عقل کی حاکمیت
عام بول چل اور تحریر میں دانائی، خرد، شعور، دانش، فہیم و فراست، قرینہ، سوچ و سمجھ، علم، فکر، سائنس، حکمت، فلسفہ، ذہانت، منطق، ادراک، دوراندیشی جیسے الفاظ عقل یا ہم معنی کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ تمام اپنی ترکیب و تشریح میں ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ ان کے حاصل مجموعہ کو البتہ عقل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یونانی فلسفیوں نے عقل کو انسان دوستی اور محبت جیسے لطیف جذبات سے مشروط کیا۔ جبکہ ہمارے ہاں استاد چانکیہ کو تلیہ، وارث شاہ، علامہ اقبال جیسے مفکرین نے عقل کو چالاکی، مکاری اور عیاری سے تشبیہ کیا۔
عقل انسان کے فکری ارتقاء کا نتیجہ ہے یا انسانوں پر عقل کسی اور دنیا کی طرف سے توارد ہوئی اس طرح کے سوالات بھی دنیا میں گردش پذیر رہتے ہیں۔
ترقی پسندی کے ادنی طالب علم کے طور پر ہم عقل کی یونانی روایت کو ہی بہتر سمجھتے ہیں اور یونانی فلسفے کے ارتقاء کو ہی عقل کا ارتقاء تصور کرتے ہیں۔ تحریری شکل میں فلسفہ کی ابتداء تقریباً 6 سو سال قبل مسیح میں یونان سے ہوئی۔ یونانی فلسفے کے اس 500 سالہ دور میں تقریباً 60 جید فلاسفہ کی تعلیمات اور زندگیوں کے احوال ملتے ہیں۔ آج کی دنیا میں جو بھی علوم و فنون پڑھائے یا سکھائے جا رہے ہیں کی بنیادیں اسی دور میں رکھی گئیں اور ان کی پرکھ کے معیارات کو بھی مقرر کیا گیا۔
بعض مشاہیر موجودہ سائنس کو یونان فلسفہ کا فٹ نوٹ یا حاشیہ گردانتے ہیں۔ ذاتی طور پر راقم یونانی فلاسفہ سے جو سیکھ پایا اس میں کہ فلسفی کوئی امیر لوگ نہیں تھے اور سادہ زندگی گزارتے۔ دولت و اقتدار کی حرص اور غیر اخلاقی معاملات سے بہت دور تھے۔ ان میں کسی کی ملازمت یا کاروبار کرنے قطعاً کوئی روایت نہیں ملتی۔ مجموعی طور البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلاسفہ آزادی فکر، عام معاشرتی زندگی میں اعتدال پسندی اور ریاستی معاملات میں ”عقل کی حکمرانی“ ٰ کے متمنی رہے۔
اہل فلسفہ کی اس لمبی لسٹ میں صرف افلاطون اور ارسطو سرکار و دربار سے منسلک نظر آتے ہیں لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے دربار کی غلامی کی ہو یا کسی دنیاوی معاملے میں اپنی فکر کبھی کوئی سمجھوتا کیا ہو۔ یونانی فلسفہ عام آدمی کو کتنا متاثر کر پایا یہ ایک اور بحث طلب موضوع ہے۔ البتہ اس وقت کی حکمران اشرافیہ ضرور سمجھ گئی کہ بادشاہت کی مضبوطی یا دوام کے لیے دربار یا مجلس چہل گانی میں صاحب عقل افراد کی موجودگی ضروری ہے۔
بادشاہ تلوار اور فوج کے زور پر فتوحات تو کرلیتے مگر عوام پر طویل حکمرانی کے لیے داؤ پیچ سیکھنے کے لیے اہم علم سے مشاورت درکار ہوتی۔ لہذا بادشاہ انہیں دربار میں باعزت مقام دیتے، ان کے علاوہ دربار میں دوچار میراثی ٹائپ کے لوگ، بھانڈ، گویے اور مصور وغیرہ بھی درباری کے طور پر تعینات کر لئے جاتے۔ ہمارے اکثر دوستوں کا خیال ہے کہ بادشاہ محض اپنی تفریح طبع کے لیے ایسا انتظام کرتے تھے مگر ایسا بالکل نہیں تھا مقصد یہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ عوام میں بادشاہ کی علم، ادب دوستی کے تاثر کو مضبوط کریں اور پرچار کریں کہ بادشاہ نہایت دانا، عادل اور نیک پرہیزگار ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دربار میں یہ ڈیوٹی بھی ہوتی کہ دربار میں بادشاہ سمیت کوئی سی بھی ہلکی بات نہ کرے بصورت دیگر جگت پانی نقد۔
اب ہم رومن فلسفے کے دور تقریباً ( 100 BC۔ 400 AD) کا عمومی جائزہ لیتے ہیں اس پانچ سو سالہ دور میں صرف علم انجینئرنگ کو فروغ حاصل ہوا اور فلسفہ کی ترکیب میں اخلاقیات کا ہر دو معنی Ethics اور Morality کا اضافہ کیا گیا۔ رومن فلاسفی اور رومن ایمپائر کا ارتقاء بھی تقریباً ساتھ ساتھ ہی ہے۔ اپنے یونانی پیش روؤں کے برعکس رومن فلسفیوں کی اکثریت دربار سے باقاعدہ منسلک رہی۔ سلطنت روم پر 101 قیصروں نے حکمرانی کی جن میں چند باقاعدہ فلسفی بھی تھے یعنی پہلے دربار سے منسلک ہوئے اور بعد ازاں موقع پا کر قیصر بھی بن بیٹھے۔
ان میں مارکوس اور ایلیس انٹونینس ( 161۔ 180 Ad) خاصا نمایاں نام ہے۔ اس دور کے فلسفیوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ بادشاہوں کو عقل پڑھانے اور قانون و آئین سازی کے ذریعے سے معاشرہ میں عقل کے چلن کو عام جا سکتا ہے۔ عیسائی مذہب کے ابھار کے ساتھ ہی قیصر روم ( 306۔ 337 Ad) کونسٹنٹائن (Constantine) نے عیسائی مذہب قبول کر لیا اور ایمپائر پر عیسائی مذہب لاگو کر دیا۔ اب فلسفیوں کے لیے مسئلہ بن گیا کہ عقل کے نفاذ یا حاکمیت کو بذریعہ بادشاہ یقینی بنایا جائے یا چرچ کے تقدس کو زینہ بنایا جائے۔
اس کے بعد فلسفیوں نے چرچ میں بھی حاضری دینی شروع کردی۔ اس قبیل کے فلسفیوں میں سینٹ آگسٹائن ( 354۔ 450 Ad) کا نام سر فہرست ہے جس نے عیسائیت کی بنیادی مبادیات کو ترتیب دیا۔ رومن فلسفیوں کی عقلی مساوات میں بادشاہ کی طاقت، عیسائیت کی اخلاقیات اور دنیاوی معاملات کے لیے یونانی فلسفہ شامل تھیں۔ یہاں ہم رومن فلسفیوں کی نیت پر شک نہیں کرتے وہ شاید صدق دل سے چاہتے ہوں کہ اس نئی مساوات سے عام لوگوں کی زندگیوں کو بدلا جاسکتا ہے۔
رومن فلسفیوں کی 500 سالہ شبانہ محنت کا نتیجہ رومن ایمپائر کی طاقت اور حجم میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اسے دیکھا دیکھی یورپ کی دیگر ریاستوں نے بھی طاقت پکڑی۔ چونکہ چرچ کے فروغ میں بھی فلسفیوں کا خاصا عمل دخل تھا۔ نتیجتاً چرچ بھی اتنا طاقت ور ہو گیا کہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ ریاست زیادہ زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہو یا چرچ۔ ریاست اور چرچ کے عروج اور ادغام کا منطقی انجام عقل و خرد کے انہدام کی صورت میں ہوا۔ اور اگلے ایک ہزار سال یعنی ( 500۔ 1500 Ad) کے دوران کوئی قابل ذکر یا قدآور فلسفی یا سائنسدان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اس عرصہ کو یورپ کی ڈارک ایج یا قرون وسطیٰ بھی کیا جاتا ہے۔
جدید فلاسفی کا دورانیہ (Ad 1500 ) سے اب تک کا مانا جاتا ہے۔ جدید فلاسفی پرایک نظر ڈالنے سے پہلے یورپ کے احیاء کی تحریک کو دیکھنا ضروری ہے۔ احیاء کی تحریک بذات خود ایک بڑی تاریخ ہے جس میں ( 1200۔ 1600 Ad) تقریباً بے شمار واقعات، بغاوتیں، تحریکیں اور تحریریں ملتی ہیں۔ ہماری نظر میں زیادہ اہمیت کے حامل واقعات میں 1215 ء میں مینگاگارٹا نامی معاہدہ کا لکھا جانا جس میں سیاسی آزادیوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی حتی ٰ کہ بادشاہ کو بھی قانون کے تابع بنانے کا تصور مضبوط ہوا۔
گو کہ چرچ معاہدہ میں فریق نہ تھا مگر شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے تصورات کے پیش نظر چرچ کے الہیاتی و ابدی اختیارات پربھی سوالات اٹھنے لگے۔ میگنا کارٹا عملی طور پر ایک ناکام معاہدہ کے طور پر جانا جاتا ہے مگراس کے بعد سے آج تک دنیا میں بننے والے آئین و قوانین کے پیش لفظ میں اس کی جھلکیاں ضرور نظر آتی ہیں۔ برطانوی بادشاہ اور چرچ کے درمیان سیاسی کشمکش کے نتیجے میں مارٹن لوتھر کی اصلاح چرچ کی تحریک ( 1517۔
1521 ) برپا ہوئی اور چرچ کو ویٹیکن شہر اٹلی تک محدود ہونا پڑا یوں یورپ میں صنعتی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ یورپ کے احیاء کے اولین واقعات میں 1683 ء میں جنگ ویانا میں شکست کے بعد سلطنت عثمانیہ کا عملی طور پر بے اثر یا مرد بیمار کی صورت اختیار کر جانا۔ 1789 ء میں انقلاب فرانس اور 1817 ء میں پیرس کمیون کے واقعات شامل ہیں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ میں جنگ ویانا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو کہ ٹیکنالوجی اور جسمانی یا تلوار کی طاقتوں کے مابین لڑی گئی۔
آسٹرین فوج نے تاریخ میں پہلی دفعہ جنگ میں رائفلوں کا استعمال کیا۔ اس طرح ہزاروں سالوں کے قائم تلوار بازی کی حاکمیت اعلیٰ کے دو رکا خاتمہ ہوا اور دنیا ٹیکنالوجی کی حاکمیت اعلیٰ کے داخل ہو گئی۔ جنگ ویانا سے جنگ عظیم دوم تک کے دورانیہ کو ٹیکنالوجی کا دور تصور کیا جاتا ہے جس کا سرخیل برطانیہ کو مانا جاتا ہے ۔ برطانیہ کی دیکھا دیکھی دنیا میں ٹیکنالوجی بنانے کی دوڑ شروع ہوئی کیونکہ ٹیکنالوجی کی حاکمیت کا تصور اس قدر غالب آ چکا تھا اور یہی خیال کیا جاتا کہ جتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی اسی قدر زیادہ حاکمیت۔ جرمن، فرانس، روس، جاپان بعد کے کھلاڑی ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے ساتھ ہی دنیا سے یہ دور بھی ختم ہوا۔ فلسفے اور سائنس کے ارتقاء کے حوالے سے یہ دور اچھا دور ثابت ہوا۔
دور جدید کے فلسفیوں نے اپنے پیش روں یعنی رومن فلسفیوں کی غلطیوں کو نہیں دہرایا۔ اس کے دور کے تقریباً تمام فلسفی چرچ اور دربار جیسے اداروں سے دور ہی رہے اور فکر کی آزادانہ روش کو اپنایا، یہاں تک کہ نطشے، پروفیسر برکلے، ہیگل جیسے آئیڈلسٹ بھی چرچ سے کوسوں دور رہے۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے یونانی اور رومن فلسفیوں کی نسبت عوام کے زیادہ حصے کو متاثر کیا۔ مارڈن فلاسفی کی اثر پذیری کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف آئیڈیلسٹ سکول کے پیروکاروں نے نازی پارٹی کی شکل میں منظم ہو کر جرمنی میں اقتدار حاصل کیا جبکہ دوسری طرف مادیت پسند سکول کے پیروکاروں نے بالشویک پارٹی کے ذریعے اس میں انقلاب برپا کر کے روس میں اقتدار حاصل کیا۔
نازی پارٹی اور بالشویک پارٹی گو کہ اپنے خیالات و طریقہ کار میں ایک دوسرے کی ضد تھے لیکن یہ بھی طے ہے کہ ان کے ذریعے عام لوگ ہی اقتدار میں آئے اور ان میں روایتی اشرافیہ کا عمل دخل نہیں ملتا۔ یونانی اور رومن فلاسفی بادشاہت، جاگیرداری، غلام داری، الہیات اور تلوار بازی کے مضبوط ترین ادوار کے پس منظر میں لکھی گئی جبکہ جدید فلاسفی کے اوقات یہ تمام ادارے ناصرف انحطاط کا شکار تھے بلکہ یورپ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کر کے انڈسٹریل انقلاب میں سے گزر رہا تھا۔
تاریخ نے پھر سے کروٹ لی۔ ٹیکنالوجی کے چیمپیئن آپس میں لڑ پڑے اور جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا سے ٹیکنالوجی کی حاکمیت اعلیٰ کا دور بھی ختم ہو گیا۔ 1949 ء بریٹن وڈ کانفرنس میں آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور ٹریڈ آرگنائزیشن کی بنیادیں رکھ کر امریکہ نے ریاستی سطح پر دوسرے ممالک کو سودی قرضوں کے اجراء کو ورلڈ آرڈر کے طور پر دنیا میں لاگو کیا۔ آج ہم سرمایہ کی حاکمیت اعلیٰ کے دور میں رہ رہے ہیں۔
اب ہم جائزہ لیتے ہیں تاریخ کے اس دور میں عقل کی کوئی گنجائش ہے یا عقل کہاں کھڑی ہے اس ضمن میں ہماری ناقص ریسرچ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ سرمایہ اپنی سرشت میں ماضی کے بادشاہوں کی طرح ہی باقاعدہ عقل دشمن ہے اور یقین رکھتا ہے کہ کائنات کی تمام عقل سمٹ کر سرمائے کی جزو بن چکی ہے اور جو بھی عقل سرمائے کے دائرہ کار یا سمجھ سے باہر ہے وہ کفر اور بغاوت ہے۔ امریکی سرمائے کے مالکان نے دانستہ یا نادانستہ طور پر دنیا بھر میں سرمائے کے جال کو اس طرح سے بچھایا کہ عقل کبھی بھی سرمائے کی حاکمیت اور سامراجیت کے آڑے نا آ سکے۔
امریکی سرمائے نے اپنی ابتداء میں دنیا کی کچھ ریاستوں کو زوجیت میں لیا ( پہلا ماسٹر پلان) پھر یکے بعد دیگرے باقی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریاست نامی ادارہ چونکہ اپنے روزے اول سے کنفرم عقل دشمن تھا اور سرمایہ بھی آج تک اپنے وجود کا کوئی اخلاقی اور عقلی جواز فراہم نہیں کر سکا لہذا ان دونوں کے ملاپ سے دنیا میں جو کچھ پیدا ہوا اسے تفصیل سے رقم کرنے کے لیے مشتاق احمد یوسفی مرحوم کا قلم چاہیے۔
گزشتہ 70 سالوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ چمچے کڑچھے تو دور کی بات سرمائے کا سرخیل امریکہ بذات خود تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کر سکا اور دنیا بھر میں کوئی قدآور سیاسی لیڈر، مفکر، ادیب بھی سامنے نہیں آ سکا۔
ہمارے اکثر دوست موجودہ سرمایہ داری کے ڈانڈے ایڈم سمتھ اور لارڈکینز کے ساتھ جوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ او ر اسی پس منظر میں اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمارے خیال میں یہ دونوں حضرات مفت میں ہی بدنام ہیں اور ان کا موجودہ سرمایہ داری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ موجودہ ”سرمایہ دارانہ سسٹم“ راک فیلر جیسے خصیص سرمایہ داروں کے فرمودات اور ملفوظات پر کھڑا ہے جن میں عقل اور اخلاقیات کی کوئی گنجائش نہیں۔ راک فیلر کے مطابق ”سرمایہ خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے اور الہیاتی طاقتیں رکھتا ہے“ ۔ سرمائے کو صرف جوش و خروش والے ملازم ہی درکار ہوتے ہیں، خرید کا بہترین وقت وہ ہے جب گلیاں اور بازار انسانی خون سے تر ہوں وغیرہ۔
عقل یونان میں پیدا ہوئی، روم میں گھٹنے گھٹنے چل کر پھر گر پڑی، احیا کے دور میں پھر سے پاؤں پر کھڑی ہوئی۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو آج کی دنیا میں حقیقی عالمی جنگ سرمائے اور عقل کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔


