نچے ہوئے ریشوں پر منڈلاتی قضا


اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ دور تک بہت دور تک، جہاں تک نظر کی حد تھی ایک ہی رنگ پھیلا ہوا تھا۔ اس نیلگوں رنگ میں ایک چھوٹا سا سیاہ دھبہ تھا۔ یہ دھبہ بڑھتا جاتا ہے۔ شاید وہ کوئی پرندہ تھا۔ اب وہ کچھ واضح ہونے لگا تھا۔ ہاں وہ پرندہ ہی تھا مگر وہ اکیلا نہ تھا، وہ تعداد میں کافی زیادہ تھے اور نیچے اتر رہے تھے۔ اس کی کمر کے نیچے گویا آگ جل رہی تھی۔ پختہ چھت سورج کی تمازت سے جل رہی تھی۔ سہ پہر کا وقت تھا اور جون کی گرمی میں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے آگ برس رہی ہو۔ اس کے بدن پر کپڑے نہیں تھے۔ جسم کٹا پھٹا تھا۔ زخموں کا شمار ممکن نہیں تھا۔ کئی گھاؤ اتنے گہرے تھے کی جسم کے اندرونی اعضا دکھائی دیتے تھے۔

گدھ اب منڈیر پر بیٹھا تھا اور اس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی چونچ کھلی ہوئی تھی، شاید اسے پیاس لگی تھی۔ اچانک تیز پھڑپھڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ دو تین گدھ اس کے بالکل پاس آ کر اترے مگر وہ اس کی طرف نہیں بڑھے تھے۔ وہ اس کے بائیں طرف نکل گئے تھے۔ وہ مڑ کر ان کی طرف دیکھنا چاہتا تھا لیکن اسے محسوس ہوا کہ وہ حرکت کرنے سے قاصر ہے۔ اس نے پہلو بدلنے کی کوشش کی مگر جسم کو جنبش تک نہ دے سکا۔ پاؤں ہلانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا پھر اس نے آنکھوں کی پتلیوں کو حرکت دینے کی کوشش کی مگر وہ اتنا بھی نہ کر سکا۔

وہ سوچنے لگا کہ میں یہاں کیوں ہوں؟ یہ جگہ کون سی ہے؟ سب سے اہم سوال تو یہ تھا کہ وہ کون ہے؟ اسے ایک چھوٹے سے بچے کی دھندلی سی شبیہ دکھائی دی۔ دھیرے دھیرے وہ شبیہ واضح ہونے لگی۔ بچہ بھوکا تھا۔ اس کی ماں کچھ پکا رہی تھی۔ بچہ کھانے کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ بار بار ماں سے کھانے کے لیے پوچھتا تھا مگر اس کی ماں ہر بار ہنڈیا میں چمچا ہلا کر انتظار کرنے کو کہتی تھی۔ بھوک سے اس کی آنتوں میں بل پڑ رہے تھے۔ اسے کھانے کی خوشبو بھی نہیں آ رہی تھی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے ہنڈیا کے نیچے آگ بھی نہیں جل رہی۔ پھر اسے نیند آ گئی۔

وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ ان دونوں نے اپنے ہاتھوں میں پھٹے پرانے تھیلے پکڑے ہوئے تھے اور وہ گلی گلی گھوم رہے تھے۔ ان کی تیز نگاہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں پھر جیسے ہی انھیں ان کی مطلوبہ چیزیں نظر آتیں وہ فوراً انھیں اپنے تھیلوں میں منتقل کر دیتے۔ ان چیزوں میں پلاسٹک کی خالی بوتلیں، گتے کے ڈبے اور لوہے کے ٹوٹے پھوٹے بیکار ٹکڑے تھے جنھیں لوگ کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔

اب وہ بچہ نہیں رہا تھا۔ ایک جوان تھا جس کا جسم ہڈیوں کے پنجر کی طرح دبلا پتلا تھا۔ اس کی گالیں پچکی ہوئی تھیں۔ بدن پر بوسیدہ لباس تھا اور وہ کچرے کے ڈھیر سے کچھ تلاش کر رہا تھا۔ اچانک اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اسے ایک شاپر نظر آیا تھا۔ کسی نے بچا کھچا کھانا کچرے میں پھینکا تھا۔ اس نے جلدی سے شاپر اٹھایا اور سڑک کے کنارے بیٹھ کر نچی ہوئی ہڈیوں سے بچا کھچا گوشت نوچنے لگا۔

اسے اپنا باپ نظر آیا۔ وہ شدید بیمار تھا۔ اس کا لاغر جسم خزاں رسیدہ پتے کی طرح کپکپا رہا تھا۔ جھریوں بھرے مدقوق چہرے پر موت کی سیاہی چھا رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے اس نے خون کی الٹی کی تھی۔ اس کی پھٹی ہوئی قمیص پر خون کے چھینٹے تھے۔ ڈاکٹر کے دیکھنے سے پہلے ہی اس نے دم توڑ دیا تھا۔ وہ شہر اولیا کے سب سے بڑے ہسپتال میں اس امید پر اپنے باپ کو لایا تھا کہ وہ بچ جائے گا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اب اپنے باپ کی لاش کو کہاں لے جائے۔

اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے اور وہ انھیں پونچھنے کی بھی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ دوپہر سے شام ہو گئی تھی اور وہ ہسپتال کے احاطے میں زمین پر پڑی اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ پھر کسی نے اس کے پاس آ کر کچھ کہا تھا۔ اجنبی ہمدرد معلوم ہوتا تھا اس نے اس سے کئی سوالات کیے تھے۔ وہ کچھ نہ کچھ جوابات دیتا گیا۔ وہ ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکا تھا کہ کیا بات چیت ہوئی۔ اسے بس اتنا معلوم تھا کہ وہ تین دن سے بھوکا تھا اور اس کے پاس باپ کے کفن دفن کے لیے کچھ نہ تھا۔ اجنبی نے اسے کھانے کے لیے کچھ دیا تھا۔ اس کے باپ کی لاش اٹھا لی گئی تھی۔ وہ اس رات جب فٹ پاتھ پر اپنی مخصوص جگہ پر سونے کے لیے لیٹا تو نیند اس کی آنکھوں سے روٹھ گئی تھی۔ برسوں پہلے اس کی ماں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اب باپ بھی نہیں رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کاش وہ بھی باپ کے ساتھ مر جاتا۔

وہ ہسپتال میں اسی اجنبی کے پاس آیا تھا۔ اجنبی نے اسے بلایا تھا۔ وہ اجنبی اس کا محسن تھا۔ اس نے اسے نئی زندگی دی تھی۔ اب وہ پیٹ بھر کر کھانا کھاتا تھا۔ اسے کام مل گیا تھا۔ اجنبی نے اسے بتایا تھا کہ یہ ہسپتال میڈیکل کالج بھی ہے اور اس ہسپتال میں سینکڑوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ لاشوں کی چیر پھاڑ کر کے انسانی جسم کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ اچھے ڈاکٹر بن سکیں۔ اجنبی ان کے لیے لاشیں فراہم کرتا تھا۔

شروع شروع میں اسے ان لاشوں سے خوف محسوس ہوتا تھا۔ یہ کٹی پھٹی لاشیں اسے خوابوں میں بھی دکھائی دیتی تھیں۔ کسی کا پیٹ چاک ہوتا اور آنتیں باہر لٹک رہی ہوتیں، کسی کا سینہ کھلا ہوا ہوتا۔ کسی کے چہرے کا سارا گوشت نچا ہوا ہوتا اور ہڈیوں کا پنجر نظر آتا۔ کچھ لاشوں کو وہ اوپر چھت پر جا کر دھوپ میں ڈال آتا۔ ان گلتی سڑتی لاشوں کا بچا کھچا گوشت گدھ نوچ لیتے۔ پھر وہ ہڈیوں کے پنجر مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیتا۔

رفتہ رفتہ یہ معمول کا کام بن گیا۔ پہلے پہل تو کسی کٹی پھٹی لاش کو اٹھانے کے بعد کئی کئی دن تک کھانے کو ہاتھ بھی لگانے کو دل نہیں چاہتا تھا لیکن اب اسے ان لاشوں سے ڈر بھی نہیں لگتا تھا۔ وہ ایک مشین کی طرح لاش اٹھاتا اور جہاں کہا جاتا پہنچا دیتا۔ اجنبی نے اسے سمجھایا تھا کہ وہ لاوارث لاشیں انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں اور اس خدمت میں اس کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ اسے اب فٹ پاتھ پر سونا نہیں پڑتا تھا۔ اجنبی نے اسے ہسپتال کے ساتھ ایک کمرہ بھی دلوا دیا تھا۔ اس کے پچکے ہوئے گال بھرنے لگے تھے۔ جسم جو پہلے ہڈیوں کا ڈھانچہ لگتا تھا اب اس میں گوشت سے بھرنے لگا تھا۔ ایک بار اجنبی نے اسے اپنی پریشانی سے آگاہ کیا کہ طلبہ کو لاش کی ضرورت ہے لیکن کوئی لاش نہیں مل رہی۔

وہ اپنے کمرے میں لیٹا طلبہ کی پریشانی کے بارے میں سوچتا رہا پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے کمرے کے دروازے کو تالا لگایا اور باہر نکل گیا۔ مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے وہ ایک بڑے قبرستان میں پہنچ گیا۔ اتفاق سے آج دوپہر بھی وہ یہاں تھا۔ ہسپتال کے ایک خاکروب کی موت ہو گئی تھی اسے معلوم تھا کہ اسے کس قبر میں دفنایا گیا ہے۔ اس نے لاش کا انتظام کر دیا تھا۔ اجنبی نے چپ چاپ اس سے لاش وصول کر لی تھی۔ اس کام کے اسے پیسے بھی دیے تھے۔ اب اس کا کام بڑھ گیا تھا۔ کبھی لاش دستیاب نہ ہوتی تو وہ اپنی خدمات پیش کر دیتا اور کسی نہ کسی طرح لاش کا انتظام کر دیتا۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا پھر کیا ہوا؟ بس یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ وہ یہاں کیسے پہنچ گیا۔ اچانک جیسے فلم کی ریل چل پڑی۔ وہ صبح ناشتے کے لیے نکلا تھا۔ اس کی آنکھ ذرا دیر سے کھلی تھی۔ نو بج چکے تھے۔ بھوک شدید تھی۔ اس نے سوچا کہ پائے کا ناشتا کرے۔ ہسپتال سے دو تین فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا عوامی ہوٹل تھا جس کے پائے بہت مشہور تھے۔ وہ پیدل روانہ ہوا اور ہوٹل تک پہنچا۔ عوامی ہوٹل والے نے فٹ پاتھ پر ہی چند میزیں اور کرسیاں لگائی ہوئی تھیں جہاں بیٹھ کر لوگ ناشتا کر رہے تھے۔ رش بہت زیادہ تھا۔ کوئی کرسی خالی نہ تھی۔ پارسل لے جانے والے بھی بہت سے تھے۔ اس نے سوچا کہ یہاں بیٹھ کر کھانے کے بجائے پارسل ہی لے جانا چاہیے تا کہ کمرے میں بیٹھ کر آرام سے کھایا جا سکے۔ اس نے بڑے پائے کی پلیٹ اور دو نان خریدے اور شاپر اٹھا کر واپسی کی راہ لی۔

وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سڑک پر ٹریفک کا بہاؤ آج کچھ زیادہ ہی تھا۔ اپنے کمرے تک پہنچنے کے لیے اسے سڑک عبور کرنی تھی مگر گاڑیاں تھیں کہ کم ہونے میں نہ آتی تھیں۔ اس کے ہاتھ میں موجود شاپر سے پائے اور نان کی اشتہا انگیز خوشبو اسے بے تاب کر رہی تھی۔ وہ جلد از جلد اپنے کمرے میں جا کر ناشتا کرنا چاہتا تھا۔ موقع ملتے ہی اس نے سڑک پار کرنے کی کوشش کی۔ اچانک زور کا ہارن بجا۔ اس سے اندازے کی غلطی ہوئی تھی یا پھر وہ فارچونر گاڑی ضرورت سے زیادہ تیز تھی۔ اس نے دائیں طرف دیکھا گاڑی جیسے اسے کچلنے کو تھی۔ گھبرا کر وہ بھاگ اٹھا مگر دیر ہو چکی تھی۔ زور دار ٹکر کے ساتھ ہی شاپر اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور ہوا میں اڑتے ہوئے سڑک کے کنارے گر پڑا۔ شاپر پھٹ گیا تھا اور پائے کا سالن سڑک پر بکھر گیا تھا۔

اسے اپنے پیٹ پر کانٹوں کے رینگنے کا احساس ہوا۔ وہ نظریں جھکا کر دیکھ نہیں سکتا تھا مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی گدھ اس کے پیٹ پر بیٹھا ہے اور اپنی چونچ سے اس کے پیٹ کا گوشت نوچ رہا ہے۔ گدھوں کی مکروہ آوازیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ وہ بہت سے تھے اور ان کے پھڑپھڑانے سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ چھت پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یکا یک اسے محسوس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ چھت پر کئی لاشیں پڑی تھیں اور گدھ گلتے سڑتے ریشوں سے اپنی بھوک مٹا رہے تھے۔

اسے ایک گول سی آنکھ بالکل اپنی آنکھ کے پاس نظر آئی۔ اس کے کٹے ہوئے ہونٹ پر پنجے گاڑنے لگے۔ گدھ اس کے چہرے پر بیٹھ گیا تھا۔ وہ اس کی تیز چونچ کو دیکھ رہا تھا۔ چونچ اس کی آنکھ کی طرف بڑھی۔ اس کا دل چاہا کہ اپنی آنکھیں بند کر لے مگر وہ ایسا کر نہ سکا۔ نہیں نہیں میری آنکھ۔ اس نے درد کی شدت کو اپنی رگوں میں اترتے محسوس کیا مگر چونچ کسی تیز دھار آلے کی طرح اس کی آنکھ میں پیوست ہو گئی۔ اس کی آنکھ بہہ گئی اور گدھ مزے سے اس کی آنکھ نوچنے لگا۔ اس کے بعد گدھ نے اس کی دوسری آنکھ بھی نوچ ڈالی۔ دو تین گدھ اس کے کھلے ہوئے پیٹ کی آنتیں نوچ رہے تھے۔ ایک اس کے ہاتھ میں چونچ گاڑے ہوئے تھا۔ یکا یک اسے خیال آیا کہ ہسپتال کی چھت پر اس کی لاش پڑی ہے۔ سڑک عبور کرتے ہوئے گاڑی نے اسے کچل دیا تھا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔

 

Facebook Comments HS