”نکمے کھلاڑی“ کی بپتا

پوت کے پاؤں پالنے میں پہچاننے کی مصداق ہمارے نطفائی ”ابو“ شاید پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اب پوت کو دودھ میں نہ نہلاؤں تو بھلا ہے، ابو نے لاکھ چاہا کہ ان کے توسط سے پلائے گئے دودھ کی اصلیت پر کوئی داغ نہ آئے، سو انہوں نے بھی اکلوتے ہونے کے تمام ناز و نعم پی ڈبلیو ڈی محکمے کی فراوانی سے کمائی گئی ”آمدنی“ سے پورے کیے البتہ محکمے کی تنخواہ نہایت ایمانداری سے بینک میں باقی ماندہ عمر کے لئے جمع کرواتے رہے کہ انہیں ہم سے کسی کار خیر کی امید ہرگز نہ تھی، اس سب کے باوجود ہماری کوئی ایسی فرمائش خالی نہیں گئی جو وقت سے پہلے پوری نہ ہو جاوے، اسی وجہ سے نہ کبھی کپڑوں کی پرواہ رہی اور نہ کبھی جوتے خریدنے کی نوبت آئی بلکہ آمدنی کے ذرائع کی فراوانی اور مہربانیوں سے ان ہی کے لائے گئے کپڑے اور جوتے پہننے کی ایسی لت پڑی کہ ستر سال بعد بھی کمبخت کپڑے لینے یا خرید کر پہننے کی عادت نہ پڑی سو آج بھی الحمدللہ ”ابو“ کی آمدنی نما کمائی کے کرم فرما کسی نہ کسی طور ہماری خانگی ضروریات پوری کر ہی دیتے ہیں اور ہمارا گزارا اب تک مانگے تانگے پر بہت خوش اسلوبی سے پورا ہو رہا ہے۔
گو ملک کے حکمران ”بھٹو“ کو ہمارے ”ابو“ کی آمدنی کی فراوانی ایک آنکھ نہ بھائی اور اس ناہنجار نے ہمارے ”ابو“ کی فراوانی سے آتی ہوئی آمدنی پر پہرے بٹھا دیے اور پھر آخرکار انہیں کلی طور سے ”ادارہ برد“ کر کے ہی چھوڑا، اس دم ہمارے ”ابو حواس باختہ سے ہو گئے، مگر ہمت نہ ہاری کیونکہ اس وقت تک وہ “آمدنی” کی فراوانی سے زمان ٹاؤن میں کوٹھی کے مالک بن چکے تھے جبکہ دوسری جانب آمدنی کی فراوانی کے بل بوتے پر نیازیوں کا “ خاندانی نگینہ ”ہو چکے تھے، بس پھر کیا تھا، ہمارے وارے نیارے ہی رہے اور ہمیں کسی بھی سیڑھی کو عبور کرنے میں کوئی دقت نہ ہوئی، البتہ“ ابو حضور ”نے ایک کام یہ ضرور کیا کہ ہماری آوارہ مزاجی کو بھانپتے ہوئی“ آمدنی ”کی رقم سے ہمیں ملک سے نکالنے میں ہی اپنی اور خاندان کی عزت جانی، اور یوں ہم تھرڈ کلاس پاس ہونے والے نکمے اور بے کار کو آکسفورڈ میں کسی نہ کسی طرح داخلہ دلوا ہی دیا، گو ہم نے پڑھ کے پھر بھی نہ دیا مگر “ ابو ”کو یہ موقع ضرور فراہم کر دیا کہ وہ طمطراق سے“ خاندان نیازی ”میں یہ کہنے کے لائق ہو گئے کہ ان کا بیٹا اعلی تعلیم کے لئے ولایت گیا ہے، اگرچہ جائیکہ ہم آکسفورڈ میں بھی پیٹ بھر کر نالائق ہی رہے مگر اس وقت تک ہم“ جوا خانے ”کے تمام تگڑم سے واقف ہو چکے تھے، سو ہم نے برطانوی سماج میں گھس بیٹھیے بننے کا طے کر لیا اور اپنی عیاری سے برطانوی لارڈز تک پہنچنے کا آسان ذریعہ“ کرکٹ ”کھیلنے کو ہی جانا، اس مقصد کے لئے انگلینڈ کی کاؤنٹی میں کسی نہ کسی طرح گھس گئے اور اپنے قد کاٹھ اور نیازی پن کو استعمال کرتے ہوئے ایک اچھے بالر بننے کی تمام تر کوششیں شروع کر دیں کہ ہمارا مقصد و منزل دراصل برطانوی لارڈز تک پہنچنا تھا۔
برطانوی کرکٹ میں بحیثیت بالر اپنی جگہ بنانے کے بعد مجھ ایسے نکمے کو خیال آیا کہ کیوں نہ ننھیال کے پاکستانی کرکٹ میں اعلی مقام رکھنے والے کزنز کی سیڑھی کو استعمال کر کے پاکستان کی کرکٹ میں جگہ بنائی جائے، اس کام کے لیے مجھے اپنے کرکٹر کزن جاوید برکی اور ماجد خان کو سیڑھی بنانا پڑا اور یوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ذریعے فوجی آمر جنرل ضیا تک رسائی پاکر کرکٹ ٹیم کا حصہ بن گیا، ادھر ”ابو“ اکرام صاحب میری اس اچھل کود اور چالاکیوں سے قطعی مطمئن نہ تھے سو انہوں نے میری عدم موجودگی میں لاہور کے اسپورٹس رپورٹر کو یہ تک کہہ دیا کہ ”میاں میرے بیٹے عمران سے آپ جتنا دور رہیں گے اتنا ہی بہتر انداز سے اپنی صحافت کر پاؤ گے وگرنہ یہ عمران بلا کا جھوٹا اور سفاک ہے اور تم رہی سہی صحافت سے بھی جاؤ گے“ ۔
میرے حقیقی ”ابو“ کے صحافی سے اس انکشاف کی خبر جب مجھ تک بالر عبدالقادر کے ذریعے پہنچی تو میں نے فوری طور سے یہ خبر منظر عام پر آنے سے رکوا دی کیونکہ اس وقت تک میں ایک معروف کرکٹر بن چکا تھا، جس کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھانا تھا، کیونکہ میری منزل کرکٹ کے ذریعے انگلینڈ کے لارڈز تک پہنچنا اور ان کے ذریعے آگے کی منصوبہ سازی تھا، اسی دوران 92 کا کرکٹ ورلڈ کپ آ گیا اور میری صلاحیتوں اور اثر و رسوخ کی بنا پر مجھے کرکٹ کا کپتان بنا کر ٹیم کی قیادت کے لئے بھیجا گیا، جس میں جنرل حمید گل نے کلیدی کردار ادا کیا کیونکہ حمید گل صاحب گاہے گاہے مجھے ایوان کی راہداریوں سے واقف بھی کرواتے رہتے تھے اور مجھے سیاست کے داؤ پیچ سکھانے میں بھی یکتا تھے۔
جب کرکٹ کے ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم مسلسل ناکامی کے بعد سیمی فائنل تک بھی رسائی نہ حاصل کر سکی تو مجھے میرے برطانوی لارڈز تک پہنچنے کے راستے معدوم دکھائی دیے کہ اچانک ٹیم کی شکست سے مایوس کپتان کو برطانیہ کے ایک لارڈ گولڈ اسمتھ کا دست شفقت ملا اور یوں میری کپتانی میں ورلڈ کپ سے نکلنے والی ٹیم کو انتظار کا کہا گیا، اور اچانک ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ہمارے گروپ کی سیمی فائنل ٹیم نیوزی لینڈ کی شکست ہوئی اور رن ریٹ کی بنیاد پر ہماری ٹیم ٹاپ اسکورر قرار پائی، یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ ہماری خوشی کی انتہا عروج پر تھی، مگر گولڈ اسمتھ کے دل میں اس وقت تک میں اپنی تگڑم بازیوں سے داخل ہو چکا تھا اور اخر کار نہ صرف کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا بلکہ عالمی شہرت بھی ملی اور یوں بھگوان مجھ پر مہربان ہوا اور میں لارڈ گولڈ اسمتھ کا داماد بن گیا، مگر ابھی میرا سفر تھما نہ تھا کیونکہ میرے سیاسی استاد جنرل حمید گل نے کسی خاص مقصد کے لئے مجھے چنا تھا اور میری تربیت میں طالبان فکر شامل کرنے کی کوشش میں جتے رہے۔
اس مرحلے پر مجھے اقتدار کی راہداریوں تک پہنچنا تھا، سو مجھ ایسے اوباش اور جواری کو ایک نیکو کار مذہبی کا روپ دھارنا پڑا جبکہ گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمائمہ کے لئے روشن خیال ہونا بھی ضروری تھا، سو مجھے یہ دہرا پن وقتی طور سے اپنانا پڑا، اسی دوران میں نے پنجاب کے اقتدار اعلی کے منصب پر فائز نواز شریف سے نہ صرف اپنا اسپتال قائم کرنے کے لئے زمین لی بلکہ لاکھوں روپے بھی سرکاری خزانے سے اینٹھے اور میں انسانیت کی خدمت کا ان داتا بھی بن گیا، اس سارے عمل میں مجھے بے نظیر بھٹو سے لے کر تمام انتہا پسند مذہبی جماعتوں سے نہ چاہتے ہوئے سمجھوتے کرنے پڑے بلکہ میں نے اقتدار تک پہنچنے کے لئے جنرل مشرف کے غیر آئینی قبضے کو بھی درست قرار دے کر جنرل مشرف کے دل میں جگہ بنالی۔
وہ تو اگر پنجاب کے گجراتی ڈاکو چوہدری شجاعت اور پرویز الہی میری رکاوٹ بن گئے وگرنہ میں ہی جنرل مشرف کا وزیراعظم ہوتا، مگر مشرف نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا تو میں نے پھر پینترا بدلا اور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے گروہ کا حصہ بن گیا تاکہ جنرل مشرف کا اقتدار ختم کیا جا سکے، مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد بھی مجھے گھاس نہ ڈالی جائے گی اور اقتدار بھٹو اور نواز خاندان میں رہے گا، اس کا توڑ خفیہ طریقے سے گولڈ اسمتھ کی مدد سے پورا ہوا اور یوں میں ملک کے سب سے بڑے منصب یعنی وزیراعظم پر فوجی اشرافیہ کی مدد و حمایت اور گولڈ اسمتھ کی اشیرباد سے فائز ہو گیا، بس ستیاناس جائے گولڈ اسمتھ کا کہ اس نے اپنی مدد کی قیمت مجھ سے دوران وزیراعظم ہی طلب کر لی اور مجھے ایک ہرکارے کے طور پر ایک مسلم میئر کے مقابل جمائمہ کے بھائی کی انتخابی مہم چلانا پڑی، بس وہی وہ گھڑی تھی کہ میرے عالمی منصوبوں کی قلعی کھلتی گئی اور مجھے لانے والی اعلی فوجی اشرافیہ ہی نے مجھے آئین کا سہارا لے کر اقتدار سے نکال باہر کیا۔
وہ تو بھلا ہو میری عیاری اور چالاکی کا کہ میں نے اقتدار میں رہ جھوٹ کو ”یو ٹرن“ کا نام دے کر اسے حکمت عملی سے جوڑ دیا تھا وگرنہ اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد میرے جھوٹ اور عیاری کو کوئی نہیں مانتا، مجھے پتہ ہے کہ سادہ لوح عوام ”مذہبی ٹچ“ پسند کرتے ہیں، سو بس اسی واسطے مجبور ہو کر تسبیح کا سہارا لیا اور خوب بھرپور طریقے سے میر جعفر، میر صادق اور امریکی سازش کا منجن بیچا، مگر ستیاناس جائے ان آڈیو لیکس کا جنہوں نے میرے چور چور کہنے کے بیانیے کو نہ صرف دھچکا پہنچایا بلکہ میرے سازشی بیانیے کا ڈبہ بھی گول کر دیا، اور سب سے الگ دشمنی مول لے لی، مگر میرا گولڈ اسمتھ سے وعدہ ہے کہ ان کے مقاصد کو پانے کے لئے میں نے عوام میں اتنا زہر ضرور اپنے ملکی اداروں کے بارے میں بھر دیا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے کم از کم میرے یوتھیے مجھ پر ایمان لے آتے ہیں، بس ذرا مشکل یہ ہے کہ عوام میں میرے جھوٹے ہونے کو پذیرائی مل گئی ہے، سو اس کے لئے بھی کوئی نئی چال گھڑ لوں گا، بس مائی لارڈ گولڈ اسمتھ صاحب اپ مجھ سے مایوس نہ ہو جانا پلیز۔

