کھوئی ہوئی جنت


آج میرے زرد پتوں میں ڈھکے وجود پر سے خزاں کا لبادہ سمیٹ لیا گیا۔ میری خالی ٹہنیوں پر پھوٹتی ہوئی نئی کونپلیں۔ میرے اردگرد کی کیاریوں میں لدے خوشنما پھول۔ ظاہر ہونے لگے کلیاں اور غنچے۔ کہیں نرگس، کہیں بیلا، کہیں شبو، کہیں سوسن۔ حد نگاہ تک سرسوں کے زرد اور ہرے بھرے کھیت۔ ہر سو پکشی ثناء خواں ہوئے۔ کہیں سبزے کا فرش بچھا تو کہیں ابر بہاراں کا عرش۔ سورج کی کرنیں مدہم ہیں۔ دن میری تربت پر نور برساتا ہے اور رات کو مہتاب اپنی چاندنی کی چادر میں سمیٹ لیتا ہے۔

اس صبح نو کی رونقوں میں کمی ہے تو قہقہوں میں بہکے ہوئے اس بچپن کی کہ جسے اوڑھے ہوئے دیوانے لوٹ لاتے تھے عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے۔ جو زندگی، امید اور محبت کا ہاتھ تھامے فصل بہاراں میں جشن بہاراں کا سبب بنتے۔ گلوں کے رنگوں کے لیے لطفء بہاراں بنتے اور ذکر ماسق کے اداس قفسوں کے لیے نغمۂ بہاراں۔ آج اس دلکش رت کے اجاڑ رستے ”ملال احوال دوستاں بھی، غبار خاطر کے باب سارے“ ، کہ شاید وہ بہار ان معصوم چہروں پر ہمیشہ کے لیے قربان ہو گئی۔

کئی دہائیوں پہلے اسی رت میں ”نئی دن کی مسافت جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی“ تو میں اپنے آس پاس کے مکانوں سے ماؤں کے کنگن کی آواز سننا، آگ پر پکتی روٹیاں۔ پھر اسی آگ پر رکھا ہوا پانی سے بھرا گھی کا استعمال شدہ کنستر۔ باپ دادا کی قدرے بلند آواز میں تلاوت کی آواز پر بالکوں کی آنکھ کھلنا۔ ماں ناشتہ کرانے کے بعد اسی کنستر کے پانی سے اپنے بچوں کے ہاتھ منہ دھلاتی، نہلاتی۔ پھر پیروں پر سرسوں کا تیل اور منہ پر نیلی شیشی والی کریم لگاتی۔

تیز رنگوں والے رنگ برنگے کپڑے پہنے اپنی ماؤں کے یوسفء ثانی گھروں سے باہر نکل کر میری طرف دوڑتے ہوئے آتے اور میری مضبوط شاخوں سے معلق ٹائروں کے جھولوں پے نشین اس زور لگا کر جھولتے کہ آسمانوں کو چھونے کی ہر خواہش بس یونہی پوری ہو جاتی۔ کچھ بیلی سائیکل کے پہیے کی گاڑی بنا کر دوڑنا شروع ہوتے تو دیکھتے ہی دیکھتے اس ایک پہیے کے ساتھ دوستوں کا ایک ہجوم بھاگنے لگتا اور وہ تب تک بھاگتے جب تک پورے گاؤں کا نقشہ ازبر نہ ہو جاتا۔

صبح کے سکوت کو پھانکنے والی ایک آواز جو میں روز سنتا وہ تھی گاؤں کے واحد سکول میں ترانے کی پرجوش آواز کہ جس میں ہر ایک کی قضیہ یہی ہوتی کہ اس کی آواز قائد ملت تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد نرکل کی قلموں سے تختی پر لکھنا اور پھر گاجے کی مٹی سے اسے چمکانا۔ بچوں کا ماسٹر صاحب سے نظریں بچا کر ایک دوسرے کا ٹفن کھانا۔ پکڑے جانے پر مرغا بننا مگر مرغ کھانے کے لیے ہر ماہ کی پہلی تاریخ یا پھر مہمانوں کی آمد کا انتظار کرنا۔

ایسی تعلیم جو ضرورت اور ضروری کے مفہوموں سے آشناء تھی تو فقط اس طور کہ ضرورت تھی تو صرف اس کے حصول کی جستجو اور ضروری تھا تو تعلیم کے ساتھ تربیت کا جڑا ہوا رشتہ۔ وہ نارسیدے تھک کر سکول سے واپس آتے تو پھر دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی جلدی میں رہتے۔ وہ انگلی چھپا کر پہیلی بجھاتے، وہ پیچھے سے ہو کر کے سب کو ڈراتے۔ وہ کاغذ کے ٹکڑوں پر چور اور سپاہی کھیلنا، وہ اینٹوں کی وکٹیں وہ لکڑی کا بلا۔ وہ دروازوں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جاتے۔ دنیا اور مافیا سے آزاد، مستقبل کی فکر سے بے نیاز اور حال میں مست وہ آوارہ بچپن کہ جس کا ہر کھیل ”ایک ساتھ“ کے احساس سے کبھی خالی نہ رہا۔ جس میں بچپن کی نادانی کو حوصلہ دیا جاتا تھا اسے سمجھداری کے دلدل میں پھنسانے کی کوشش نہیں کی جاتی تھی۔

سورج کی نوک قدرے سرکتی تو خالی جیب اور محبت سے بھرے یہ دل عام لفافوں کے پتنگ بناتے، ماں کے سلائی والی ڈبیا سے نلکی چرا کر اسے پتنگوں سے باندھتے اور ہواؤں کے دوش پر یوں اونچی اڑاتے کہ ان کی ہر کمی، ہر الجھن آسمانوں میں کہیں گم ہو کر رہ جاتی تھی۔ جب دھوپ کی سرخی پھیکی پڑنے لگتی تو میرے گھنے چھاؤں میں اڑتی تتلیوں کے رنگ ان بچوں کو آواز دیتیں، اپنے دیس بلاتی تھیں۔ وہ انہیں پکڑنے کے لیے کبھی ایک پھول کا طواف کرتے کبھی دوسرے کا۔ اور یوں ان دلکش پروں کے رنگ اپنے ننھے ہاتھوں پر نقش کر لیتے۔

ایک روز میرا دل انتہائی غمناک ہوا اس گڑیا کی شادی پے کہ جس کی صاحبہ نے بڑے لاڈ سے مٹی گوندھ کر اسے بنایا تھا، بہت پیار سے سجایا تھا، جو ہر پل اس کے ہاتھوں میں رہی۔ لیکن جب شامیانوں کی آواز اس کے کانوں میں پڑے تو وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ دل کو ایسی ٹھیس پہنچی کہ محسوس ہونے لگا کہ اس غم کا مداوا دنیا میں ہو ہی نہیں سکتا۔ آنسوؤں کی لڑی میں دل کے یوں ٹوٹ جانے پر خود کو سمیٹنے کا بھرم صاحبہ کو خود اس لیے نہ اٹھانا پڑا کہ گڈے والی مالکن آگے بڑھی اور اسے گلے سے لگا کر بولی ”تم گڑیا گڈے کو جب تک چاہے اپنے پاس رکھ لو“ ۔ دلاسے کا یہ طرز اپنی گڑیا کی جدائی میں ڈوبے غمناک دل کی چبھن کو مٹانے کے لیے ہمیشہ کو کافی تھا۔

ساون کے موسم میں آسمان پر جمتے بادلوں کی وہ دھند کہ جسے دیکھ کر بچے اپنے مٹھی بھرے کنچے سنبھال کر جیبوں کو بھرتے۔ ان بادلوں سے گرتے بوندوں کی صورت ستاروں کو ہاتھوں سے چنتے۔ تیز بارش کی دھاروں سے بننے والا آسمان اور زمین کا وہ تعلق ان کم سنوں کے لیے بادلوں کو چھو لینے کا احساس تھا۔ ان بارشوں میں کچا آنگن، مٹی کی سوندھی خوشبو۔ گلیوں میں بہتا ہوا پانی، بوندوں سے بنا ہوا وہ سمندر، اور لہروں میں بھگتی ہوئی کاغذ کی کشتی۔

اس کشتی کا تعاقب کرتی ہوئی معصوم آنکھیں کہ اس کشتی کا حوصلہ ان بچوں کا حوصلہ ہوتی، وہ پانی میں ہچکولے کھاتی تو ان کا دل ڈوبنے لگتا۔ وہ ڈوبنے سے بچ جاتی تو کھلکھلا کر ہنستے، تالیاں بجاتے، کودتے۔ یہ کھیل جو خواہش کی بنیاد پر شروع ہوتا، توکل کی بنیاد پر جاری رہتا اور رب کی رضا پر ختم ہوتا۔ اس سب میں نہ ہی رونے کی کوئی وجہ باقی رہتی اور نہ ہی ہنسنے کا بہانا۔

اس روز بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہتا کہ جب گاؤں میں میلا لگتا۔ وہ نہار کہ جب مٹی کا گلا ٹوٹتا، پھر جیبوں میں کھنکتے ہوئے سکوں کا شور جو تمام متروں کی آسودگی کا طفل اس لئے بنتا کہ یہ امیری سانجھی ہوتی۔ سب مل کر وہ تمام حسرتیں خرید لیتے جو صرف چند دکانوں پر سجی رہتیں۔ اس میلے میں گڑ کی جلیبی، وہ سرکس، وہ دو دھڑ والا بچہ، وہ موت کے کنویں میں دوڑتا ہوا موٹر سائیکل۔ اور ان سب خوشیوں کا نقطہ بس ایک ”ہم“ کا احساس تھا۔

عید کے تہواروں میں بڑے اور بزرگوں کی چاہتیں جب عیدی کی صورت میں ملتی تو ان چاہتوں کو سینے سے لگا کر سنبھال کر رکھنے کی فکر خرچ کرنے سے زیادہ ہوتی۔ دوستوں کے ناراض ہو جانے کی صورت میں دو انگلیاں ملا کر دوستی پکی ہو جاتی کیونکہ وہ یارانے آنکھوں کے اندر سے من پڑھ لینا اچھی طرح جانتے تھے۔ اور پھر تمام گلیاں اور چوبارے کہنے لگتے ”آؤ کھیلیں“ ۔ ٹھٹھرتی سردی میں آنگن کی دیوار سے سرکتی دھوپ، ہر گھر سے جلتے ہوئے کوئلے کی مہک۔ کوئی تنہا ہوا تو ان دہکتے کوئلوں کے سامنے اپنے مٹی کے کھلونے لے کر بیٹھ جاتا، ان سے باتیں کرتا۔ یا پھر باپ کے کندھے پر سوار وہ لاڈلا، زندگی کے مفہوموں کو سمجھتا، رب اور سوہنے نبیﷺ کے فرمان سنتا، چھ کلمے سیکھتا اور نماز سیکھتا۔

شام کے گہرے سایوں میں سب یار بیلی چاند پانے کی چاہت میں جگنو پکڑتے۔ چاند میں پریاں رہتی ہیں اور ان کی دادی چرخہ کات رہی ہے۔ وہ سب پریوں کے دیس جانے کے لیے جگنووں کا پیچھا کرتے، انہیں اپنی مٹھی میں بند کر کے دیر تک ان سے سرگوشی کرتے رہتے۔ ان شاموں کی پلکیں بوجھل ہو کر نانی کی گود میں لے جاتیں۔ اور پھر ماضی کے صدموں، حال کے بوجھ اور مستقبل کے اندیشوں سے خالی وہ قصے سنتے کہ جن کے سامنے راتیں بہت چھوٹی لگنے لگتیں۔ وہ کہانیاں سنتے سنتے اس نیند میں کھو جاتے جو اب کی دنیا کے لیے بس ایک خواب بن کے رہ گئی ہے۔

آج اسی رت میں، انہی یادوں میں حیراں، لب بستہ اور دل گیر تھی میری بہار کہ خوشبو کی دہلیز پر مجھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ سامنے دیکھا تو ماضی کے ایک ایسے ننھے دوست کو کھڑا پایا جو وقت کے گھوڑے پے سوار ہو کر واپس لوٹا تو ایک تھکا ہوا مسافر بن چکا تھا۔ ظاہری طور پر جز رسانی اور فیض بخشی کی اختراعی صورت رکھنے والا وہ پراعتماد اور محرم کار بیلی جب میرے قریب آیا تو دیر تک ٹکٹکی باندھے مجھے انہی پر شائق نظروں سے دیکھتا رہا کہ جیسے بچپن میں دیکھا کرتا تھا۔

میرے تنے پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا تو یہ لمس مجھے اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اس نے اپنی آنکھیں موندھ لیں، میرا دل اس کے ماضی کی یادوں میں ڈوبے افسردہ دھڑکن کو محسوس کر سکتا تھا۔ اپنی مٹی کی ضیاء کاتبی کی دھن میں مگن وہ سوچ اپنے اردگرد پرندوں کے نغمے سننے لگا، اس کا سرور ان پر رقص کرنے لگا۔ دنیا و مافیا سے عاری، آبداری کا مہین و متجسس وہ چہرہ ان دھنوں پر مسکرانے لگا۔ میری چھاؤں میں بسی راحت کو وہ اپنی روح میں اتارنے لگا۔

پھر اس نے آنکھیں کھولی تو آس پاس کی اڑتی تتلیوں کو دیکھ کر بلاوجہ کھلکھلا کر ہنس پڑا کہ جیسے بچپن میں ہنسا کرتا تھا۔ وہ میری سنگت میں بیٹھ گیا، وہاں سجے پھولوں کو پیار سے چھونے لگا، دیر تک پرانی یادوں کو سدھا کر آنسو بہاتا رہا۔ آج بھی ہمارے بیچ اس دھوپ چھاؤں، اس مٹی، بیل بوٹوں، رنگوں اور ہواؤں کا رشتہ اتنا ہی مضبوط اور قیمتی تھا جتنا کہ کل۔ میرا دھیان اچانک سے اس کے ساتھ کھڑے اس کے بچے پر پڑی جو اپنے ہاتھوں میں ایک روشن سی مشین لیے، چپ چاپ اسے تکتا رہا۔ وہ اس سے کھیلنے میں اس قدر مصروف تھا کہ مجھ جیسے گیابھن اور بودا برگد کا پیڑ بھی نہ دیکھ پایا۔ وہ اپنی کسی ایسی دنیا میں گم تھا کہ ہماری دنیا کے رنگ اور خوشبو اسے محسوس تک نہیں ہو پا رہے تھے۔ میرے دوست نے زمین سے ایک نوکیلا پتھر اٹھایا اور میرے تنے پر یہ عبارت کندہ کر کے واپس چل دیا۔

”کل کی فکریں اور ادھورے سپنوں کی منزلوں کو ڈھونڈتے ہم کہاں کھو گئے ہیں؟ آج کتنے ہی حوادث کو سہے بیٹھے ہیں۔ لیکن کس کو کیا معلوم تھا کہ کبھی ایسے بھی دن آئیں گے کہ جب بچپن کی کسک ہمیں یاد تو رہے گی مگر اس روپ کہ اس یاد کے پیچھے، اس سے وابستہ کئی اور یادیں ہمیں ہمیشہ تڑپائیں گیں۔ ہر خلش اس زندگی میں اور کتنے سوالوں کو جنم دے گی؟ اے برگد تیرے سائے میں میں نے چلنا سیکھا، کاش کہ تو مجھے جینا بھی سکھا دے۔ میری کھوئی ہوئی جنت“ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments