بوڑھے کو لوٹنے والا ایک چور اور ایک دوسرا ایماندار نوجوان
سارا دن کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے میں معمول سے کچھ زیادہ تھک چکی تھی۔ میں شام کو اپنے نڈھال اور بوجھل جسم اٹھائے اپنے گھر کی گلی میں آہستہ آہستہ ڈگ بھرتی ہوئی آ رہی تھی۔ جیسے ہی گیٹ کا پٹ کھولا تو میں نے دیکھا کہ گھر والے گیراج میں تیار کھڑے کہیں جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ سب کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں سے خوشی امڈ رہی تھی۔ میں سب کو سپاٹ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اچانک ننھی نے مجھے جھنجھوڑا اور کہا:
”آپی آپ نے مجھے مبارک باد نہیں دی اور اب جلدی سے تیار ہو کر ہمارے ساتھ چلیں“
میں نے بوجھل سی آواز میں صرف اتنا کہا کہ کس بات کی مبارک اور کہاں جانا ہے؟
ننھی نے اپنی پر خوش آواز اور چہکتے ہوئے لہجے میں کہا،
”میں نے نویں میں پورے نمبر لیے ہیں اور اب ہم ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جا رہے ہیں“
میں نے یہ بات سنتے ہی اپنے بازو اس کے گرد حائل کر دیے اور میری ساری تھکاوٹ یک دم ختم ہو گئی۔
میں اسی حلیے میں گھر والوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اور یہ سوچنے لگی کہ سچ کہتے ہیں کہ اپنوں کی خوشیاں سب غم اور تھکاوٹ کو بھلا دیتی ہیں۔
ہم جب بھی کہیں باہر جاتے تو ننھی میرے ساتھ ہی بیٹھتی۔ اس نے مجھے کبھی بھی باہر کے مناظر سے محظوظ نہیں ہونے دیا۔ میں جب بھی کبھی باہر کے مناظر کو دیکھ کر کچھ لکھنے کا سوچتی تو فوراً ہی ننھی کا کوئی سوال تیار ہوتا۔ آج میں باہر ہی دیکھ رہی تھی کہ ایک بزرگ جو بیچارا اپنے ہاتھ میں رومال اور کچھ قلم اٹھائے بیچ رہا تھا۔ اچانک اس کے پاس ایک نوجوان آیا اور اس کے ہاتھ سے قلم والی ٹوکری چھینتے ہوئے اپنی سائیکل پر ہوا کی رفتار سے بہت دور نکل گیا۔ اس جھٹکے کی تیزی کی وجہ سے وہ بزرگ ساتھ کھڑی گاڑی میں جا لگے۔ یہ منظر دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں اور میں دل ہی دل میں اپنے ملک کے نوجوانوں کی سوچ اور گھٹیا حرکات پر کڑھنے لگی کہ یہ خود تو کاہل اور سست ہیں ہمت اور طاقت ہونے کے باوجود بھی کچھ کماتے نہیں ہیں۔ ابھی میں یہی سوچ رہی تھی کہ ننھی نے مجھے دوبارہ مخاطب کیا کہ آپی کیا بات ہے آپ نے مجھے مبارک باد پہلے کیوں نہیں دی میں نے آپ کو میسج بھی کیا تھا؟
میں نے حیران ہو کر کہا اچھا! ہاں وہ سارا دن مصروفیت کی وجہ سے میسج نہیں دیکھ سکی۔ میں نے بیگ سے موبائل نکالا تو پتا چلا کہ اس کی چار جنگ ہی ختم ہے۔ موبائل ابھی ہاتھ میں ہی تھا کہ ننھی مجھے اپنی ہم جماعت لڑکیوں کے نمبر بتانے لگ گئی۔ میں نے لبوں پر جھوٹی مسکراہٹ سجائی اور شاباش شاباش کہنے لگی لیکن اس بزرگ والے واقعے نے مجھے اندر ہی اندر بہت پریشان کر دیا تھا۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد گاڑی ”ریسٹورنٹ“ کے سامنے جا کر رکی۔
والد صاحب نے گاڑی سے اترتے ہی میری طرف کا دروازہ بھی خود آگے بڑھ کر کھول دیا۔ میں ان کی عاجزانہ شخصیت سے ہمیشہ متاثر ہوتی تھی کہ اتنے بڑے عہدے پر ہونے کے باوجود ان میں ذرا بھی نخرہ اور شوخی نہیں تھی۔ مال کی درمیانی روش سے گزرتے ہوئے ہم لفٹ کی جانب بڑھے۔ لفٹ ابھی مصروف تھی اور ہم وہاں کھڑے انتظار کرتے ہوئے دائیں بائیں لوگوں کو آتے جاتے دیکھنے لگے۔ وہ پانچ دس منٹ ننھی کے لیے برس کے برابر ہو گئے۔ ننھی بہت بے چین طبیعت کی مالک تھی۔ وہ بار بار سوال کرتی۔ وہ کبھی پاپا سے پوچھتی اور کبھی مجھے تنگ کرتی کہ لفٹ کب کھلے گی۔
ننھی کی اس معصومیت اور بچگانہ حرکتوں پر مجھے کبھی کبھار غصہ آ جاتا لیکن امی کو ہمیشہ اس پر پیار ہی آتا۔ امی نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ بس بیٹا ابھی آجاتی ہے لفٹ، جیسے ہی لفٹ نیچے آئی ننھی سب سے پہلے کود کر لفٹ میں سوار ہوئی۔ اوپر ریسٹورنٹ میں پہنچ کر کچھ اور ہی منظر تھا۔ چمکتی دمکتی رنگ برنگی تلے کی کرسیاں موجود تھیں۔ ساتھ ہی ایک قدیم وقت کا دروازہ تھا جو کہ ریسٹورنٹ کا داخلی دروازہ تھا۔ اس کو دیکھتے ہی ذہن میں خیال آیا کہ جیسے یہ دروازہ کسی بادشاہ کے محل سے لایا گیا ہو چنیوٹی طرز کا بنایا گیا یہ دروازہ اپنی خوبصورتی اور پائیداری میں اپنی مثال آپ تھا۔ اس دروازے سے داخل ہونے کے بعد ایک با ادب فی میل ویٹر نے بڑھ کے ہمیں سلام کیا۔ گھر کے افراد کی تعداد بتانے کے بعد اس نے ہمیں چھے کرسیوں والے مختلف میزوں کی طرف اشارہ کر دیا۔ ہم نے ایک میز منتخب کی اور بیٹھ گئے۔
زمین پر ہلکے بھورے رنگ کی ٹائلیں آویزاں تھیں اور ہر ایک ٹائل مربع شکل کی تھی ہر ایک ٹائل کے اردگرد لگے بھورے رنگ کا حاشیہ پھرا ہوا تھا۔ ٹائل کے اختتام پر اور اگلی ٹائل کے آغاز پر مزید گہرے رنگ کے چوکور ڈبے بنائے ہوئے تھے جو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ کرسیوں کا رنگ زمین کے رنگ جیسا ہی تھا۔ بھورے رنگ کے فرش کے اوپر گہرے بھورے رنگ کی کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ ہر میز کی کرسیوں کا ڈیزائن دوسرے میز کی کرسیوں سے مختلف تھا۔ سب میز اپنی خوبصورتی کی منہ بولتی داستان بنے ہوئے تھے۔
میز پر سب کے بیٹھتے ہی ننھی نے بیٹھ کر ’مینیو کارڈ‘ پکڑا اور دیکھتے ہی فوراً چائنیز کھانے کی فرمائش کر دی اور سب ننھی کی بچگانہ حرکتوں پر ہنسنے لگے۔ لگ بھگ پندرہ بیس منٹ کے بعد میز پر کھانا لگا دیا گیا۔
میں نے اپنی کرسی پر ساتھ ہی موبائل رکھ دیا اور گھر والوں کے ساتھ ہنسی خوشی کھانا کھانے اور باتیں کرنے میں مصروف ہو گئی۔ ننھی نے حسب معمول پلیٹ میں کچھ کھانا بچا دیا۔ پاپا نے اس کو سمجھایا وہ اس طرح وقتاً فوقتاً سب کو سمجھاتے رہتے۔ سب ننھی کی طرف متوجہ ہو گئے اور ننھی اپنی پلیٹ خالی کرنے میں لگ گئی میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور گہرا سانس لیتے ہوئے چھت کی طرف دیکھنے لگی۔
چھت کا ڈیزائن اتنی نفاست سے بنایا گیا تھا کہ میری نظریں وہیں رک گئیں لوہے کے چھوٹے سے سانچے کے اندر ایک سو واٹ کا پیلا بلب روشن تھا جو زمانہ قدیم کے کسی حسین چراغ کی یاد دلاتا تھا۔ گہرے براؤن رنگ کی جالیوں کو چھت پر آویزاں کیا گیا تھا۔
چراغ نما بلب کی روشنی چھت پر پڑتی ہوئی بہت حسین منظر پیش کر رہی تھی۔ میں اس سوچ میں مگن تھی کہ کاریگر نے کتنی مہارت سے اس چھت کی نفاست کو مزین کیا ہے۔ میں چھت کی طرف ہی گہری نظریں ٹکائے دیکھ رہی تھی کہ ایک دم سب نے یک زبان ہو کر ’شکر الحمدللہ‘ کہا تو میں نے چونک کر دیکھا تو پتا چلا کہ ننھی اپنی پلیٹ صاف کر چکی ہے۔
ننھی نے اپنا چھوٹا سا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھمایا اور ہم باہر کی طرف چل دیے۔ ہم لفٹ کے قریب ہی پہنچے تھے کہ ایک مردانہ آواز نے ہم سب کو چونکا دیا۔ ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک نوجوان ویٹر ہماری طرف متوجہ تھا۔ اس نے موبائل میرے پاپا کی طرف بڑھایا اور کہا کہ یہ آپ کا موبائل ادھر ہی رہ گیا تھا۔ پاپا نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اسے انعام سے نوازا۔ میری پرانی عادت تھی کہ میں جہاں بھی جاتی اٹھتے ہوئے پیچھے ضرور دیکھ لیتی کہ کہیں کچھ رہ تو نہیں گیا۔ آج دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد میں اپنی یہ عادت دہرانا بھول گئی۔ زندگی میں پہلی بار کی گئی اس غلطی پر مجھے بہت بڑا سبق مل چکا تھا۔
اس ویٹر کی ایمانداری نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ واپسی پر گاڑی میں بیٹھ کر میں اسی سوچ میں مگن ہو گئی۔ پہلے مجھے اس بے ایمان لڑکے کا خیال آیا جس نے بزرگ سے دو تین سو کے قلم چھین لیے تھے پھر مجھے اس ایماندار ویٹر کا خیال آیا جس نے میرا ساٹھ ہزار کا فون چھپانے یا خود رکھنے کے بجائے مجھے واپس لوٹا دیا۔ شاید دنیا کا نظام یونہی اچھے اور برے لوگوں کے ملے جلے رویے سے ہی چل رہا ہے۔ اس سوچ میں میری آنکھ لگ گئی اور نا جانے گاڑی کن کن راستوں سے ہوتی ہوئی گھر کے پاس پہنچ گئی۔ گاڑی سے اترنے سے پہلے ننھی نے مجھے ہلایا اور میں نے ایک دم اپنی بوجھل آنکھیں کھولتے ہوئے دیکھا کہ ہم گھر پہنچ بھی گئے۔


