ٹرانس جینڈر ایکٹ: ہم کہاں کھڑے ہیں؟


معاشرے وہی پنپتے ہیں جہاں ہر طبقہ کے حقوق کی عملاً پاسداری ہو، ایسا کہیں روایتی طور ہوتا ہے تو کہیں اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قانون سازی کے ذریعہ اسے نافذ بھی کرنا پڑتا ہے۔ جو چیزیں روایتی طور پر معاشروں میں رائج ہوں ان سے احتراز عموماً ممکن نہیں ہوتا قطع نظر کہ وہ درست ہیں یا غلط۔ ایک اچھی روایت کا ہونا بہت عمدہ مگر ایک بے سود یا غلط روایت کو ختم کرنا آسان نہیں خاص کر ایک روایت پرست معاشرے میں جہاں کسی غلط روایت کے خاتمے کا تصور ہی بعید از قیاس ہو وہاں اس سے پہلے محض مخالفت ہی مخالف کو مہنگی پڑ جاتی ہے۔ ہر جانب سے اس پر سب و شتم اور پھر مقاطع ہوتا ہے حتی کہ قتل جیسے سنگین اقدامات تک اس مخالفت کا نتیجہ ثابت ہوتے ہیں۔

روایت پرست معاشرے وہ ہیں جو عالمی تبدیلی کے نتیجہ میں جدید طرز سیاست اور حکومت تو اپنا چکے مگر ان کی سوچ آج بھی قبائلی طرز کی ہی ہے جن پر سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی روایات کی چھاپ اس قدر گہری ہے کہ ان کی مذہب سے شدید جذباتی وابستگی بھی اسے متزلزل نہ کر سکی کہ ان میں بہت سے خلاف مذہب امور آج بھی رائج ہیں، گویا مذہب بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ایسے معاشروں میں اصلاحات جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ روایات کی پاسداری ان کے لیے سب سے مقدم ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر ان معاشروں کے پروردہ افراد اپنی روایات کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا مقابلہ بلا ضرورت مذہب کو ڈھال بنا کے بھی کرتے ہیں تاکہ ان کی روایات تقدیس کی دبیز چادر اوڑھ کر ناقابل کلام بن جائیں جو ان کی دلائل کی کمزوری کی علامت ہے۔

کچھ ایسا ہی حال پاکستانی معاشرے کا بھی ہے جہاں اسلام، ہندو معاشرت اور قبائلی ریت کی ایک کھچڑی سی بنی ہوئی ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی تو درکنار ان تینوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش پر بھی اکثر نوبت تصادم کی آجاتی ہے۔ اسی کھچڑی کا پروردہ ہمارا نام نہاد ”خاندانی نظام“ بھی ہے جو ان تینوں اجزاء ترکیبی کا امتزاج ہے۔ ہم خود کو مسلمان کہتے اور تسلیم کرواتے ضرور ہیں مگر جہاں اسلام ہم سے انصاف کا متقاضی ہو وہاں ہم کمال ڈھٹائی سے ہندو معاشرت یا قدیم قبائلی روایات کی آڑ لیتے ہوئے اس سے مکمل پہلو تہی کرتے ہیں جس کی بے شمار مثالیں ہمارے یہاں بکھری ہوئی ہیں جو بیٹیوں کی حق وراثت سے محرومی سے لے کر نام نہاد غیرت کے نام پر قتل اور جبری شادیوں پر محیط ہیں۔

ان حالات میں جب کبھی کسی مظلوم یا محروم کو روا رکھی جانے والی نا انصافی سے نجات دلانے کی کوشش کسی بھی فورم پر اور کسی بھی سطح پر کی گئی تو مخالفت جو ہوئی سو ہوئی لیکن مذہب کا حسب سابق بھرپور بلکہ کئی بار غیر ضروری استعمال کھلم کھلا کیا گیا۔ جہاں دلیل کا جواب نہ بن سکا وہاں غیر متعلق اور بے بنیاد الزامات کا کی بوچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔ کوئی گمراہ قرار دیا گیا، کسی پر لادینیت اور بے راہ روی کے فروغ کا فتوی لگا تو کسی کو غیر ملکی ایجنٹ ہی قرار دے دیا گیا جسے ثابت کرنے کے لیے بھی پلے کچھ میسر نہ تھا۔ ان حالات میں بہت سے اہم اور بحث طلب امور دائیں اور بائیں بازو کے تضاد کی بھینٹ چڑھا دیے گئے۔

اگر یہ اقدام حکومتی سطح پر باقاعدہ قانون سازی کے ذریعہ کیا گیا تو حکومتوں کو بھی انہی الزامات کا سامنا رہا جس کی مثال ہم گاہے بگاہے دیکھتے رہے ہیں اور تازہ مثالیں ماضی قریب میں حقوق نسواں ایکٹ اور حالیہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کی ہیں۔ ان دونوں قوانین میں اعتراضی نکات کی بحث اپنی جگہ مگر انہیں سرے سے ہی مسترد کرنا اور واپسی کا مطالبہ کرنا سوائے روایت پرستی کے اور کیا ہے؟ اس گورکھ دھندے میں انتخابی پذیرائی سے محروم نام نہاد مذہبی جماعتیں اور مذہبی لبادے میں پذیرائی کے شوقین اوریا مقبول جیسے فکری بالشتیے سرگرم رہتے ہیں۔

ان کے ردعمل سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انہیں اس سے غرض نہیں کہ مذکورہ قانون سازی کے اصل مقاصد باقی رہیں نہ رہیں لیکن ان کے سیاسی اور ذاتی مقاصد ضرور حاصل ہوں تبھی یہ مذہبی پیشواؤں کو بھی وہی زبان دیتے ہیں جو ان کی اختراع ہو۔ اس کی ایک مثال عالمی سطح کے ایک نامور عالم دین کا بیان ہے کہ مخنث کوئی تیسری جنس نہیں بلکہ ایک معذوری ہے جیسے نابینا ہونا، اپاہج ہونا یا سماعت و گویائی سے محرومی ایک معذوری ہے۔

اتنے بڑے عالم دین کے منہ سے یہ بات اس لیے حیرت انگیز ہے کیونکہ ممکن ہے سائنس انہیں معذور قرار دے دے لیکن اسلامی شریعت میں ان کے لیے بالکل علیحدہ احکامات ہیں جیسے مرد اور عورت کے لیے علیحدہ علیحدہ احکامات ہیں حتی کہ اگر ایسی باجماعت نماز ہو جس میں ہر طرح کے افراد شامل ہوں تو شریعت کے مطابق سب سے آگے بالغ مرد صف بندی کریں گے ان کے پیچھے نابالغ مرد یعنی بچے ان کے پیچھے خواتین اور ان کے پیچھے مخنث صف بنائیں گے۔ کیا شریعت کی رو سے عام معذور مرد عورتوں کے پیچھے صف بندی کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں اور اگر ایسا کیا تو ان کی نماز ہی نہیں ہوگی۔ یہ اور اس جیسے دیگر مخصوص احکامات مخنث کے تیسری جنس ہونے کی بین دلیل ہیں۔

ٹرانس جینڈر ایکٹ پر مذہبی حلقوں کا اعتراض مخنث کی شناخت کے طریقہ کار کی وضاحت پر ہے، اعتراض تو شاید انہیں لفظ ”ٹرانس جینڈر“ پر بھی ہے جس سے انہیں ایل جی بی ٹی کیو کے ”ٹی“ کو بنیاد بنا کر اسی طرز کی نمائندگی محسوس ہوتی ہے لیکن اس تعلق کو اس قانون سے من و عن ثابت تو نہ کر سکے البتہ باتوں ہی باتوں میں اس کا تعلق جوڑا ضرور جا رہا ہے۔

بہرکیف مذکورہ وضاحت جسے یہ شرع کے خلاف بتا رہے ہیں اور جس سے ان کے بقول ”خاندانی نظام“ کو خطرہ ہے اسے شرع کے مطابق بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ کوشش مخالفت کی کوشش سے کہیں سہل اور قانون کے مقاصد کے حصول کے لیے معاون ہوگی لیکن اس سے انہیں وہ سیاسی اور ذاتی مقاصد حاصل نہیں ہوں گے اس لیے وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے چاہے خواجہ سرا اپنے ان حقوق سے محروم رہیں جو انہیں مذہب بھی دیتا ہے۔ یہ اقدام شاید ان کی نظر میں مذہب سے انحراف ہی نہیں۔

اس سلسلہ میں ایک غلط فہمی پورے شد و مد سے یہ پھلائی جا رہی ہے کہ اس قانون کی رو سے کوئی بھی مرد خود کو عورت اور عورت خود کو مرد رجسٹر کروا سکے ہیں جس سے ہم جنس پرستی کی راہ ہموار ہوگی جبکہ یہ قانون مرد یا عورت کی شناخت اختیار کرنے کی بات ہی نہیں کرتا، اس کے بجائے جنس تبدیل کروانے والے کی تبدیل شدہ جنس صرف مخنث یعنی خواجہ سرا ہی رجسٹر ہوگی جسے قانونی طور پر شادی یا جنسی تعلق کی اجازت ہی نہیں۔ مزید یہ کہ شناخت کے لیے میڈیکل اگزامینیشن کی شرط لازمی کرنے کی مانگ بھی ہے، کر دیں لیکن اس سے پہلے اپنے بوسیدہ اور رشوت خور نظام کو بھی دیکھ لیں جو بغیر رشوت خواجہ سراؤں کو ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے گا جس سے ان کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہو گا جبکہ رشوت کے عیوض جو چاہے رپورٹ بنوائی جا سکتی ہے یعنی جعلی رجسٹریشن کا جو خدشہ انہیں ابھی ہے وہ میڈیکل کی شرط کے بعد بھی ختم نہیں ہو گا۔

سوال یہ ہے کہ انہیں اس قانون سے ہم جنس پرستی کے جس فروغ کا خطرہ ہے اس کا مظاہرہ اس کے نفاذ کے کم و بیش چار سال میں اس قانون کی وجہ سے ایک بار بھی نہیں ہوا۔ اس کے برعکس جنہیں یہ سب کرنا ہے انہیں کسی شناخت یا قانونی سہارے کی احتیاج نہیں۔ رہا نام نہاد خاندانی نظام تو ان کے نزدیک اس نظام کو اس بات سے شدید خطرہ ہے جس کا امکان بہت کم ہے لیکن رشتوں کے تقدس کی آڑ میں روز افزوں بڑھتے جنسی ہراسانی، غیر ازدواجی تعلقات، جنسی زیادتی اور بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے بڑھتے واقعات سے کوئی خطرہ نہیں جبھی ”بدنامی“ کے خوف سے ان پر آنکھیں موند لی جاتی ہیں اور لب سی لیے جاتے ہیں جس سے ان واقعات کو صرف فروغ مل رہا ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ جہاں اس قانون کے ذریعہ ممکنہ ہم جنس پرستی سے لرزہ بر اندام ہے وہیں اسے دینی مدارس، خانقاہوں اور مزارات پر آئے دن رونما ہونے والے جنسی درندگی اور اغلام بازی کے واقعات کی کیوں کوئی فکر نہیں جو مذہب کی آڑ لے کر کھلے عام ہو رہے ہیں جبکہ کسی کسی واقعہ کے منظر عام آنے پر اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی اور شرعی احکام کے نفاذ کے بجائے مذہب اور ادارے کی بدنامی کے کھوکھلے خوف کی وجہ سے پردہ پوشی کر کے بالواسطہ حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

مذکورہ بالا دونوں پردہ پوشیاں دراصل اسی قبائلی سوچ اور روایت پرستی کا شاخسانہ ہیں جس سے وہ اس بدنامی سے کیا بچیں گے جس کے خوف کے باعث پردہ پوشی کرتے ہیں بلکہ اس طرح وہ اور بدنام ہوتے ہیں۔ اسی طرح کسی محروم کے حقوق کی پاسداری کے لیے آواز بلند کرنے یا قانون سازی سے اجتناب بلکہ اس کہ براہ راست بے جا مخالفت اور اس کے لیے مذہب کا غیر متعلق استعمال بھی اسی روایت پرستی کی دین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب یہ روش تبدیل کی جائے تاکہ جرائم کی یہ روش ختم کی جا سکے اور مظلوم و محروم طبقات کو ان کے حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ قوانین کے نکات پر اعتراضات کو بنیاد بنا کر بلاوجہ تضاد پیداء کرے دیگر مقاصد کے حصول کی مذموم کوشش کے بجائے خالص تکنیکی طور پر ان کی درستگی کی کوشش کہ جائے۔ ضرورت ہے سوچ بدلنے کی کہ انصاف ہی سب سے مقدم ہو، یہی حق ہے اور یہی اسلام کی تعلیم بھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments