دا لیجنڈ آف مولا جٹ: مووی ریویو


بھائی مانا کہ فلم ایک لارجر دین لائف شے ہوتی ہے اور اس میں زندگی سے ماورا ڈرامہ ہوتا ہی آپ کی تصوراتی حس کی تسکین پہنچانے کے لیے ہے مگر کیا وہ اس بھونڈے طریقے سے پیش کیا جاتا ہے؟ یار ہم نے بالی وڈ میں ہیلو فلم میں خدا کو انسانوں کو موبائل کال پر بات کرتے سنا، ہم نے میٹ جو بلیک میں موت کو زندہ انسانوں کے ساتھ نہ صرف میل جول کرتے دیکھا بلکہ ایک خاتون سے محبت کی پینگیں بھی بڑھاتے دیکھا مگر کیا پاکستان میں تخلیقی صلاحیت کا ،عیار اتنا گر گیا ہے کہ ہم اس مولا جٹ جیسی حقیقت سے میلوں دور مووی بنائیں؟ میں نہیں مانتا کیونکہ ابھی دو ماہ پہلے کملی جیسی شاہکار تخلیقی مووی بنی ہے۔ یہ کیا لغویت ہے کہ برگر لوگ اٹھ کر (جنہوں نے گاؤں شاید اپنی پوری زندگی میں نہ دیکھا ہو) پنجابی فلم پر ایسے ہاتھ صاف کریں جس میں اصل پنجاب ہو اور نہ پنجابی زبان ہی صحیح ہو۔ کیا بلال لاشاری صاحب اپنے آپ پاکستان کا مارٹن سکورسیسی سمجھتے ہیں؟ وی ایف ایکس کا اچھا استعمال آ گیا، کیمرہ لائیٹ وغیرہ بہتر کرنا آ گیا تو اب آپ کیا ایسی بے سر و پا سٹوری فلم کریں گے؟ میں آپ کو کیا سٹوری بتاؤں کہ گاؤں میں ہونے والی خونی لڑائی کو ڈھائی گھنٹے پر کھینچا ہے۔ تلواریں، گنڈا سے، نیزے، خون، کٹا ہوا سر۔ کیا یہ پنجاب ہے؟ اس سے تو کہیں بہتر ہے کہ آپ گجر دا ویر ٹائپ کوئی فلم دیکھ لیں۔ اس کا آئی کیو اس سے شاید بہتر ہی ہو۔

بلال لاشاری نے اپنے والد کے اولڈ سٹی چیئرمین کے سابق منصب سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہی قلعے میں بھرپور شوٹنگ کی مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پنجاب کا کون سا ایسا گاؤں ہے جہاں داخلے کے لیے باقاعدہ گیٹ ہوں؟ پنجاب کا کون سا ایسا سرکس ہے جہاں انسانوں کی ڈنڈوں سے لڑائی ہوتی ہو؟ پنجاب کا کون سا ایسا گاؤں ہے جہاں شراب خانوں میں شراب پی جاتی ہو؟ ایکٹنگ کا کیا ذکر کیا جائے کہ ہر ڈائیلاگ جب آپ نے اونچی آواز میں چہرے پر درشتی لا کر ادا کرنا ہو تو اس میں خاک اداکاری ہو گی؟ فواد خان تو چلو پھر ٹھیک رہا مگر مصطفیٰ قریشی کی بھونڈی نقل کرتا اوور ایکٹنگ کا شکار حمزہ عباسی احمق ہی لگا ہے۔ گوہر رشید کا کردار کچھ شیڈز لیے ہوئے تھے لیکن اسے کلین شیو دکھا کر بلال ایک اور حماقت کا شکار ہوا ہے۔ سب سے زیادہ مزہ مجھے پاکستان کی سب سے اوور ریٹڈ اداکارہ ماہرہ خان کو دیکھ کر آیا۔ ڈائریکٹر کی حماقت سے اس کو میلے میں بغیر میک اپ کے دکھایا گیا اور گہری رات کو گہری لپ سٹک میں۔ اس کے اتنے سپاٹ ایکسپریشن تھے کہ میں تو اش اش کر اٹھا۔ اگر کچھ بہتر ایکٹنگ تھی تو حمائمہ ملک کی تھی۔ ایک عورت کے لیے مستحکم لہجہ اپنا کر سفاک تاثرات دینا مشکل امر ہے لیکن اس نے بخوبی نبھایا۔

میں یہ تسلیم کرنے کو تیار ہوں کہ مارشل لا میں چھائی سیاسی گھٹن میں اس وقت مولا جٹ لوگوں کے لیے ایک کتھارسس کا باعث بنی تھی لیکن آج کون سا جبر ہے؟ بلال لاشاری آج ہیرو کو گنڈاسہ نہیں کیمرے والے موبائل کی ضرورت ہے۔ آج ہیرو کو خون کی ندیاں بہانے کی بجائے سوشل میڈیا لائیکس اور فالوورز کی فوج کامیاب کرتی ہے۔ معلوم نہیں کہ خود برگر ہو کر اسے یہ شے کیوں نہیں معلوم؟

پنجابی زبان کا اس فلم میں جو ستیاناس ہوا ہے اس کی کچھ جھلکیاں پیش کرتا ہوں
موت دے کنویں نہیں بھائی موت دے کھو ہوتا ہے
جس طرح نہیں جیویں ہوتا ہے
اس طرح نہیں انج ہوتا ہے
جد تک نہیں جدوں تیکر ہوتا ہے
کچھ وی نہیں نہیں کج وی نہیں ہوتا ہے
اوسے طرح نہیں اونج ہوتا ہے
ہمیشہ واسطے نہیں ہمیشہ لئی ہوتا ہے
کسی نے نہیں کسے نے ہوتا ہے
پتھر نہیں روڑا ہوتا ہے

مجھے یقین غالب ہے کہ ناصر ادیب نے تو یہ نہیں لکھا ہو گا مگر ان برگروں نے اپنی روانی میں اسی طرح ادا کر دیا ہو گا۔

اگر آپ جٹ گجروں کی فلمیں پسند کرتے ہیں، لاؤڈ ساونڈ ایفیکٹس اور ہر ڈائیلاگ میں بڑھکیں پسند کرتے ہیں، کٹے ہوئے انسانی سر، انسانی خون سے آپ کو رغبت ہے تو پھر یہ فلم بالکل آپ کے لیے بنی ہے

ویسے میں حیران ہو رہا تھا کہ کملی جیسی شاہکار فلم یہاں نارمل گئی اور دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلم کے نام پر شرمندگی کو گرینڈ اوپننگ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ یہاں ایک ٹین کے خالی ڈھکن کو بھی لوگ اس لیے جان نچھاور کرنے کی حد تک پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی لاؤڈ ہے اور بڑھک باز ہے۔

یہ دونوں صفات ہمارے ملک میں بہت پسند کی جاتی ہیں۔

اگر آپ اہل ذوق ہیں، پڑھے لکھے ہیں اور فلم کے نام پر کوئی کوالٹی وقت صرف کرنا چاہتے ہیں تو دست بستہ گزارش ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ پر وقت اور پیسہ نہ ضائع کیجئیے گا۔

بھائی ظفر عمران سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ٹھیک ہے ہم پاکستانی سینما کو پروموٹ کرتے ہیں مگر فلم کے نام پر ہولناک مذاق برداشت نہیں ہو سکتا۔

مجھے تو شرمندگی ہو رہی ہے کہ جو ہندوستانی یا غیر ملکی اس فلم کو دیکھیں گے وہ پاکستانی پنجاب کا کیا تصور کریں گے؟

بلال لاشاری کے ہاتھوں پنجاب کی عظیم دھرتی کا تصور پامال کرنے پر گہرا افسوس ہو رہا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments