اہل وطن، کم سن ماؤں کے مسائل سنو


ہم کراچی کے مضافاتی علاقے کوہی گوٹھ کے ایک خواتین ہسپتال میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے زیراہتمام ہونے والے ایک پروگرام کے سلسلے میں داخل ہوئے۔ ہسپتال میں صفائی کا اعلی معیار تھا اور جابجا سبزے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے جانور بھی نظر آ رہے تھے جس سے ہسپتالوں میں داخل ہونے سے دل میں آنے والی افسردگی کا احساس نہ تھا۔ کانفرنس ہال تک جانے سے پہلے ایک کافی بڑی عمارت پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا لواحقین کی رہائشگاہ، دل خوش ہوا کہ کہیں تو لواحقین کا بھی سوچا گیا ہے۔

ہال میں داخل ہوئے تو بریفنگ شروع ہوئی ایک بچی ویل چیئر پر بیٹھی تھی ڈاکٹر سجاد کہنے لگے کہ اس کی شادی بارہ سال کی عمر میں کر دی گئی اور حاملہ ہو گئی جب تیرہ سال کی عمر میں یہ ماں بننے لگی تو اس کے اعضاء ناپختہ تھے جس کی وجہ سے بچہ باہر نہیں آ سکتا تھا۔ ڈاکٹر اور ہسپتال کی سہولت سے کوسوں دور بلوچستان کے براہوی کے علاقے میں غیر تربیت یافتہ دائی کے علاوہ کوئی اور آپشن نہ تھا۔ اس لیے جب بچہ مر گیا تو دائی نے اس کے گلے میں رسی ڈال کر بچے کو باہر نکالا۔

بچہ تو باہر آ گیا مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کم سن ماں کا آدھا مثانہ کاٹ دیا اور پیشاب و پاخانے کی نالیوں میں سوراخ کر گیا۔ میں نے لکھ دیا آپ نے آسانی سے پڑھ لیا مگر ایک بہت بڑی مصیبت سامنے تھی۔ ان سوراخوں کی وجہ سے اب پیشاب اور پاخانے پر خاتون کا کنٹرول نہیں رہا اور وہ ہر وقت بہتا رہتا ہے اس مرض کو فسٹیولا کہا جاتا ہے۔ کم عمری کی شادی، غربت اور صحت کی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے پیدا ہونے والے اس مرض میں پاکستان میں پینتیس ہزار خواتین مبتلا ہیں۔

آپ ان کے کرب کا اندازہ لگائے کہ جیسے پیشاب و پاخانے کے بعد واش روم میں بدبو ہوتی ہے ایسی خواتین کے پاس سے ہر وقت ایسی بدبو آتی رہتی ہے۔ نوے فیصد شوہر ایسی خواتین کو طلاق دے دیتے ہیں اور جن گھروں میں خواتین رہتی ہیں انہیں وہاں سے بھی الگ جانوروں کے ساتھ چھوٹی سے جھونپڑی بنا کر دے دی جاتی ہے۔ اکثر خواتین اس سوشل کٹاؤ کی وجہ سے پاگل ہو جاتی ہیں۔ انہیں بس اور جہاز میں نہیں بٹھایا جاتا کیونکہ مسافر اعتراض کرتے ہیں اور یہ خواتین دور دراز علاقوں سے دس دس بسیں تبدیل کر کے دو دو تین تین دن لگا کر ہسپتال پہنچتی ہیں۔

جب بچی کو دیکھ رہا تھا تو بخدا دل کر رہا تھا چیخوں چلاؤں اور معاشرے کو اس درد سے آگاہ کرو۔ ڈاکٹر سجاد صاحب نے بتایا کہ ایک خاتون کا بیٹا جس کی عمر اٹھائیس سال کی تھی وہ ماں کو لے کر آیا کہ جب میں پیدا ہوا تھا تو میری ماں کو یہ مرض لگ گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا ہم نے چیک کیا تو چھوٹا سا سوراخ تھا جو ایک چھوٹے سے آپریشن سے بند ہو سکتا تھا مگر اس خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی ہم نے اسے چار دن خون لگایا کہ یہ اس قابل ہو سکے کہ آپریشن کر سکیں مگر وہ چوتھے دن انتقال کر گئی۔ جب ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ فوت ہو گئیں تو یقین کریں ایسے لگا جیسے کوئی قریبی عزیز جو مسلسل دکھوں میں رہا ہو منزل نظر آ رہی ہو اور اس کا انتقال ہو جائے۔

پاکستان میں موجود یہ پینتیس ہزار خواتین جو فسٹیولا کا شکار ہیں بڑی قابل رحم حالت میں ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں اس کا علاج نہیں اور پرائیویٹ ہسپتال والے یہ علاج اس لیے آفر نہیں کرتے کہ یہ صرف غریبوں کا مرض ہے اور اس میں پیسے نہیں ہیں۔ کوہی گوٹھ کا یہ ہسپتال جسے ڈاکٹر عطیہ کے بچوں نے اپنی ذاتی زمین پر تعمیر کرایا ہے اور سو فیصد فری ہے یہاں کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی بلکہ مریض اور اس کے ساتھ ایک عزیز کو کرایہ اور رہائش کھانا بھی فری دیا جاتا ہے۔ اس مرض کا علاج بہت پیچیدہ ہے کم از کم تین ماہ سے لے کر ایک سال تک مسلسل ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ پاکستان میں اس مرض کا آپریشن کرنے والے انتیس سرجن ہیں اور وہ سب کے سب یہ آپریشن فری کرتے ہیں اللہ انہیں جزائے خیر دے۔

اس ہسپتال کے بننے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے عطیہ ہسپتال کے مالک نے اپنے بچوں کو وصیت کی کہ تمہاری نظر اس ہسپتال کے منافع پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا منافع غریبوں پر خرچ ہو گا۔ بچوں نے اپنے باپ کی وصیت کو پلے باندھ لیا اور اپنے فارم ہاؤس میں قائم غریبوں کے کلینک کو وسعت دیتے گئے جو اب کوہی گوٹھ خواتین کے ہسپتال کی صورت میں ایک مرکز خیر کی صورت میں سامنے ہے۔ یہاں سات ہزار فسٹیولا کی متاثرہ خواتین کے آپریشن ہو چکے ہیں اور ان کے مرض کو یا تو ختم کر دیا گیا ہے یا اس کو اس طرح کر دیا گیا ہے کہ وہ ہر وقت کی اذیت نہ رہے۔

اس پورے عمل میں ڈاکٹر شیر شاہ کا نام بار بار سننے کو ملتا رہا وہ غالباً پاکستان سے باہر تھے اور اسی طرح نوے کی دہائی میں فسٹیولا کی ایتھوپیا سے تربیت حاصل کر کے آئے تھے اور یوں خیر کا یہ سلسلہ انہوں نے یہاں شروع کیا جو اب پورے پاکستان میں پھل پھول رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خواتین بھی ان مظلوم خواتین کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

یو این کی ٹیم میں بہت ہی متحرک اور درد دل رکھنے والے لوگ تھے محترم یونس صاحب اس پورے مذاکرے کو اس کے مقصد کے گرد محو رکھا۔ علمائے کرام نے بھی انتہائی درد دل کا اظہار کیا اور ایسی بچیوں کی آواز بننے اور اس کی روک تھام کے لیے سیر حاصل مذاکرے ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی پوری ٹیم بالخصوص چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب بہترین بریفنگ دی اور کونسل کی طرف سے کم عمری کی شادی میں موجود مفاسد کی وجہ سے اس پر غور و فکر کی دعوت دی۔

علمائے کرام نے مسئلے مذہبی کے ساتھ ساتھ معاشرتی پہلو پر بھی اظہار خیال کیا کہ یہ مسئلہ صرف قانون سازی سے حل نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے غربت کا خاتمہ، صحت کی سہولیات کی فراہمی اور ایسی شادیوں کی روک تھام ہے جس میں بچی کی جان کو خطرہ یا عمر بھر کے لیے معذوری ہو سکتی ہو۔ اسلامی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مصلحت عامہ میں قانون سازی کر سکتی ہے۔ ہمیں ایسی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے آواز بننا ہے جو لا علمی کی وجہ سے ایسی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں جن سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہوتا۔

اگر کسی ماں یا باپ کو یہ معلوم ہو کہ اس کی لخت جگر کی اس عمر میں شادی کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے تو یقیناً کوئی بھی کم عمری میں شادی نہیں کرے گا۔ جس بچی کے اپنے کھیلنے کے دن ہیں وہ نئے خاندان کی ذمہ دار کیسے بن سکتی ہے؟ کم عمری کی شادی بچی کا بچپن ختم کری دیتی ہے۔ اس لیے معاشرے میں آگاہی دینا بہت ضروری ہے کہ بچی کی شادی اس کے بالغ ہونے کے بعد کی جائے اور ایک دن بچی بالغ ہو دوسرے دن شادی کر دینا شریعت نے فرض قرار نہیں دیا بلکہ جائز کہا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments