قانون میں بیوی کا نان و نفقہ
اسلامی قانون کے مطابق بیوی کا کفالت کا حق بیوی (پہلے اللہ کی) اور پھر شوہر کی اطاعت سے مشروط ہے۔ بیوی ازدواجی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے یا نہیں یہ ثابت کرنا ایک پیچیدہ سوال ہے۔ ”نافرمانی“ کی قبول شدہ قانونی تعریف، تشریح اور اطلاق کے بارے میں فقہاء متفقہ نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں۔ عام طور پر، یہ قبول کیا گیا تھا کہ جب بیوی رضامندی یا حلال عذر کے بغیر شوہر کو چھوڑ کر گھر سے نکلتی ہے تو وہ نافرمانی کے مترادف ہو سکتا ہے۔
غیر حنفی مکاتب فکر نے استدلال کیا ہے کہ ایک صحت مند بیوی جو اپنے بستر سے اپنے شوہر کو انکار کرتی ہے وہ نافرمان ہے اور اس وجہ سے اس کے نان و نفقہ کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ مقدمہ بنام ریشم بی بی بمقابلہ محمد شفیع میں، پاکستانی عدالتوں نے ”اطاعت“ کی تعریف معقول مقتدر کی فرمانبرداری سے مشروط کی ہے لیکن اگر اس فرمانبرداری کے مقابلے میں مقتدر یعنی شوہر کی طرف سے اپنے فرائض سے غفلت اور ناکامی ہوئی تو ایسی صورت حال میں میں بیوی نان و نفقہ سے قانونی طور پر محروم نہیں کی جائے گی۔
عدالتیں اکثر ”بے وفائی“ کے مقدمات کا فیصلہ کرنے سے گریز کرتی تھیں کیونکہ جوڑے کی شادی شدہ زندگی کی مباشرت کی تفصیلات سے متعلق گواہی اور شواہد اکٹھا کرنا اور ظاہر کرنا عموماً ناممکن ہوتا تھا۔ کھلی نافرمانی، جس میں کچھ عوامی عمل اور ظاہری شواہد شامل تھے، عدالت میں زیادہ آسانی سے طے پا جاتے تھے، اور بیوی اکثر کفالت کا حق کھو دیتی تھی۔ پاکستان میں مسلم پرسنل لاء کی فقہ میں مقدمہ شہاب ثاقب بمقابلہ صدف رشید ( 2021 ) متذکرہ بالا سوال کے حل میں ایک اہم پیشرفت ثابت ہوئی۔
اس فیصلے نے بیوی کے نان و نفقہ کے حق کو مکمل بنا دیا اور عدالت کی طرف سے خواتین کے مفادات کے خلاف فیصلے دینے کے امکان کو ختم کر دیا۔ نفقہ کے اصول کو مطلق قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ نفقہ حاصل کرنے کی شرط صرف یہ ہے کہ دو افراد نکاح کے بندھن میں ہو۔ ایک بار ثابت ہو جانے کے بعد ، بیوی شادی کے بندھن میں رہنے کی مدت کے اندر نان و نفقہ کا دعوی کر سکتی ہے۔ مزید برآں، اسی بنیاد کی پیروی کرتے ہوئے، یہ ممکنہ طور پر شوہروں کی طرف سے شادی کے حقوق کی واپسی کا مقدمہ اور حکم نامہ حاصل کرنے کے عام قانونی کوتاہیوں کے استعمال کو روک سکتا ہے تاکہ انہیں نان و نفقہ فراہم کرنے سے بچایا جا سکے، خاص طور پر جب ماضی کی کفالت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں حد بندی ایکٹ کا سیکشن 5 فریقین کو اجازت دے سکتا ہے کہ تاخیر کے بعد بھی عذر کی دلیل ثابت کر کے معاوضہ حاصل کیا جائے۔
عام طور پر کفالت کے مقدمے میں شوہر کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ خاندان کے باقی افراد کی کفالت کا بھی ذمہ دار ہے اور اس بنیاد پر عدالت کی طرف سے بیوی کے نان و نفقہ کی زیادہ مقدار متعین نہ کی جائے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے اور مرد کی کمائی پر کس کا کتنا حق ہے؟ اسلام میں ماں باپ اور اولاد کی کفالت حاجت کی صورت میں فرض ہے کہ جب ان کی کمائی کا کوئی ذاتی ذریعہ نہ ہو اور وہ محتاج ہوں۔ بیوی کی کفالت ہر حال میں واجب ہے جس کی دلیل بیوی سے حق زوجیت، قرابت داری اور ملکیت ہے۔ دوسرے رشتہ داروں کی کفالت مستحب ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ میرے پاس ایک دینار ہے۔ اس نے کہا: اسے اپنے اوپر خرچ کرو۔ اس نے کہا: ’میرے پاس ایک اور ہے۔ ‘ آپ نے فرمایا: اسے اپنی بیوی پر خرچ کرو۔ اس نے کہا: ’میرے پاس ایک اور ہے۔ ‘ فرمایا: اسے اپنے بیٹے پر خرچ کرو۔ اس نے کہا: ’میرے پاس ایک اور ہے۔ ‘ فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کرو۔ اس نے کہا: ’میرے پاس ایک اور ہے۔ ‘ آپ نے فرمایا: ’تم بہتر جانتے ہو (اس کے ساتھ کیا کرنا ہے ) ۔ (سنن نسائی 2536، صحیح ابن حبان۔ 4425 )
پس ثابت ہوا کہ آدمی پر ہر رشتے کا خرچ اس کی وراثت کے مطابق مقرر ہے اور پاکستان میں قانونی اصول بھی یہی ہے۔
عدالت، مسلم فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے سیکشن 11 اور 15 کے تحت شواہد کے بعد کیس کا فیصلہ سناتی ہے۔ اگر شوہر بیوی کے حق میں نان نفقہ کے حکم سے انکار کرتا ہے، تو قابل ادائیگی رقم، عدالت اس کی جائیداد کی فروخت، تنخواہ کی اٹیچمنٹ، یا بینک اکاؤنٹ منسلکی کے ذریعے شوہر سے وصول کرتی ہے۔ اگر شوہر کے پاس عدالت کے حکم نامے کو پورا کرنے کے لیے کوئی اثاثہ یا تنخواہ نہیں ہے یا وہ رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے اور حکم نامے کو پورا نہیں کرتا تو اسے فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے سیکشن 20 کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جا سکتا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد شوہر اس بنیاد پر انکار نہیں کر سکتا کہ اسے مالی بحران کا سامنا ہے۔ اسے نان و نفقہ ادا کرنا ہو گا جس میں ناکام ہونے کی صورت میں عدالت اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتی ہے۔
بیوی کے نان و نفقہ کے معاملے میں اگر شوہر بیرون ملک مقیم ہے اور پاکستان نہیں آ سکتا تو وہ پاکستان میں کسی کو پاور آف اٹارنی بھیجے گا اور وہ مختار کیس جاری رکھے گا اور اپنی طرف سے عدالت میں پیش ہو گا۔ اگر شوہر بیرون ملک ہے اور عدالت کی طرف سے ماہانہ الاؤنس مقرر ہو گیا ہے تو ابتدائی طور پر اس مختار کی ذریعے فیصلہ کی تکمیل ہو گی اور اس کے علاوہ عدالت کا یہ اختیار ہے کہ پاکستان میں شوہر کی تمام جائیدادیں ضبط کرے لے اور پھر انہیں فروخت کر کے نان نفقہ کی رقم وصول کر لے۔
اگر شوہر کی پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں ہے تو عدالت بیرون ملک پاکستانی سفارت خانے یا قونصلیٹ کو خط لکھے گی اور ان سے شوہر کو ڈیپورٹ کرنے کو کہے گی۔ ایک بار جب شوہر کو ملک بدر کر دیا جائے گا، تو اسے پاکستان میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا جب تک کہ کفالت کی رقم کی ادائیگی نہ ہو جائے۔ اسی طرح بیوی کے پاکستان میں ہو، اور شوہر بیرون ملک ہے تو بیوی کو پاکستان میں شوہر کے آخری معلوم پتہ، یا اس کے خاندان کے پتے پر مقدمہ دائر کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک بار جب کسی کیس کی سماعت ہو جاتی ہے اور بیوی کے حق میں فیصلہ ہو جائے، تو اسے اس فیصلے کو اس رہائشی ملک میں لے جانے کا بھی مکمل اختیار ہے جہاں شوہر رہائش پذیر ہے اور وہاں کی یکساں اختیار رکھنے والی عدالت کے ذریعے فیصلے پر عملدرآمد ممکن ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

