محبتوں کی چھاپ


پہلے کی محبتوں اور آج کی محبتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ محبتیں اور خلوص بھی سب ڈیجیٹل ہو گیا ہے۔ سہولت اور آسانی کی طلب نے نہ جانے کیوں زندگی مزید بوجھل کر ڈالی ہے۔ آج لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی خوشیوں میں وہ مزا نہیں جو پہلے کی لوازمات سے پاک، سادہ سی زندگی میں ہوا کرتا تھا۔

جب ہم چھوٹے تھے تو محلے داری اور رشتے داری کے ادب و آداب اور رکھ رکھاؤ عملی طور پر دیکھتے تھے، سیکھتے تھے اور پھر خود بھی ان پر عمل پیرا رہتے تھے۔ خود سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھنے کا سبق گھٹی میں ڈال کر پلایا جاتا تھا۔ پڑوسی خونی رشتوں کی طرح عزیز اور محترم ہوتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ گھر میں جو بھی پکا ہو، پڑوسیوں کے گھر بہت اہتمام سے ٹرے میں رکھ کر بھیجا جاتا تھا۔ کھانا ڈھانپا ہوا ہونا چاہیے، اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا اور کھانے کو ڈھانپنے کے لیے بڑے اہتمام سے گھروں میں ہی ٹرے اور سینی ڈھانپنے کے لیے ’دسترخوان‘ سلتے تھے، ان پر کشیدہ کاری کی جاتی تھی اور کروشیا سے مہارت دکھائی جاتی تھی۔ گوٹے کناری کے کام کیے ہوئے خوبصورت ٹرے کور شاہی دسترخوان کی یاد دلا دیتے تھے۔

پکوان سادہ ہوتے تھے تو پڑوسیوں کے گھر دال بھی اس اہتمام سے سجا کر بھیجی جاتی تھی کہ ٹرے وصول کرنے والے کو دال میں بھی قورمے کا سواد محسوس ہوتا۔ اس زمانے میں سادہ انداز میں پکی ہوئی دال وہ کمال دکھا جاتی تھی جو آج ہزاروں کی دیگیں پکا کر بانٹنے پر بھی حاصل نہیں۔

پڑوسیوں کو کچھ بھی بھیجتے ہوئے کسی قسم کی شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کیا سوچیں گے کہ بس یہ پکا ہے ان کے گھر میں۔ سادہ مگر محبت کی چاشنی سے بھرپور کھانے ذائقہ دے جاتے تھے۔ اس وقت کیوں کہ ہر علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کے معاشی حالات کم و بیش ایک جیسے ہی ہوتے تھے اس لیے جو جیسا ہے سب کے سامنے ہوتا۔ دکھ سکھ بھی مشترک ہوتے تھے اور غربت اور امیری بھی۔ دکھاوا دور دور تک نہیں ہوتا تھا۔ باتیں سادہ، جیبیں خالی مگر دل محبتوں سے لبریز ہوتے تھے۔ محبتیں بانٹ کر محبتیں بڑھانے کا اصول بغیر کسی ملاوٹ کے دکھائی دیتا تھا۔

اس وقت ننھے دماغ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے تھے کہ کھانے کا ایک بڑا حصہ بانٹنے کے باوجود کھانا سب کو کیسے پورا ہو جاتا تھا۔ بزرگوں کی جانب سے برکت کے تصور کا بیج یہیں سے بویا جاتا تھا جو ان کی عملی زندگی میں جا کر تناور درخت بن جاتا تھا اور پھر وہ بھی ان طور طریقوں کے امین بن جاتے تھے۔ رشتوں کو بڑے عزت و احترام کے ساتھ اور بڑے سلیقے سے نبھاتے تھے۔

نانی دادی کا فلسفہ یہ ہوتا تھا کہ ہم بھیجیں گے تو اس میں کچھ اور آ جائے گا اور پھر ہم دوبارہ ان کو کچھ اور بھیج دیں گے اس سے آپس میں محبتیں بڑھتی ہیں اور اسی بہانے ایک دوسرے کی خیر خیریت بھی مل جاتی ہے۔ یہ ’خوان‘ دینے کے بہانے دروازے پر کھڑے ہو کر گپ شپ کرتی پڑوسنیں محلے بھر کی خبروں کی ترسیل کا ذریعہ بن جاتی تھیں۔ عالمی مسائل سے لے کر خاندانی مسائل تک ایک دوسرے کو سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کیا جاتا تھا اور اس طرح اخبار، ریڈیو اور ٹی وی کی کمی پوری ہوجاتی تھی۔

باہمی مشاورت سے بچوں کی پیدائش سے لے کر شادی بیاہ تک کے معاملات طے پا جاتے تھے۔ بچیوں کی شادیاں باہمی طے کر لی جاتی تھیں یہ میرج بیورو اس زمانے میں کہاں ہوتے تھے۔ دیکھا جائے تو یہ کھانے کے خوان کے اوپر ڈھانپے ہوئے دیدہ زیب ’دسترخوان‘ یا رومال محض کھانا نہیں ڈھانپتے تھے بل کہ ایک دوسرے کے معاملات کی پردہ پوشی کرتے اور عیب بھی بخوبی ڈھانپتے تھے۔ ایک دوسرے کی زندگی آسان کرتے تھے۔

جب ماہ رمضان نزدیک آتا تو استقبال رمضان کی تیاری کے لیے گھر کی خواتین بزرگوں کی ترجیحی فہرست میں یہ والے ’دسترخوان‘ بھی شامل ہوتے تھے۔ سوتی، مخمل اور ویلویٹ کے کپڑوں سے دیدہ زیب ٹرے کورز تیار کیے جاتے اور ان پر کی جانے والی گوٹا کناری قابل دید ہوتی۔ گھر کی خواتین کی ان بظاہر معمولی باتوں کو دی جانے والی یہ خصوصی اہمیت بچوں پر بھی اثر انداز ہوتی تھی اور پڑوسیوں اور رشتے داروں کے حقوق اور حسن سلوک سے متعلق ان کی تربیت سازی میں نمایاں کردار ادا کرتی تھی۔

عصر کی نماز کے ساتھ ہی محلے بھر میں افطاری بانٹنے کی ہلچل مچ جایا کرتی تھی۔ لوگ افطاری کے تھال پکڑے پڑوسیوں کے دروازے پر نظر آتے تھے اور ساتھ میں اہتمام سے تیار پرجوش بچوں کی خوشی بھی دیدنی ہوتی تھی۔ تھال کو تھامنے اور بانٹنے کا عمل ان کے لیے مثبت تفریح بن جاتا تھا اور اس طرح عید سے پہلے عید کا مزا آ جاتا تھا۔

بقرعید کے موقع پر قربانی کا گوشت بھی بڑے تھالوں میں رکھ کر انہی ٹرے کورز سے ڈھانپ کر محلے بھر میں بانٹا جاتا تھا۔ پھر شادیوں میں مہندی اور دیگر رسومات کے لیے بھی یہی ٹرے کورز تقریبات میں رنگ بھر دیتے تھے۔ مہندی اور بری کی چیزیں اور دلہا دلہن کے رشتے داروں کے تحفے تحائف بڑے بڑے تھالوں میں رکھ کر خصوصی طور پر تیار کیے جانے والے انہی ٹرے کورز سے ڈھانپ کر نہایت نفاست کے ساتھ پیش کیے جاتے تھے۔ بچوں کے سسرال میں عیدی بھیجی جاتی تھی جو ان تہواروں کو مزید حسین اور رنگا رنگ بنا دیتی تھی۔

اسی طرح دیگر مذہبی محفلوں اور دیگر مواقعوں پر بھی اسی طرح تبرکات تقسیم کیے جاتے تھے کہ مجموعی طور پر ایک الگ ہی ماحول بن جاتا تھا۔ آج کل آرڈر پر تیار کردہ گتے کے بنے سجے ہوئے بکسز ان کا نعم البدل ہیں جن کی مالیت سینکڑوں اور ہزاروں میں ہوتی ہے۔ مشاق کاریگروں کے ہاتھوں سے بنے اس سامان میں محنت کا پسینہ تو شامل ہوتا ہے مگر اپنائیت کی چاشنی نہیں۔

وقت بدلا، اقدار بھی بدلیں اور ساتھ دل بھی بدل گئے۔ اب کہاں کے ٹرے کورز اور کہاں کی مینا کاری۔ گھروں میں نانی اور دادی کے ہاتھوں سے بڑے چاؤ اور محنت سے تیار ٹرے کورز کو دیکھے آنکھیں ترس گئیں، سب کچھ جدیدیت کی نذر ہو گیا۔ اب تو بڑی بڑی بیکریوں پر گرما گرم پوری افطاری ہی دیدہ زیب ڈبوں میں پیک ہو کر مل جاتی ہے۔ بس بیکری سے بنی بنائی افطاری خریدی اور باہر کا باہر ہی پڑوسی گھروں میں پہنچا دی جاتی ہے۔ کون سا اہتمام اور کہاں کا اہتمام۔ جدیدیت اور سہولت کے بخار کے ساتھ سب کچھ ہی آسان ہونے کے ساتھ ساتھ مصنوعی بھی ہو کر رہ گیا ہے۔ خلوص و محبت کے تڑکے نہ جانے کہاں رہ گئے۔ محبت و خلوص کی چاشنی کا سواد ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا۔ سب کچھ مصنوعی سا ہو گیا ہو جیسے۔

گھروں میں ٹیکنالوجی سے دور یہ سلیقہ شعار خواتین خود بہت بڑی آرٹسٹ ہوتی تھیں۔ نہ کوئی کورس نہ کوئی سرٹیفکیٹ لیکن دیدہ زیب اور خوش نما رنگوں کا انتخاب ہی ان کے اعلی ذوق کی عکاسی کرتا تھا۔

وقت کے ساتھ ترقی کسے اچھی نہیں لگتی مگر شکوہ اس بات کا ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی متروک رسومات اور طریقوں کے ساتھ جڑی محبتیں بھی تو اب نایاب ہیں۔ ہمارے پرکھوں کے ساتھ، ٹرے کورز کا استعمال بھی اب کہیں یادوں میں دفن ہو گیا ہے۔

فاسٹ فوڈ کی دلدادہ نوجوان نسل کو شاید اس تحریر میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو کہ وقت موجودہ میں ٹیکنالوجی کے ساتھ تیزی سے بھاگتے دوڑتے ہوئے اب ان سب باتوں کا خیال کرنا بھی محال ہے۔ لیکن جو لوگ اس دور سے گزر چکے ہیں وہ اب بھی ان خوبصورت یادوں اور ماضی کی گم گشتہ محبتوں سے توانائی حاصل کرتے ہیں جو اب اس زمانے میں تقریباً ناپید ہو چکی ہیں۔

ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ اب واٹس ایپ، اسنیپ چیٹ، اسکائپ اور میسنجر کا دور ہے۔ ایک دوسرے سے ملنے ملانے کی روایت کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ اب لوگ ایک بٹن دباتے ہی دوسرے کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ دنیا جہان کی باتیں ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگ مطمئن بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر جو مزا اپنوں کے گھر جا کر ان سے گلے ملنے میں تھا، کیا وہ مل سکتا ہے؟ دکھ سکھ جو اپنائیت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹے جاتے تھے کیا اس ڈیجیٹل دور میں ان پر بے حسی کا پردہ نہیں پڑ گیا؟

اپنے پرائے ہو گئے اور پرائے اپنے۔ مگر اس سب میں وہ پہلے جیسی اپنائیت باقی نہیں رہی جو پہلے نظر آتی تھی۔

آج اپنے گھروں کے مصنوعی ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوئے، پوری دنیا اپنی ہتھیلی میں سمو کر بھی نہ جانے کیوں ہم سب اندر سے خالی اور تنہا ہیں۔

ٹیکنالوجی اور ترقی کبھی بھی اس گزرے وقت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی جب چاندنی راتوں میں نیم کے پیڑ کے نیچے ڈالی گئی چارپائیوں پر بیٹھ کر دوستوں کے ہمراہ سادہ باتوں پر معصوم قہقہے لگائے جاتے تھے۔ لوگ درحقیقت زندگی کو دل سے اور بھرپور جیتے تھے۔

Latest posts by لبنیٰ مقبول (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments