میرے درد کو جو زباں ملے
اللہ تعالی کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو تبلیغ اسلام کی پاداش میں مشکلات، تکالیف اور آزمائشوں سے یوں دوچار ہونا پڑا کہ مکہ میں جان لیوا مظالم، جانثاروں کی مظلومانہ بے بسی، شعب ابی طالب کا تین سالہ محاصرہ، قریشیوں کے ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ سے تھک کر آپ نے مکہ سے باہر کو نظر دوڑائی اور طائف کی طرف سفر کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت زید بن حارثہ کو ہمراہ لیا اور فریضہ تبلیغ کے لیے وہاں پہنچ کر دس دن یہاں قیام فرمایا، عوام و خواص کے سامنے دین اسلام پیش کیا لیکن سب نے بے رخی کا مظاہرہ کیا۔
آخر کار آپ ﷺ یہاں کے سرداروں عبدیالیل، مسعود اور حبیب کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے سامنے اپنے آنے کا مقصد واضح فرمایا۔ لیکن ان بدقسمتوں کی بدنصیبی کہ انہوں نے آپ کی دعوت کو نہ صرف ٹھکرایا بلکہ نہایت گستاخانہ رویہ اپناتے ہوئے آپ کا مذاق اڑایا۔
اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے۔ (القرآن)
ہوا کے دوش پر لہراتی ہوئی گندم کی ڈالی پر دانے کی صورت میرا جھولتا ہوا وجود ابھی زندگی کا خوبصورت احساس لیے زندہ تھا۔ یہ خوبصورتی محبت کے نام پر بننے والے اس اعتبار کی تھی جو ایک روز مجھے زندگی کے احساس سے الگ کر کے زمین کی گہرائیوں کے سپرد کر گئی۔ میں بے یقینی کی کیفیت میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ان ہاتھوں نے مجھے کیوں دفنا دیا جو میرے اعتماد کا محور تھے؟ کیوں زندگی کے ان رنگوں سے مجھے محروم کر دیا گیا کہ جن پر میرا حق ابھی باقی تھا؟
یہ زندگی تھی یا سزا؟ میرا جرم کیا تھا؟ چاروں اطراف کی خاموش گہری سیاہی، وہ تنہائی کی وحشت، مایوسی، فکر، بے اعتباری، اور اضطراب کے ٹکڑوں میں بٹا ہوا میرا وجود۔ رب سے گلہ کرتا، لڑتا ہوا میرا وہ دل جس کی سزا میرا امتحان بن کے میرے ہی سامنے آ کھڑی ہوئی اور اس امتحان پر ”نہ نہ“ کہتا زندگی کا یہ حصہ ”بے یقینی اور دکھ“ کہلائی
نبی کریم سے ایک دلخراش مکالمے کے بعد ان بد نصیبوں نے طائف کے اوباشوں اور آوارہ گردوں کو آپ کے پیچھا لگا دیا۔ کوئی تالی بجاتا، کوئی سیٹی بجاتا، کوئی جملے کستا، کوئی ہلڑ بازی کرتا، شور اور اودھم مچاتے ہوئے آپ کو طائف کی گلیوں میں لے آئے۔ یہاں دونوں طرف لوگ صف بنائے پتھر ہاتھوں میں لیے کھڑے تھے اور اس شدت سے پتھر مارنا شروع کیے کہ سر مبارک سے لے کر پاؤں مبارک بلکہ نعلین مبارک تک آپ لہو لہان ہو گئے، گہرے زخم اور بہتا ہوا اتنا خون کہ نعلین اور قدمین آپس میں خون کی وجہ سے چمٹ گئے۔ حضرت زید آپ کو بچانے کے لیے کبھی آگے آتے کبھی دائیں بائیں اور کبھی پیچھے۔ ان کا بھی سر لہولہان ہو گیا۔ تھک کر نبی کریم بیٹھ جاتے تو طائف والے آپ کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر آپ کو دوبارہ کھڑا کرتے اور پھر پتھر برساتے۔
تو صبر کرو، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
(القرآن)
ایک کمزور اور معمولی بیج کا وجود لیے، میرے شب و روز یونہی گزرتے رہے۔ چاروں طرف آواز تھی تو بس ایک شکایت کی کہ وقت کی روانی میں بخت کی یہ کیسی گرانی ہے جو ہر دن ماضی کی یاد اپنے ساتھ لاتی ہے اور شام اپنے پہلو میں جینے کے وہ خواب سجا کر آنے لگتی کہ چاہنے کے باوجود ان پر اعتماد نہیں کر پاتا۔ میں تھک گیا تھا اور ہار کر اسی مٹی میں ہمیشہ کے لیے گم ہو جانا چاہتا تھا۔ مگر سب سے عجیب ہے تو یہ دل جو صاف دکھتے ہوئے پت جھڑ میں بھی بہاروں کی امید نہ جانے کیوں لگا لیتا ہے۔
میں اس قید میں سنائی دینے والی ہر آہٹ، ہر آواز پر یوں چونکتا کہ دل بے اختیار ہو کر اس آواز کو اپنے پاس بلانے کی تمنا میں جت جاتا۔ بعض دفعہ ایک ہمدرد آواز دنیا کی سب سے بڑی راحت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ وجود کے ہر گھاؤ کو سی دینے کی واحد مسیحا ہوتی ہے۔ میرا سارا کا سارا وجود بس اسی ایک آواز کا آس بن کر رہ گیا۔ یہ بے بسی کبھی آنسو بن کر آنکھوں سے بہنے لگتی تو کبھی خاموشی بن کر ہنسنے لگتی اور زندگی کا یہ باب ”تسلیم“ کہلائی۔ ایک ایسی تسلیم کہ اس دنیا کے ہر ہر وجود کی اوقات ایک ذرے کے برابر بھی نہیں۔
جب طائف والوں کی طرف سے دی گئی تکلیف حد سے بڑھ گئی تو نبی کریم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ حضرت زید بن حارثہ نے آپ کو اٹھایا، قریب ہی کچھ پانی تھا وہاں لے گئے تاکہ خون کے دھبے دھوئیں، تھوڑی دیر لیٹ گئے اور طبیعت کچھ سنبھلی تو قریب میں ایک باغ تھا اور انگور کی سایہ دار بیل کے نیچے آپ کو لٹا دیا۔ نبی کریم معبود برحق کی بارگاہ میں عابد حق پرست بن کر مناجات و دعا میں مشغول ہو گئے۔ آپ کے سوز و گداز، تڑپ اور درد اور زخموں کی ٹیس سے نالہ فریاد میں وہ تاثیر پیدا کی جس سے عرش بریں تک کانپ اٹھا۔ اس موقع پر آپ نے بارگاہ ایزدی میں دعا کی:
”اے اللہ میں تجھ ہی سے اپنی بے بسی کا شکوہ کرتا ہوں، یہ مجھے رسوا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا شکوہ بھی تجھ ہی سے کرتا ہوں، اے سارے مہربانوں سے زیادہ مہربان۔ اے میرے پروردگار! آپ مجھے کن کے حوالے کر رہے ہیں جو مجھ سے دور ہیں جو مجھ سے منہ چڑھا کر بات کرتے ہیں۔ اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں اور اگر مجھ پر تیرا عتاب نہیں تو مجھے کسی بھی بات کی پرواہ نہیں خداوند ! تیرا تیری عافیت کا دامن بہت وسیع ہے۔ اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ مجھ پر تیرا غضب پڑے یا عتاب نازل ہو، تجھ ہی کو منانا ہے اور اس وقت تک منانا ہے جب تک تو راضی نہ ہو جائے“۔
اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ اور اگر تم مومن ہو (تو) تم ہی غالب رہو گے۔ (القرآن)۔
دفن کیا گیا میرا تھکا ہوا وجود اب فیصلہ کرنے کے مقام پر تھا۔ میرے سامنے دو ہی راستے تھے ایک موت اور دوسرا صبر کی قبا اوڑھے نئی زندگی کی امید۔ تھک ہار کر اب میں نے رب کو پہلی بار سچے دل سے پکارا تو مایوسی کے ان اندھیروں کو چیرتی ہوئی ایک آواز کانوں سے ٹکرائی ”اپنی تکیف کو رب کی رضا سمجھ کر تسلیم کر کے دیکھو اور مانگو مدد“ ۔ آج پہلی بار رب کے ساتھ کا وہ احساس اسے اتنا پرسکون کر گیا کہ اس اندھیرے میں بھی بہت کچھ دکھائی دینے لگا۔
میں نے دیکھا کہ اس کی تکلیف کے مقام پر اس سے پہلے کچھ اور وجود بھی تھے اور وہ تھے میری طرح دفن کیے گئے کنکر، ریت، پتھر اور جا بجا بکھرے ہوئے مختلف بیج۔ فرق تھا تو شاید یہ کہ مایوسی میں کسی نے وجود کو مٹا کر سکون پایا تو کسی نے ذات کے وجود سے رابطہ رکھ کے سکون پایا۔ وہ تو سب کا رب ہے پھر کیسے ممکن ہو کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے کسی ایسی چیز کا انتخاب کرے جو اس کے حق میں بہتر نہ ہو؟ میں جان گیا تھا کہ پائے کو باں کے اس زنداں میں میں نیا ضرور تھا مگر پہلا نہیں تھا۔ اور زندگی کا یہ باب تسلیم کے راستے سے ہوتا ہوا ”ہمت اور امید“ کے رخ مڑ گیا
نبی کریم اور حضرت زید اس باغ سے اٹھے، قرن الثعالب پہاڑی سامنے تھی، ایک بادل نے آپ پر سایہ کیا ہوا تھا، دءا کے بعد آپ کریم نے بادل پر نظر جمائی تو اس میں جبرائیل امین جلوہ افروز تھے اور عرض کی : یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے سن لیا، دیکھ لیا آپ نے جو کچھ فرمایا انہوں نے جیسا سلوک کیا سب کا سب دیکھ اور سن لیا۔ یہ میرے ساتھ ملک الجبال (پہاڑوں کی نگرانی پر مقرر فرشتہ ) موجود ہیں آپ حکم دیجیے یہ تعمیل کریں گے۔
ملک الجبال نے عرض کی ؛ ”مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں حکم کریں میں تعمیل کروں گا آپ حکم دیں مکہ کی دونوں طرف کے پہاڑوں کو ملا کر ان تمام بے ادب اور گستاخوں کو پیس ڈالوں؟ آزمائش کے دوہرائے پر کھڑے تھے۔ پہلا امتحان تھا صبر و ضبط اور استقلال کا دوسرا امتحان تھا دعویٰ رحم و کرم کا اور وسعت ظرفی کا ۔ اللہ کریم نے آپ کو دونوں میں کامیاب فرمایا، دریا دلی والے دل رحمت میں کرم کی ایک موج اٹھی اور اہل طائف کی قسمت کے سفینے کو پار لگا دیا۔ فرشتوں کو جواب دیا۔“ اگر یہ بد نصیب ایمان نہیں لائے تو کیا ہوا میں ان کی آنے والی نسل سے ہرگز نا امید نہیں ہوں، مجھے اللہ کی ذات پر مکمل یقین اور بھروسا ہے کہ وہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ کی توحید کے قائل اور شرک سے بیزار ہوں گے ”۔
کہہ دو میرے ان بندوں سے۔ جنہیں حالات ناممکن لگ رہے ہیں۔ میں ہر شے پہ قدرت۔ رکھنے والا ہوں۔
( القرآن)
میرے پیچھے کیا تھا میں بھلانا چاہتا تھا۔ میرے آگے کیا ہو گا میرے لیے ڈھونڈنا اور اس پر دوبارہ سے یقین کرنا مشکل تھا۔ وجود کی حیثیت سے بس ایک کام جو میں کر سکتا تھا اور وہ تھا خدا کے بعد اپنی ذات پر یقین۔ اس بات کا یقین کہ اس سفر میں کچھ نا کچھ میرے لیے ضرور ہو گا۔ یہ سب سے مشکل مرحلہ اس لیے تھا کہ دل گواہی تو دے رہا تھا مگر میں تھک گیا تھا۔ خالی امید ہی نئی زندگی کا ضامن نہیں بن سکتی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ بہترین دنوں کے لیے برے دنوں سے لڑنا ہو گا۔
میری رات نے نئے سورج کی تلاش کا عزم کیا۔ ہر آگ سے واقف ہونے کے لیے میں نے جلنا سیکھ لینے کا ارادہ کیا۔ رونق بزم کو لوٹنا ہو گا۔ اگر میری یہ مشکل خدا کی مرضی ہے تو پھر اسی کی مدد سے میرے ہنر کو بولنا ہو گا۔ اس پیکرء خاکی میں جاں پیدا کرنی ہو گی۔ میں نے چلنا شروع کیا تو یقین ہوا کہ ”منزل اونچی ضرور تھی مگر راستہ میرے پیروں کے نیچے تھا“ ۔ میرے پاس اب کھونے کو کچھ بچا ہی نہ تھا اور اسی تسلیم نے مجھے انتہائی طاقتور بنا دیا۔
باہر نکلنے کی ہر کوشش میرے وجود کو زخمی کرنے لگی۔ دل سے درد نکتا تو ساتھ ہی دعا کی رسی کو تھام لیتا۔ جس کا اثر یہ نکلا کہ ایک روز رحمت خداوندی نے ایسا جوش مارا کہ ٹوٹ کے بارش برسی۔ پھر میں نے وہ بھی دیکھا کہ میری راہ کی ہر رکاوٹ اور سخت مٹی یوں نرم پڑی کہ وہی رکاوٹیں میرے آگے بڑھنے کا وسیلہ بن گئی۔
وہ برسات میرے وجود کے زخموں سے ایک ننھے پودے کا وجود ظاہر کرنے لگی۔ بیج کی آنکھ سے دکھنے والی ہر رکاوٹ اب پودے کی طاقت اور حوصلے کی بدولت آگے بڑھنے کا وسیلہ بن گئی۔ مٹی مزید نرم پڑنے لگی۔ اندھیرا مدھم ہونے لگا اور بالآخر ایک روز میرا وجود ایک پودے کی صورت میں آسمان سے آتی ہوئی روشنی کی کرنیں دیکھنے لگا۔ ”زندگی صدیوں، سالوں یا دنوں میں نہیں بدلتی۔ زندگی ایک لمحے میں بدل جاتی ہے کہ جب آپ زندگی بدلنے کا فیصلہ کرتے ہیں“ ۔
مجھے ماننا پڑا کہ یہ آزمائش اذیت دینے کے لیے نہیں تھی بلکہ وہ سکھانے اور نوازنے کے لیے تھی جس کے لیے دفن ہونا ضروری تھا۔ آج ایک مضبوط درخت کی صورت میں تیز ہواؤں اور موسموں کی سختیوں کی فکر سے آزاد، بے سبب یہ دل اس لیے جھومنے لگتا ہے کہ جس نے اندھیرے میں سنبھالا تھا وہ آج بھی موسموں کی سختیوں میں سنبھال لے گا۔ ہاتھوں کی قید مجھے دفن کے اندھیروں تک لے گئے۔ اور وہی اندھیرے میرے وجود کو اللہ کی خالص محبت کی مٹھی میں بند کروا گئی۔ یہ مشکل ہی میری بہترین تکمیل بنی اور دفنانے والے سمجھے میں گم ہو گیا ہوں۔


