شاعروں کی حس مزاح


شاعر بلا کی حس مزاح رکھتے ہیں۔ ان کے لئے زندگی بھلے کٹھن اور مشکل سہی لیکن ان کے اندر ایک چھوٹے بچے کی برجستگی اور شرارت بھی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔

ماضی کے کچھ مشہور شاعروں کے مسکراہٹ بکھیرنے والے چند قصے جو مختلف کتابوں میں درج ہیں، وہ میں یہاں نقل کر دیتا ہوں۔ پہلے غالب سے شروع کرتے ہیں۔

سید صاحب عالم نے، جو ایک خانقاہ کے بزرگ تھے، غالبؔ کو ایک خط لکھا۔ ان کی تحریر نہایت شکستہ تھی۔ اسے پڑھنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ غالبؔ نے ان کو جواب دیا،

”پیر و مرشد،

خط ملا چوما چاٹا، آنکھوں سے لگایا، آنکھیں پھوٹیں جو ایک حرف بھی پڑھا ہو۔ تعویذ بنا کر تکیہ میں رکھ لیا ”

نجات کا طالب
غالبؔ

غدر کے بعد مرزا غالب کی معاشی حالت دو برس تک دگرگوں رہی۔ آخر نواب یوسف علی خان رئیس رامپور نے سو روپیہ ماہانہ تاحیات وظیفہ مقرر کر دیا۔ نواب قلب علی خان نے بھی اس وظیفے کو جاری رکھا۔ نواب یوسف علی خان کی وفات کے چند روز بعد نواب قلب علی خاں لیفٹیننٹ گورنر سے ملنے بریلی کو روانہ ہوئے تو چلتے وقت مرزا غالب سے کہنے لگے،

”خدا کے سپرد۔“
مرزا غالب نے کہا، ”حضرت! خدا نے مجھے آپ کے سپرد کیا ہے۔ آپ پھر الٹا مجھ کو خدا کے سپرد کر رہے ہیں۔“

اسرار الحق مجاز کی حس مزاح بھی کمال کی تھی۔ یہ مشہور شاعر جاوید اختر کے ماموں تھے۔ ان کی بہن صفیہ کی شادی جاوید اختر کے والد جاں نثار اختر سے ہوئی تھی۔

ایک دفعہ فلمی اخبار کے ایڈیٹر مجاز سے انٹرویو لینے کے لئے مجاز کے ہوٹل پہنچ گئے۔ انہوں نے مجاز سے ان کی پیدائش، عمر، تعلیم اور شاعری وغیرہ کے متعلق کئی سوالات کرنے کے بعد دبی زبان میں پوچھا،

”میں نے سنا ہے قبلہ، آپ شراب بہت زیادہ پیتے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟“
”کس نامعقول نے آپ سے یہ کہا کہ میں شراب پیتا ہوں۔“ مجاز نے کہا۔
”تو پھر آپ سگریٹ کثرت سے پیتے ہوں گے؟“

”نہیں میں سگریٹ بھی نہیں پیتا، شراب نوشی اور سگریٹ نوشی دونوں ہی بری عادتیں ہیں اور میں ایسی کسی بری عادت کا شکار نہیں۔“ مجاز نے جواب دیا۔

ایڈیٹر نے سنجیدہ لہجہ میں پوچھا، ”تو آپ میں کوئی بری عادت نہیں ہے؟“
مجاز نے اتنی ہی سنجیدگی سے جواب دیا،
”مجھ میں صرف ایک ہی بری عادت ہے۔ کہ میں جھوٹ بہت بولتا ہوں۔“
اب داغ دہلوی کا واقعہ سنئے۔ بشیرؔ رام پوری حضرت داغؔ دہلوی سے ملاقات کے لیے پہنچے تو وہ اپنے ماتحت سے گفتگو بھی کر رہے تھے اور اپنے ایک شاگرد کو اپنی نئی غزل کے اشعار بھی لکھوا رہے تھے۔ بشیر صاحب نے سخن گوئی کے اس طریقہ پر تعجب کا اظہار کیا تو داغؔ صاحب نے پوچھا، ”خاں صاحب آپ شعر کس طرح کہتے ہیں؟ بشیرؔ صاحب نے بتایا کہ حقہ بھروا کر الگ تھلگ ایک کمرے میں لیٹ جاتا ہوں۔ تڑپ تڑپ کر کروٹیں بدلتا ہوں، تب کوئی شعر موزوں ہوتا ہے۔ ”یہ سن کر داغ مسکرائے اور بولے،“ بشیر صاحب! آپ شعر کہتے نہیں، شعر جنتے ہیں۔ ”

ایک دفعہ مرزا داغؔ کے شاگرد احسن مارہروی اپنی غزل پر اصلاح کے لیے ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس وقت مرزا صاحب کے پاس دو تین دوستوں کے علاوہ ان کی ملازمہ صاحب جان بھی موجود تھی۔ جب احسنؔ نے شعر پڑھا۔
کسی دن جا پڑے تھے بیخودی میں ان کے سینے پر
بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلے میرے پتھر سے
اس پر صاحب جان جو صحبت یافتہ اور حاضر جواب طوائف تھی، بولی،
”احسن میاں، بیخودی میں بھی آپ دونوں ہاتھوں سے کام لیتے ہیں؟ ”
اس پر سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور مرزا صاحب نے احسن سے کہا، ”لیجیے، صاحب جان  نے آپ کے شعر کی اصلاح کر دی،
کسی دن جا پڑا تھا بیخودی میں ان کے سینے پر
بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلا میرا پتھر سے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments