اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو – بیٹیوں کے عالمی دن پر


رضا نقوی کا شعر ہے
عجیب لوگ ہیں باغ فدک کے قصے کو
سنا کے روتے ہیں بیٹی کا حق نہیں دیتے

گو کہ یہ شعر ایک تاریخی اور مسلکی پس منظر رکھتا ہے لیکن کھرا اور سچا شعر ہے کہ تاریخ کے الجھے دھاگوں میں باریک بینی سے چھان بین کر کے مناظرے اور مباحثے کرنے والوں سے لے کر ہر مکتب فکر کے مسلمان من حیث القوم مشترکہ طور پر بیٹیوں کے معاملے میں تقریباً ایک جیسے رویے کے مظہر ہیں۔

بہو کے پاؤں بھاری ہونے سے پہلے ہی بیٹے کی توقع رکھنا، بات بات پر احساس دلانا کہ بیٹا ہی ہو گا یا بیٹا ہی ہونا چاہیے۔ اس یقین کہ ساتھ بار بار اس جملے کو باور کرایا جاتا ہے کہ بے چاری عورت حمل کا سارا وقت اس خوف اور ذہنی دباؤ میں گزارتی ہے کہ بیٹا نہ ہونے پر نہ جانے کون سی قیامت اس کا استقبال کرے گی۔ اچھی بھلی پڑھی لکھی بچیوں شادی کے بعد یہ کہتے سنا کہ پہلے بس ایک بیٹا ہو جائے پھر آگے اللہ جو بھی دے۔

بیٹا ہو گیا تو مراد بر آئی نہ ہوا تو پورے گھرانے کے ارمانوں پر اوس پڑ جاتی ہے اور بے چاری ماں خود کو مجرم سمجھتی ہے۔ گو کہ ہر گھر میں ایسا نہیں ہوتا لیکن ہم یہاں اجتماعی رویوں کی بات کر رہے ہیں۔

لگاتار کئی بیٹیاں ہو گئیں تو اور برا حال۔ اور پھر جو بیٹا ہو گیا تو اب وہ راجہ اندر ہے۔ بیٹیوں کے منہ کا نوالہ اس کے منہ میں ڈالا جائے گا۔ گھر کے دسترخوان تک پر یہ تقسیم دیکھنے میں آتی ہے۔ کھانا بنتے ہی اگر لڑکے یا گھر کے مرد موجود نہیں تو اچھی اور زیادہ بوٹیوں کے ساتھ تری والا سالن الگ سے ڈونگے میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ غذا، تعلیم، صحت، مستقبل، ہر معاملے میں بیٹی پر بیٹوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اور بیٹی کی احتیاجات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

یہی حال علم و فن و ہنر کے معاملے میں ہوتا ہے۔ ”تم کیا کرو گی تم تو لڑکی ہو“ گویا لڑکی ہونا جرم یا خطا ٹھہری جس کا تاوان تا زندگی ادا کرنا ہے۔

اور سچ تو یہ ہے کہ یہ تاوان ساری زندگی ہی لیا جاتا ہے۔ روک ٹوک، آہستہ چلو، آہستہ بولو، چپ رہو تم لڑکی ہو، بچپن سے ہی خوف اور بے اعتباری کی فضا بنا دی جاتی ہے۔ ہم آخر مثبت طریقے کیوں اختیار نہیں کرتے۔ میں مانتی ہوں کہ بہت سارے قرینے لڑکیوں کے لیے ہیں اور ان پر سجتے بھی ہیں۔ اس بات کو خوبصورت پیرائے میں بھی کہا جاسکتا ہے۔ آہستہ بولنا یا پروقار طریقے سے قدم اٹھانا لڑکوں کے لیے بھی اچھا عمل ہے۔ حیا عورت کا زیور ہے۔ خوف اور ذہنی دباؤ نہیں۔ اپنی بیٹیوں کو اعتماد دیجیے۔ یقین جانیے بچے ہمیں وہ ہی واپس لوٹاتے ہیں جو ہم انہیں دیتے ہیں۔ نہ جانے کیوں بیٹیوں کے معاملے میں ہم گاؤں کے ہو یا شہر کے دیس میں ہوں یا پردیس، کم و بیش تنگ نظر ہو جاتے ہیں۔

جبکہ ہمارے لیے رول ماڈل نبی مکرم ص کی ذات مبارک ہے۔ جنہیں خدا نے سیدہ فاطمہ زہرا جیسی بیٹی عطا فرمائی تو سورہ کوثر نازل ہوئی۔ اس بیٹی کی آمد نے قیامت تک آنے والی تمام بیٹیوں کو تکریم کی چادر عطا فرمائی۔ نبی مکرم ص نے عمل کر کے دکھایا کہ بیٹی ایک پناہ گاہ ہے۔ جب باپ کو ننھے ننھے ہاتھوں سے سنبھالے تو ام ابیھا بن جاتی ہے۔ بیٹی کے احترام میں کھڑے ہو کر بیٹی کے منصب کو اجاگر کیا۔ جب بیٹی کی شادی کے لیے جری اور دلیر ترین شخص کا خدا کی رضا سے انتخاب کیا تو پہلے بیٹی کی رضا پوچھی۔ بیٹی کو ”بضعۃ منی“ یعنی جگر کا ٹکڑا قرار دیا۔

یہاں رضا پوچھنا تو درکنار جائیداد اور زمینوں کی خاطر قرآن جیسی مقدس کتاب سے شادی کی بدعت اس دور میں بھی رائج ہے۔

ہمیں بصارت کی نہیں بصیرت کی ضرورت ہے تاکہ رشتوں میں توازن اور عدل سے کام لے سکیں۔ آج کی بیٹی مستقبل کی بیوی، اور بالخصوص ماں ہے۔ اس کی صحت، تعلیم، تربیت کا خیال رکھ کر اگلی نسل کا مستقبل محفوظ کیجیے۔ بیٹیاں پھول ہیں ان کی حفاظت کیجے۔ پھول سختی اور دھوپ سے کملا جاتا ہے۔ ان کو بھرپور اعتماد اور پیار دیجیے، اتنا پیار دیجیے کہ ان میں کسی قسم کی کوئی تشنگی، کمی، یا چاہے جانے کی حسرت نہ رہے کہ کوئی ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکے کہ زیادہ تر لڑکیاں محبت کے نام پر ماری جاتی ہیں۔ اتنی تمکنت اتنا وقار دیجیے کہ وہ راج کرسکیں۔ اچھی غذا، صحت مند، ماحول، اچھی تعلیم اور بہترین تربیت ان کا بنیادی حق ہے۔ جب بنیادی حقوق پورے ہوں تو ذہنی و جسمانی صحت برقرار رہتی ہے۔ روح کو بھی اتنی ہی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جتنا کہ جسم کو، روح کو سکون مہربان رشتوں کی محبت، شفقت اور اعتماد سے ملتا ہے۔

(اور ہاں خدارا اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوسروں کی بیٹیوں کی بھی عزت کیجیے۔ ایسا نہ ہو جو آپ دوسروں کو دیں وہ گھوم کر آپ کے پاس آ جائے )

نپولین بونا پارٹ نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ۔ ”تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا“
شاید ہمارا معاشرہ اسی لیے عدم توازن کا شکار ہے کہ ہم نے عدل کو ہر شعبے سے منہا کر دیا ہے۔

اس قحط الرجال میں میں ان والدین کو سلام کرتی ہوں جنہوں اپنی بیٹیوں کو بھرپور اعتماد کے ساتھ پروان چڑھایا اور پیار، محبت، بہترین تعلیم و تربیت کے ساتھ فیصلوں کا اختیار دیا۔

وہ والدین بھی کہ جب بیٹی پر برا وقت آیا تو ہر مشکل وقت میں ڈھال بن کر کھڑے رہے۔ ان ہی والدین میں میرے والدین کا شمار بھی ہے۔

دعا زہرا کے والدین نے بھی ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔

بیٹی سے یہ نہ کہیں کہ اب گھر سے رخصت ہو رہی ہو تو جنازہ ہی واپس آئے۔ کیونکہ ہولناک صورتحال تو یہ ہے کہ واقعی جنازے ہی نکلتے رہے ہیں اور نکل رہے ہیں۔

کاش وہ وقت بھی آئے کہ ہمارے سماج کی ہر بیٹی بڑے مان سے کہے
”اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو“
ڈاکٹر ثروت رضوی
واشنگٹن ڈی سی

Facebook Comments HS