پاکستان کے آئینی مسائل اور پختون ایشوز


سوات کے سپوت، بیرسٹر عثمان علی نے اسلامیہ کالج سے پہلے بی ایس سی، پھر پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی، ایل ایل ایم اور ایم اے اردو ادب کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد آئینی امور میں پی ایچ ڈی اور بار ایٹ لاء کیا۔ وکالت اور صحافت ساتھ ساتھ کرتے ہوئے فرنٹیئر پوسٹ سمیت مختلف اخبارات و جرائد سے وابستہ رہے۔ سولہ سال پشاور یونیورسٹی میں اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد تین سال ویسٹرن آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں میں دہشتگردی، طالبان اور اسلام پر تحقیقی مقالے لکھے اور لیکچرز دیے، اب عرصہ بیس سال سے کینیڈا میں وکالت کرتے ہیں۔

انسانی حقوق اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں ضیائی مارشل لاء میں تین سال سے زیادہ قید و بند کے علاوہ جرمانہ اور دس کوڑوں کا تمغہ بھی حاصل کیا، اپنا فرض اور مٹی کا قرض سمجھ کر جس کا ذکر کرنا وہ مناسب نہیں سمجھتے۔

پاکستان کے آئینی مسائل اور پختون ایشوز پر ان سے مفصل انٹرویو کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

ہم سب: ایک آئینی ماہر کی حیثیت سے، آپ کی رائے میں کیا پاکستان کا آئین ملکی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا خود بحران پر بحران پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے؟

بیرسٹر عثمان علی: 1973 کے آئین کے خالق یہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک ایسی مکمل دستاویز ہے، جو ملکی مسائل کا حل اور قومی یکجہتی کے لئے بہترین طریقہ کار طے کرتا ہے، لیکن بعد میں فوجی آمروں نے اس کے ساتھ جو کھلواڑ کیا اس نے آئین کی شکل مسخ کردی۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اس کی روح بحال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن طاقتور اور مفاد پرست طبقے اسے لاگو کرنے کی بجائے مختلف حربوں اور سازشوں سے اس ترمیم کو ختم کرنے کے درپے ہیں، خصوصاً مائی لارڈز اینڈ مائی گاڈز کے مفادات اسے لاگو کرنے نہیں دیتے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آئین کی مزید وضاحت ضروری ہے۔ تاکہ سپریم کورٹ کے ججز، آئین کی روح کی بجائے اپنے ”ضمیر“ ، ضرورت اور مزاج کے مطابق فیصلے نہ کرسکیں۔ ساتھ اس میں بہت ابہامات موجود ہیں، اس لیے جب بھی کوئی بحران آتا ہے تو آئین واضح ہدایات اور قابل عمل طریقہ کار دینے سے قاصر ہوتا ہے۔ ‎آئینی مسائل ہر ملک میں پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن وہاں پیدا شدہ مسائل کو ذاتی پسند ناپسند اور ضرورت کی بجائے آئینی اور قانونی نظائر کی روشنی میں حل کیے جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ماہرین علمی بحث و مباحثہ کے بعد آئین میں ترامیم کے ذریعے ایسی واضح شقیں شامل کریں جس کے بعد کوئی ایسی ابہام باقی نہ رہے، جس کی من مانی تشریح کا کسی کے پاس پسند ناپسند پر مبنی کوئی اختیار اور گنجائش موجود ہو۔

بیرسٹر عثمان علی

ہم سب: وہ کون سے ایشوز ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی آئین مطلوبہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہے؟

بیرسٹر عثمان علی: غیر واضح آئینی شقوں میں ماہرین کی بحث کے بعد واضح ترامیم کی جائیں، جن میں سپریم کورٹ، ججز اور چیف جسٹس کے اختیارات کی واضح حدود متعین ہوں۔ اب جیسا کہ موجودہ بحران محض ایک سرکاری عہدیدار کی تعیناتی سے منسلک ہے، تو ظاہر بات ہے کہ آئین میں آرمی چیف کی تعیناتی اختیارات اور حدود کا واضح ذکر موجود نہیں ہے، اس لیے موجودہ شکل میں آئین مسائل کے حل کی بجائے ان کو مزید گمبھیر بناتا ہے، تبھی تو جب کسی آئینی یا قانونی ابہام کی خاطر ججز کسی بنچ میں بیٹھتے ہیں تو ہم اس مسئلے کے قانونی پہلو پر بحث کرنے کی بجائے، ’ہم خیال ججز‘ یا ان کے ذہنی رجحان اور گروہی جھکاؤ پر بحث کرتے ہیں۔

ہم سب: آئین اور پختون مسائل دونوں آپ کی مہارت کے میدان ہیں، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ واقعی پختون مسائل ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیا ہیں اور کب سے ہیں؟

بیرسٹر عثمان علی: پختون نسلی خوبصورتی کے علاوہ تاریخی طور پر بھی کبھی اتنا بدصورت نہیں تھا جیسا کہ آج دنیا کو پیش کیا جاتا ہے۔ ہم شاندار ماضی لیکن بدقسمت جغرافیہ کے مالک ہیں۔ ہر کسی کو ہمارا راستہ اور کندھا چاہیے جو دونوں طرف سے استعمال بھی ہوا اور ہم نے کرنے بھی دیا۔ طوالت سے بچنے کی خاطر 79 کے اشتراکی انقلاب سے شروع کرتے ہیں، جب جہاد کے نام پر ہمارے ساتھ ایک گھناؤنا کھیل کھیلا گیا جو آج تک جاری ہے۔

پہلے حملے میں ہمارے بچوں کے ہاتھوں سے کتاب چھین کر بندوق تھما دی گئی، جبکہ دوسرا حملہ ہمارے حجرے اور مسجد پر کر کے ہماری اجتماعیت ختم کردی گئی جو ہماری لوک دانشگاہیں تھیں، جہاں پر بزرگ ہماری آنے والی نسل کو ایجوکیٹ کرتے تھے۔ ہماری کلچرل اور قومی تضحیک تو پاکستان بننے کے بعد سے ہی شروع کردی گئی تھی جب ہماری عزت والی پگڑی ہوٹل کے گیٹ پر کھڑے بیرے کو پہنائی گئی، فلم اور ڈرامے میں مجھے نسوار ڈالنے اور الٹی سیدھی حرکتیں کرنے والے چوکیدار کے مزاحیہ کردار میں ڈھال کر پیش کیا جانے لگا، جس کی وجہ سے آج میرے پاس اپنی روایات دانش تاریخ اور کردار کی بجائے محض بندوق اور مذاق کا شکار مزاحیہ کردار ہے۔ جس کے خلاف ہم نے جب بھی آواز اٹھائی مزید تضحیک کی گئی۔

ہم سب: ہمارے ہاں جاری اس پاگل پن کا حل کیا ہے؟

بیرسٹر عثمان علی: اکیسویں صدی نہیں پختون قبل از تاریخ کے دور میں زندہ ہیں، اس لیے اس معاشرے کے سارے ابعاد کی مکمل اوور ہالنگ کرنی ہوگی۔ شدت پسندی سے قبل ہمارا معاشرہ پرامن اور اعتدال پسند تھا، جس کی تازہ مثال جنگ زدہ علاقوں میں امن پسند نوجوانوں کے منظم جنگ گریز مظاہروں کی شکل میں موجود ہے۔ ہمارے حجرے اور مساجد کو حقیقی وارثان کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی نصاب سے زہریلا پروپیگنڈا نکالنا ہو گا۔ حل صرف اور صرف کتاب دوستی اور علم دوستی ہے۔ آج کا بہادر بندوق والا نہیں کتاب والا ہے۔

ہم سب: پختون لیڈرشپ کے دعویدار، ایمل ولی، محمود اچکزئی، منظور پشتین اور مولوی، کیا پختون قوم کو موجودہ مسائل سے نکال سکتے ہیں؟

بیرسٹر عثمان : دو پختون، تین رائے تو ہمارا مشہور رویہ ہے، گو کہ مذکورہ رہنماؤں کا اپنا اپنا کردار اور جدوجہد ہے لیکن افسوس، کہ وہ پختونوں کو متحد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مولوی پختون معاشرے کا لازمی جز ہے لیکن مذہب کے ساتھ ہمارا محض عقیدت اور پیدائش کا رشتہ ہے۔ تضاد دیکھیں! ہمارے یونیورسٹی کے طالبعلم مذہب کے بارے میں محض افواہ پر مشال خان جیسے نوجوان کو قتل کرتے ہیں اور پھر اسی علاقے کے لوگ مولانا قاسم جیسے عالم دین کی بجائے ووٹ عمران خان کو دیتے ہیں۔

مایوسی ہوتی ہے لیکن منظور پشتون یا اس جنگ زدہ علاقوں میں جاری امن اور حقوق کی خاطر نوجوانوں کی مزاحمت دیکھ کر امید بندھ جاتی ہے کہ سب کچھ ہارنے کے باوجود بھی پختونوں میں لیڈرشپ کوالٹی اب بھی موجود ہے، لیکن اہم یہ ہے کہ اپنی ذاتی تشہیر اور ون مین شو کی بجائے نئی قیادت، پختونوں کے اصل مسائل اجاگر کرے اور خصوصاً نوجوانوں کو منظم کر کے ٹیم ورک پر توجہ دے۔ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے بچی کچی پختون قیادت اب بھی متحد ہو کر نہیں بیٹھتی تو تاریخ انہیں کچھی معاف نہیں کرے گی، لیکن اس تناظر میں حالات زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔

ہم سب: پختونوں کا مستقبل کیا ہے، تقسیم شدہ یا یکجا؟ کیا افغانستان کی سرحد کینیڈا اور امریکہ جیسی نرم سرحد بن سکتی ہے؟ ‎

بیرسٹر عثمان علی: جب کسی پر مشکل آتی ہے تو وہ اپنے گھر کی طرف جاتا ہے لیکن پختون پر مصیبت پڑے تو وہ اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں چلا جاتا ہے، اس لیے میرے خیال میں پختون اتحاد ممکن ہے اور نہ ہی افغانستان کے ساتھ سافٹ بارڈر بن سکتا کیونکہ لروبر کی سوچ میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پختونوں پر ظلم ڈھانے والے طالبان کوئی اور نہیں مقامی لوگ تھے اور ہیں، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بہت مشکلات سے دوچار کیا، لیکن امن کے لیے نوجوانوں کی موجودہ جدوجہد بہت حوصلہ افزا ہے۔

ہم سب: منظور پشتین کو آپ کیسا دیکھتے ہیں؟

بیرسٹر عثمان علی: اغراض و مقاصد سے ہم آہنگی کی وجہ سے، پی ٹی ایم کی ابتداء میں مجھ سمیت بہت لوگوں نے اس کے ساتھ ہر قسم کی غیر مشروط تعاون کے لئے ہاتھ بڑھایا، توقع تھی کہ یہ تحریک باقاعدہ منظم تنظیم کی شکل اختیار کرے گی، لیکن اگر میری معلومات صحیح ہیں، تو ابھی تک اس طرح نہیں ہوسکا ہے۔ ابتدائی حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے بہت سارے لوگ اب سوال کرتے ہیں کہ آگے اس کی سمت اور منزل کیا ہے؟ آیا ان کے پاس اتنی قوت اور ذرائع ہیں کہ وہ مروجہ طریقوں کی بجائے دوسروں کو اپنی آواز کسی اور ذریعے سے پہنچا کر اپنے مطالبات منوا سکے، میرے خیال میں تو نہیں ہے۔

یہ سچ ہے کہ ہمارا پارلیمنٹ تقاریر کرنے کا ایک غیر موثر پنڈال ہے لیکن اس کے باوجود بھی جدید سیاسی تاریخ میں پارلیمنٹ اپنا متبادل نہیں رکھتی۔ منظور پشتون پارلیمنٹ جاکر جس طرح آواز اٹھا سکتا تھا اور ایسا کرتے ہوئے اسے جو ایکسپوژر اور موقع ملتا ویسا اسے اور کسی فورم پر نہیں مل سکتا۔ الیکشن اور پارلیمنٹ کے بغیر جمہوریت فٹ بال کا وہ میدان ہے جس میں کوئی گول پوسٹ موجود نہ ہو۔ اس لیے معذرت کے ساتھ ایسی جدوجہد ایک ایسی مشق ہے جس میں پختونوں کی توانائیاں تو صرف ہو رہی ہیں لیکن نتیجہ کوئی نہیں۔

شازار جیلانی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 125 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments