پروین شاکر کی شہزادی کا المیہ!


2 دسمبر 1988 کی شام عالم اسلام کی پہلی خاتون سیاستدان نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا اور یہ شخصیت تھیں پاکستان پیپلز پارٹی کی اس وقت کی شریک چئیر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو!

پروین شاکر اس موقع پر بے حد خوش تھیں کہ اس دن ان کی پسندیدہ سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کو اس کا جائز حق مل گیا۔ اگرچہ پروین کبھی سیاسی شخصیت نہیں رہیں تاہم پیپلز پارٹی سے ان کی نظریاتی قربت اس حد تک رہی کہ انہوں نے مارشل لاء دور میں بھی بھٹو صاحب کی پھانسی پر ایک نظم روز سیاہ لکھی اس نظم کے حوالے سے انہوں نے بتایا تھا کہ وہ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ اس پر دیگر شعرائے کرام کی طرح اپنی رائے کا اظہار نہیں کرسکیں تاہم مارشل لاء دور کی گھٹن اور انسانی حقوق کی غصبی کے خلاف ان کے دوسرے مجموعۂ کلام صدبرگ میں ہمیں ان کی متعدد نظمیں اس دور کے گھٹن زدہ ماحول کی عکاس دکھائی دیتی ہیں۔ اے مرے شہر رسن بستہ، خاکم۔ بدہن⁦، ظل الٰہی کے پرابلمز، ٹکٹکی، (Demonetization) اور متعدد غزلیں ان کے اظہار غم اور احتجاج کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اس کتاب کے بار دگر ایڈیشن میں پروین نے لکھا کہ

”صدبرگ آتے آتے منظرنامہ بدل چکا تھا۔ میری زندگی کا بھی اور اس سرزمین کا بھی جس کے ہونے سے میرا ہونا ہے۔ رزم گاہ جاں میں ہم نے کئی معرکے ایک ساتھ ہارے اور بہت سے خوابوں پر اکٹھے مٹی برابر کی۔ شام غریباں کی پینٹنگ کیسی بنے گی؟ کوفہ شہر کے منارے سبز تو نہیں ہوسکتے نا سچائی جب مخبروں میں گھر جائے تو علامتوں کے سپرد کردی جاتی ہے۔ ایک بار پھر۔ صدبرگ اور آپ اکٹھے ہو رہے ہیں۔“

پروین شاکر۔

جب بے نظیر صاحبہ اقتدار میں آئیں تو اس وقت انہوں نے بھٹو صاحب کی برسی پر لاڑکانہ میں پروین شاکر اور اس وقت کے تمام نمایاں شعراء کو مدعو کیا۔ مشاعرہ 4 اپریل 1989 کو لاڑکانہ میں منعقد کیا گیا جس میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو بھی موجود تھیں۔ پروین نے اپنی غزل، ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا/ اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا! اس غزل کی جان ایک شعر ہے جو ممکنہ طور پر بینظیر بھٹو سے منسوب محسوس ہوتا ہے۔

امد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں / اتنا بھی بودو باش کو سادہ نہیں کیا۔ اس مشاعرے میں پروین نے اپنی ایک منفرد نظم شہزادی کا المیہ پیش کی۔ جسے بے حد سراہا گیا۔ اسی برس پروین کو جشن آزادی کے موقع پر بینظیر بھٹو کے محکمہ پریس اینڈ پبلی کیشن نے دعوت دی کہ وہ وزیر اعظم کے لئے تقریر لکھیں۔ پروین نے تقریر لکھی جسے خود محترمہ نے بہت پسند کیا۔ اسی بات کو پروین شاکر کے فن پر لکھی گئی نجمہ خانم ملک کی کتاب میں پروین کے لے پالک بھائی ڈاکٹر ناظم بنارسی نے اس طرح واضح کیا۔

” ایک بات تو طے تھی کہ پارہ اپنی تعلیم اور شاعری کے ذریعے مقبولیت کی ان انتہاؤں کو پہنچ چکی تھی کہ جب چاہے بغیر اپائنٹمنٹ صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کر سکتی“ ۔

پروین نے بے نظیر صاحبہ کے دوسرے دور حکومت 1993۔ 1996 میں رحلت پائی۔ یہ نظم شہزادی کا المیہ ایک طویل نظم ہے۔ جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی اور ازلی آگہی سے پارٹی پولیٹکس، ارباب اختیار کی با اختیار بے بسی، اور ان پارٹی ورکرز کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے کہ جو اپنی قربانیوں کے عوض شہزادی یعنی بے نظیر سے مال منال کے طالب ہیں اور اپنی اس کوشش میں ناکامی پر کس طرح اپنی ہی لیڈر کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔

شہزادی کا المیہ
۔
محل کے نیچے۔
ہجوم عشاق منتظر ہے
کہ خواب گہ کا حریری پردہ ذرا ہٹے تو
سب اپنے اپنے شناخت نامے ہوا میں لہرائیں
اور یہ کہنے کا موقع پائیں۔
کہ علیا حضرت! ہمیں بھی پہچانیے۔
کہ ہم نے
سیاہ اپریل کے اوائل میں
شام بے وارثی اترنے کی ساعت بے لحاظ میں دودمان عالی جناب کو چادر عزا نذر کی تھی۔

جن کے کناروں سے اب تک ہمارے ناموں کے حرف اول کشیدہ ہوں گے۔
جو خامشی سے، کھلے سروں اور ننگے قدموں سے۔
پارہ ء نان و جرعۂ اب لے کے
اس شام سمت مقتل گئی تھیں۔
سواد شہر صبا میں
خوشبو کی واپسی کے لئے
وہ ہم تھے
جو مثل خاشاک در بدر تھے۔

شمالی یورپ کے دور افتادہ یخ کدے میں
تمام تر مرکزی نظام حرارت و نور و نغمگی میں
وہ ہم تھے جو
سخت اجنبیت کی برفباری میں جل رہے تھے۔
اور اپنے گھر بار، اپنی املاک، اپنے پیشوں سے دور ہو کر
نئے وسیلوں سے رزق کی دوڑ میں تھے شامل
خمیری روٹی کی یاد میں
سینوچ پہ کرتے رہے گزارا۔
( یہ کار غالیچہ و جواہر تو صرف فرصت کا مشغلہ تھے ) ۔

جو لوگ گمنام و سادہ دل تھے۔
سرشت موسم نہیں سمجھتے تھے۔
اور پیچھے وطن میں رہ کر۔
ہمارے حصے کے دن

عقوبت کدوں میں تنہا گزارنے۔ اور ہمارے حصے کے کوڑے بھی نوش جان کرنے میں منہمک تھے۔ ( شراکت کار بھی تو کوئی اصول ٹھہرا) مباح ہو گا کہ ان کی قربانیوں کا بھی کچھ حساب ہو جائے اور عطا ہو انہیں بھی دینار سرخ ورہوارمشک و رنگ و اراضی ء سبزہ آفرین و کلاہ زرتارو خلعت کار چوب و دوشالہ شاہ طوسی! جہاں پنہ! یہ تو دیکھیے۔ اپ کے لیے ۔ ترک ہم نے کیا کچھ کیا ہے اب تک۔ کہیں ترقی کا ایک زینہ۔ کہیں عنایات خسروی کا کوئی وسیلہ۔

کہیں کوئی منفعت اثر رشتۂ سیاست کہیں کوئی سیم رنگ شملہ۔ کہیں کوئی زرنگار طرہ۔ اور ان سے بڑھ کر۔ وطن کی خوشبو، وطن کی گرمی! ہمارے ایثار کے تناسب سے اب صلے کی نوید پہنچے کسی دیار غزال چشماں و گل عذاراں میں ہم کو تفویض ہو سفارت مناصب و مال و فصل و املاک کی وزارت نہیں تو باب مشاورت ہی کھلے کسی پر جو یہ نہیں تو۔ کسی علاقے کی صوبہ داری کسی ریاست کی چاردہ ہزاری۔ بکار خاص افسروں کی لمبی قطار پی میں کوئی جگہ دیں۔

ہمیں صلہ دیں! کسی طرح قرب تاج و دربار کی فضیلت ہمیں عطا ہو۔ حضور کی بارگاہ جودو سخا میں۔ حاضر جو ہونا چاہیں تو کوئی درباں ہمیں نہ روکے تو کوئی حاجب، مقرب خاص تک نہ ٹوکے غلام گردش میں مثل موج صبا گزرنے کی ہو اجازت! یہ کیا کہ ہم۔ سے بہت بعد میں آنے والے تو راج رتھ میں اڑے پھریں۔ اور ہم فقط گرد راہ دیکھیں! ہمیں صلہ دیں! عریضوں اور عرضیوں کے طوفان بے پنہ میں گھری ہوئی ایک شاہزادی کبھی کبھی سوچتی تو ہوگی کہ اپنی چھوٹی سی سلطنت کو۔

جو پہلے ہی دشمنوں کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹک رہی ہے۔ خود اپنی پیاری سپاہ سے کس طرح بچائے! پروین شاکر نے اس نظم میں درباری زبان کا خوبصورتی سے استعمال کی ہے۔ وہ جس طرح کا ماحول بیان کر رہی ہوتی ہیں اسی طرح کا لب و لہجہ اور ڈکشن استعمال کرتی ہیں۔ واقعات کا درست تجزیہ اور سچ کو پوری قوت سے بیان، ان کی شاعری کا حرف کلید ہے۔ سیاسی پارٹیاں خواہ کتنی ہی شفاف کیوں نہ ہوں ان کے اندر ایک گروہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اپنی ہی جماعت کو کھوکھلا کرنے اور اس کے لئے جگ ہنسائی کا باعث ہوتا ہے۔

بعض اوقات ایسے عناصر کی وجہ سے ان کی ساکھ کو ناقابل بیان نقصان پہنچتا ہے تاہم ایسے افراد ہر جماعت کا ہر اول دستے بھی بن جاتے ہیں اور ان کی ”کارروائیوں“ کی روک تھام تقریباً ناممکن ہے۔ ایسی ہی ایک صورتحال پروین شاکر کی شہزادی شہید بے نظیر بھٹو کو اس وقت پیش آئی تھی جب ان کا اپنا بھائی میر مرتضیٰ بھٹو مرحوم ان کے خلاف صف آراء تھے۔ پروین نے اس صورتحال کی بھی بڑی خوبصورتی اور باریکی سے شاعرانہ پیشین گوئی کی تھی۔

خلقت نہیں ہے ساتھ تو پھر بخت بھی نہیں / کچھ دن یہی رہے گا تو یہ تخت بھی نہیں / اس بار ہم سے خیمہ کشی کیوں نہ ہو سکی/ اس بار تو زمین بہت سخت بھی نہیں / کھینچا ہے جب بھی طول وراثت کی جنگ نے / وارث بھی تخت پر نہ رہا تخت بھی نہیں /مہتاب پر جو خاک نہ ڈالیں تو یہ کھلے / ہم جیسے لوگ اتنے سیہ بخت بھی نہیں۔ پروین نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہزادی کہہ کر خراج تحسین پیش کیا تو یہ کچھ بے جا نہ تھا۔ وہ سندھ کی مقبول سیاسی شخصیت سر شاہنواز خان کی پوتی، ایک متمول ایرانی تاجر کی نواسی اور ایک انقلابی وڈیرے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لاڈلی بیٹی۔

جسے پیار سے پنکی کہہ کر بلاتے اس کے چہیتے پن کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے دیگر تین بہن بھائیوں، میر مرتضیٰ، صنم اور شاہنواز بھٹو کے بجائے وہی اپنے باپ کی سیاسی وارث بنی۔ یہی نہیں اپنی شہادت سے چند لمحے قبل وہ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے لئے جس شان سے نعرے لگاتی تھیں یوں لگتا تھا جیسے ان سے بڑا پرستار ذوالفقار علی بھٹو کو نہ کبھی نصیب ہوا نہ کبھی نصیب ہو گا۔

پروین کی بے وقت موت کے وقت محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملک ایک باصلاحیت اور تعلیم یافتہ شاعرہ اور ایک قابل سرکاری افسر سے محروم ہو گیا۔ اس سانحے پر وہ ان کے اہل خاندان کے لئے عظیم طاقت کا ذریعہ بن گئیں۔ پروین ایسے نابغہ روزگار تخلیق کار قدرت صدیوں میں خلق کرتی ہے اور جو خلاء محترمہ کی شہادت کے باعث پاکستانی سیاسی منظر کو درپیش ہے وہ کبھی پر نہیں کیا جاسکتا عجیب اتفاق ہے کہ پروین کی موت چھبیس دسمبر تو محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم شہادت 27 دسمبر ہے۔ دونوں عظیم شخصیات اپنے خالق حقیقی سے جا ملی ہیں۔ اللہ سے دعا ہے دونوں کے درجات کو تاقیامت بلند کرتا رہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نصرت زہرا حسین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments