مقبول شہزاد کا فن و شخصیت

ملنساری ایک فطری جذبہ ہے اور اس سے بڑھ کر ہم آہنگی جب ان کا ملاپ ہوتا ہے تو بہت سی باتوں سے پردہ اٹھتا ہے۔ اس بات کا سب سے بڑا فائدہ ایک دوسرے کو جاننے سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بہت سی خوبیوں اور کامیابیوں کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تخلیقی تحقیقی اور تنقیدی جوہر بھی سامنے آتے ہیں۔ بلاشبہ ماضی، حال اور مستقبل کی باتیں اور یادیں گفتگو کو دلچسپ بناتی ہیں۔ کیونکہ انسانی زندگی کا مدار انہی زمانوں میں گردش کرتا ہے۔
انہیں میں تاریخ، کردار اور تخلیق کی آبیاری ہوتی ہے۔ جو اس کی شخصیت کا آئینہ بن کر سامنے آتی ہے۔ انسان کبھی بھی باتوں سے بڑا نہیں ہوتا بلکہ اپنے کام اور فن کی بدولت عزت و توقیر پاتا ہے۔ بنا محنت اور خداداد صلاحیت کے آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ تعمیر و ترقی کے خواب نہیں دیکھے جا سکتے۔ ظاہر ہے اپنی طاقت کا لوہا منوانے کے لئے کوئی نہ کوئی جستجو یا ایسا کام کرنا پڑتا ہے جو اسے جغرافیائی اور تاریخی طور پر زندہ رکھے۔
انسان کو کسی دوسرے شہر میں کوئی ہم خیال مل جائے تو اس کی خوشی دوبالا ہو جاتی ہے۔ آج میں ایک ایسے شخص کی بات کرنے لگا ہوں جو اپنے نام اور فن میں اسی طرح مقبول ہے جیسے ان کا نام۔ کیونکہ ناموں کی بھی اپنی ہمہ گیریت، اثرات اور کرشمات ہوتے ہیں جو شخصیت کو پروقار بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے نام کے مطلب کی لاج اور پرکھ رکھ لے تو اس شخص کی فضیلت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی شہرت کو چار چاند اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
یہ بات سب سے بڑھ کر خوش آئند ہوتی ہے جب کوئی نام اپنی شخصیت کا ترجمان بن کر نیک نامی میں اضافہ کرے۔ بلاشبہ نام پہچان اور کردار کا خوبصورت تحفہ ہے جس کا تبادلہ باتوں باتوں میں ہو جاتا ہے۔ میری مراد جناب مقبول شہزاد سے ہے جن سے تقریباً ایک سال پہلے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں انہوں نے ملنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
خیر خدا خدا کر کے وہ وقت آ گیا۔ وہ جولائی کے آخری ہفتے واہ کینٹ تشریف لائے۔ انہوں نے اپنی آمد کی خبر دی۔ میں اصرا ”بخوشی ان سے ملنے چلا گیا۔ یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔ بڑی گرم جوشی سے ملے اور استقبال کیا۔ چہرے پہ مسکراہٹ اور دلی محبت جذبات کے جوش میں سامنے آئی۔ ملنساری کے جذبے نے اپنا تعارف خود کروایا۔ رسمی دعا سلام کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔ بات سے بات نکلتی گی۔ یہ میری پہلی ملاقات تھی جس میں انہوں نے اپنا تعارف، شجرہ نسب، زندگی کے اتار چڑھاؤ، فنی اور خاندانی زندگی، اصناف ادب سے لگاؤ پر باہمی دلچسپی کا اظہار کیا۔ میں نے خاموشی کا روزہ رکھ کر بڑی دلچسپی سے ان کی گفتگو سنی جو دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ سنسنی خیز بھی تھی۔ مجھے گفتگو کے دوران بہت سی باتوں کا علم ہوا خاص طور پر واہ کینٹ میں ان کی آب بیتی زندگی کے واقعات سن کر اور زیادہ دلچسپی پیدا ہو گئی۔
بنیادی طور پر وہ دہی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا آبائی گاؤں چک نمبر 270 ٹی ڈی اے لیہ ہے۔ زندگی آسان اور منظم بنانے کے لیے انہوں نے گوجرانوالہ ٹیکنیکل کالج سے الیکٹریکل میں ڈپلومہ پاس کیا۔ پھر روز گار اور مستقبل نے اپنی آڑ میں لے لیا جس کا نتیجہ خاندانی کفالت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ روز اول کی روایت ہے جو تاحال چلی آ رہی ہے۔ پھر زندگی نشیب و فراز میں گزری۔ ادب شناس اور ادب نواز دوست ہونے کے ناتے گفتگو کی روایت ادب کی ترجمان تھی جس کا آغاز اور اختتام ایک لڑی کی طرح تھا۔
ان کی طبیعت میں بہت سے سوالات تھے شاید میں وقت کی کمی کے باعث کرید نہ سکا۔ لیکن اس کے باوجود بھی گفتگو میں بہت سی باتوں کا حاصل مل جاتا ہے جو پھول بن کر اپنی خوشبو کا احساس دیتا ہے۔ ان کا شعر و ادب سے کئی عشروں سے تعلق ہے۔ البتہ ان کی اصل اور کھری پہچان شاعری ہے۔ انھوں نے جن شعرا کو پڑھا اور ان سے متاثر ہیں ان کی زبانی چند نام جو میری سماعت سے ٹکرائے۔ ان چند بڑے ناموں میں سلطان باہو، میاں محمد بلھے شاہ، مرزا اسد اللہ غالب، اکبر الہ آبادی، الطاف حسین حالی، ساغر صدیقی، ڈاکٹر صغری صدف، میر تقی میر، قتیل شفائی اور امجد اسلام امجد ہیں۔ انہوں نے فارسی، اردو، پنجابی، انگریزی زبان کو پڑھا اور لکھا ہے۔
البتہ تخلیقی میدان میں اردو اور پنجابی سرفہرست ہیں جنہوں نے ان کی پہچان اور شہرت میں اضافہ کیا ہے۔
مادری زبان سے قومی زبان تک محبت کا ایک طویل سفر ہے جو پھولوں کی سیج سے شروع ہو کر خاردار کانٹوں پر ختم ہوتا ہے۔ ادب خلوص، محبت، جذبہ، اظہار، دوستی، وقار، اور عظمت کو فروغ دیتا ہے۔ اس میں ایک چیز منفرد جو جاذبیت کی عکاس ہوتی ہے وہ دلچسپی ہے۔ اس حیرت اور کشش کا کسی بھی شعبہ پر اطلاق ہوتا ہے۔ یہ کامیابی کی ضامن اور ساتھ ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔ یقیناً فطری میلان توجہ کا مستحق ہوتا ہے جو تخلیقی، تحقیقی، اور تنقیدی میدان میں اترنے کا موقع مہیا کرتا ہے۔
جب قدرت کی طرف سے انسان پر اصناف کا دروازہ کھلتا ہے تو استعدادی قبولیت فطری تقاضوں کی بدولت پروان چڑھتی ہے جو طبیعت کا رخ اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔ اسی طرح فاضل دوست کی طبیعت اور توجہ شاعری پر مرکوز ہو گئی۔ ظاہر ہے جو صنف شروع صحت طبیعت میں جگہ بنا لے وہ اپنے اثرات و ثمرات میں پھل دار ثابت ہوتی ہے۔
جناب مقبول شہزاد صاحب شاعری سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ مقامی حلقوں سے قومی سطح تک تعلقات تو روابط کا خوب حدود اربعہ رکھتے ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے خالق ہیں۔ ان کے مجموعہ کلام اردو اور پنجابی زبان میں لکھے گئے ہیں۔ ان کی شائع شدہ کتب مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ مجھے خاموش رہنے دو 2008
2۔ آج دی شام 2018
3۔ مقدس گیت ( اردو پنجابی ) 2022
4۔ مجھے اب بولنا ہو گا 2022
ان کی شاعری پر ایم اے لیہ ڈگری کالج پنجاب یونیورسٹی میں ایک تھیسس بھی لکھا جا چکا ہے۔ انہیں کئی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ جن تنظیموں اور اداروں نے انہیں ایوارڈ دیے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ بیکن لائٹ کالج لیہ ایوارڈ، لطیف فتح پوری ایوارڈ، گورنمنٹ ڈگری کالج ایوارڈ، انٹرنیشنل رائٹرز فورم آف پاکستان ایوارڈ، آرٹ کونسل راولپنڈی ایوارڈ۔
میں جناب مقبول شہزاد صاحب کو ایک شاعر، اچھا دوست اور اچھا انسان ہوتے ہوئے دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دعا گو ہوں خدا ان کے قلم کو اسی طرح ادب کی خدمت کے لیے متحرک رکھے۔ خدائے عزوجل ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے اپنے جذبات اور نظریات سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہیں۔ یہ بات ہم سب کو یاد رکھنی چاہیے کہ فن فنکار تو مر سکتا ہے لیکن اس کا فن ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ وہ صدیوں تک لائبریریوں اور لوگوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔

