پروفیسر خالد سعید اور پاکستان میں علم نفسیات


خالد سعید صاحب کی شخصیت اور کام کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایک نثر نگار تھے، شاعر تھے، نقاد تھے، مترجم تھے، ماہر نفسیات تھے، ماہر تعلیم تھے یا فلسفی۔ بہت سے لوگوں کو یہی الجھن میرے ایک اور استاد ڈاکٹر اختر احسن کے بارے میں بھی رہتی ہے کہ وہ ماہر نفسیات تھے، شاعر تھے یا فلسفی۔۔ میرے خیال میں یہ دونوں حضرات وہ سبھی کچھ تھے جس کا ان کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے۔ ایک تو ان دونوں حضرات سے میرا پہلا تعارف نفسیات کے حوالے سے ہوا تھا اور دوسرے یہ کہ میں ان حضرات کے برعکس علم کے دیگر شعبوں میں کچھ زیادہ درک نہیں رکھتا اس لئے میں ان دونوں حضرات کے صرف اس کام کو ہی ایک حد تک دیکھ سکا جس کا تعلق نفسیات سے تھا۔

میری رائے میں خالد سعید صاحب نے نفسیات کے ایک علم اور استاد کے طور پر جو سب سے اہم کارنامہ انجام دیا ہے وہ پاکستان کی سماجی سیاسی صورتحال کا نفسیاتی تجزیہ ہے۔ پاکستان میں نفسیات کے شعبے سے اپنی تیس سالہ وابستگی کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان سے پہلے اس طرح کے کام کی کوئی روایت اور کوشش کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔

ولہلم رائخ کی کتاب The Mass Psychology of Fascism خالد صاحب کی پسندیدہ ترین کتابوں میں سے ایک تھیں اسی لیے جہاں وہ ملک پر مسلط ہونے والی آمریتوں کے خلاف رہے وہیں وہ اس بات کا بھی قائل رہے کہ کسی بھی معاشرے میں آمر کا آجانا اور عوام کا اس کو اپنی پسندیدگی سے سرفراز کرنا محض ایک سیاسی حادثہ نہیں ہوتا بلکہ ایسا ہونا ان عمومی رویوں کے سبب ہوتا ہے جو کسی معاشرے کی تاریخ میں اپنی جڑیں رکھتے ہیں۔ طاقت کے مراکز کے پجاری، جنگجوؤں کو اپنا ہیرو سمجھنے والے، طاقت کے ذریعے دنیا فتح کرنے اور اس پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والے، علمی اور عوامی طاقت کے بجائے ہیروز ڈھونڈنے، گھڑنے اور ان کی پرستش کرنے والے معاشرے بلا سبب آمریت کا شکار نہیں ہوتے۔ خالد صاحب نے رائخ کی کتاب Listen, Little Man کا ترجمہ بھی شاید اسی لیےکیا ہو کہ وہ چاہتے تھے کہ پاکستانی دیکھ سکیں کہ بالشتیا کون ہوتا ہے۔ رائخ کے لٹل مین کا بالشتیا سے بہتر شاید ہی کوئی اور ترجمہ کیا جا سکے۔ لٹل مین کی کوتاہ بینی، سستی جذباتیت، کم ہمتی، ذہنی پستی، آمر پسندی اور نعرہ باز مذہبیت سب کو ایک لفظ "بالشتیا” خوب بیان کرتا ہے۔ جس معاشرے میں بالشتیے کثرت سے پائے جاتے ہوں وہاں جمہوریت اور جمہوری رویوں کا پنپنا ناممکن کی حد تک مشکل ہو جاتا ہے۔ بالشتیے دن رات مذہبی رواداری کی باتیں کرتے ہیں مگر یہ صرف اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں، مظاہرہ نہیں۔جیسے ہی کوئی اور بالشتیے کے مذہب کو اپناتا ہے اس کو لگتا ہے کہ اس سے اس کا خدا چھین لیا گیا ہے۔ ایسے میں بالشتیے کو ایک فوجی کی ضرورت پڑ جاتی ہے جو اس کے خدا سے پیار کرنے والے دوسرے افراد کی پشت پر کوڑے برسا سکے۔ بالشتیا اس فوجی کے ساتھ بہت خوش رہتا ہے۔ وہ ایک آزاد معاشرے کو اس لیے ناپسند کرتا ہے کیونکہ حبس سے پاک معاشرے میں بالشتیا خود اپنا ڈسپلن کھونا شروع کر دیتا ہے۔

خالد صاحب ہمیں یہ بتا کر گئے ہیں کہ ڈسپلن کھونا بالشتیے کے لئے سوہان روح ہوتا ہے اسی لئے اسے سخت گیر باپ اور تشدد کرنے والے آمر خوب راس آتے ہیں۔ رائخ نے نے پدر سری نظام، فرد کی آزادی اور ذاتی ملکیت کے تعلق کو جس طرح واضح کیا ہے وہ تعلق سب سے پہلے ہمیں خالد صاحب نے اپنے معاشرتی تناظر میں بیان کر کے سمجھایا تھا۔ کمزوروں بچوں اور خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم بالشتیوں کے معاشرے میں محض اتفاقاً نہیں ہوتے۔ طاقت کے مراکز صرف اپنے بل پر سیاسی نظام اور اس کے کل پرزے تخلیق نہیں کرتے۔ مذہب کے نام پر قتل و غارت کی تعلیم فقط ملک میں پھیلے ہوئے مذہبی مدارس نہیں دیتے۔ انسانی سروں سے فٹبال کھیلنے والے کسی دور افتادہ ٹریننگ کیمپ میں پیدا نہیں ہوتے۔ خود کش بمباروں کی فیکٹریاں کسی ملک میں اچانک ہی قائم نہیں ہو جاتیں۔ یہ سب کچھ بالشتیوں پر مبنی معاشرے کی تائید اور حمایت سے ہوتا ہے۔ بالشتیے کی مجبوری ہے کہ وہ علم اور حکمت کو سیم اور تھور سمجھے۔ علم اور حکمت پر اصرار کرنے والوں کو کبھی غدار، کبھی کافر اور کبھی معاشرے کا ناسور قرار دے اور ان کی زباں بندی کرے۔

خالد صاحب نے اپنی تحریروں میں ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بالشتیے کی مردہ اقدار سے وابستگی کے نفسیاتی اسباب کیا ہوتے ہیں۔ ایک نفسیاتی بیماری نیکرو فیلیا کا سہارا لے کر وہ ماضی کی جانب ہجرت کرنے والوں والوں کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں۔ ایرک فرام کی اس اصطلاح کو خالد صاحب نے پاکستانی معنی پہنائے ہیں۔ اور وضاحت کی ہے کہ نیکرو فیلیا کے مریضوں کو آپ اپنی سڑکوں، گلیوں اور محلوں میں کس طرح چلتا پھرتا دیکھ سکتے ہیں۔ اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اقتدار کے ایوانوں میں، سیاست کی شاہراہوں پر، تعلیمی اداروں میں، انصاف کے منصبوں پر اور اخبار کے دفتروں میں کس طرح یہ مریض اپنے مرض کا اعتراف، اعلان اور پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ تحریک نظام مصطفی کے لیے سی آئی اے سے فنڈنگ لینے والوں سے لے کر ریاست مدینہ جدید کے معماروں کے کردار دیکھئے اور پھر نیکروفیلیا کی اصطلاح یاد کیجئے آپ کو پتہ چلے گا کہ ماضی کی طرف لوٹنے کی خواہش رکھنے والے بالشتیے آج کس قدر آسانی سے شناخت کیے جاسکتے ہیں۔

خالد سعید صاحب نے اپنی تحریر میں اس بات پر ایرک فرام کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے ہمیں بندی خانے کے جغرافیے سے آگاہ کیا تھا۔ پاکستان کی حد تک خالد صاحب نے ہمیں بندی خانے کی تاریکی، اس کے حبس، گھٹن اور بساند میں لتھڑے سب کرداروں سے آگاہ ہی نہیں کرایا بلکہ ان سب کے ساتھ رہتے ہوئے بندی خانے کو اپنا مقدر نہ سمجھنے کا حوصلہ بھی دیا ہے جس کے لیے ہم ان کے ممنون احسان ہیں۔

(خالد سعید ادبی ریفرنس کے لیے لکھی گئی تحریر)

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments