انڈیا: خاتون افسر کی بچے کو اٹھا کر تقریر، سوشل میڈیا پر بحث: ’میں 24 گھنٹے ماں بھی ہوں‘


گذشتہ ہفتے انڈین ریاست کیرالا سے ایک خاتون سرکاری اہلکار دیویا ایر کی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی۔ وہ ایک تقریر کے دوران اپنے تین سالہ بیٹے کو اٹھائے ہوئے تھیں۔ ان کی اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک دلچسپ بحث کو جنم دیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے دیویا ایر سے بھی کی ہے مگر اس تفصیل سے پہلے خود گیتا اپنے تجربات کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خود اور بی بی سی میں ان کے ساتھ کام کرنے والی دیگر ساتھی صحافی خواتین اپنے بچوں کو کام پر ساتھ لے کر نکلتی تھیں۔

چند برس قبل، جب میرا بیٹا چھوٹا تھا، میں اسے اپنے ساتھ دفتر لے جایا کرتی تھی، خاص طور پر اگر چھٹی والے دن جانا پڑ جاتا تھا۔

ایک بار میں ایک وزیر کے گھر انٹرویو کے لیے گئی تھی، تب بھی میں اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ میں ان سے کئی روز سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور انھوں نے سنیچر کے روز بلا لیا، تو میں نے بھی انکار نہیں کیا۔ وزیر موصوف بھی میرے بچے سے مل کر خوش ہوئے۔ انھوں نے میرے بچے سے مختصر گپ شپ کی اور اپنے عملے سے ان کے لیے جوس اور کھانے کی اشیا لانے کی ہدایت کر دی۔

میں نے گذشتہ کچھ عرصے میں بی بی سی میں اپنے ساتھ کام کرنے والی کئی ساتھیوں کو بھی بچوں کو اپنے ساتھ دفتر لاتے دیکھا ہے۔ کوئی اس بات کو بُرا بھی نہیں سمجھتا کیوں کہ انڈیا میں بچے کا خیال رکھنا ماں کی ہی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ اور یہی زیادہ تر کام کرنے والی خواتین کی حقیقت بھی ہے کہ وہ کام اور گھر دونوں کا خیال رکھنے میں مصروف رہتی ہیں۔

بہت سی انڈین کمپنیاں اب ایسی پالیسیاں متعارف کر رہی ہیں جن سے خواتین ملازمین کی مشکل آسان ہو سکے گی اور یہ کہ انھیں بچوں کی خاطر کام نہ چھوڑنا پڑے۔

 امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں نیشنل ڈے کے موقع پر والدین کو بچوں کو بھی اپنے ساتھ دفتر لانے کی اجازت ہوتی ہے۔

 دیویا ایر نے مجھے بتایا کہ وہ بیٹے کو 30 اکتوبر کو ایک فلم فیسٹیول کے جلسے میں ساتھ لے گئیں تھیں، اور وائرل ہونے والی ویڈیو وہاں کی ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا ’حالانکہ یہ پہلا موقع نہیں تھا، لیکن اس بار ویڈیو وائرل ہو گئی اور طرح طرح کے رد عمل سامنے آئے۔‘

 انھوں نے بتایا ’وہ ایونٹ اتوار کو تھا اس لیے میں ملہار کو اپنے ساتھ لے گئی کیوں کہ عام طور پر اتوار کو میں اس کے ساتھ ہی وقت گزارتی ہوں۔  وہ قریب آدھے گھنٹے سے باہر کھیل رہا تھا۔ جب اس نے مجھے سٹیج پر بولتے ہوئے دیکھا تو بھاگ کر میرے پاس آ گیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ایک ماں کا اپنے بچے کے لیے قدرتی رد عمل تھا۔‘

وائرل ہونے والے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی بچہ ان کی طرف بڑھتا ہے دیویا بھی ان کی طرف باہیں پھیلا کر لپکتی ہیں۔ تھوڑی دیر بچے کو پیار کرنے کے بعد وہ واپس ڈائس پر جا کر اپنی تقریر جاری رکھتی ہیں۔ ان کی تقریر دس منٹ طویل تھی۔

ریاستی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور اس جلسے کا انعقاد کرانے والے چتایم گوپا کمار اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے پہلے شخص تھے۔ انھوں نے ساتھ میں لکھا ’ملہار کے آنے سے محفل میں مزید خوشیاں شامل ہو گئیں۔‘

سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس ویڈیو کی تعریف کی لیکن کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ دیویا کا برتاوٴ غیر مناسب تھا۔ مخالفین کے رد عمل کے بارے میں دیویا کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوچا نہیں تھا کہ ایسی ویڈیو پر بھی دو مختلف قسم کے رد عمل ہو سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی سنجیدہ قسم کا جلسہ نہیں تھا، بلکہ ایک فلم فیسٹیول تھا۔

انھوں نے کہا، ’بچوں کو ایسے مقامات پر لے جانا جہاں ان کا عام طور پر جانا آنا نہیں ہوتا ہے، اس سے انھیں بہت کچھ سیکھتے ہوئے بڑے ہونے میں مدد ملتی ہے۔‘

ان کا خیال ہے کہ بچپن کے معنی محض غباروں اور ٹیڈی بیئر سے کھیلنا نہیں ہے۔ بچوں کے لیے اصل زندگی کے تجربات بھی ضروری ہیں۔ میں چاہتی ہوں میرا بچہ میری شخصیت کے تمام پہلووٴں کو سمجھے۔ میں چاہتی ہوں وہ یہ سمجھے کہ میں ایک ماں ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوں۔ میں ایک عورت اور ایک سرکاری اہلکار بھی ہوں۔‘

انھوں نے کہا ’زیادہ تر رد عمل حوصلہ افزائی کرنے والے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہر خاندان کسی نہ کسی طرح اس قسم کی صورت حال سے گزرتا ہے۔‘

دیویا نے بتایا ’میں دن کے 24 گھنٹے ایک سرکاری اہلکار بھی ہوں اور 24 گھنٹے ماں بھی ہوں۔ ہمارے بہت سے کردار ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مجھے خود ان کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا تاکہ کسی ایک کو بھی مجبوری میں چھوڑنا نہ پڑے۔ مجھے یہ سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے کہ وہاں جو کچھ ہوا اسے قبول کرنے میں کچھ لوگوں کو مشکل کیوں ہو رہی ہے۔‘

 دیویا کا خیال ہے منفی رد عمل ان لوگوں کی جانب سے آیا ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ کوئی سرکاری کارکردگی سے متعلق پروگرام تھا۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بڑے عہدوں پر فائز خواتین کو ایک خاص انداز میں ہی نظر آنا چاہیے۔

 دیویا کا خیال ہے کہ کچھ منفی رد عمل سیاسی بھی ہے۔ ان کے شوہر کے ایس سبرینادن ریاست میں حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی کے رہنما ہیں۔

انڈین اخبار انڈین ایکسپریس میں سبرینادن نے لکھا ’منفی رد عمل ایک طرف، لیکن یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ اس ویڈیو کی وجہ سے ایک دلچسپ بحث نے جنم لیا ہے جس میں ان ماوٴں کی اس مشکل کا بھی ذکر ہو رہا ہے جس کے بارے میں عام طور پر معاشرے میں بات نہیں کی جاتی۔‘

یہ بھی پڑھیے

خواتین پر بچوں کی پیدائش کے بعد ’پہلے جیسی‘ جسامت حاصل کرنے کا دباؤ کیوں ڈالاجاتا ہے؟

دیبینا بنرجی کی کہانی: یہ نہیں بتایا جاتا کہ اگر کچھ کام وقت پر نہ کیے جائیں تو کیا ہو سکتا ہے؟

سکول طالبہ کی سینیٹری پیڈز کی درخواست پر خاتون افسر کا متنازعہ بیان اور معافی

امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں نیشنل ڈے کے موقع پر والدین کو بچوں کو بھی اپنے ساتھ دفتر لانے کی اجازت ہوتی ہے

امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں نیشنل ڈے کے موقع پر والدین کو بچوں کو بھی اپنے ساتھ دفتر لانے کی اجازت ہوتی ہے

حالانکہ دیویا کے معاملے میں اس بات کی مجبوری نہیں تھی کہ ان کے بچے کو گھر پر سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن اس واقعے نے پیشہ ورانہ خواتین کی اس مشکل کو اجاگر کر دیا ہے جس پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں میں جہاں ماں کے دفتر یا کام کی جگہ ہونے پر گھر پر بچے کا خیال رکھنے کے لیے چائلڈ کیئر کا خرچ اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔

دیہاڑی پر کام کر نے والی، مزدور یا دوسروں کے گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے یہ مسئلہ اور بھی بڑا ہوتا ہے کہ بچے کو کہاں چھوڑ کر جائیں۔

تاریخ دان اور ریسرچر جے دیویکا کا خیال ہے کہ’یہ نا انصافی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ سوشل میڈیا پر انھیں اتنا شدید رد عمل کیوں مل رہا ہے۔ اور جو کچھ ہوا اس سے کسی کو بھی کوئی شکایت کیوں ہے۔ یہ کوئی سرکاری پروگرام نہیں تھا تو اتنا شور کیوں مچایا جا رہا ہے؟‘

دیویکا نے بتایا کہ جب ان کی بیٹیاں چھوٹی تھیں تو وہ کئی مواقعوں پر انھیں اپنے ساتھ لے کر جاتی تھیں کیوں کہ وہ گھر پر بچوں کو چھوڑنے کے لیے چائلڈ کیئر کا خرچ نہیں اٹھا سکتی تھیں۔

انھوں نے بتایا ہم سبھی جانتے ہیں کہ خواتین کبھی کسی بھی وقت بچوں کی ذمہ داری سے آزاد نہیں ہوتی ہیں۔

انھوں نے کہا یہ تنازع یہ بھی واضح کرتا ہے کہ خواتین کچھ بھی کریں انھیں ہمیشہ صحیح اور غلط کی نظر سے دیکھ کر ان پر ہمیشہ تنقید کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا ’آپ کو یاد ہوگا کسی دور میں سابق وزیرا عظم اندرا گاندھی پر اس بات کی تنقید ہوئی تھی کہ وہ ایک اچھی ماں نہیں ہیں۔ اور اب دیویا پر تنقید ہو رہی ہے کہ وہ کچھ زیادہ ہی اچھی ماں ہیں؟‘

انہوں نے کہا میں چاہوں گی وہ تمام لوگ جو دیویا پر تنقید کر رہے ہیں، کنسٹرکشن کے کام کرنے والی خواتین کو جا کر دیکھیں۔ ان کے بچے ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے انہیں اپنا غصہ اس بارے میں ظاہر کرنا چاہیے کہ ان خواتین کو ایسا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔‘

معروف گیت کار راجیو النکل کا بھی خیال ہے کہ دیویا کا برتاوٴ مناسب نہیں تھا۔ انھوں نے ایک ٹی وی چینل پر کہا کہ وہ خود اپنے بیٹے کو اس قسم کے پروگرامز کے لیے لے کر جاتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’وہ چار برس کا ہے اس لیے میں اسے اپنے سامنے سیٹ پر بٹھا کر اسے یہ بتاتا ہوں کہ وہ وہاں سے کہیں نہ جائے۔‘

دیویا کا خیال ہے کہ اس پورے واقعہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس بارے میں بات چھڑ گئی ہے۔ انھوں نے بتایا ’مجھے بہت سارے پیغامات موصول ہوئے۔ خاص طور پر کم عمر ماوٴں کے جنھوں نے کہا کہ وہ ویڈیو دیکھ کر ان کا دل بھر آیا۔ انھیں اس بات نے متاثر کیا کہ میں نے اپنی طرف لپکتے ہوئے بچے کو واپس نہیں لوٹا دیا اور اس سے ان کے لیے بھی نئے راستے کھلے ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26837 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments