ڈاکٹر اے کیو خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاالحق اور نواز شریف (1)


پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال ہو گیا ہے ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی بات ہے بلند قدو قامت کی شخصیت ڈاکٹر عبد القدیر خان 207 ہل سائیڈ روڈ اسلام آباد کے لان میں ٹہل رہی ہے سڑک سے گزرنے والے راہگیروں کو سلام کے لئے ہاتھ لہرانے پر ہاتھ ہلا کر سلام کا جواب دے رہی ہے پچھلے 20 سال سائیڈ روڈ سے گزرنے والے لوگ یہ منظر دیکھ رہے ہیں بظاہر ڈاکٹر عبدالقدیر 20 سال سے ”غیر علانیہ“ قید خانہ میں حفاظتی اقدامات کی آڑ میں اپنی زندگی گزار رہے تھے انہیں اپنے گھر سے باہر نکلنے اجازت نہیں تھی انہوں نے آزادی سے سانس لینے کی اجازت کے لئے ملک کی سب سے بڑی عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا لیکن ان کو اپنی زندگی میں ”آزاد شہری“ کا پروانہ نہ مل سکا ڈاکٹر عبد القدیر خان جہاں ایٹمی سائنسدان تھے وہاں شاعرانہ ذوق بھی رکھتے تھے انہوں نے 13 اپریل 2012 ء کو ہی اپنے ایک شعر میں غم حیات بیان کر دی تھی

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے

10 اپریل کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پہلی برسی تھی ان کی برسی پر ان کی فیملی کی طرف سے تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا تقریب کے شرکاء اور مقررین میں سے بیشتر کا تعلق ڈاکٹر خان کے ذاتی دوستوں میں سے تھا یا پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے والے پراجیکٹ ”کے آر ایل“ میں کام کیا تھا تقریب میں نامور شخصیات نے ڈاکٹر خان کے ساتھ گزرے دنوں کی یادیں کیں اور ڈاکٹر خان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کا جہاں ذکر آتا ہے وہاں اس پروگرام کو حقیقت کا روپ دھارنے میں ذوالفقار علی بھٹو، ضیا الحق، نواز شریف، غلام اسحق اور آغا شاہی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا میں حیران تھا اس تقریب سے دو وفاقی وزراء، ریٹائرڈ جرنیلوں اور دفاعی و خارجہ امور کے ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے جہاں ڈاکٹر خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیا الحق اور دیگر شخصیات کی خدمات کو سراہا وہاں ”دانستہ یا نادانستہ“ بھارت کے 5 دھماکوں کے مقابلے میں 6 دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی کلب کا رکن بنانے والے سیاست دان میاں نواز شریف کو بھلا دیا کسی مقرر نے بھولے سے بھی نواز شریف کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن کی طرف سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی صورت میں 5 ارب ڈالر کی پیشکش مسترد کر دی اور اپنے اقتدار کی پروا کیے بغیر چاغی کے پہاڑ میں دھماکے کر کے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا ببانگ دہل اعلان کر دیا۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان سالہا سال سے اپنی رہائش گاہ پر بندروں اور بلیوں کی خاطر تواضع کرتے تھے ہر روز بندروں کی ایک بہت بڑی تعداد محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان سلامی پیش کرنے کے ان کی رہائش گاہ پر آتی ہے لیکن ان کو نہ پا کر مسز ہینی خان ان کو خالی ہاتھ واپس جانے نہیں دیتیں مارگلہ کے پہاڑوں سے قطار اندر قطار بندر اتر کر 207 ہل سائیڈ روڈ پر آتے ہیں اور ڈاکٹر خان کو تلاش کرتے ہیں ڈاکٹر خان نے اپنی زندگی میں ان کی خاطر مدارت کا جو انتظام کر رکھا تھا وہ آج بھی جاری و ساری ہے بھارت میں ڈاکٹر عبدالکلام کی وفات پر ان کی میت کے سامنے جس طرح بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ”با ادب“ کھڑا نظر آیا اور ان کی میت کے قدم چومے اس سے پڑوسی ملک میں ایٹمی سائنسدان کی قدر و منزلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ڈاکٹر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا لیکن ان کے جنازے میں میں صدر و وزیر اعظم سمیت کسی اہم شخصیت نے شرکت نہیں کی سابق وزیر اعظم عمران خان ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لئے بھی نہ گئے البتہ عوام نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جس عقیدت سے رخصت کیا اس سے ان پر 20 سال قبل لگائے تمام الزامات دھل گئے آج وہ لوگ بھی ڈاکٹر خان کی شان میں قصیدے پڑھ رہے ہیں جو اس وقت ان پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی برآمد کرنے اور مال کمانے کے الزامات عائد کرتے تھے : عوام کی طرف سے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں بھرپور شرکت نے ڈاکٹر خان کی سچائی کی گواہی دے دی گئی امریکہ نے ایران اور لیبیا کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لئے کارروائی شروع کی تو پرویز مشرف نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایران اور لیبیا کو نیوکلر ٹیکنالوجی دینے کا الزام ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر ڈال دیا۔

میرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ 36 سال کا تعلق رہا میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بارہا یہ پوچھا کہ ”آپ نے پرویز مشرف کے دباؤ اور چوہدری شجاعت حسین کے اصرار پر کیوں یہ الزام اپنے سر لے لیا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کو بچانے کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی برآمد کرنے کا الزام قبول کر لیا مجھے کہا گیا کہ اگر میں الزام قبول نہ کرتا تو پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا سب کو معلوم ہے انہوں نے ایک ہی جملے میں ساری حقیقت بیان کر دی کہ“ میں تو ایک سرکاری ملازم تھا مجھے اوپر سے جو حکم ملا وہ کر دیا اس کے سوا میرا کوئی رول نہیں تھا۔ بھلا میں سینٹری فیوج مشینیں اٹھا کر تو دنیا میں فروخت نہیں کر سکتا تھا ”

27 مئی 1998ء میری صحافتی زندگی کا اہم ترین دن تھا جب میں نے اور میرے ساتھی دفاعی رپورٹر سہیل عبد الناصر نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے سے ملاقات کے بعد ایک روز قبل ”ایٹمی دھماکہ“ کی مشترکہ ایکسکلیوژو سٹوری فائل کی تھی ہاتھ سے لکھی ہوئی خبر کا مسودہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے 1984۔ 85 سے یاد اللہ ہے جب انہوں نے کولڈ ٹیسٹ کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا تھا راقم السطور نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعزاز میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب میں ”تقریب پذیرائی“ منعقد کر کے ڈاکٹر خان کی خدمات کا اعتراف کیا۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان نے مجھے اور سہیل عبدالناصر کو 27 مئی 1998ء کی سہ پہر ہیڈکوارٹر میں اپنے دفتر بلوا لیا انہوں نے جہاں اس بات کا انکشاف کیا کہ 28 مئی 1998ء کو کیے جانے والے ایٹمی دھماکوں کے پیش نظر پاکستان بھارت سرحد پر ایٹمی وار ہیڈ نصب کر دیے ہیں وہاں انہوں نے بتایا کہ اگر ایٹمی دھماکوں کے وقت اسرائیل نے اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف ”جارحیت“ کے لئے استعمال کیا تو پاکستان اسے اپنے ایٹمی جنگ تصور کرے گا جس میں بھارت کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے۔

میں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اس روز جتنا مضطرب پایا شاید وہ پوری زندگی اس قدر پریشان نہیں تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ 28 مئی 1998ء کی سہ پہر 3 بجکر 42 منٹ پر ایٹمی دھماکے کیے جا رہے ہیں لیکن وہ اس وقت ”چاغی“ کے اس پہاڑ میں ایٹمی توانائی کمیشن کے ان سیاست دانوں کے ہمراہ موجود نہیں ہوں گے اس طرح ان کی ساری زندگی کی محنت کا سہرا ایٹمی توانائی کمیشن کے سر باندھنے کی کوشش کی جا رہی تھی پاکستان کی عسکری قیادت نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو چاغی جانے کے لئے خصوصی طیارہ فراہم کر دیا۔

ساری دنیا جانتی ہے کہ یورینیم کی 95 فیصد افزودگی کا سہرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سر ہے اگر مطلوبہ معیار کے مطابق یورینیم ہی افزودہ نہ ہوتا تو ایٹم بم کیسے بنایا جا سکتا ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی جس قدر خدمات ہیں اس کہیں زیادہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہیں جو 1975 ء میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر پاکستان آ گئے اور دنوں میں پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا خواب شرمندہ تعبیر کر دیا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS