یا استاد


ڈاکٹر نذیر احمد اور صدر ایوب خان (1964) تصویر بشکریہ: سرمد صہبائی

30 نومبر 1964 میں گورنمنٹ کالج کی کانوکیشن پر فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کو چیف گیسٹ کے طور پر بلایا گیا. ڈاکٹر صاحب کے پرنسپل ہوتے ہوئے ہم نے کبھی کالج کے اندر پولیس نہیں دیکھی تھی, اس لئے کہ پولیس کو اندر آنے کی اجازت ہی نہیں تھی. چنانچہ صرف ایوب خان کی گاڑی اندر آئی. ایوب کے ساتھ پنجاب کے گورنر نواب کالا باغ بھی تھے. تقریب شروع ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے ایوب خان کو مخاطب کرتے ہوئے تقریر کا آغاز ‘یوئر ایکسلینسی مسٹر پریذڈنٹ’سے کیا. اس پر سٹوڈنس میں ایک غصے کی لہر دوڑ گئی, ان کے خیال میں ان کے پرنسپل کو ایک ڈکٹیٹر کو ‘یوئر اکسلینسی’نہیں کہنا چاہیے تھا. ان کا خیال تھا کہ ان کا پرنسپل کسی بھی سیاسی اقتدار رکھنے والے شخص سے زیادہ عظیم ہے. چنانچہ جب ایوب خان نواب کالا باغ کے ساتھ بخاری آڈیٹوریم کا افتتاح کر کے واپس جا رہا تھا تو کالج کے کونے کھدروں سے ان دونوں کے خلاف نعروں کی اونچی اونچی آوازیں سنائی دیں. ایوب اور گورنر دونوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے.
اسی ہفتے ‘راوی’کا نیا شمارہ آیا جس کے انگریزی کے حصے کا ادریہ اسی تقریر کے حوالے سے لکھا گیا تھا. ایڈیٹڑ (غالبنا مظفر عباس) نے ڈاکٹر صاحب پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پرنسپل کو ‘یور ایکسلنسی’کی بجائے صرف ‘مسٹر پریزیڈنٹ’کہنا چاہیے تھا. اوپر سے حکم آیا کہ یہ شمارہ بین کر دیا جائے لیکن ڈاکٹر صاحب نے رسالہ بین کرنے سے معذرت کر لی.
کچھ دنوں بعد جب میں حسب معمول کنٹین میں بیٹھا چائے پی رہا تھا تو ڈاکٹر صاحب آئے, وہ بہت جلدی میں نظر آرہے تھے.
‘اوے سرمد توں چرس پینی شروع کردتی اے. ؟'(اوئے سرمد تونے چرس پینا شروع کر دی ہے؟) میں حیران کہ ڈاکٹر صاحب مجھے کیا کہہ رہے ہیں.
‘نہیں سر, میں نے تو آج تک چرس کی شکل تک نہیں دیکھی. ‘
‘اوئے نہیں توں اج چرس پیندا رہیا ایں'(نہیں تم آج چرس پیتے رہے ہو) وہ یہ کہتے ہوئے کنٹٰین سے باہر نکل گئے. مجھے ان کی اس بات سے کچھ شبہ ہوا, میں آٹھ کر کینٹین سے باہر نکلا تو دیکھا بہت سے لڑکے ایک بلیک بورڈ کے گرد جمع ہو رہے ہیں, قریب آیا تو دیکھا اس پر ڈاکٹر صاحب کا ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیغام تھا. انہیں گورنمنٹ کالج سے ٹرانسفرکر دیا گیا تھا اور وہ طالب علموں کو پرامن رہنے کا پیغام چھوڑ کر کالج سے باہر جا چکے تھے. یک دم مجھے ان کی چرس والی بات یاد آئی. ہم نے فوراً کلاسوں میں جا جا کر ڈاکٹر صاحب کی ٹرانسفر کی خبر پہنچانا شروع کردی اور لڑکے لڑکیوں کو کلاسوں سے باہر آنے کو کہا. دیکھتے دیکھتے سارا کالج اوپن ایر میں اکٹھا ہو گیا, حکومت کے خلاف زور دار تقریریں ہوئیں اور سٹرایئک کا اعلان کیا گیا. ہر روز کالج کے سارے لڑکے لڑکیاں اکٹھے ہو کر احتجاج کرتے اور نعرہ لگاتے. ‘ہمارا باپ ہمیں واپس کرو’. میں نے بھی ایک نعروں سے بھرپور نظم لکھی جو ہرروز اس جلسے میں پڑھی جاتی. اس کے دو شعر مجھے اب بھی یاد ہیں.
کیوں علم کے رستے میں ہے دیوار, حکومت؟
کیوں علم کی گردن پہ ہے تلوار, حکومت؟
قاتل کا نہیں چور کا ڈاکو کا نہیں ہے
یہ ملک ہمارا ہے ہلاکو کا نہیں ہے.
(یاد رہے اس وقت کے ڈی ایس پی کا نام ہلاکو تھا. )
یہ گورنمنٹ کالج کی تاریح کی سب سے بڑی سٹرایئک تھی جو چارروز تک جاری رہی اور آخر نواب کالا باغ کو گورنمنٹ کالج کے طالب علموں کو ان کا باپ واپس کرنا پڑا.
بہت برس بعد میں جب گورنمنٹ کالج کی ایک کانوکیشن پر گیا تو اپنے سامنے ایک انتہائی بدشکل کالا آھنی گیٹ دیکھ کر سکتے میں آ گیا. ہمارے زمانے میں یہاں ایک خوبصورت سلور رنگ کا نازک سا گیٹ ہوتا تھا جو زیادہ تر کھلا رہتا تھا. اندر گیا تو سٹوڈنٹس سے زیادہ پولیس نظر آئی. پولیس؟ گورنمنٹ کالج میں؟ پرنسپل صاحب سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ‘وزیر اعلی تشریف لا رہے ہیں. ‘
‘تو پھر کیا ہوا.’میں نے کہا. اس پر وہ تھوڑے کنفیوز ہوئے اور کھسیانی سی مسکراھٹ کے ساتھ چپ ہو گئے. اس پر میں نے انہیں ایوب خان اور ڈاکٹر نذیرصاحب کا واقعہ سنایا اور کہا, ‘ہمارے زمانے میں کالج کے اندر پولیس نہیں آ سکتی تھی اور ہم یہ بھی نہیں برداشت کر سکتے تھے کہ ہمارا پرنسپل کسی ڈیکٹیٹر کو’یورایکسلینسی ‘کہے. کیوں سر؟ اس لئے کہ ہمارے نذدیک کسی بھی اعلی تعلیمی ادارے کے پرنسپل کا مرتبہ حکمران وقت سے برتر ہوتا ہے. لیکن سر مشکل یہ ہے کہ اس کے لئے ڈاکٹر نذیر بننا پڑتا ہے,

2022ء

فیس بک کی ایک پوسٹ

Heard that GCU has become a Punjab’s police station. Students who want admission are forced to tell their caste the way it’s done at police stations. Height of academic excellence for GCU, the grave of GC. Mushtaq Soofi


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments