دو نوجوانوں کا ’بے ضرر مذاق‘ جس نے 10 سال تک پوری دنیا کو بیوقوف بنائے رکھا


ایلن مکمیسٹرز
تقریباً ایک دہائی قبل ایک شخص نے الیکٹرک ٹوسٹر کے مؤجد سے متعلق جعل سازی کا ایسا جال بنا جس پر اخبارات، اساتذہ اور حکام بھی یقین کر گئے۔ پھر ایک نوجوان نے ایک ایسی بات نوٹس کی جو پہلے کسی نے نہیں کی تھی۔

15 سالہ ایڈم برطانیہ کے شہر کینٹ میں فوٹوگرافی کے شوقین طالب علم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں جب کلاس میں بور ہوتا ہوں تو وکیپیڈیا پر کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا ہوں۔‘

گذشتہ سال جولائی کے مہینے میں ان کے ایک استاد نے پہلے الیکٹرک ٹوسٹر کے سکاٹش مؤجد ایلن مکمیسٹرز کے بارے میں بات کرتے ہوئے آن لائن انسائیکلوپیڈیا کا حوالہ دیا۔

ایلن مکمیسٹرز سے متعلق وکیپیڈیا کے صفحے پر ایک ایسے شخص کی تصویر تھی جو بظاہر تو 19ویں صدی کی لگ رہی تھی اور نیچے سے پھٹی ہوئی بھی لگ رہی تھی۔

تاہم ایڈم کو کچھ شک ہوا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ’مجھے وہ ایک عام تصویر نہیں لگی۔ لگ رہا تھا کہ اس میں ردوبدل کی گئی ہے۔‘

جب وہ اس دن گھر واپس گئے تو انھوں نے اپنے اس شک کا اظہار ایک آن لائن فورم پر بھی کر دیا۔

اس وقت وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی اس حرکت سے واقعات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جن کے نتیجے میں میری ایلن مکمیسٹرز سے ملاقات ہوئی۔

ایلن مکمیسٹرز

وہ شخص جو مؤجد نہیں تھا

کچھ عرصہ پہلے تک اگر آپ انٹرنیٹ پر ایلن مکمیسٹرز کو وکیپیڈیا پر تلاش کریں تو آپ کو وہی مضمون ملے گا جو ایڈم نے پڑھا تھا۔

وکیپیڈیا پر موجود دیگر مضامین کی طرح اس میں بھی حوالہ جات کی بھرمار تھی تو ایسے میں اس پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوتی۔ اسی لیے اکثریت نے ایلن مکمیسٹرز کی حقیقت کو تسلیم کر لیا۔

مختلف زبانوں میں چھپنے والی ایک درجن سے زیادہ کتابوں میں ان کو ہی الیکٹرک ٹوسٹر کا مؤجد بتایا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک سکاٹ لینڈ حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی اس ایجاد اور اس کے مؤجد کا ذکر موجود تھا۔
سکاٹ لینڈ میں مکمیسٹرز ایک ہیرو بن چکے تھے۔

ایک سکول نے ان کی یاد میں باقاعدہ دن منایا جہاں بچوں کو ان کی زندگی پر مضمون لکھنے کو کہا گیا اور تصوراتی ٹوسٹر بنائے گئے۔

ایڈنبرا کے شیف سکاٹ سمتھ نے مکمیسٹر کے اعزاز میں بی بی سی کے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے ایک میٹھا بھی بنایا۔ سمتھ کا کہنا ہے کہ مکمیسٹرز کا نام ایک پروڈیوسر نے تجویز کیا تھا۔ ہماری جانب سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

سنہ 2018 میں جب بینک آف انگلینڈ نے برطانوی عوام سے سوال کیا کہ 50 پاؤنڈ کے نوٹ پر کس کی تصویر چھاپی جائے تو نامزد افراد میں مکمیسٹرز کا نام بھی شامل تھا۔ بینک آف انگلینڈ نے ہمیں بتایا کہ اب مکمیسٹرز کا نام اس فہرست سے نکالا جا چکا ہے۔

ایلن مکمیسٹرز کا نام مشہور ہوتا چلا گیا اور ایسے میں لندن میں ایک ایسا شخص تھا جو جب بھی یہ نام سنتا تو اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ جاتی۔

یہ شخص، جن کا نام ایلن مکمیسٹرز ہے، 30 سالہ ایئرو سپیس انجینیئر ہیں اور وہ قہقہ لگاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ ٹوسٹر کے مؤجد نہیں۔ ’آپ کو انٹرنیٹ پر نظر آنے والی ہر چیز پر یقین نہیں کر لینا چاہیے۔‘

میں نے سوچا کہ کہیں یہ مجھ سے ایک اور مذاق تو نہیں کر رہا۔

میں نے ان سے کہا کہ مجھے اپنے پاسپورٹ کی ایک تصویر بھجوائیں۔ ان کا نام واقعی ایلن مکمیسٹرز ہی تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک دن میرے والد نے مجھ سے کہا کہ شاید ہم ٹوسٹر کے مؤجد کے رشتہ دار ہیں۔ مجھے ان کو مایوس کرنا پڑا۔‘

دراصل وہ حقیقت جانتے تھے کیونکہ جس جگہ سے 10 سال قبل اس دھوکے کی شروعات ہوئی، وہ وہیں موجود تھے۔

مکمیسٹرز کی کہانی کیسے بنی؟

فروری 2012 میں ایلن یونیورسٹی میں لیکچر لے رہے تھے جب کلاس کو خبردار کیا گیا کہ وہ وکیپیڈیا کا حوالہ نہیں دے سکتے۔ لیکچرر نے کہا کہ ان کے ایک دوست نے خود کو ٹوسٹر کے مؤجد کے طور پر پیش کر دیا تھا۔

ایلن اور ان کے دوستوں کو یہ کہانی مضحکہ خیز لگی لیکن انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس مضمون کو درست کر دیا جائے۔ وکیپیڈیا کی خصوصیت یہ ہے کہ کوئی بھی وہاں تبدیلی کر سکتا ہے۔

ایلن کے ساتھ ہی ان کے دوست ایلکس بیٹھے تھے جنھوں نے ایڈیٹنگ کے لیے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کیں۔ ایلکس کہتے ہیں کہ ’میں نے صرف اتنی تبدیلی کی کہ دراصل ٹوسٹر کو ایلن مکمیسٹر نے ایڈن برا میں 1893 میں ایجاد کیا تھا جو دراصل میرے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا۔‘

’ہم نہیں جانتے تھے کہ ٹوسٹر کس نے ایجاد کیا۔‘
انٹرنیٹ کی ایک نئی تاریخ بن چکی تھی لیکن ایلن کو کچھ زیادہ پریشانی نہیں تھی۔

’کسی نے پہلے ہی اس مضمون میں جھوٹ گھڑا تھا۔ ہمیں لگا یہ ایک مزاحیہ بات ہے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ اتنا پھیل جائے گا۔‘

وکیپیڈیا کی سائٹ کا انحصار رضاکاروں پر ہوتا ہے کہ مضامین اور معلومات درست طریقے سے پیش کی گئی ہوں تاہم یہ معلومات کا اتنا وسیع ذریعہ ہے کہ یہاں ہر چیز کا حوالہ چیک کرنا آسان نہیں۔

انگریزی وکیپیڈیا پر 65 لاکھ مضامین ہیں اور سوا ایک لاکھ سے بھی کم ایسے رضاکار جو باقاعدگی سے ایڈیٹنگ کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

ظاہر ہے کچھ مضامین ان کی نظر سے چوک جاتے ہیں اور ٹوسٹر کے موجد کا مضمون بھی ان میں سے ہی ایک تھا۔

اس فریب کے مؤجد ایلکس بتاتے ہیں ’اس وقت تو ہم خوب ہنسے لیکن پھر ہم اس بارے میں بھول گئے۔‘
لیکن انٹرنیٹ کچھ نہیں بھولتا۔

اس دن کے بعد جس نے بھی انٹرنیٹ پر ٹوسٹر کے موجد کی تلاش کی، اسے ایلن مکمیسٹرز کا نام ملا۔ کچھ ہی عرصہ بعد ڈیلی مرر اخبار نے بھی لکھا کہ ’ایلن مکمیسٹرز کی ایجاد نے برطانوی ذہانت کو دنیا کے سامنے متعارف کروایا۔‘

ایلکس اس مذاق کو اور آگے لے گئے۔ 2013 میں ایلن مکمیسٹرز کے نام پر پورا مضمون وکیپیڈیا پر آ گیا۔

ایلکس دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ جھوٹ کب تک چل سکتا ہے اور آخر وکیپیڈیا والے اس کو پکڑ سکتے ہیں یا نہیں۔
انھوں نے اپنی ایک تصویر کو ایسا بنایا کہ وہ 18ویں صدی کی تصویر لگنے لگی۔ یہ وہی تصویر ہے جس کو دیکھ کر ایڈم شک میں مبتلا ہو گئے۔

اس وقت ایلکس کا خیال تھا کہ یہ ایک بے ضرر مذاق ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو ٹوسٹر کے موجد کے بارے میں غلط معلومات ملی ہیں تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ آپ ایک سوال کا غلط جواب دیں گے جس کا دنیا پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘

لیکن کیا واقعی ایسا ہی تھا؟

میکمیسٹرز

جلد ایلن مکمیسٹرز کا نام بطور موجد دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔ تقریبا ایک دہائی تک یہ بے ضرر مزاق حقیقت کا روپ دھار کر سب کو بیوقوف بناتا رہا اور ایلن مکمیسٹرز کی کہانی بڑے اخبارات، سرکاری حکام حتی کہ ایک امریکی میوزیم تک میں پہنچ گئی۔

جیسے جیسے لوگ ایلن مکمیسٹرز کے بارے میں بطور موجد جانتے چلے گئے، ایلکس کا فریب پیچیدہ ہوتا گیا۔

’پہلے تو ہم نے کچھ جملے ہی لکھے تھے۔ پھر میں نے معلومات میں اضافہ کیا اور مزاح کن چیزیں شامل کر دیں۔ انھوں نے لکھا کہ مکمیسٹرز نے لندن انڈر گراونڈ میں روشنیوں کا نظام بنانے میں بھی مدد کی تھی۔‘

’مختلف میڈیا فورمز پر ان غلط دعووں کو بیان کیا جاتا۔ میں ان کا حوالہ مضمون میں شامل کر دیتا تھا جس سے وہ حقائق بن جاتے تھے۔‘

شاید یہی وجہ ہے کہ مکمیسٹرز کا یہ فریب اتنا عرصہ زندہ رہا۔

سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیدر فورڈ کا کہنا ہے کہ ’جب کوئی صحافی کسی آن لائن دعوے کو دہراتا ہے تو اس کی خبر کو وکیپیڈیا پر بطور حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے۔‘

’وکیپیڈیا ان حوالہ جات کو اکھٹا کر رہا ہوتا ہے اور جیسے اس مضمون کے کیس میں ہوا کہ ایک جھوٹا دعوی کیا گیا لیکن پھر اس دعوے کے حوالے پیش کیے گئے جن کی بنیاد وہی جھوٹا دعوی تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

انٹرنیٹ پر دھوکہ: سیکس چیٹ کرنے والی پُرکشش خاتون، ممکن ہے دراصل نائجیریا میں بیٹھا کوئی مرد ہو

آن لائن فراڈ کا اگلا نشانہ کہیں آپ تو نہیں!

’پگ بچرنگ‘ کا آن لائن فراڈ جہاں جعلساز سرمائے کے ساتھ لوگوں کے جذبات سے بھی کھلواڑ کرتے ہیں‘

جب جھوٹ پکڑا گیا

برسوں تک کسی کو شبہ تک نہیں گزرا کہ یہ پوری کہانی جھوٹی تھی لیکن پھر ایڈم نے ریڈٹ پر مکمیسٹرز کی تصویر کے جعلی ہونے کا شبہ پوسٹ کر دیا۔

ایڈم کو اس وقت تک یہ علم نہیں تھا کہ صرف تصویر ہی نہیں، مکمیسٹر کی پوری کہانی حقیقت میں موجود نہیں تھی۔

لیکن ان کی پوسٹ سے ایک ایسے فورم پر بحث چھڑ گئی جہاں وکیپیڈیا پر جھوٹ پکڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہاں سے وکیپیڈیا کے ایڈیٹرز تک اطلاع پہنچی جنھوں نے 24 گھنٹوں میں اس مضمون کو ہٹانے کی تجویز دے دی۔

ایک ہفتے میں اس مضمون کے اوپر فریب کا لیبل لگایا جا چکا تھا اور ستمبر میں اس میں تبدیلی کر دی گئی جس کے بعد اگر کوئی مکمیسٹرز کی آن لائن تلاش کرے گا تو اسے یہ وکیپیڈیا پر آن لائن فریب کے تحت شامل مضامین میں ملے گا۔

جس اکاوئنٹ سے الیکس نے یہ مضمون تحریر کیا تھا اس کو بھی بلاک کر دیا گیا۔ وکیمیڈیا فاونڈیشن، جو وکیپیڈیا کو چلاتی ہے، نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایسے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔

ان کے مطابق وہ جانتے ہیں کہ غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے تاہم سائٹ کو مدیروں اور مشینی ٹولز کی مدد سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔

ٹوسٹر کا اصل موجد کون تھا؟

اس کہانی کی تہہ تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ میں نے یورپ، امریکہ میں بہت سے لوگوں سے بات کی۔

متعدد ذرائع کے مطابق سب سے پہلے1909 میں امریکہ میں جنرل الیکٹرک کمپنی کی طرف سے فرینک شیلر نے ایک کامیاب ٹوسٹر کے پیٹنٹ کی درخواست دی تھی۔

ڈی 12 نامی اس ٹوسٹر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ صارفین کے لیے دستیاب یہ پہلا ٹوسٹر تھا۔

ریبیکا ڈولوجی کینیڈا کے سائنس میوزیم میں کیوریٹر ہیں جہاں ایسے دو ٹوسٹر موجود ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’یہ ایک بہترین ایجاد تھی۔ آپ ایک ٹوسٹ ڈالتے تھے تو اس کا ایک رخ ہی گرم ہوتا تھا۔ پھر آپ کو دوسرے رخ پر دوبارہ رکھنا پڑتا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹوسٹر میں دلچسپی اس لیے رکھتی ہیں کیونکہ ’وہ ایک مفید چیز ہے لیکن اس لیے بھی کہ ان کی وجہ سے ہم کئی کہانیاں سنا سکتے ہیں۔‘

اور ایلن مکمیسٹرز کی کہانی بھی ان میں سے ایک ہے۔ بس یاد رکھیں کہ یہ سچی کہانی نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26813 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments