رؤف کلاسرا اور برائلر دانشور


ایک وقت تھا کہ کسی کو اپنی تحریر شائع کرانے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے، 94 ءمیں صحافت شروع کی تو لکھنے کا شوق بھی ہو، اس وقت نوائے وقت ملتان کے میگزین ایڈیٹر عارف معین بلے تھے، ان کے پاس اپنی پہلی تحریر لے کر گیا تو انہوں نے پہلی دو لائنیں پڑھنے کے بعد کاغذات سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا کہ اس کو پڑھنے کے لئے مجھے پہلے دو گولیاں ڈسپرین کا کھانا پڑیں گی، ان کا جواب سن کر بہت مایوسی ہوئی، ایک سینئر ساتھی سے ان کے رویے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تحریر چھپوانا آسان نہیں ہوتا، بلے صاحب سے رابطہ جاری رکھو اور رہنمائی لو، چھ ماہ بعد جاکر بلے صاحب نے شفقت فرمائی اور لکھنے میں رہنمائی کی اور تقریباً دس ماہ بعد پہلی تحریر نوائے وقت میں شائع ہوئی، بلے صاحب نے جو ٹپس دیں ان پر عمل کیا جس کی وجہ سے آج کچھ لکھ سکتا ہوں

ٹیکنالوجی کی ترقی سے زندگی آسان ہی نہیں، سہل بھی ہو گئی ہے، اس کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی حد سے زیادہ ہیں، ان میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ رسائی آسان ہونے کی وجہ سے جن کو کام کی الف ب کا علم نہیں وہ بھی ٹانگ اڑانے لگ گئے ہیں، یہ مثال آج کے دور میں ان لوگوں پر صادق آتی ہے، ”بندر کے ہاتھ میں ماچس“ ، موجودہ حالات میں سب سے آسان دانشور بننا ہے، جسے دیکھو وہ اٹھ کر ادیب، کالم نگار، بلاگر اور تجزیہ کار بنا پھرتا ہے حالانکہ ایسے کاموں کے لئے ماضی میں تھڑے ہوتے تھے جہاں پر گلی، محلے کے ویلے بڈھے اپنے ارد گرد عقل سے فارغ لوگوں کو بٹھا کر اپنی دانشوری جھاڑا کرتے تھے، سوشل میڈیا کی بدولت اب برائلر دانشور مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے دہائیوں کی محنت اور جدوجہد سے کوئی مقام بنایا ان کے مقابلے میں برائلر دانشوروں آ گئے ہیں جن کی چار، چھ تحریریں شائع ہوجاتی ہیں تو وہ ریٹنگ لینے کے لئے معروف لوگوں کے بارے میں اول فول لکھتے ہیں تاکہ چند مہینوں میں وہ شہرت کے اعلی مقام پر پہنچ جائیں، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا وقت ضائع کرنے کے لئے دیگر مشاغل اپنائیں

پاکستان کے دبنگ تحقیقاتی صحافی اور معروف اینکر رؤف کلاسرا نے چند روز قبل لائٹ موڈ میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی کہ ”جن لوگوں نے پڑھی لکھی عورتوں سے شادیاں کی ہیں وہ آج تندوروں پر روٹیاں لینے کے لئے قطاروں میں کھڑے ملتے ہیں اور جنہوں نے ان پڑھ خواتین سے شادیاں کیں ان کو گھر میں گرما گرم روٹیاں ملتی ہیں“ ، اس پوسٹ کے بعد برائلر دانشوروں کو موقع مل گیا اور انہوں نے اپنی نام نہاد دانشوری جھاڑنا شروع کردی جس کا سر ہے نہ پیر

میاں بیوی دنیا کا ایک ایسا رشتہ ہے کہ اگر دونوں کے دل اور خیالات مل جائیں تو دنیا تو کیا آخرت بھی جنت بن جاتی ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو سکے تو دنیا بھی جہنم اور آخرت بھی جہنم بن جاتی ہے، میاں بیوی جیسا رشتہ دنیا میں کوئی اور نہیں ہے مگر دنیا کے ہر خطے، مذہب اور ثقافت میں بیویوں کے بارے میں مزاحیہ باتیں اور لطائف مشہور ہیں جن کو صرف مزاح کے طور پر ہی لیا جاتا ہے

برائلر دانشوروں نے اپنی چھوٹی سی دانش میں رؤف کلاسرا کی پوسٹ کو اس طرح پیش کیا جیسے رؤف کلاسرا نے صحافت کے 30 سالہ جدوجہد میں جھک ہی ماری ہے، برائلر دانشور نے اس کی پوسٹ کو ان کی ذہنی پستی سے لے کر جنسی زیادتی تک سے ملا دی، تف ہو ایسی سوچ اور ایسی دانش پر ، حقیقت میں برائلر دانشور نے یہ رؤف کلاسرا کی سوچ کے بجائے اپنی سوچ کی منظر کشی کی ہے جن کے کونے کونے سے جنسی زیادتی رچی بسی ہے، رؤف کلاسرا سے تیس سال کا تعلق ہے، اس کو جتنا میں جانتا ہوں کوئی نہیں جان سکتا، جن جاہلوں کو اس کی پوسٹ اس کی ذہنی پستی لگی ہے، ان کے لئے یہی کہاوت کہی جا سکتی ہے، ”بندر کیا جانے ادرک کا سواد“

رؤف کلاسرا انتہائی حساس اور رحم دل انسان ہے، دوستوں، رشتہ داروں، اہل دیہہ تو بہت دور کی بات ہے، کوئی عام آدمی جسے وہ جانتا نہ ہو وہ اس کی آواز بن جاتا ہے، اللہ تعالی نے اسے بے پناہ عزت اور شہرت دی مگراس میں کوئی اکڑ نہیں آئی، آج سے بیس سال قبل حج کرنے گیا، واپسی پر مبارکباد دینے کے لئے گیا تو اس نے کہا یار اللہ سے صرف ایک ہی دعا کی ہے کہ یا اللہ غرور اور تکبر سے محفوظ رکھنا، رحم دل اتنا ہے کہ ہر ماہ اپنے گاؤں کے بچوں کو مفت تعلیم کے لئے لاکھوں روپے دیتا ہے، دعوے سے کہتا ہوں کہ برائلر دانشور اتنا سال میں کماتا نہیں ہو گا جتنی وہ ایک ماہ میں خیرات کر دیتا ہے، ان میں بیواؤں اور یتیموں کے وظائف بھی شامل ہیں

بیویوں کے شان میں بہت سے معروف شعراء میں اپنے اشعار میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے، کسی عالم نے کیا خوب فقرہ کہا تھا کہ عورتیں اگر بولنے پر آ جائیں تو وہ نبیوں کی بھی نہیں سنتیں، حضرت نوح علیہ سلام کی بیوی کی مثال سامنے ہے۔ بیویوں کے بارے میں مزاح یا طنز کو بطور مزاح ہی لیا جاتا ہے، اس میں عورت کی تضحیک مقصد نہیں ہوتا، یورپ جس کو انسانی اقدار کے حوالے سے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، وہاں بھی بیویوں کے حوالے سے بہت سے لطائف مشہور ہیں

بات اپنے اپنے ظرف کی ہوتی ہے کہ کسی کی بات کو آپ کا ذہین کس طرح لیتا ہے، چھوٹے لوگ بڑے لوگوں پر تنقید کر کے اہمیت لینا چاہتے ہیں، اور اس حد تک گر جاتے ہیں کہ علماء تک کو نہیں بخشتے، ان کے اس طرح کا رویے سے ان کی تربیت کا پتہ چلتا ہے، برائلر دانشوروں کی بات مان لی جائے تو پھر اردو ادب کے نامور شعراء کے خواتین کے بارے میں ان کے اشعار کو کیا رنگ دیں گے، کیا ان کے اشعار بھی جنسی زیادتی سے جوڑا جائے گا، نامور شعراء کے چند اشعار قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کر رہا ہوں

اکبر دبے نہیں کسی سلطان کی فوج سے
لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے
اکبر الہ آبادی

تعلق عاشق و معشوق کا تو لطف رکھتا تھا
مزے اب وہ کہاں باقی رہے بیوی میاں ہو کر
اکبر الہ آبادی

ہے کامیابی مرداں میں ہاتھ عورت کا
مگر تو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر
عزیز فیصل

بیگم بھی ہیں کھڑی ہوئی میدان حشر میں
مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
ہاشم عظیم آبادی

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی
پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا
زہرا نگاہ

ہمارے ملتان کے دوست، نامور مزاحیہ شاعر اور کالم نگار خالد مسعود نے ایک فنکشن میں بہت خوبصورت بات کہی تھی کہ ”چول دکھایا جاسکتا ہے، سمجھایا نہیں جاسکتا“ ۔

Facebook Comments HS

One thought on “رؤف کلاسرا اور برائلر دانشور

  • 01/10/2022 at 11:36 شام
    Permalink

    chvl wali baat ata qasmi sb ne karachi ek taqreeb me ek urdu bolney waaley k is swaal k jwaab me kahi thi k……..sir ye lfz chvl ka matlb kia hota he

Comments are closed.