افسانہ جوہاٹسو


زندگی کے شب و روز اپنی ڈگر پر چل رہے تھے، دن کا آغاز ایک ان دیکھے خوف سے ہوتا کہ نہ جانے کس کس مسئلے اور پریشانی کا سامنا ہو گا۔ مومنہ بچوں کو کالج سکول بھیجنے کی تیاری کراتی، ماں کے ان سے سخت سست مکالمے چلتے، کبھی لاڈ بھرے جملے بھی بچوں کو خوش کرتے، بڑا بیٹا علی اپنی ترنگ میں اٹھتا اس کا چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کا فائنل چل رہا تھا ایک آڈٹ فرم میں آرٹیکل شپ کر رہا تھا، آفس سے واپسی دیر سے ہوتی پھر اپنی سٹڈی میں مصروف ہو جاتا، علی کی ماں سے خوب بنتی دونوں گھریلو امور سے لے کر خاندانی معاملات پر صلاح مشورے اور تبادلہ خیال کرلیتے۔

چھوٹا بیٹا قاسم بی اے آنرز کے آخری سمیسٹر میں تھا وہ من موجی جب دل چاہا یونیورسٹی گیا ورنہ کوئی مسئلہ یا عذر پیش کر کے بستر سے نہ اٹھا۔ کورونا نے بہت سوں کا چلن جیسے یکسر بدل کے رکھ دیا تھا۔ ان لوگوں کو گھریلو زندگی راس آ چکی تھی۔ 77 کے مارشل لاء سے پہلے فسادات ہنگامے اور پھر کرفیو میں ہنگامی حالات میں یہ سب دیکھنا پڑا تھا۔ تعلیمی ادارے بند رہے اگلی کلاسوں میں پروموٹ کر دیا بچوں کی موج ہو گئی۔ ایسی ہنگامی صورتحال ماؤں کو بھی بھلی لگتی کہ بچے اردگرد ہی اچھے ہیں کہیں باہر گھومنے پھرنے یا آوارہ گردی میں نہ پڑ جائیں۔ البتہ معمولات بحال ہو جائیں۔ تو یہی بچے گھر میں ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ چھوٹی بیٹی آمنہ پڑھائی میں مصروف رہنے والی اس نے نویں اور دسویں میں اچھے نمبر حاصل کر کے خاندان میں بڑی تعریف و توصیف جمع کی۔ اسے شہر کے معروف کالج میں داخلہ مل گیا اور وہ ان دنوں بڑے جوش و خروش سے اس نئے سفر پر گامزن تھی۔

احمد اور مومنہ اب بڑھاپے میں قدم رکھ رہے تھے۔ مومنہ کا دن بہت جلد چڑھ جاتا تھا۔ بچوں کو بھیجنے کے بعد ناشتہ کرتی پھر کھانا پکانے اور کپڑے دھونے سے فارغ ہوجاتی۔ یہ سارا کام دس بجے سے پہلے تک مکمل ہوجاتا تھا۔ احمد کی ڈیوٹی شام چار سے رات بارہ بجے تک ہوتی اس لئے وہ اور اس کے بوڑھے والد بھی ساتھ رہتے تھے۔ رات دیر سے سونے کے باعث دس بجے دونوں کی آنکھ کھلتی۔ ان کے ناشتے سے فراغت کے بعد جیسے مومنہ کا آدھا دن گزر چکا ہوتا۔

مومنہ اور احمد کی شادی کو ستائیس برس بیت چکے تھے اس دوران مختلف اتار چڑھاؤ، سرگرم حالات اور تلخ و شیریں یادوں سے بھرے لمحات گزرے۔ دونوں ایک دوسرے سے ایک معمول کی مفاہمت اور انڈرسٹینڈنگ سے بچوں کی پسند اور ناپسند گھریلو ضروریات کو مدنظر رکھتے زندگی کا پہیہ دھکیلتے جا رہے تھے۔ ہر ایک کی طرف سے دوسرے کے ساتھ کبھی کچھ غلط ہو جاتا، بہت کم ہوا کہ کسی بھی فریق نے بڑھ کر معذرت کی ہو، ہاں البتہ یہ ضرور تھا مومنہ بات چیت میں پہل کر کے پیدا ہونے والی تلخی کو ختم نہیں تو کم کرنے کی کوشش کرتی۔

عورت کے دل میں جنم لینے والی غلط فہمی کا مومنہ بھی شکار رہتی جس سے ماحول میں کھچاؤ اور کشیدگی پائی جاتی۔ احمد ایسی صورتحال میں جھنجھلا جاتا۔ مومنہ ایک روایتی قسم کی سگھڑ اور کفایت شعار خاتون تھی اس کی اسی عادت نے احمد کو ایک اچھے بھلے بڑے گھر کا مالک بنا دیا تھا، چونکہ یہ ایک بڑا اور کسی حد تک احمد کی بساط سے زیادہ تھا اس لئے کئی برس بیت جانے کے بعد بھی نامکمل تھا۔ جس پر بچے کبھی رنجیدہ ہوتے، کبھی گلے شکوے کرتے اور اب بڑے ہو کر متبادل مشورے دینے لگے تھے۔ احمد نے جب سے مکان بنایا تھا وہ اس تعمیر سے لے کر یہاں منتقل ہونے کے بعد تک ایک عجیب سے ذہنی دباؤ کا شکار رہ چکا تھا، لاکھوں روپے قرض بھی اسے ایک موقع پر ڈپریشن میں مبتلا کر گیا۔

جہاں اپنے گھر کا احساس ایک اطمینان بخش کیفیت کا باعث تھا وہیں قرض خواہوں کے تقاضے اور تکرار اسے ایک ذہنی خلش میں گھلے جا رہی تھی۔ کچھ برس لگے اس کیفیت سے نکلنے میں، جس میں ایک انتہائی قریبی دوست کے قرض کا بوجھ تو اتار دیا لیکن ساتھ میں دوستی سے بھی کندھے جھاڑ لئے۔ احمد کو اس کا دکھ ضرور تھا، لیکن اس کے دوسرے دوستوں کا کہنا تھا قرض لے کر واپسی میں تاخیر کوئی انوکھی بات نہیں اکثر ایسے معاملات میں وقت لگ جاتا ہے، اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ دوستی کو امتحان میں ڈالا جائے۔ مگر بعض کا استدلال تھا ایسے قرض سے اجتناب کیا جائے جس سے قریبی تعلق متاثر ہونے کا احتمال ہو۔

احمد کے کنبے کا دین کی طرف جھکاؤ بڑھ گیا تھا، انسان جب پریشانیوں آزمائشوں مشکلات سے گزرتا ہے تو خالق کائنات کی یاد بھی اسے گھیرتی ہے اور وہ بدل بھی جاتا ہے، بہت سوں کو تکلیف میں بھی کچھ سجھائی نہیں دیتا، لیکن احمد کا موقف تھا کہ آپ کسی کو اپنا سہارا مان لیں اور اس کی یاد، موجودگی کے احساس سے ہی انسان کو حوصلہ ملے، وہ خود کو مضبوط تصور کرے، پھر اسے وہ کوئی بھی نام دے، درحقیقت وہی مسیحا اور رب ہے۔ احمد کہتا کہ مریض کو جس دوا سے شفا ملے، وہی اس کے لئے موافق اور سازگار ہوتی ہے۔

احمد کے بچے اکثر بحث کرتے کہ آپ کے ساتھ والے اور جونیئر کہاں سے کہاں پہنچ گئے، ترقی کے دنیاوی پیمانے عالی شان گھر گاڑی اور رہن سہن سب کچھ مختلف ہے، ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنے والے راحت اور آسائش سے بھری زندگی گزارتے ہیں۔ ہم گلی محلے سے نکل کر سوسائٹی میں آ گئے مگر ہماری زندگی خاص کر گھریلو ماحول اب بھی نہیں بدل سکا۔

یہ سوالات بعض اوقات احمد کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتے، مومنہ اور وہ اگرچہ اس بات کے قائل تھے کہ انسان کو اپنے دستیاب وسائل میں گزر بسر کرنا چاہیے بہتر کے حصول کے لئے کوشش اور دعا ضرور کرتے رہنا چاہیے۔ دن گزر رہے تھے مگر بدل نہیں رہے تھے یہ بچوں کی سوچ تھی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ بچے بڑے ہو کر تو کچھ احساس کرنے لگے کہ انہیں بھی باپ کے ساتھ ہاتھ بٹانا ہو گا۔ لیکن وہ یہ بھی یہ کہہ دیتے کہ اس سب میں بہت وقت لگے گا تب تک حالات کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے، وہ اپنے باپ سے لگائی توقعات سے دستبردار نہیں ہو رہے تھے جس کی فطری عمل بھی ہے۔

احمد کے والد بھی بچوں کو صبر اور شکر کی تلقین کرتے رہتے، یہ بھی جیسے کتابی باتوں کا اثر دکھاتی، آج سن لی اور چند دن بعد پھر وہی موضوع جاری رہتا۔ احمد نے بھی صاف صاف کہہ دیا تھا، جیسے ہے اس پر اکتفا اور گزارا کرنا ہو گا۔ عمر کے اس حصے میں نئے سرے سے کوئی ملازمت تلاش کرنا یا کوئی کاروبار کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔

وہ ان دنوں ایک بار پھر جیسے ڈپریشن میں چلا گیا تھا، گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف عوارض بھی پال رکھے تھے جن میں دل کا مرض بھی لاحق تھا اس نے آفس اور گھر کے ماحول کی تلخی بڑی کوشش سے اپنے ذہن سے اتاری تھی جس کے بعد ایک طمانیت سے بھرپور کیفیت تھی مرضی سے کام کرتا، معاملات کو زیادہ سوار نہ کرتا۔ دونوں محاذوں پر کام بڑے پرسکون انداز میں نمٹاتا۔ کسی مشکل میں زیادہ پریشان نہ ہوتا جس پر ایک خوشی کا تاثر اسے ہواؤں میں اڑاتا۔

وہ دوسروں کو تسلی اور تشفی دیتا کہ کوئی مسئلہ نہیں اس سب سے نکل جائیں گے۔ مومنہ کی بیماری کا ایک بڑا مرحلہ بھی پورے خاندان کے لئے تکلیف دہ دور تھا جس میں اسے شدید ذہنی مسائل سے گزرنا پڑا۔ بہت جتن کیے ، کئی طرح کے علاج کروائے گئے۔ رب تعالیٰ نے اپنا کرم کیا، نہ صرف مومنہ اس میں کامیابی کے ساتھ نکل کر صحت یاب ہوئی بلکہ پورا گھرانا ایک سکون اور عافیت میں آ گیا۔ اس دور میں بھی احمد بہت پرامید اور مطمئن رہا کہ اس سب سے نکل جائیں گے نہ جانے کیوں حالات کے تھپیڑے انہیں بار بار مشکلات اور پریشانیوں کے سامنے لا کھڑا کر دیتے وہ کچھ نہ کچھ رکاوٹیں محسوس کرنے لگ جاتے۔

احمد جہاں گھر میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا وہیں بچوں کا مزاج اسے اکثر دکھی کر دیا جب وہ کسی نہ کسی معاملے میں ادھورے پن کا تاثر دیتے، احمد شکر کا درس دیتا وہیں خود سے کبھی سوال کرتا کہ کہیں اس سے غفلت کوتاہی یا سستی ہو گئی اس نے بہتر زندگی کے حصول کی خاطر کوئی تگ۔ و دو نہیں کی، وہ اپنے کام میں شاید ماہر اور قابل نہیں تھا کہ پیچھے رہ گیا۔ اس کی زندگی میں سب آسائشیں آئی تھیں، ایسا نہیں کہ اس گھرانے نے کوئی بہت مفلسی اور برے دن دیکھے تھے۔

درحقیقت اچھے دنوں سے ایک سادہ زندگی کی طرف لوٹنے کو پہلے بچوں نے قبول کر لیا مگر اردگرد کے ماحول نے انہیں بھی اکسانا شروع کر دیا تھا۔ یہی سوچ کبھی مومنہ اور کبھی احمد کو بھی جھنجھوڑنے لگتی۔ مومنہ کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ نہ سہی ضروریات زندگی بہتر طریقے سے پوری ہوتی رہیں، حالانکہ وہ سب چیزیں نہ صرف استعمال کرتے بلکہ کھاتے اور پہنتے بھی تھے لیکن انسان کے اندر پائے جانے والی خلش کہ فلاں کے پاس یہ ہے میرے نہیں، ایسے ہمیشہ دوڑاتی رہتی اور غلط کاموں پر اکساتی رہتی ہے۔ احمد کو اکثر لگتا کہ شیطانی سوچ کہیں اسے اور سب گھر والوں کو لے ڈوبے گی۔

اب احمد کا رویہ بھی بدلنے لگا اور اس میں تلخیص سی نمایاں ہونے لگی۔ وہ اپنے آفس میں پیش آنے والے امتیازی سلوک اور مراعات میں کمی پر وقت بے وقت بولتا اور کڑھتا رہتا۔ اسے بھی محسوس ہوتا کہ کبھی کبھار وہ غیر ضروری یہ سب کرتا ہے۔ اس کے والد ہمیشہ اسے نہ صرف تسلی دیتے بلکہ صبر اور شکر کا درس پڑھاتے۔ جیسا احمد اپنے بچوں کو کہتا تھا۔ والد کا کہنا تھا جو زمانہ چل رہا ہے اس میں دستیاب وسائل میں گزارا کرو۔ اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی سبب بنا دے گا۔

احمد بھی اس بات پر یقین رکھتا اور اس کے بے شمار کام ہوتے رہتے لیکن اسے ایک خلش تنگ کرتی رہتی کہ کہیں نہ کہیں اس کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی ہو رہی ہے، اس کی اہلیت کے مطابق اس سے سلوک نہیں برتا جا رہا ، وہ مزاج میں پائے جانے والے صبر کے مقابلے میں اپنی اس سوچ کو لا کھڑا کرتا۔ یہ وہ مقام ہوتا جب وہ کبھی کبھی خود کو بے بس اور ایک عجیب سی کیفیت میں پاتا۔ اس صورتحال میں کبھی بالکل مطمئن ہو جاتا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

بچوں کا مستقبل بھی اچھا ہو گا۔ اور معاملات بھی حسب منشاء طے پا جائیں گے۔ لیکن ایسا بھی ہوتا کہ ہر کسی پر شدید غصہ آتا۔ اور وہ باقاعدہ زبانی کلامی جھڑپ پر اتر آتا۔ اس کا دل کرتا اپنے آفس والوں سے بھی لڑ پڑے ان سے اپنا حق مانگے بلکہ وہ ساتھیوں کو اس بات پر آمادہ کرتا اور قائل کرنے کی کوشش کرتا۔ ماضی میں ٹریڈ یونین سے وابستگی بھی اس کی شناخت کا حصہ رہ چکی تھی۔ لیکن اب احمد کو لگتا کہ ایسا کوئی عمل اب لاحاصل ہے کسی نے کچھ نہیں کرنا اب لوگ بات کرنے کی ہمت اور حوصلہ کھو بیٹھے ہیں انہیں صرف سوشل میڈیا ہی بھڑاس نکالنے کا ذریعہ لگتا ہے۔

وہاں بھی انتہائی محتاط رہتے ہیں مطلب اپنی ذات کو نقصان پہنچنے کا احتمال بھی ہو تو کچھ نہیں بولتے نہ لکھتے ہیں۔ اظہار رائے کے بھی چیمپئن خود کو کسی مشکل صورتحال سے دور رکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ محض دوسروں پر تنقید طنز اور مزاح کا آسان ہتھیار تھام کر انقلاب برپا کیا ہوتا ہے۔ احمد کو لگتا کہ یہ سب بھی محتاط اور ڈرے ہیں، انہیں اپنی ملازمت چھن جانے کا خوف لاحق رہتا ہے۔

اچانک ایک روز احمد کے دماغ میں خیال آیا اس ساری صورتحال سے نکل جائے، وہ کئی برسوں سے ملازمت بدلنے، کاروبار کرنے یا کوئی اور مختلف روزگار اختیار کرنے کا سوچتا رہا ہے۔ کبھی کوشش بھی کی مگر کوئی کامیابی نہ ملی۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب مومنہ سے اختلافات چل رہے تھے، دوسرے شہر نوکری کا خیال بھی آیا تاکہ گھر سے دور رہا جائے۔ لیکن اب وہ ایسی کسی سوچ سے بھی دور تھا۔ وہ اپنی ذہنی حالت اور نفسیاتی کیفیت سے اکثر گھبراتا مگر پھر خود کو تسلی دیتا اور سب کچھ معمول پر آ جاتا۔ یہ سب کچھ اس کے اندر چل رہا تھا کبھی کبھار گفت و شنید میں دوسروں تک بھی اظہار ہو جاتا تھا۔

آج وہ سوچنے لگا کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ بخارات بن کر اڑ جائے، اور اس ساری صورتحال، جس میں معاشی حالات، بچوں کے مسائل تقاضے، دفتر کا ماحول، اس سب سے غائب ہو جائے۔ کسی کو کچھ معلوم نہ پڑے کہ احمد کہاں چلا گیا، کیا یہ سب ممکن تھا، اچانک سے لاپتہ ہونے کا خیال کیسے ذہن میں آیا۔

اس نے سوشل میڈیا پر ایک آرٹیکل پڑھا، جاپان میں لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ بہت ہو گیا۔ اب بغیر کوئی نشان چھوڑے اپنی زندگیوں سے ہی غائب ہو جایا جائے۔ وہ رات کے اندھیرے میں اپنے گھر نوکریوں اور خاندانوں کو چھوڑ کر ایک نئی زندگی شروع کرنے کہیں نکل جاتے ہیں۔ اور اکثر کبھی پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتے، ان لوگوں کو جوہاٹسو کہا جاتا ہے، جاپانی زبان میں اس معنی عمل تبخیر یا بخارات بن کر اڑ جانا ہے۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar