداد میں واضح اضافہ ظاہر کرتے ہیں، اور ایک اور سنہ 1944 کے اعداد و شمار میں، جس سال شہزادی الزبتھ کو سوزن ملتی ہے، اس نے کوگیز کو بہت ہی پیاری اور نرم طبیعت والے کتے کے طور پر پیش کیا جبکہ شہزادی اس کے مقابلے میں زیادہ سخت طبیعت کی نظر آتی ہے۔

کینیل کلب کی لائبریری اور کلیکشنز مینیجر سیارا فیرل نوٹ کرتی ہیں کہ ‘لوگ – کتے پالنے والے – ایک ایسے کتے کے لیے مارکیٹ کی میں کتے فروخت کر رہے تھے جو اچانک بہت مقبول ہو گیا تھا۔ یہ 101 ڈالمیشنز اثر ہے’۔

‘آپ اسے اشتہارات کے ساتھ بھی دیکھتے ہیں – 70 اور 80 کی دہائیوں میں ڈیولکس (کمپنی کی مصنوعات) کے اشتہار پر پرانا انگلش شیپ ڈاگ۔’ اسی طرح، اینڈریکس کتے، ایک مارکیٹنگ کی ایک بہت ہی کامیاب علامت تھی جو کہ نصف صدی سے چلتی آرہی تھی۔

کیمروں سے دور شہزادی الزبتھ اور سوزن ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ اس میں حسب و نسب کے بارے میں شاہی آگاہی کا اضافہ کریں، تو پھر آپ کو بات عجیب نہیں لگے گی کہ انھوں نے سوزن کو ایک ساتھی تلاش کرنے کے لیے اپنے بچپن کے کتے فراہم کرنے والی تھیلما کی طرف رجوع کیا۔ اس مقصد کے لیے ‘روزویل لکی سٹرائیک’ کا انتخاب کیا گیا، اور انھوں نے ونڈسر پیمبروک کورگیز کی ایک نسل پیدا کی، جو 14 نسلوں تک جاری رہی۔

ملکہ کے بہت پیارے پالتو جانور ہونے کے ساتھ ساتھ، کوگیز کا اس کے والد کے ساتھ بھی ایک تعلق تھا، وہ اس کے لیے کسی ذمہ داری کے بغیر زیادہ اور آزادی کا وقت تھا۔ سوزن کے بعد ہر کتے کا اس کے ماضی کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کا ایک طریقہ تھا، اور یہ یاد دہانی کہ زندگی اور خاندان چلتے رہتے ہیں۔

جب کہ ان کے شوہر پرنس فلپ نے زندگی بھر اپنی بیوی کے پیچھے چلتے ہوئے گزارا، کوگیز ملکہ کے آگے آگے چلتے تھے – یہ کتے وہ آزادی کی نعمت رکھتے تھے جن سے ملکہ نے اپنے آپ کو محروم رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ شہزادی ڈیانا نے اپنے سے پہلے آنے والے کتوں کی گڑبڑ کو بیان کرنے کے لیے ‘حرکت کرتا ہوا قالین’ کا فقرہ وضع کیا تھا۔ لیکن ملکہ نے انہیں ‘لڑکیاں’ اور ‘لڑکے’ کہا۔ اپنی افزائش کے تمام سالوں میں، انھوں نے کبھی بھی اپنے کسی بھی کتے کو فروخت نہیں کیا۔ سب ان کے ساتھ رہے یا نسل دینے والوں، رشتہ داروں یا دوستوں کو تحفتاً دیے گئے۔

Queen Elizabeth walks through a door in Buckingham Palace, ready to meet players and officials from the New Zealand Rugby League Team, on October 16, 2007. Two dogs have walked into the room ahead of her - a corgi and a dorgi

Tim Graham Picture Library/Getty
ملکہ کے دو کتے انھیں دروازے سے رہنمائی کرتے ہیں جب وہ 2007 میں بکنگھم پیلس میں نیوزی لینڈ کی رگبی ٹیم کا استقبال کر رہی تھیں

کوگیز ہر اس جگہ جاتے جہاں جہاں ملکہ جاتی تھی – ایک محل سے دوسرے محل تک۔ اس میں ہیلی کاپٹر، ٹرین اور لیموزین وغیرہ بھی شامل ہیں۔ سینڈرنگھم میں کرسمس کے موقع پر ان میں سے ہر ایک کے پاس کتوں کی اتنی بڑی تعداد تھی کہ اُسے جو خود ملکہ نے سوار کرایا تھا۔

بکنگھم پیلس میں 775 کمرے ہیں، لیکن ملکہ نے انھیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کشن پر مخصو ص قسم کے غلاف پہنائے ہوئے تھے۔’

ان کے آخری مہینوں میں نقل و حرکت کے مسائل کے متاثر ہونے سے پہلے انہیں ہر روز سیر کرانا ان کے معمول کا حصہ تھا۔ اور گزرے سالوں میں، اسے ایک قدیم ووکزال سٹیٹ میں کتوں کے غول کو جمع کرنے، سر پر اسکارف پہننے اور ڈرائیو کے لیے روانہ ہونے کے علاوہ اور کچھ بھی پسند نہیں تھا۔

Queen Elizabeth II with one of her corgis at Sandringham, 1970

Fox Photos/Hulton Archive/Getty Images
ملکہ اپنے کتوں کو ہوائی جہاز سمیت ہر جگہ لے جاتی تھی۔ (سنہ 1970 کی تصویر)

ایک عام کتے کی زندگی میں گھومنے پھرنے کے لیے ہزاروں ایکڑ، یا شاہی کچن میں تیار کی جانے والی گوشت کی بوٹیاں، چکن بریسٹ، سبزیوں اور چاولوں کے شاہی کھانے شامل نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن جونور کا خیال ہے کہ کچھ طریقوں سے، کوگیز نے ملکہ کو ہر ایک کے ساتھ رابطے کا ایک قیمتی موقع دیا۔

اس نے لکھا کہ ‘کتے اور گھوڑے ان کا جنون ہیں اور یہ ان کے ساتھ ہے، اور جو لوگ اس کا شوق رکھتے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ سکون کا باعث ہوتا ہے۔ گھوڑے ایک امیر آدمی کا کھیل ہیں لیکن کتے نہیں ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں اور، برسوں کے دوران، ملکہ کی اپنے بہت سے ساتھی کتے کے شوقین افراد کے ساتھ مضبوط اور حقیقی دوستی رہی ہے۔’

سنہ 1933 اور سنہ 2018 کے درمیان ملکہ ہمیشہ کم از کم ایک کوگی کی مالک ضرور رہی ہیں۔

لیکن زیادہ تر ان کی تعداد ایک سے زیادہ رہی۔ پرنس فلپ، جو اپنی بیوی کی پسند کے کتوں کے کبھی بھی شوقین نہیں رہے، کو بظاہر یہ شکایت کرتے ہوئے سنا گیا کہ خونی کتے! آپ کے پاس اتنے زیادہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟’

اور پھر وہاں ڈورگیاں بھی تھیں – جو کہ بنیادی طور پر سنہ 1970 کی دہائی میں شہزادی مارگریٹ کے ڈچ شنڈ، پپکِن، اور ٹائنی نامی ایک کوگی کے درمیان ناجائز تعلقات کا نتیجہ تھیں۔ ملکہ اور شہزادی مارگریٹ اس نتیجہ سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انھوں نے کتوں کی انہی نسلوں کا دوبارہ سے ملاپ کرایا، اور برسوں کے دوران تقریباً 10 مزید ڈورگی کے بچے پیدا ہوئے۔

ان کی ظاہری شکل مختلف ہے، کچھ کان اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کورگی کی طرح، اور کچھ کے نیچے لٹکتے ہیں۔ لیکن ان سب کی دم لمبی تھی اور پیڈیگری کوگیز سے نسباتاً چھوٹی تھیں۔

A picture released in London on February 4, 2022, and taken in January, shows Elizabeth II stroking Candy, her Dorgi, as she looks at a display of memorabilia from her Golden and Platinum Jubilees at Windsor Castle

AFP via Getty Images
ملکہ اپنی ڈورگی کینڈی کو پیار کرتی ہے، جب وہ جنوری 2022 میں اپنے گولڈن اور پلاٹینم جوبلیوں کی یادگاری چیزوں کو دیکھ رہی ہے۔

جب ایک شاہی فوٹوگرافر نے پوچھا کہ کوگیز اور ڈچ شنڈ کے درمیان اونچائی کے فرق کے پیش نظر میکینکس کیسے کام کرتے ہیں، تو ملکہ نے جواب دیا کہ ‘یہ بہت آسان ہے۔ ہمارے پاس ایک چھوٹی اینٹ ہے۔’

A graphic of a corgi

کچھ معاملات میں جب ملکہ کے چند عزیز و اقربا انتقال کر گئے تو ان کے کتوں کو ملکہ نے گود لے لیا۔ اس میں سنہ 2002 میں مادر ملکہ کی تین کوگیز بھی شامل تھیں۔ 'وینیٹی فیئر' نامی جریدے کے مطابق، جب ملکہ اپنی والدہ کی لاش دیکھنے کے لیے کلیرنس ہاؤس گئیں تو وہ براہ راست مادر ملکہ کی کوگیز کو اپنے ساتھ گھر لے گئیں۔ اس نے ایک اور گود لیا - وسپر - جو ونڈسر میں اس کے سابق ہیڈ گیم کیپر، بل فینوک، اور اس کی بیوی نینسی سے تعلق رکھتی تھی۔

مؤخر الذکر ایک عزیز دوست تھا جس نے پانچ دہائیوں تک ملکہ کی کورگی کی افزائش میں مدد کی، اور ان بہت کم لوگوں میں سے ایک جن کی ٹیلی فون کالیں ہمیشہ اس تک پہنچائی جاتی تھیں چاہے کچھ بھی ہو۔ شاہی گھرانے کا افزائش کا پروگرام کئی سال پہلے ختم ہو گیا تھا، کیونکہ کہا جاتا تھا کہ ملکہ اپنی موت کے بعد نوجوان کتوں کو پیچھے چھوڑنے کو تیار نہیں تھی۔ جنوری میں اس کی زندہ بچ جانے والی ڈورگی، جس کا نام کینڈی ہے، کے ساتھ تصویر بنائی گئی تھی۔ اس کے پاس موک اور سینڈی نامی دو نوجوان کوگیز بھی تھیں، جو سنہ 2021 میں اس کے بیٹے پرنس اینڈریو اور اس کی بیٹیوں کی طرف سے تحفے تھے۔

اب اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ جوڑا شہزادہ اور اس کی سابقہ بیوی سارہ، ڈچس آف یارک کے ساتھ ونڈسر اسٹیٹ کے گراؤنڈ میں واقع حویلی، رائل لاج میں رہنے کے لیے جائے گا۔

اس مضمون کے لکھنے کے وقت یہ واضح نہیں تھا کہ آیا کینڈی ان میں شامل ہو جائے گی یا نہیں۔

A 1966 black and white picture of Prince Andrew, a young boy in knee socks, encouraging a reluctant royal corgi to leave the train at Liverpool Street Station in London

PA
پرنس اینڈریو اور کوگیز کی زندگی بھر کی رفاقت ہے (سنہ 1966 کی تصویر)

شہزادے کو کورگیز کی موجودگی سے ہمیشہ کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ جونور نے مشاہدہ کیا کہ ملکہ ‘بنیادی طور پر ایک بہت شرمیلی عورت’ جسے بشمول اس کے رشتہ داروں کے، اجنبیوں سے اعتماد کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت تھی۔ اس نے اپنی تکلیف کو کم کرنے کے لیے کتوں کا استعمال کیا۔ ‘اس کے اہل خانہ اسے ‘کتے کا طریقہ کار’ کہتے ہیں […] اگر صورتحال بہت مشکل ہو جاتی ہے تو وہ کبھی کبھی حقیقت میں خود کتوں کو لے کر باہر نکل جاتیں۔ جونور لکھتی ہے کہ شہزادہ اینڈریوز کی شادی جب سارا فرگوسن کے ساتھ مسائل کا شکار تھی تو کتوں کی وجہ سے اُسے یہ بات اپنی ماں کو بتانے میں تین ہفتے لگے تھے۔’

ملکہ نے دوسروں کو آرام دینے کے لیے بھی کتوں کو کسی جگہ رکھنے کی تربیت دی ہوئی تھی۔ فوجی سرجن ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ نے بتایا کہ کس طرح بادشاہ نے اسے بکنگھم پیلس میں دوپہر کے کھانے کے لیے مدعو کیا تھا جب وہ جنگ زدہ شام میں حلب سے واپس آیا تھا، اور پوسٹ ٹرومیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی وجہ سے خود کو اس سے بات کرنے سے قاصر پایا۔

ملکہ کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا اور اپنی کوگیز کو بلانے سے پہلے کہا کہ ‘اچھا، کیا میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں؟’ ، ڈاکٹر نوٹ نے کہا۔

‘اچانک درباری کوگیز کو لے آئے اور کوگیز میز کے نیچے چلی گئی۔’ ملکہ نے بسکٹ کا ٹن کھولا۔ ‘اور اس طرح اس دوپہر کے کھانے کے دوران 20 منٹ تک ملکہ اور میں نے کتوں کو کھانا کھلایا۔ انھوں (ملکہ) نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میں بہت شدید صدمے کا شکار ہوں۔’

A graphic of a corgi

چونکہ ملکہ 96 سال کی عمر تک زندہ رہی، لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن کی عمر کتوں کے مالک ہونے کے لیے کافی ہے جو اسے صرف ایک سرمئی بالوں والی دادی اور پردادی کے طور پر جانتے ہیں۔

نتیجے کے طور پر کوگیز کو ایک وقت کے لیے ایک بوڑھے لوگوں کی نسل کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

سنہ 1960 کی دہائی میں تقریباً 9,000 کتوں کی رجسٹریشن کے ساتھ ان کی شہرت عروج عروج پر تھی، کیونکہ عوام ملکہ کی اس کے نوجوان خاندان اور کتوں کے ساتھ تصویروں سے متاثر ہوئے۔ لیکن سنہ 1990 کی دہائی کے اواخر سے اس رجحان میں ایک زوال نظر آتا ہے، اور سنہ 2014 ان کے لیے خوفناک سال تھا۔ صرف 274 نئی رجسٹریشنوں کے ساتھ، پیمبروکس برطانیہ میں کتوں کی غیر محفوظ مقامی نسل کی فہرست میں داخل کیا گیا۔

اس کے بعد ‘نیٹفلِکس’ (Netflix) کا دور آیا، اور ‘دی کراؤن’ (The Crown) کی شکل میں شاہی دور کی عظمت کو بحال کیا گیا، جس کے سنہ 2016 کے پہلے سیزن نے وقت کو ماضی کی ملکہ کے دور کی طرف موڑ دیا۔ کلیئر فوئے نے نوجوان ملکہ کا کردار ادا کیا، جس کی نفیس کارکردگی کی تعریف کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، اس ڈرامہ سیریز میں شاہی خاندان کے نوجوان افراد کوگیز کے ایک غول میں گِھرا ہوا نظر آتا تھا جب ان کا بڑھاپا دکھایا گیا ہے، اس دور کی ملکہ کا کردار اولیویا کولمین نے ادا کیا۔

فوئے نے وینیٹی فیئر کو بتایا کہ کس طرح آن سیٹ کتوں کا خوب خیال رکھ کر فلم میں کام کرنے کے لیے راضی کیا جاتا تھا، یعنی انھیں رشوت دی جاتی اور خاص طور پر پنیر کھلا کر ان سے پیار کیا جاتا۔ ‘آپ کو اس بات کی فکر ہے کہ جب آپ انہیں یہ دے رہے ہیں تو انہیں دل کا دورہ پڑ جائے گا۔ وہ ہر روز زیادہ سے زیادہ پنیر کے بڑے بڑے ٹکڑے کھا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے خوفناک ہے۔’

پہلے سیزن کے نشر ہونے کے بعد سنہ 2017 میں کوگی کتے کی رجسٹریشن میں 16 فیصد اور دوسرے کے بعد 2018 میں 47 فیصد اضافہ کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یہ سیزن صرف ‘دی کراؤن’ کے بارے میں نہیں تھا۔ سنہ 2012 کے اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں ملکہ اور تین شاہی کارگیوں کی اداکاری کرنے والے جیمز بانڈ کے سکٹ نے بھی انہیں عوامی یاد میں واپس آتے دیکھا۔

https://www.youtube.com/watch?v=1AS-dCdYZbo

یہاں تک کہ برجرٹن – نیٹ فلکس کی شاہی روایات کے بارے میں بہت مقبول ڈرامہ سیزن – نے سیریز 2 میں تاریخی طور پر ناممکن کوگی کے کردار کو شامل کیا۔ ‘کواسٹار’ جریدے کے جائزوں میں اگر اس کے پاس کوئی دعوت نہ ہو تو وہ حرکت نہیں کرتا’، لیکن سامعین نے اس کے کردار کو پسند کیا۔

سوشل میڈیا بھی کوگی کی نشاۃ ثانیہ کے لیے بہت اہم رہا ہے، جیسا کہ ٹک ٹاک سٹارز ہیمی اور اولیویا کے مالک کرس ایکول نے اچھے انداز میں کیا۔

34 سالہ کرس نے اپریل سنہ 2020 میں اتفاقی طور پر کورگی اولیویا کی ویکیوم کلینر پر بھونکنے کی ویڈیو کے ساتھ ایک وائرل ویڈیو سے ایک سنسنی کا آغاز کیا۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ ‘اسے صرف 20 منٹ سے بھی کم وقت میں 250,000 ریویوز ملے۔

دو سال اور ستر لاکھ فالوورز کے بعد، اس نے 700 سے زیادہ ٹاکنگ کوگی سکیٹس بنائے ہیں۔ ان میں ‘ڈریگن’ کے ساتھ کتوں کی جنگ کے بارے میں ایک مشہور لطیفہ بھی شامل ہے، اور ویکیوم کمپنی نے مواد کو سپانسر کرنے کے لیے فالورز کی بڑی تعداد حاصل کرلی۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کوگی کے بارے میں یہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو متوجہ کرتی ہے، انھوں نے جواب دیا کہ ‘کورگی کے بارے میں کچھ بہت ہی منفرد ہے – یہ صرف ایک کتا ہے جسے آپ واقعی گلے لگانا چاہتے ہیں۔ وہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے، کیا یہ کتا ہے، کیا یہ روٹی ہے؟ ان کے بارے میں کچھ بہت پیارا ہے۔’

کینیل کلب کی سیارا فیرل اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ کوگی کی جسمانی ساخت (اناٹومی) ان کی ظاہریت اور نمائشی کشش کی بنیادی وجہ ہے۔

‘کئی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بڑے کان کو پسند کرتے ہیں – ایسی چیز جس کی جانب آپ بڑھ کر جھکتے ہیں اگر آپ ایک نرم کھلونا دیکھ رہے ہیں۔ وہ نوک گھوش کتے کی ایک نسل ہیں، چہرے پر لومڑی پن ہوتا ہے، وہ سخت لگتے ہیں۔ لیکن پیارے لگتے ہیں۔’

مسٹر ایکول ملکہ کو اس ‘نسل کی علمبردار’ کے طور پر دیکھتے ہیں وہ ان کتوں کو ایک بڑے آلو کی طرح بیان کرتے ہیں۔ ‘میرے پاس صرف یہ دونوں (ہیمی اور اولیویا) سات سال سے ہیں؟ ان کو ایسا کرنے کے لیے دس مرتبہ کام کرنا صرف دلچسپ لگتا ہے.

‘کتے کے پارک میں، یہ ہمیشہ پہلی چیز ہوتی ہے جو کسی راہگیر کو یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے: ‘اوہ تم جانتے ہو کہ یہ ملکہ کے کتے ہیں’!’

A woman in a fancy dress hat featuring Queen Elizabeth II and a corgi, pictured during the Diamond Jubilee concert at Buckingham Palace in 2012

WPA Pool/Getty Images
کوگیز اینڈ دی کوئین: ایک برانڈنگ پارٹنرشپ جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔

جب ملکہ حکومت کرتی تھی تو عوامی تصور میں کوگی کی نسل بادشاہت سے گہری طور پر جڑی ہوئی تھی ۔ لیکن شاہ چارلز سوئم کے دور میں جس نے ایک بار طنز کیا تھا کہ وہ لیبراڈورس کو ترجیح دیتے ہیں اور جیک رسل ٹیریرز کے طویل عرصے سے مالک ہیں، کیا کوگیز نسل کے کتوں کی مقبولیت میں ایک اور کمی کی توقع کی جاسکتی ہے؟

فیرل کہتی ہیں کہ ‘میں امید نہیں کروں گی۔ میرے خیال میں کوگیز نے حالیہ برسوں میں بہت ترقی کی ہے۔’ اس کا خیال ہے کہ وہ ہمیشہ ملکہ کے کتوں کے طور پر مشہور رہیں گے، لیکن جتنا زیادہ ممکنہ مالکان کوگیز کو آن لائن دیکھیں گے، اتنا ہی ان کا شاہی تعلق کمزور ہوتا جائے گا۔

‘ایسے لوگوں کی ایک نسل پیدا ہونے والی ہے جو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں جو انہیں باکمال اور مزے دار پائیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ (جورگی کتے) یہاں ہمیشہ رہیں گے۔’

ان تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

یہ فیچر پہلی بار 3 جون 2022 کو انگریزی میں شائع ہوا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26020 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments