پرتشدد حربوں کے مہلک نتائج!


قومی زندگی کے اس موڑ پر پہ جب ہماری مملکت پیراڈائم شفٹ کے نازک مراحل عبور کر کے ایک ساورن ریاست کی صورت میں ڈھلنے کے قریب آن پہنچی تھی، ایسے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی پرتشدد مزاحمتی تحریک مملکت کو انتشار کی طرف دھکیلنے کے علاوہ قوم میں داخلی تقسیم کو بڑھا کر سویلین بالادستی اور آئین کی حکمرانی کی راہ کھوٹی کر رہی ہے، خان کے اس جارحانہ طرز عمل کے نتائج آئینی نظام کے مستقبل پر تباہ کن اثرات چھوڑنے کے علاوہ ماضی کی طرح ایک بار پھر عالمی طاقتوں کو ہمارے اندرونی امور میں مداخلت کی دعوت بھی دے رہے ہیں، جیسے 1968 میں بھڑکنے والی عوامی لیگ کی پرتشدد تحریک کے ردعمل میں فوجی کارروائی نے عالمی طاقتوں کو ہماری عظیم مملکت کو دولخت کرنے حوصلہ دیا اور جس طرح 1977 کی ذوالفقار علی بھٹو مخالف تحریک نے مارشل لاء کی راہ ہموار بنا کر باقی ماندہ ملک میں امریکہ کو قدم جمانے کی ایسا نادر موقعہ دیا تھا جس نے پینتالیس سالوں سے ہماری فکری اور سیاسی آزادیوں کا پاءبجولاں رکھا ہوا ہے۔

اب جب خوش قسمتی سے افغانستان سے امریکی و نیٹو فورسیز کے انخلاء کے بعد ہماری سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی کے لئے صحت مند ارتقاء کی نئی راہیں کشادہ ہوئیں تو منظم قوم کی طرح ان حالات سے فائدہ اٹھا کر دنیا کے نقشہ پہ ایک ساورن ملک کے طور پہ ابھرنے کی بجائے ہم پھر اپنے داخلی تضادات میں الجھ گئے گویا مقبول سیاسی قیادت کی خودغرضی نے ایک بار پھر ہمیں فنا و بقاء کے خط امتیاز پہ لا کھڑا کیا۔ حالات اس لئے بھی زیادہ تشویشناک نظر آتے ہیں کہ حکمراں اشرافیہ کے پاس ان پیچیدہ تنازعات کو پرامن طریقوں سے سلجھانے کا کوئی قابل عمل فارمولہ موجود نہیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت ہمیں پانامہ سکنڈل کی کوکھ سے جنم لینے والی تبدیلیوں کے بدترین مضمرات سے نکلنے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت تھی لیکن شومئی قسمت خان آج پھر اسی طرح کے کسی ماورائے آئین بندوبست کے ذریعے اقتدار میں حصہ پانے پہ مصر ہیں، جیسے دو ہزار سترہ اور اٹھارہ میں عدالتی فعالیت سے آئینی نظام کو توڑنے کر حاصل کیے گئے تھے تاہم وہ نہیں جانتے کہ ان کی یہی غیرفطری خواہشیں مملکت کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جانے کا سبب بنیں گی۔

شاید اسی الجھن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چند روز قبل ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم نے اپنی پہلی غیرمعمولی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ قومی سلامتی کے لئے سیاسی و معاشی استحکام کے علاوہ آئینی اصولوں کے مطابق امور مملکت چلانا بھی ازحد ضروری ہے بصورت دیگر انتشار بڑھتا جائے گا لیکن عمران خان ماورائے آئین طریقوں سے حصول اقتدار کی سوچ سے پیچھے ہٹتے نظر نہیں آتے، اس وقت یہی وہ بنیادی مخمصہ ہے جو ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے وسیع تر قومی اتفاق رائے کی راہ میں حائل ہو گیا ہے، حیران کن امر یہی ہے کہ کسی شفاف آئین و قانونی نظام کے تحت بائیس کروڑ عوام کی نظروں کے سامنے قومی امور کو نمٹانے سے گریز ہی ہمیشہ ہماری ذہنی آزادیوں اور قومی خودمختاری کو پراگندہ رکھنے کا ذریعہ بنا اور یہی غیرآئینی وظائف ہی ہمیشہ ان سازشی تھیوریوں کے کلچر کو فروغ دیتے رہے جو سیاسی و عسکری لیڈرشپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے علاوہ قوم اور قیادت میں خلیج بڑھانے کا سبب بنے، جس سے عالمی قوتوں نے فائدہ اٹھا کر ہماری حاکمیت اعلی کو غصب کیا۔

کہنہ مشق سیاستدان رضا ربانی کے بعد اب مولانا فضل الرحمن بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم آئینی فریم ورک کے اندر رہ کر ہی ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں، ماورائے آئین فیصلوں سے معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھ جائیں گے لیکن کوئی کج کلاہ اس بنیادی نقطہ پہ قومی لیڈرشپ کو متفق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ارسطو نے کہا تھا ”سماجی نظم و ضبط تہذیب کا سرچشمہ اور سیاست معاشرے کو متشکل کرنے والے طبقات میں مفاہمت کا آرٹ ہے“ مگر افسوس کہ ہمارے ماحول میں چہار سو جنون استرداد کی گونج سنائی دیتی ہے، کوئی کسی دوسرے کو راہ اور فیس سیونگ دینے کو تیار نہیں۔

پی ڈی ایم کی قیادت، وفاقی گورنمنٹ اور فوجی اسٹبلشمنٹ کی طرف سے کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے واضح انکار کے باوجود عمران خان کی حکمت عملی بھی یہی نظر آتی ہے کہ وہ افراتفری پیدا کر کے ملک میں ایمرجنسی لگوا کے انتظامی ڈھانچے اور پورے سیاسی نظام کو ماورائے آئین بندوبست کی طرف دھکیلیں، اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی عالمی اور علاقائی طاقتیں پاکستان کو آئینی نظام کی طرف پلٹنے سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

جی ٹی روڈ کے راستے لاہور سے اسلام آباد کی طرف محو خرام آزادی مارچ کو رات ڈھلتے ہی تحلیل کر کے خان خود لاہور اور کارکن گھروں کو پلٹ جاتے ہیں، اگلی صبح یہ کارنوال نئے شرکاء کے ساتھ اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اس لئے لانگ مارچ میں ابھی تک وہ موومینٹم تو پیدا نہیں ہوسکا جس کی قوت رفتار مقتدرہ کو کسی ماورائے آئین بندوبست پہ مجبور کر سکے لیکن اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود سوشل میڈیا اور مرکزی دھارے کے ذریعے ابلاغ پہ چھائی یہ مہلک سر گرمی بتدریج قوم کو ذہنی تقسیم کی طرف دھکیل رہی ہے۔

اگرچہ آزادی کوئی سیاسی چیز نہیں بلکہ ایسی کیفیت ذہنی جو لوگوں کو مربوط کرتی ہے لیکن اس کے برعکس عمران خان کا آزادی مارچ کا مقصد قوم کو ذہنی تقسیم میں مبتلا کر کے مملکت کو معاشی خود مختاری اور آئینی نظام کے حصار میں پناہ لینے سے روکنا ہے، یعنی یہ موجودہ کشمکش ہمیں فرضی حقائق کے جال میں پھنسا کر ذہنی آزادیوں سے دور لے جانے کا ذریعہ بنے گی، مگر عمران اپنے کھیل کو زیادہ منطقی اور پر اثر بنانے کے لئے آزادی مارچ کے دوران بھی بیک ڈور رابطوں کے ذریعے مقتدرہ کو انگیج رکھنے کی حکمت عملی کے ذریعے ایک طرف اپنے ارادوں کو کیمو فلاج اور دوسری جانب مخالفین کو غافل رکھ کر سیاسی انتشار بڑھانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

عمران خان کارکنوں کے حوصلے بڑھانے کی خاطر اپنے ٹویٹر پیغام میں نرم یا گرم انقلاب لانے کی نویدیں سنا رہے ہیں، یہ سوالات اہم ہیں کہ عمران اگر بیلٹ بکس کے ذریعے نرم انقلاب لا سکتے ہیں تو پھر انہیں اداروں سے ٹکراؤ کی طرف دھکا دے کر ملک و قوم کو کسی گرم انقلاب کی آگ میں جھونکنے کی کیوں سوجھی؟ کیا کوئی بھی بالغ النظر قومی لیڈر صرف دس ماہ کی دوری پہ کھڑے انتخابات کا قبل از وقت مطالبہ لے کر ملک کو انتشار، افراتفری اور عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے؟

حالانکہ موجودہ حالات میں عمران خان اگر آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری انداز میں پی ڈی ایم کی کمزور گورنمنٹ کی پالیسیوں کا نظری محاسبہ کرتے تو عوام میں ان کی حمایت بڑھتی جو نہ صرف ان کے ووٹ بنک میں اضافہ کا سبب بنتی بلکہ اسی عوامی سپورٹ کے بل بوتے وہ قومی پالیسیوں کو اپنے سیاسی معیارات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلیتے لیکن وہ دانستہ اپنی جماعت کو ریاست سے تصادم کی طرف بڑھا کے ایک تو پی ٹی آئی جیسے بہت ہی قیمتی سیاسی اثاثہ کو تباہ کرنے پہ تل گئے دوسرے لاشعوری طور قومی وحدت کو نقصان پہنچا کر مملکت کی سلامتی اور قوم کے مستقبل کو بھی خطرات کے حوالے کر رہے ہیں۔

لاریب، تبدیلی کے دو ہی طریقے ہیں، آپ بیلٹ باکس کے ذریعے نرم انقلاب لائیں یا پھر دوسرے طریقے، جو معاشرے میں تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں، ہمیں ڈر ہے، عمران خان پرامن طریقے سے تبدیلی لانے کے طویل مگر محفوظ آئینی راستے کی بجائے ماورائے آئین شارٹ کٹ کے ذریعے ملک میں انتشار پیدا کرنے کا باعث بنیں گے۔ خان صاحب برملا ملک کی طاقتور فوج کو جوہری ہتھیاروں سے لیس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی والے ملک میں پاور پالیٹکس میں ”ثالث“ کا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں لیکن اب فوجی قیادت نے سیاسی امور میں ثالث یا فریق بننے کی بجائے اپنے کردار کو آئینی حدود میں سمیٹنے پہ اکتفا کر لیا ہے، مقتدرہ کا یہی طرز عمل خان کے علاوہ ان عالمی قوتوں کے لئے بھی تعجب کا باعث بنا جو پچھتر سالوں سے مہم جو جرنیلوں کے ذریعے ہماری قومی پالیسیوں کو اپنے عالمی مفادات کے تابع رکھتے تھے۔

واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کو گل مین متعجب ہو کر کہتے ہیں ”پاکستانی فوج تو کبھی غیر جانبدار یا سیاست سے دور نہیں رہی، بغاوتوں کی وراثت سے لے کر بیک روم پولیٹیکل پاور بروکر اور پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے حالیہ کردار تک، فوج نے سیاست میں ہمیشہ موثر کردار ادا کیا۔ مغربی اشرافیہ کی یہی وہ آرزوئیں ہیں جن کا عکس انہیں عمران خان کی سوچ اور جدوجہد میں دکھائی دیتا ہے چنانچہ اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ بالعموم اور سوشل میڈیا بالخصوص فوج کی بتدریج پنپتی ہوئی غیر جانبداری پہ طنز و استہزا کے تیر چلانے کے علاوہ عمران خان کی پر ہنگام تحریک کو مہمیز دینے کی خاطر ٹیکنیکل معاونت دینے میں سرگرداں ہے خاص کر بھارتی اسٹبلشمنٹ کی ایما پہ انڈین میڈیا بھرپور اشتعال انگیزی کے ذریعے پاکستانی فوج کی آئینی دائروں میں پلٹنے کی کوشش کے خلاف مزاحمت کرتا نظر آتا ہے تاکہ فوجی مداخلت سے 1971 اور 1977 کی طرح پاکستانیوں کو اپنی فوج کے خلاف صف آراء کر کے قومی امور میں بیرونی مداخلت کی راہیں کھلی رکھی جا سکیں یعنی واحد مسلم ایٹمی قوت کو دنیا کے نقشہ پہ ایک خودمختار اور باوقار قوم بنکر ابھرنے کا موقعہ نہ مل سکے۔

Facebook Comments HS