وہ احساس کہیں کھو گیا
ہمیں بتایا اور پڑھایا تو یہی گیا کہ زندگی میں ہر لمحہ ہر کسی کا احساس کرو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں جدید انسان نے بے حد ترقی کر لی ہے وہاں وہ احساس سے عاری ہو گیا ہے۔ آج کا ترقی کرتا ہوا انسان اس بات سے بالکل بے خبر ہے کہ اس کی بھاگ دوڑ میں کتنے لوگوں کو تکلیف کا سامنا کر نا پڑا اور اس سفر میں کتنے لوگوں کا احساس اس پر فرض تھا جو وہ بھول گیا۔ احساس معاشرے کی آکسیجن ہے جس معاشرے سے احساس رخصت ہو جائے وہاں سے خوشیاں اور سکون بھی رخصت ہو جاتا ہے۔
جس طرح پڑھا لکھا انسان بننے کے لئے اس بات کا احساس ہونا ضروری ہے کہ محنت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں اسی طرح ذمہ دار استاد اور شہری ہونے کے لئے احساس ذمہ داری کا ہونا ضروری ہے۔ احساس سے عاری انسان خواہ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو وہ لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام و مرتبہ نہیں بنا سکتا لیکن ایک شخص جس میں بے حد احساس پایا جائے وہ اپنے احساس کی بنا پر ہر شخص کا دل جیتنے کا ہنر رکھتا ہے۔
ہم اپنے ارد گرد بہت سے لوگوں کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ لوگ ان کی مدد کرنے کے بجائے ان کو نصیحت کر کے آگے چل دیتے ہیں جو کہ سرا سر غلط ہے۔ مجبور اور بے کس لوگوں کا احساس ہر اس شخص پر فرض ہے جو خود صاحب استطاعت ہو۔ معاشرے میں بے حسی کی ایک اور وجہ مغربی معاشرے کی کھوکھلی روایات کی اندھا دھند تقلید ہے جس کی وجہ سے بے حسی پروان چڑھ رہی ہے۔
آج سے کچھ سال پہلے تک مشرق میں والدین کو اولڈ ہاؤس منتقل کرنے کا بالکل رواج نہ تھا۔ سب اپنے والدین سے بے حد محبت کرتے اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بنتے تھے لیکن مغربی روایات کی پیروی کرنے کے شوق میں ہم نے والدین کی بڑھاپے میں خدمت کو بھلا دیا اور معاشرے میں چند بے حس لوگ اس مقام پر پہنچ گئے کہ وہ اپنے والدین کو اولڈ ہاؤس چھوڑ آئے اور خود کو ترقی پسند انسان سمجھنے لگے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں رشتوں میں محبت، لگن اور توجہ کی کمی ہو رہی ہے وہاں رشتوں میں احساس بھی بالکل ختم ہو تا نظر آ رہا ہے۔ مشرقی معاشرے کی زیادہ تر خوشیوں کا دار و مدار رشتوں کے احساس پر قائم تھا جو کہ اب نہ ہونے کے برابر ہے۔
استاد معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہے جو کہ نا سمجھ انسان کو سمجھ دار بناتے ہیں اور اس کی شخصیت کی تکمیل کرتے ہیں۔ استاد کو روحانی ماں باپ کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ انتھک محنت اور بے لوث محبت سے بے ڈھنگ پتھر کو تراش کر قیمتی ہیرا بنا دیتے ہیں۔ ہمیں ان کی محبت وا حساس کا جواب محبت سے ہی دینا چاہیے۔ بے حسی غلط فیصلوں سے بھی جنم لیتی ہے۔ جن بچوں کو والدین سے مکمل پیا ر نہیں ملتا وہ باغی ہو جاتے ہیں او ر ایسے بچے بڑے ہو کر معاشرے کا احساس کرنے کے بجائے معاشرے کے لئے وبال بن جاتے ہیں۔
معاشرے میں خوشحالی اسی صورت میں قائم رہتی ہے جب سب لوگ ایک دوسرے کا احساس کرتے ہیں تب ہی ایک خوشحال معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔ وہ معاشرہ جہاں سب اپنے مفاد کو مد نظر رکھیں اور کوئی شخص کسی کا احساس نہ کرے وہاں بے حسی ڈیرے جما لیتی ہے۔ احساس سے بھر پور رشتہ گھنے سایہ دار پیڑ کی طرح ہوتا ہے۔


