بلوچستان میں بے روزگاری


بلوچستان کا نام سنتے ہی یقیناً آپ کو محرومیاں، ظلم و زیادتیاں، جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں، اور ایسی کہیں نا انصافیاں ذہین پر نقش کر رہی ہوتی ہیں مگر اسی کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بے روزگاری کے مسائل بھی بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ اگرچہ بلوچستان کی سرزمین سیندک، ریکوڈک، گڈانی، گوادر کا وسیع ساحل اور اس میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں ہزاروں معدنیات موجود ہیں لیکن پھر بھی احساس محرومی ختم نہ ہو سکی اور نہ ہی اتنے وسائل بلوچستان کی تقدیر بدل سکے۔

بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ جس کی آبادی کا 25.4 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی ہر چوتھے فرد کی عمر 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔ ملک میں غربت کی لکیر سے نیچے قرار دیے گئے دس اضلاع میں سے نو بلوچستان میں ہیں، ان میں ڈیرہ بگٹی کا ضلع بھی ہے، جہاں 1954 سے قدرتی گیس کی کان کنی کی جا رہی ہے، لیکن اس کی آمدنی کا ایک فیصد بھی وہاں خرچ نہیں کیا جاتا۔

اگر ہم صوبے بلوچستان میں مرد نوجوانوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو صرف 31.2 فیصد کام کر رہے ہیں جو کہ ملک میں سب سے کم شرح ہے جبکہ 17.1 فیصد نوجوان کام کی تلاش میں ہیں جو کہ ملک میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ خواتین کے حوالے سے یہ حقائق بھی انتہائی افسوسناک ہیں کہ صوبے میں صرف 3.6 فیصد نوجوان خواتین کام کر رہی ہیں جن میں بلا معاوضہ گھریلو ملازمین بھی شامل ہیں جو کہ پورے ملک میں سب سے کم شرح ہے جبکہ کام کی تلاش میں خواتین کا تناسب 2.7 فیصد ہے پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

بلوچستان ہر قسم کے مسائل میں گھرا ہوا ہے، 86 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، 52 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اور 18 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔ حالانکہ اس وقت محکمہ تعلیم، صحت، پی ایچ ای، زراعت، جنگلات، جانوروں کی بہبود، انسانی بہبود، سماجی بہبود، سول ڈیفنس، لیویز پولیس اور دیگر وفاقی اور صوبائی اداروں میں 40 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔ مختلف محکموں میں آسامیوں کا متعدد بار اشتہار دیا گیا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر تقرریاں نہ ہو سکیں۔ صرف محکمہ تعلیم میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی 10 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں نوجوان جو ماسٹرز اور بی ایس سی ڈگری حاصل کرنے والے مایوسی کے عالم میں گھر گھر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جو کہ حکمرانوں کے بے روزگاری کے خاتمے کے دعووں کی مکمل نفی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ صوبے کے وفاقی محکموں میں، چیف سیکرٹری، ڈی ایم جی اور پی اے ایس گروپ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران 50 فیصد جعلی ڈومیسائل کوٹہ پر دوسرے صوبوں کے لوگوں ہیں۔ اس عمل میں ہمارے کچھ سرکاری سردار صاحبان بھی اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ان ملازمین کے ذمہ دار ہیں۔

ویسے تو بلوچستان میں پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے لیکن حالت زار یہاں بھی یکساں ہے یہاں بھی دوسرے صوبوں کے لوگوں کو ذمہ داریاں دی گئیں ہیں بلوچستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر حب میں اس وقت 300 سے زائد نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیاں فعال ہیں جس میں 75 فیصد نوکریاں دوسرے صوبوں کے لوگوں کو دی گئیں ہیں صرف 25 فیصد بلوچستان کے لوگوں کو روزگار دیا گیا ہیں جو کے بلوچستان حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے

بلوچستان میں بے روزگاری کے باعث خودکشی میں حیران کن اضافہ دیکھا جا رہا ہے ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ہر سال ایک سو سے زائد افراد بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں۔ جبکہ سرکاری رپورٹ کے مطابق روا سال خودکشی کے 50 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سات خواتین بھی شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ کیسز ضلع کیچ میں رپورٹ ہوئے، اس کے علاوہ گوادر، خضدار، کوئٹہ، پنجگور، ڈیرہ بگٹی، مشکے، دالبندین، گڈانی، قلات، اوستہ محمد اور تمبو میں ایسے کیسز رپورٹ ہوئے۔

خودکشی کا وہ واقعہ کون بھول سکتا ہے جہاں عرفان نے امتحانی فیس نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی، وہی باپ غلام رسول نے چند ہی ہفتے گزرنے کے بعد وسائل کی کمی کے باعث مایوس ہو کر خودکشی کر لی تھی باپ بیٹے غلام رسول اور عرفان اس طویل فہرست میں صرف دو نام نہیں ہیں جو بلوچستان میں آئے روز غربت کی وجہ سے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی کمی کی وجہ سے اکثر خودکشی واقعات میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتے یا لوگ خود سماجی بدنامی سے بچنے کے لیے ایسے واقعات کو منظر عام پر نہیں لاتے۔

یہی نہیں بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان نسل منشیات جیسی لعنت کا بھی شکار ہو رہی ہے بلوچستان میں 18 سے 35 سال کے نوجوان منشیات کا استعمال کر رہے ہیں، حیران کن بات تو یہ ہے کہ جس طرح خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات بلوچستان کے ضلع کیچ میں رپورٹ ہوتے ہیں اسی طرح سب سے زیادہ یعنی 70 فیصد منشیات استعمال بھی ضلع کیچ میں ہو رہی ہیں جو ایک حیران کن کیفیت ہے

بلوچستان حکومت جلد از جلد بلوچستان میں 40 ہزار سے زائد سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کا اعلان کرے اور میرٹ کی بنیاد پر نوکریاں جاری کرے اسی کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں پرائیویٹ سیکٹر میں 75 فیصد کوٹہ سسٹم کو ممکن بنائے تاکہ بے روزگاری سے مایوس لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں اور معاشرے کو  تباہی سے بچا جا سکے۔

Facebook Comments HS