ملالہ: ایک متنازع کردار


سوات کی بیٹی ملالہ یوسفزئی جو گل مکئی کے قلمی نام سے بھی پہچانی گئی آج مہذب دنیا میں علم کی سفیر اور جہالت اور تاریکی کے خلاف ہونے والی کوششوں کی علمبردار بن چکی ہے۔ دنیا نے اس کم سن لیکن باہمت بچی کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اسے اعلی ترین عالمی ایوارڈ نوبل اور دیگر بہت سے اعزازات سے نوازا۔ امریکہ اور یورپ کے وہ رہنما اور شخصیات جو ہمارے سیاسی رہنماؤں اور حکومتی اداروں کے افراد کو دو منٹ کا وقت بھی نہیں دیتے وہ ملالہ سے ملنا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔

سوات کے ایک چھوٹے سے گاؤں شانگلہ کی ملالہ آج ایک قدر آور شخصیت ہے جو علم کے فروغ اور جہالت کے خلاف جہاد کی سرخیل ہے۔

لیکن ہماری ”قوم“ کے رویے اس مسئلہ پر بھی ہمیشہ کی طرح سب سے الگ اور سب سے جدا ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ اس اعزاز کو اپناتے اور قوم کی اس بیٹی کو سراہتے ہم نے اسے بھی متنازعہ بنا دیا اور قوم مختلف بیانیوں میں الجھ کر رہ گئی۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا سب کے سب مکمل کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔ من گھڑت خبروں، فوٹو شاپ اور سینہ گزٹ کا ایک بازار گرم ہے ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق ان بے بنیاد اور بلا تحقیق ”مستند خبروں“ کو آگے بڑھا دیتا ہے۔

شاید ہم شدید ترین Insecurity کا شکار قوم ہیں جو ہر وقت اور ہر ایشو پر کسی نادیدہ ”سازش تھیوری“ کی بو سونگھتی نظر آتی لہذا ایک بار پھر ایسی ہی افواہیں زبان زد عام ہیں اور ملالہ کے حالیہ دورے کو ایم نئی سازش کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک بار پھر وہی یہود و نصارا کی ریشہ دوانیوں کی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں جن سے ملکی سالمیت اور ان کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ہم عجیب لوگ ہیں جن جنگجوؤں اور سفاک قاتلوں نے ہمارے لاکھوں لوگ مار دیے اور ملک کو جہنم بنا دیا ان کو تو سہولتیں اور آسانیاں دینے اور ان کے ملک میں دفاتر کھولنے پر بخوشی تیار ہیں۔ کبھی ہم اچھے ط البان اور برے ط البان کا نظریہ پیش کرتے ہیں اور ان میں فرق بتا کر انہیں معصوم ثابت کر کے ان درندوں کو کسی طور سہولت دینا چاہتے ہیں اور ہمارا ایک با اثر طبقہ ط البان کے ترجمان اور ہزاروں قتل اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث گروہ کے ترجمان احسان اللہ احسان کے لیے بھی ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں جن کی وارداتوں کی وجہ سے ملک۔

اور اس کے باسیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں اور پھر احسان اللہ پراسرار طریقے سے خفیہ اداروں کی حراست سے ”فرار“ بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن بوجوہ ہم ان کو تو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور انہیں ”معصوم اور بھٹکے ہوئے“ قرار دے کر معاشرے کے لیے قابل قبول بنانے اور ان کے کریہہ جرائم تک کو معاف کردینے کے حق میں ہیں۔ ان ہی ظالمان کے ہلاک شدگان کو ایک مذہبی سیاسی جماعت اسلامی کے سابقہ امیر شہادت کے اعلی درجات پر فائز کرتے ہیں جبکہ پاک فوج کے جوانوں کو شہادت کے رتبے کے قابل نہیں سمجھتے۔ اور بقول انہی کے افغانستان میں طالبان کے ”بابرکت دور“ کو بھی وہ سراہتے ہیں۔

مقام افسوس ہے کہ ایک بچی پر کیسے کیسے الزامات لگائے جا رہے ہیں اس پر کیسی کیسی تہمتیں اور کس بری طرح اس کی شخصیت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ ملالہ کی علم کے لیے کی گئی کوششوں کو دشمن کی ”سازش“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس معصوم کو جو آج بھی پاکستان کے لیے رو رہی ہے جس کے سر سے دوپٹہ کبھی نہیں ڈھلکا اس کی باتوں میں معصومیت اور پاکستانیت ہے وہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں علم کی شمع روشن کرنا چاہتی ہے لیکن ہم اسے دشمن ایجنٹ ثابت کرنے پر اپنی ساری توانائیاں صرف کرنے میں لگے ہیں۔

میں پوچھتا ہوں جس قوم کی آدھی سے زیادہ اسمبلی ممبران اور بیوروکریٹس کی ایک بڑی تعداد دوہری شہریت رکھتی ہو اسے کسی ایجنٹ کی کیا ضرورت۔ اور وہ بھی ایک کم عمر کی کمزور بچی جس نے اس دور میں جب ہمیں دنیا دہشت گرد اور Rogue state کے طور پر جانتی ہو۔ ملالہ نے پاکستان کو ایک روشن چہرہ دیا۔ لیکن ہم ایک احسان فراموش اور متعصب گروہ ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ہولوکاسٹ اور نازی بربریت پر ایک تیرہ سالہ لڑکی اینا فرینک کی ڈائری Diary of Anna Frank منظر عام پر آئی جو اس نے ایک تہ خانے میں لکھی جہاں وہ اور اس کے اہل خانہ جرمن نازیوں کے خوف سے چھپے ہوئے تھے۔ اس کتاب پر اسے نوبل پرائز سے نوازا گیا اور دنیا نے اس کی پذیرائی کی۔

ملک عزیز میں ایک نو عمر بچی ارفع کریم نی مائکروسافٹ کا اعلی ترین ایوارڈ دیا گیا اور دنیا نے اسے سراہا۔ آج ہم دیکھتے ہیں نوعمر بچے اور بچیاں کمپیوٹر اور دوسری ٹکنالوجی میں کس طرح اعلی مقام حاصل کر رہے ہیں۔ کیا ہم محمد بن قاسم کو بھول گئے جنہوں نے صرف سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کیا۔ لیکن ہمارے جغادری مان کر نہیں دیتے کہ ایک کم عمر کی بچی کیسے ایک کتاب لکھ سکتی ہے اور اس کتاب کو مصنف کرسٹینا لیمب کی تخلیق کہتے ہیں۔

بات صرف ٹائمنگ کی ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ہر میچ میں روزانہ درجنوں چھکے لگتے ہیں لیکن جاوید میانداد کا شارجہ کا چھکا یادگار ہو گیا کیونکہ بات ٹائمنگ کی تھی۔ اسی طرح ملالہ کی ڈائری اس بہیمانہ دور کی داستان ہے جب ط البان اور فضل الرحمان کے خوف سے سوات میں کوئی لب کشائی نہیں کر سکتا تھا ایسے میں ملالہ کی ڈائری ایک آواز بن گئی جہالت اور تاریکی کے خلاف اور دنیا نے پاکستان سے ایک زندہ پکار سنی اور اسے دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کیا لیکن ہمارے اپنے لوگوں نے اسے سازش قرار دیا۔

آج اس ٹیکنالوجی کے دور میں کچھ چھپایا نہیں جاسکتا کیا دنیا پاگل ہو گئی ہے جو اس کی اتنی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ کیوں نہیں یہ اعزاز عمران، زرداری یا نواز شریف صاحب یا کسی اور کو نہیں دیا گیا۔ شاید ہم ناشکرے اور نا قدرے لوگ ہیں جس کی سزا ہمیں مل رہی ہے۔

صاحبو ہم تقلید اور توصیف کرتے ہیں خادم رضوی کی اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی یا عافیہ صدیقی ملا طارق جمیل، حافظ سعید اور ممتاز قادری ہمارے ہیروز ہیں غزنوی، ابدالی، غوری اور وہ تمام بیرونی حملہ آور جنگجو جن کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے تھے۔ ہمارے ہیرو ہیں ہم بھلا کیوں ملالہ، ڈاکٹر عبدالسلام، ایدھی، فیض، منٹو، جالب، حسن ناصر، عاصمہ جیلانی اور ایسے دوسرے روشن خیال افراد کی توصیف کریں جو علم و آگہی کی بات کرتے ہیں جو معاشرتی انصاف اور جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہوں بلکہ یہ لوگ تو ہمارے نزدیک دشمن کے ایجنٹ، مذہب بیزار اور قابل گردن زنی ٹھہرے۔

جیسا کہ اکثر اہل وطن کا خیال ہے کہ ملالہ ملک کے خلاف ہونے والی کسی گہری سازش کا حصہ ہے اور وہ کسی خفیہ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور اس کا یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

میرا سوال ان حضرات سے یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو ہماری مایہ ناز خفیہ ایجنسیاں اور ادارے اس پر کیوں لب کشائی نہیں کرتیں اور قوم کو حقیقت حال سے آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا۔ کیوں حکومت نے ملالہ کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا ہوا ہے اور کیوں اسے گرفتار کر کے کیفر کردار تک نہیں پہنچاتیں کیا وہ بھی اس ”سازش“ کا حصہ تو نہیں؟

کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ ملالہ کو ابتدائی طبی امداد اور سرجری فوج ہی کے ڈاکٹرز نے کی تھی اور اس کو فوجی ہیلی کاپٹر میں ہسپتال لایا گیا اور فوج کے ہی ڈاکٹرز کی سفارش پر ملالہ کو ملک سے باہر علاج کے لیے بھیجا گیا تھا۔

کیا ملالہ کی ”سرگرمیاں اور ملاقاتیں“ ان حساس اداروں کی نظروں میں نہیں ہوں گی۔

آج کے دور میں فوٹو شاب اور مختلف طریقوں سے کہانی کچھ کی کچھ بنائی جا سکتی ہے اور یہی کچھ اس معصوم بچی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہر شخص اپنی اپنی منطق بگھار رہا ہے اور Speculations کو بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے آگے بڑھا دیتا ہے۔ کوئی ”محب وطن“ کیوں نہیں ملالہ کے خلاف عدالت میں جاتا کیوں چیف صاحب سو موٹو ایکشن نہیں لیتے۔ کیوں آرمی چیف حقیقت حال سے قوم کو آگاہ نہیں کرتے تاکہ یہ کنفیوژن ختم ہو۔

اب تو سعودیوں کا کردار اور نام نہاد اسلامی تشخص بھی کھل کر سامنے آ گیا کہ انہوں نے کس کے کہنے پر مسجدیں اور مدرسے قائم کئیے۔ ہم کو تاریکی اور انتہا پسندی کی راہ پر ڈال کر اب وہ روشن خیالی اور جدیدیت کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔

اب ہمارے دائیں بازو کے رجعت پسند بھائی کون سا چورن بیچیں گے۔ خادمین حرمین شریفین تو آج کل امریکہ میں یہودیوں کے اعلی وفد سے مل کر مذہبی آہنگی اور یگانگت کی باتیں کر رہے ہیں۔ شاید جلد ہی سفارتی تعلقات بھی بحال ہوجائیں ویسے بیک ڈور ڈپلومیسی تو ایک عرصہ سے جاری ہے۔ لیکن ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور نام نہاد ”مسلم امہ“ کے سراب سے باہر آنے کو تیار نہیں۔

جیو ملالہ سر اٹھا کے۔ زمانے نے تو کسی بھی آواز اٹھانے والے کو نہیں بخشا اور ہر اس شخص کی مخالفت کی جس نے حق کا پرچم بلند کیا چاہے وہ یسوع مسیح ہوں، سرمد ہو یا پھر منصور حلاج سب ہی بے مصلوب ہوئے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ملالہ: ایک متنازع کردار

  • 14/10/2022 at 12:15 شام
    Permalink

    جناب این فرینک کو جو نوبل پرائز ملا ہے اس کا حوالہ تو دیں۔۔۔ یا اس انفارمیشن کو حذف کریں

Comments are closed.