عید میلاد النبی: کیا آپ کو مبارکباد دے سکتا ہوں؟


میرا بچپن جنوبی پنجاب کے شہر جتوئی میں گزرا ہے جہاں میں رہتا تھا وہ محرم الحرام کے جلوس کی گزرگاہ تھا اور ہمارے اطراف کے گھروں میں اہل تشیع مکتبہ فکر کے افراد رہتے تھے تو ان کے بچوں کے ساتھ مل کر ہم نے نہ صرف جلوس کے سبیلوں کا اہتمام کرنا ہوتا تھا بلکہ اپنے گھر سے بھی شربت بنا کر لے جاتے تھے اور جلوس کے گزرنے پر زیادہ سے زیادہ عزا داران کو پانی پلانے کا مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ جتوئی سے جام پور منتقل ہوئے مگر والد محترم کی ہدایات پر ایک اصول جو گھر میں سختی سے لاگو تھا وہ یہ کہ یکم محرم الحرام سے لے کر محرم کے اختتام تک گھر میں موجود ٹیلی ویژن اور ریڈیو پیٹی میں رکھ دیے جاتے تھے۔

اگر ان دنوں کے دوران کوئی گنگناتا ہوا یا گانا گاتا ہوا نظر آ جاتا تو والد محترم کی مار اس پر واجب ہوجاتی تھی۔ ان دنوں کے دوران ہر شب سونے سے پہلے والد محترم کی جانب سے یکم سے دس محرم الحرام کے دوران اہل بیت پر ٹوٹنے والے مصائب کے واقعات سنائے جاتے تھے۔ ایسا نہیں کہ یہ اہتمام صرف اور صرف محرم الحرام کے موقع پر تھا بلکہ بارہ ربیع الاول کے موقع پر والد محترم ہمیں ساتھ لے جاتے تھے اور ہم جاکر شہر کی گلیوں میں چراغاں دیکھنے جاتے تھے۔ اسی طرح سے شب برات کے موقع پر والد محترم پھلجھڑیاں لے کر آتے تھے اور ہم تمام گھر والوں کے ساتھ لائٹیں بند کر کے پھلجھڑیوں کے پھوٹنے کا نظارہ کیا کرتے تھے۔

قصہ مختصر کہ مجھے آج تک یہ علم نہیں کہ میرے والد محترم کس مکتبہ فکر یا کس مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ محبت، رواداری، اخوت اور بھائی چارے کا ہی درس دیا۔ اور یقین مانیں میٹرک تک مجھے بس اتنا علم تھا کہ ہم مسلمانوں میں سے سید یا اہل تشیع افراد بھی ہوتے ہیں جو کہ محرم الحرام کے دوران سیاہ لباس زیب تن کرتے ہیں اور مجالس کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے مسلک یا مکتبہ فکر کے بارے میں علم نہیں تھا۔ مجھے چند سید حضرات کے علاوہ آج تک بھی اپنے کلاس فیلو حضرات کا پتہ نہیں چل سکا کہ وہ اول الذکر کن مسالک سے تعلق رکھتے ہیں کالج سے یونیورسٹی تک پہنچے تو پتہ چلا کہ اہل حدیث، دیوبندی، اہلسنت مکتبہ فکر بھی ہیں۔

اب یہ شاید ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی کا زمانہ تھا یا پھر رواداری اور اخوت کا عالم تھا کہ شب بارات سے لے کر بارہ ربیع الاول کے مبارکباد اور محرم الحرام میں اہل بیت اور آل اہل بیت سے یکجہتی کے پیغامات دوستوں کی طرف سے موصول ہوا کرتے تھے۔ مگر 2018 کے بعد سے پتہ نہیں جدت زیادہ آ گئی ہے یا پھر کیبل، ٹی وی اور ذرائع ابلاغ تک رسائی آسان ہو گئی ہے کہ اب وہ والا بھائی چارہ محبت اور اخوت خال خال ہی نظر آتی ہے۔ یہاں پر میں بچپن کی ہی ایک یاد آپ لوگوں کے گوش گزار کیے دیتا ہوں کہ ہمارے شہر کے بیچ میں ایک چھوٹی سے مسجد تھی، جس کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک دوست نے بولا کہ یہاں نماز پڑھنے نا جانا کیوں کہ یہاں سے ایک بندا نماز پڑھنے گیا تو ناف کے پاس ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے پر مسجد سے باہر نکال دیا۔

اب چونکہ یہ سنی سنائی بات تھی تو میں نے چند سال پہلے وہاں سے گزرتے ہوئے پوچھ لیا کہ کیا اس مسجد میں مخصوص مسلک کے نمازیوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے تو پتہ چلا کہ بچپن میں مشہور کی گئی وہ بات دروغ گوئی سے بڑھ کر کچھ بھی نہ تھی۔ 4 سال پہلے لاہور میں اسی مسلک کے روم میٹ ہمیں افطار کے لئے مسجد میں لے گئے تو وہاں کیا دیکھا کہ افطاری کے کھانے سے لے کر مسجد کی پہلی صف تک میں سینے پر ہاتھ باندھے، ناف پر ہاتھ رکھے اور ہاتھ چھوڑ کر پڑھنے والے افراد موجود تھے مگر نہ تو امام مسجد کے ماتھے پر کوئی شکن دیکھی نہ ہی سلوک میں کوئی فرق آیا۔

مگر اب یہ عالم آ گیا ہے کہ نہ کسی دوست سے کسی تہوار پر کوئی پیغام موصول ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی ایک خاص قسم کی تفریق دیکھنے کو ملتی ہے۔ یقین مانیں بے یقینی یا ڈر کا یہ عالم ہے کہ آج میں ایک دوست کو بالمشافہ مبارکباد دینے ہی والا تھا کہ اس نے آگے سے بات چھیڑ دی کہ دیکھو یار کیا بدعت پھیلائی ہوئی ہے، راستے ہی روک رکھے ہیں یہ کون سی محبت کا اظہار ہو رہا ہے؟ اس واقعے کے بعد ایسا سہما کہ اب میں نے بدعت جسے الفاظ سے بچنے کے لئے سب دوستوں کو یہ سوال بھیجا کہ کیا میں آپ کو مبارکباد دے سکتا ہوں؟

Facebook Comments HS