بوسنیا کی چشم دید کہانی( 13)۔
بات سٹولک سٹیشن میں بلغارین کی آمد سے چلی تھی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ لہٰذا میں بات کو وہیں سے آگے بڑھاتا ہوں۔
ٹونی اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ہمارے سٹاف میں شامل ہوا تھا۔ باقی تین ساتھی پلامین، وینیو اور وکی تھے۔ مشرقی یورپ سے تعلق کی بناء پر پہلے ہی دن سے کرس کا ان کے ساتھ سلوک سٹیشن کمانڈر والا کم اور کلی وال ( پشتو لفظ جس کا مطلب ہے ایک گاؤں سے تعلق ہونا) والا زیادہ تھا۔ وہ گاڑی جو ابھی تک شیوا اور پریم کے استعمال میں مستقل طور پر رہتی تھی اب بلغارین کو مل گئی اور یوں ڈیوٹی کے بعد نیپالی بھی ہماری طرح پیدل ہو گئے۔
مجھے کرس کا بلغارین کے ساتھ ترجیحی سلوک انتہائی غیر مناسب لگا تھا لیکن اقبال اس ضمن میں خالصتاً قبائلی سوچ رکھتا تھا۔ وہ کہتا تھا بلغارین پولیس افسران سے ہمارا کیا لینا دینا، ہمارے تربور تو نیپالی ہیں۔ میرے لیے تو تکلیف کا باعث یہ بات تھی کہ ہمیں افسران بالا ہوتے ہوئے بھی کل وقتی گاڑی میسر نہ تھی جبکہ شیوا اور پریم دیسی لحاظ سے ماتحت ہوتے ہوئے بھی اس سہولت کے مزے لے رہے تھے۔ لہٰذا مجھے تو بلغارین کو مستقل گاڑی ملنے کا غم کم اور نیپالیوں کی اس سے محروم ہو جانے کی خوشی زیادہ ہے۔
یہ چاروں بلغارین بولک کی طرح صرف اور صرف صبح دفتری اوقات کے آغاز پر چہرہ کرانے سٹیشن آ جاتے تھے اور اس کے بعد جو کار سرکار کے بہانے گاڑی لے کر نکلتے تھے تو پھر انہیں ڈھونڈنے کے لیے چراغ رخ زیبا کی خدمت مستعار لینا بھی بے سود تھا۔ ڈرائیونگ کا فریضہ اکثر پلامین کے سپرد ہوتا تھا جو گاڑی کی رفتار کو ہر حال میں 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی حد میں رکھنے کے یو این کے حکم کو اتنی ہی اہمیت دیتا تھا جتنی کروایٹ ڈیٹن سمجھوتے کو۔ وہ گرمیوں کا موسم تھا۔ اے سی کے استعمال کی وجہ سے گاڑی کے شیشے چڑھے رہتے تھے۔ یہ تمام ایسے بلا کے سگریٹ نوش تھے کہ گاڑی کے اندر پھیلے ہوئے دھوئیں کی وجہ سے یہ شناخت مشکل ہوتی تھی کہ کون کس سیٹ میں دھنسا ہوا ہے۔
پلامین نے فرنچ کٹ داڑھی اور ذرا بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کا پیٹ نکلا ہوا تھا جس کے نچلے حصے کے ابھار کی شکل کچھ ایسی تھی کہ کوشش کے باوجود قمیض پتلون کے اندر نہ ٹکتی تھی۔ اس کی دوستی ہم سے زیادہ مقامی پولیس کے ساتھ تھی جس کی وجہ لسانی مماثلت تھی۔ اس کا زیادہ تر وقت مقامی پولیس کے اہلکاروں کے ہمراہ کیفے باروں میں راکیہ پیتے ہوئے ہی گزرتا تھا۔ اکثر یورپی مردوں کی طرح اس کی شادی بھی اوائل عمر میں ہوئی تھی اور اب اس کی بڑی بچی کی عمر لگ بھگ پندرہ سال تھی۔
وہ اکثر اس کی مہمان ہوتی تھی اور گشت کے دوران اگر اسے گاڑی میں بٹھانے کی ذرا سی گنجائش بھی نکل رہی ہوتی تو وہ گاڑی میں بیٹھی پائی جاتی تھی۔ وہ گول مٹول سی معصوم صورت لڑکی تھی جو اکثر عقبی سیٹ پر کھڑکی کے ساتھ سکڑ کر بیٹھ جاتی۔ لیکن اس کی موجودگی پلامین کو مہذب بنانے کا باعث کبھی بھی نہیں بنتی تھی اور سڑک پر نظر آنے والی لڑکیوں کے بارے میں اس کے غیر شریفانہ تبصرے جاری و ساری رہتے تھے۔
سٹروگے میں ہم نے جس گھر کا نچلا حصہ کرائے پر حاصل کیا تھا یہ اس آبادی کے نسبتاً بڑے گھروں میں سے ایک تھا۔ بالائی منزل پر مالک مکان فیملی کا بسیرا تھا۔ مالک کا نام نکولا اور مالکن کا بوزانا تھا۔ نکولا سرب اور بوزانا کروایٹ تھی۔ دونوں کی عمریں پچاس پچپن کے لگ بھگ ضرور ہوں گی۔
نکولا ایک پٹرول سٹیشن پر ملازمت کرتا تھا اور فارغ وقت میں شہد کی مکھیاں پالتا تھا۔ اماں بوزانا جنگ سے قبل ایک بنک میں پچیس سال سے ملازمت کر رہی تھی جو دوران جنگ بنک کے بند ہو جانے سے ختم ہو گئی۔ دوبارہ نہ بنک کھلا اور نہ اماں کی ملازمت بحال ہوئی۔ اب اماں بوزانا کا ذریعہ معاش وہ سور، بکریاں اور مرغیاں تھیں جو اس نے گھر کے عقب میں کھلی جگہ پر پال رکھی تھیں۔ اس جگہ کے ایک حصے پر وہ سبزیاں بھی اگاتی تھی جن میں زیادہ مقدار آلوؤں اور ٹماٹروں کی ہوتی تھی۔ وہ علی الصبح بیدار ہو جاتی سورج ابھی اپنی تمازت مکمل طور پر اکٹھی بھی نہ کر پاتا تھا کہ وہ جانوروں کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی سے فارغ ہو چکی ہوتی تھی۔ اس کے بعد وہ ہمارے کمرے کی کھڑکی کے ساتھ باہر صحن میں بچھی کرسی پر بیٹھی سگریٹ کا بھرپور چسکا لیتی تھی۔
اماں بوزانا کی انگریزی زبان کی شد بدھ اور ہماری مقامی زبان سے واقفیت بس ایک ہی لیول کی تھی۔ اقبال نے سرب و کروایشین زبان کی جو جیبی لغت زغرب میں قیام کے ابتدائی دنوں میں خریدی تھی اور جو میرے نزدیک ڈالروں کی بے قدری تھی اس نے یہاں بہت کام دیا۔ اماں بوزانا کی بات چیت ٹوٹی پھوٹی انگریزی سے شروع ہو کر جلد ہی اشاروں کی زبان تک آ جاتی۔ جب ادا اور بلاغت اشارت دم توڑ جاتی تو جیبی لغت کھل جاتی۔ ہماری صورت میں مفہوم واضح کرنے کے لیے انگریزی لفظ کے مقابل مقامی زبان کے لفظ پر انگلی رکھ دی جاتی اور اماں بوزانا کے معاملے میں بہ انداز دگر ایسا کیا جاتا۔
قیام بوسنیا کے ایک سال کے دوران یہ کمال ہم نے صرف اور صرف اماں بوزانا میں ہی دیکھا تھا کہ وہ جو بات ہم تک پہنچانا چاہتی وہ تھوڑی انگریزی، تھوڑی لغت، کچھ اشاروں اور بہت سی اداکاری کی مدد سے آخر کار ہم تک پہنچا ہی دیتی تھی اور اس چیونٹی کی طرح ہمت نہ ہارتی تھی جس کے عزم کو دیکھ کر، ہماری نصابی کتب کے مطابق، محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے تھے۔
بعض اوقات ایک عام سی بات ہم تک پہنچانے میں بہت سا وقت لگ جاتا۔ اس دوران اماں بوزانا کی بے چینی دیدنی ہوتی۔ بالآخر جب وہ بات پہنچانے میں کامیاب ہو جاتی تو سر مٹکاتے ہوئے داد طلب کرتی۔
اماں بوزانا کے مقابلے میں نکولا ایک کم گواور دھیمی طبیعت والا بندہ تھا۔ ان دونوں کی طبیعتیں اسی طور مختلف تھیں جیسے اپنے ہاں کے جوڑوں کی اکثریت کی۔ حالانکہ ان کے شادی کارڈوں پر یہ بھی ضرور لکھا ہوتا ہے کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں اور زمین پر ان کا ملاپ ہوتا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ جن کے ہاں آسمان پہ ہونے والا کام ایسی کجی رکھتا ہو وہاں زمین کے مسائل پہ کیا رونا اور غالب کے الفاظ میں یہ رولا ڈالنا۔
ع۔ حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
نکولا نے پہلی ہی ملاقات میں اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ میری بیوی کروایٹ ہے اور میں سرب۔ لوگ مجھے میرے خاندانی پس منظر کی وجہ سے ایسا سمجھتے ہیں جبکہ میں انٹر کانٹیننٹل ہوں اور میرے نزدیک نسلی یا کوئی اور حوالہ ایسی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ سربوں کی اکثریت کی طرح ایک خوش شکل آدمی تھا۔ ہم نے اسے ڈھنگ والے لباس میں کبھی بھی نہ دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا مضبوط ڈیل ڈول اور مردانہ وجاہت توجہ کھینچتی تھی۔ وہ پٹرول سٹیشن سے واپسی کے بعد کبھی بھی فارغ نہیں بیٹھتا تھا بلکہ شہد کی مکھیوں کی دیکھ بھال اور دوسرے چھوٹے موٹے گھریلو کاموں میں مصروف رہتا تھا۔
ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ بڑی بیٹی لولا شادی شدہ تھی۔ شادی کو پانچ سال ہونے کو تھے لیکن اولاد سے محروم تھی۔ یہ اماں بوزانا کا بڑا دکھ تھا جس کا ذکر اسے بے حد رنجیدہ کر دیتا تھا۔ اس کی دوسری بیٹی نکولینا امریکہ میں پڑھتی تھی۔ دونوں بیٹیوں کی عمروں میں کچھ زیادہ فرق نہیں تھا البتہ بیٹا ساشا چھوٹا تھا اور اس کی عمر دس سال کے قریب تھی۔ وہ چھوٹا اور اکلوتا ہونے کی وجہ سے اماں کا لاڈلا تھا۔ اس کے اطوار بھی وہی تھے جو اکثر لاڈلوں کے ہوتے ہیں۔
وہ سارا دن سائیکل پر ادھر ادھر گھومتا رہتا یا پھر اپنے دوست جان کے سات کھیل رہا ہوتا۔ شروع کے دنوں میں ایک دفعہ اماں کی بکریاں کھیتوں کی طرف جاتی دیکھ کر اقبال نے اماں کو اطلاع دینی چاہی اور نیچے سے مما مما کی آواز لگائی۔ اماں بوزانا اور ساشا ایک ساتھ گیلری میں نمودار ہوئے۔ اقبال کو اتنا تو پتہ تھا کہ بکری کو مقامی زبان میں کوزا کہتے ہیں لیکن پورا معاملہ اماں تک اس کی زبان میں پہنچانا اس کے بس کی بات نہ تھی۔
لہٰذا اماں بوزانا کے گیلری میں نمودار ہوتے ہی اس نے آواز لگائی، ماما کوزا، اور اماں کو معاملے کی تہہ تک پہنچانے کے لیے کھیتوں کی طرف اشارہ کیا۔ اماں تو سمجھ گئی لیکن ساشا نے یہ الفاظ سنتے ہی بے اختیار ہنسنا شروع کر دیا۔ اس دن کے بعد ساشا جب بھی اقبال کو دیکھتا تو نعرہ بلند کرتا، ماما کوزا ( اماں بکری ) اور پھر ہنسنے لگتا۔
جنگ کے بعد ایسے خال خال خوش نصیب جوڑے بچے تھے جو بے رحم آسماں کی دست برد سے اپنی ازدواجی زندگی کو بچا لائے تھے۔ نکولا اور بوزانا بھی ان چند جوڑوں میں سے ایک تھے۔ کٹھن دور کے گزر جانے کے باوجود ان دونوں کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کا ان کا مختلف النسل ہونا کہیں کسی وقت غیر روادار معاشرے کی نظر کا کانٹا نہ بن جائے اور زندگی کچھ ایسی کروٹ لے کہ۔
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اناں بوزانا ایک مغربی خاتون ہونے کے باوجود ہمارے ہاں کی روایتی تنگ نظر عورت سے کسی طور مختلف نہ تھی۔ وہ معاشرہ جہاں ذاتی پسند کے بغیر رشتہ ازدواج طے ہونے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے وہاں اماں بوزانا کا اپنی بیٹیوں کے اس رجحان کے باب میں عجیب رویہ تھا۔ لولا کے خاوند اور نکولینا کے دوست سے اسے خدا واسطے کا بیر تھا۔ لولا کے خاوند کو تو وہ کبھی کبار بادل نخواستہ کچھ وقت دیتی تھی لیکن نکولینا کے دوست کو اس نے کبھی مروتاً بھی ہیلو نہیں کہا تھا۔
مجھے ایسا لگتا تھا کی اسے اصل اختلاف اپنی بیٹیوں کی رومان پسندی سے نہیں بلکہ ان کے معیار سے تھا۔ اسے بظاہر اس اختلاف کا حق بھی حاصل تھا کیونکہ اس نے خود ایک بس قبول صورت خاتون ہونے کے باوجود اپنے جیون ساتھی کے طور پر ایک وجیہہ شخص کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن یہاں وہ ایک حقیقت کو نظر انداز کر رہی تھی۔ آج کے بکھرے ہوئے یوگوسلاویہ میں لڑکیوں کے پاس مردوں کے انتخاب کے وقت بس ایک ہی راستہ تھا، اپنے ہم نسل سے استواری عہد وفا۔
نئے معاشرے میں اس کے علاوہ کوئی اور رجحان قابل قبول نہ تھا لہذا معیار کی قربانی ناگزیر تھی۔
ع۔ تیرے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے۔




