جوانی کی غلط کاریاں کیا ہوتی ہیں؟ یہ حقیقت ہے یا افسانہ


ہمارے ایک دوست تھے جنہیں ”جریان“ کا مسئلہ لاحق تھا تھوڑا سا الٹا سیدھا سوچ لینے سے منی کے قطرے بہنے لگتے اور اکثر اوقات شلوار گندی رہنے کی وجہ سے انتہائی کرب محسوس کرتے تھے۔ پریکٹسنگ مذہبی تھے مگر ہر طرح کی فلمیں دیکھنے کے بڑے شوقین تھے۔ ایک مثال ہے کہ

”ملا کی دور مسیت تک“

تو ان صاحب نے بھی اپنے مولویوں اور خاص طور پر اپنے مرشد خاص جن کا اکثر گفتگو میں تذکرہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ بڑے صاحب تقوی و کرامت اور پہنچے ہوئے بزرگ ہیں جن کی نظر کرم پتھر کو بھی ہیرا بنا ڈالتی ہے سے بھی اپنے مسئلے کا تذکرہ کیا اور درخواست کی کہ خدارا مجھے اس مسئلے سے باہر نکالیں۔ وہ تسبیحات بتانے کے علاوہ اپنی نگاہ کو پاک صاف اور ذہن کو منور رکھنے کے لئے کچھ ذکر اذکار بتا دیا کرتے تھے

” مگر مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دعا و مناجات کیں“

یہاں دوا کا تذکرہ اس لئے نہیں کیا گیا کیونکہ موصوف ایک طویل عرصہ تک روحانی علاج پر کاربند رہے اور دوا کا اس وقت سوچا جب سب تدبیریں ناکام ہو گئیں، ایک دن فرمانے لگے چلو یار کسی مستند میڈیکل ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں اتفاق سے جس ڈاکٹر کے کلینک پہنچے وہ باریش تھے اور وہابی مسلک سے تعلق رکھتے تھے معمول کے چیک اپ کے بعد مسئلہ بتایا کہ

”بغیر کچھ کیے صرف سوچنے سے ہی منی کے قطرے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں مجھے کوئی اچھی سی دوائی دے دیں تاکہ مجھے اس مسئلے سے چھٹکارا مل جائے“

ڈاکٹر صاحب اس بیماری کا سنتے ہی زیر لب مسکرائے اور انتہائی متانت و سنجیدگی سے فرمایا کہ
بیٹا پانچ وقت نماز پڑھا کرو۔ نگاہ نیچی رکھا کرو۔
لڑکیوں کو دیکھتے ہی لاحول پڑھنے کے بعد نظریں نیچے کر لیا کرو۔
جتنی جلدی ممکن ہو شادی کروا لو۔

ذہن میں الٹے سیدھے خیالات جنم لیں تو ان کی کے لیے فلاں تسبیحات پڑھ لیا کرو اور اتنا بندوبست کر لینے کے بعد گندے خیالات تمہارا پیچھا نہ چھوڑیں تو اطمینان رکھیں کیونکہ چور ہمیشہ خزانے کی طرف ہی بڑھتا ہے اور ایک مذہبی شخص کے پاس ایمان کا وافر خزانہ موجود ہوتا ہے جسے ہتھیانے کے پیچھے شیطان مردود نہ جانے کب سے پڑا ہوا ہے۔

مثل مشہور ہے کہ
”آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا“
میڈیکل ڈاکٹر کا تبلیغی گیان سنتے ہی ہمارا دوست فی البدیہ بولا کہ

”جناب ڈاکٹر صاحب شعور کی آنکھ کھلنے کے بعد سے اسی روحانی بندوبست پر کاربند رہا ہوں مگر یقین مانیں مجھے ذرا بھی افاقہ نہیں ہوا میرا خود کا گھرانا بہت زیادہ مذہبی ہے اور میرا ان وظائف پر بہت زیادہ یقین تھا تمام حربے آزما لینے کے بعد ہی تو آپ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور آپ نے بھی وہی کچھ بتا دیا جسے میں پہلے سے ہی جانتا ہوں“

ڈاکٹر صاحب نے انتہائی غصے سے نسخہ لکھا اور باہر جانے کی راہ سجھائی۔ موصوف نے کچھ عرصہ دوائی کھائی مگر کوئی افاقہ نہ ہوا تو ایک دن فرمانے لگے کہ چلو یار کسی ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں، ایک مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس جا گھسے وہ کہتے ہیں نا کہ

” ڈاکٹر کے آستانہ پر پہنچے تو سبھی ایک سے نکلے“

ڈاکٹر صاحب نے مسئلہ سنتے ہی وہی ہدایت دے ڈالیں جس کا بیڑا ایلوپیتھک ڈاکٹر نے بھی اٹھایا تھا اور انتہائی سنجیدگی سے ارشاد فرمانے لگے کہ

”اگر جما ہوا گھی آگ کے قریب جائے گا تو اس نے پگھلنا ہی ہوتا ہے“

ان کے یہ جملے ہمارے دماغوں سے اوپر ہی چھو منتر ہو گئے، وضاحت کرنے کی درخواست کی تو کھسیانے سے ہو کر کہنے لگے

”بڑے شرارتی و بدتمیز ہو تمہیں سارا پتا ہے بس میرے سامنے میسنے بننے کی ایکٹنگ کر رہے ہو“

پھر مزے لے کر بتانے لگے کہ عورت کی وجائنا آگ کی طرح ہوتی ہے اور مرد کا عضو تناسل جمے ہوئے گھی کی طرح کا ہوتا ہے جیسے ہی درمیان میں فاصلہ کم ہوتا ہے تو گھی پگھل جاتا ہے۔ خیر وعظ و نصیحت کے بعد دوائی اٹھائی اور گھر کی راہ لی۔ اب ڈاکٹر صاحب کو کیا خبر کہ جناب ابھی آگ اور گھی تک تو بات ہی نہیں پہنچی یہ کارستانیاں تو ابھی ذہن میں ہی چل رہی ہیں۔

اتنی لمبی تمہید کو ایک واقعہ کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنے کا مقصد معاشرتی جھلک کو نمایاں کرنا ہے تاکہ پتہ چلے کہ وعظ و نصیحت اور تبلیغی گڑھ جیسے معاشروں میں جنس جیسے اہم موضوع سے کیسے نمٹا جاتا ہے؟ اور بنیادی موضوع جس کا تعلق ہمارے اپنے وجود سے ہوتا ہے کو شرم و اخلاقیات کے دھڑ میں اتارنے سے کیسی کیسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں اور مذہبی اجارہ دار بھی اس حقیقت سے واقف ہوتے ہیں کہ ہر طرح کی مذہبی تسبیحات جنسی بھوک کے آگے ڈھیر ہوجاتی ہیں۔

نفس کو پاک کرنے کے نام پر جو روحانی بندوبست کیا جا رہا ہوتا ہے اس کی وقعت سراب نظر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس حقیقت کو مولوی، پیر یا کسی بھی برانڈ کا روحانی گدی نشین بڑے اچھے سے جانتا ہوتا ہے مگر روحانی کاروبار کو چار چاند لگانے کے چکروں میں یہ ”چکر بازیاں“ چلتی رہتی ہیں۔ ہم نے تو بڑے بڑے مولویوں و صاحبزادوں کے برخورداروں کو من چلے پایا ہے اور رنگ رلیاں مناتے دیکھا ہے اور اب تو ویڈیوز بھی منظرعام پر آ چکی ہیں، مدارس میں جو کلچر ہوتا ہے اس کے متعلق آپ قاری حنیف ڈار اور انجینئر محمد علی مرزا کی گفتگو ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اگر روحانی علاج کا دعوی کرنے والے اور بے حیائی کے جن کو ذہنوں سے نکال باہر کرنے کا دعوی کرنے والوں کا خود کا جن خود کے قابو میں نہ رہے تو پھر عام بندہ کیا کرے؟ انتہائی مذہبی گھرانوں میں وہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے جس سے باز رہنے کی باہر تبلیغ چل رہی ہوتی ہے۔ فطرتی تقاضوں کو سمجھنے اور ان کا شعور نوجوان نسل میں بانٹنے کی بجائے ان کو منافق بنانے کا کام بہت تسلی بخش بنیادوں پر کرتے ہیں اور معاملات زندگی سے شعوری سطح پر نمٹنے کی بجائے ہم ان کو نیک بنانے کی راہوں پر چل نکلتے ہیں اور اپنے بچوں کو ایسے بندوں کے حوالے کر کے پر سکون ہو جاتے ہیں جن کے متعلق یہ تصور قائم ہو چکا ہوتا ہے کہ یہاں بچوں کی اصلاح ہوتی ہے مگر کون جانے کہ ان روحانی راہداریوں میں کیا کیا ہوتا ہے؟

یا یوں کہہ لیں کہ بچوں کو تقوی کے پر سونا ماسک پہنا کر منافق بنایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھی چلتی رہے اور مذہب کا بال بھی بیکا نہ ہو۔ سیکس جیسے اہم موضوع پر اوپن ڈسکشن یا عمر کے تناسب سے بچوں کی رہنمائی کے لئے اسکول کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر سیکس ایجوکیشن کو فروغ دینے کی بجائے ہم جیسے روایتی معاشرے آج بھی ماضی کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے ہیں اور موجودہ دور کی بیماریوں و مسائل کا علاج قرون وسطیٰ کے قدیم ترین اوزاروں یا فکریات سے کرنا چاہتے ہیں۔

اس قسم کی رجعت پسندی کا فائدہ معاشرے کے وہ عطائی یا اناڑی اٹھانے لگتے ہیں جو موقع کی تاڑ میں گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان گھات لگانے والوں میں مذہبی پنڈت اور حکماء سرفہرست ہوتے ہیں جن کا کام خوف و ہراس کی فضا قائم کر کے روحانی دکاندار یاں چلانا یا طبی نسخے فروخت کرنا ہوتا ہے۔ جنہیں ہم جوانی کی تباہ کاریاں کہتے ہیں وہ دراصل مذہبی خوف، احساس گناہ اور بناوٹی تقوی کے شاخسانے ہوتے ہیں جن کی مالا جپتے جپتے ظاہری ٹھاٹ باٹ تو قائم رہتی ہے مگر ذہنی الاؤ جلتا رہتا ہے اور دماغ کی کارستانیاں جہاں کہیں جس کے ساتھ بھی داؤ لگتا ہے چلتی رہتی ہیں۔ ظاہر کا بھرم بھی قائم رہتا ہے اور باطنی و ذہنی ”من چلیاں“ بھی چلتی رہتی ہیں، جہاں لوگوں کو ڈنڈے سے سدھارنے اور اخلاقیات کے نام پر ان کے بیڈروم میں گھسنے کا چلن ہو وہاں منافقت تو پیدا ہو سکتی ہے کھرا پن نہیں۔ اسی وجہ ہم منافقت میں خود کفیل ہو چکے ہیں۔

Facebook Comments HS