موت ایک اٹل حقیقت!


حدیث میں آتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی اگر کوئی اپنے والد سے نیکی کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے محبت کرنے والوں سے ملاپ رکھے ”یعنی ان کی خیریت دریافت کرے، ان کی تعظیم و تکریم کرے اور ان کے ساتھ تعلق بہرحال قائم رکھے۔ میں اسی نیت کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور جب جب بھی حاضری دی انہوں نے والد صاحب کے ساتھ گزرے ماضی کے جھروکوں سے کچھ یادیں ضرور گوش گزار فرمائیں۔ وہ اپنے کھوئے ہوئے ہمدم کا تذکرہ اس انداز سے کرتے کہ حال دل ان کا چہرہ ہی بتا دیتا تھا۔

ان کے ساتھ مختصر نشست میں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی سینیئر شخصیت سے بات کر رہا ہوں۔ بے تکلف تھے، ہنس مکھ تھے، ہشاش بشاش اور باغ باغ شخصیت تھی ان کی۔ وہ تھے تو خان ہی، طبیعت مگر غریبوں والی تھی۔ ایک اچھی عادت ان کی یہ بھی تھی کہ اپنے بچوں کے ساتھ بہت بے تکلف رہتے تھے۔ کافی عرصہ سے شوگر کے مریض تھے۔ گزرے رمضان کے بعد جب ان سے ملاقات ہوئی اور پرہیز کے بارے میں بات چل پڑی تو ازراہ مزاح کہنے لگے“ پورے رمضان میں یہ لوگ مجھ سے تربوز چھپا کر کھاتے رہے ہیں ”اس پر ان کے بیٹے افسر محمد خان نے کہا: ہم دادا سے چھپ کر کھاتے رہے لیکن دادا بھی ہم سے چھپ کر کھا لیتے تھے“ آپ کتنے مالدار تھے، اس کا تو نہیں علم، مہمان نواز اور فیاض مگر مثالی تھے۔ چنانچہ جب بھی ان کے گاؤں ’گیدڑی‘ جانا ہوا بڑے تپاک سے ملے اور خوب کھلے دل سے ضیافت فرمائی۔

یہ تذکرہ ’محمد خان چچا کا ہو رہا ہے جن کے نام کے ساتھ آج مرحوم لکھنا پڑ رہا ہے۔ مرحوم ہمارے والد مرحوم کے گہرے اور حمیم دوست تھے۔ آپ‘ محترم محمد علی خان صاحب کے بھائی، محترم شوکت علی خان، افسر محمد خان اور ماجد علی خان (ایم ڈی رائزنگ پاکستان اسلامیہ پبلک سکول بٹگرام ) کے والد اور جناب پروفیسر مفتی ریاض صاحب کے خسر تھے۔ ان کی وفات کی خبر فیس بک پر دیکھ کر دکھ تو بہت ہوا پر یہاں کس نے ہمیشہ رہنا ہے!

موت تو ایک اٹل حقیقت ہے۔ بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے سامنے عاجز و بے بس ہے۔ وہ جب حکم خداوندی سے آتی ہے تو اپنے مطلوب کو حاصل کر کے ہی جاتی ہے۔ نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے اور نہ بڑوں سے اسے حیاء آتی ہے۔ نہ چوہدریوں کی چوہدراہٹ کو دیکھتی ہے اور نہ بادشاہوں کی بادشاہت کو خاطر میں لاتی ہے۔ اللہ تعالی کی برگزیدہ ہستیاں بھی نہ رہیں اور بڑے بڑے ظالم اور فرعون بھی زمین کے پیٹ میں جا چکے۔ نہ رزم گاہوں میں خندہ رو کود پڑنے والے موت کے چنگل سے بچ پائیں گے اور نہ گھروں میں پھولوں کے بستر پر آرام کرنے والے۔

ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ بہرحال چکھنا ہے۔ یہی اللہ کا فرمان اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ اس زمین پر جو کچھ بھی ہے، سب فنا ہونے والا ہے۔ فقط جلال اور عزت والی رب کی ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ باقی ہم سب دنیا میں اس بحری جہاز کے مسافر ہیں جو وقت کے سمندر میں رواں دواں ہے، نہ کوئی منزل کو جانتا ہے اور نہ یہ کہ سفر کب اور کہاں ختم ہو گا۔ یہ دنیا ہے اور ساری دنیا ایک جھوٹا خواب ہے، محبت، پیسہ، صحت، خوشی اور شان و شوکت کچھ بھی تو باقی نہیں رہنے والا۔ یہ سب کچھ اس سپنے کی مانند ہیں جو ہم نیند میں دیکھتے ہیں یا پھر ایک سائے کی مانند جس نے ڈھل کر زائل ہونا ہے۔

عقلمند وہ رہا جو اس کے فریب سے بچ گیا اور ایمان کی دولت کے ساتھ یہاں سے رخصت ہوا اور کامیاب وہی ہے جسے دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت جس کا مسکن بن گیا۔ جی ہاں، یہی اصل کامیابی ہے، یہ دنیاوی زندگی تو جنت کے مقابلے میں دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کو جنت میں اعلی مقام عطاء فرمائے، ان کے بیٹوں، بیٹیوں اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

Facebook Comments HS