کیا حقیقی معنوں میں ہم ٹیچر ہیں؟


معاشرے سے باغی شخص ہی حقیقی استاد ہو سکتا ہے۔ عام طور پر ہم یہی سمجھتے ہیں کہ جب ایک استاد اپنے سٹوڈنٹس کو معاشرے کے رسم و رواج اور اندھے اعتقادات کی تقلید سکھانے میں کامیاب ہو تو اسے ہم بہت بڑا اور قابل احترام استاد تصور کرتے ہیں۔ جو انسان کی فرسودہ روایات کو بچوں کے ذہن میں بھر دینے میں کامیاب ہو۔ جو بچوں کو بیکار ڈسپلن کا پابند بنا سکے۔ جو سٹوڈنٹس کو یہ باور کرا سکے کہ ان کی ذات، نسل، قوم اور مذہب دوسروں سے بہتر ہیں اور ان میں تعصبانہ خیالات کو پروان چڑھائے۔ ان کے اندر آزادی کی خواہش کو ختم کرنے میں کامیاب ہو اور ان کو غلامانہ سماج کے اندر خود کو ایڈجسٹ کرنا سکھائے۔

اس کے بدلے میں استاد کو ملتا کیا ہے؟

عزت و احترام اور ایک چھوٹی سی تنخواہ جس سے وہ اپنا گزر بسر کرسکے۔ اس کے علاوہ بے شمار پابندیاں جو اسے ایک انسان سے فرشتہ بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ استاد اس لئے قابل احترام ہے کہ ملک کے حاکم اور پرانی سوچ کے لوگ جو خود کو معاشرے کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں وہ استاد سے وہی کام کرواتے ہیں جو خود نہیں کر سکتے۔ بقول گرو رجنیش:

”اگر باپ ہندو ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا ہندو بنے اور مسلمان چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کے مرنے سے پہلے مسلمان بنے۔ اپنے عقائد ان کے ذہنوں میں پوری طرح منتقل کردے تاکہ وہ ان اختلافات کو مزید بڑھاتا رہے۔ اور یہ کام ٹیچرز انجام دیتے ہیں۔ پرانی نسل کے لوگ اپنے اندھے یقین کو نئی نسل کے ذہنوں میں ٹھونس دینا چاہتے ہیں۔ اپنے صحیفوں، اپنے مذہبی پیشواؤں، غرض ہر چیز نئی نسل کو منتقل کرنا چاہتے ہیں اور یہ کام سکولوں کے استادوں کے ذریعے انجام پذیر ہوتا ہے۔“ (تعلیمی انقلاب، از گرو رجنیش)

ایک استاد کی حیثیت سے میں بھی ہمیشہ محسوس کرتا ہوں کہ جو میں پڑھا رہا ہوں اس سے سٹوڈنٹس کی کوئی ذہنی تربیت نہیں ہو رہی ہے بلکہ الٹا ان کی صلاحیتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور ان کو اندھی تقلید کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ان کے ذہنوں کی کھڑکیاں بند رہیں اور نئی سوچ جو ان کے معاشرتی روایات اور عقائد کے برعکس ہو اس کے لئے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ تاکہ وہ معاشرے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا سوچ نہ سکیں۔

اور یہ سارا کام استاد سر انجام دیتے ہیں۔
اسی حوالے سے جے۔ کرشنا مورتی لکھتے ہیں :

استاد کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ بچوں فیکٹس اینڈ فیگرز پڑھائے۔ یہ کام تو کوئی بھی کر سکتا ہے جو ان چیزوں سے واقف ہو۔ استاد کو پہلے خود اس لیول تک پہنچنا چاہیے کہ وہ معاشرتی، سماجی، سیاسی اور علاقائی روایات اور پابندیوں سے بالاتر ہو کر سوچے اور ہر معاملے پر سٹوڈنٹس کو سوچنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کی ترغیب دے۔ تب وہ اپنے سٹوڈنٹس کی تربیت کر سکتا ہے۔

اگر یہ بات مان لی جائے تو ہمارے ہاں استاد وہی کام کر رہے ہیں جو ان سے کروائی جاتی ہے۔ حقیقی معنوں میں ہم ٹیچر کہلانے کے قابل ہی نہیں ہیں۔

”میرے نزدیک ایک شخص اسی وقت ٹیچر ہو سکتا ہے اگر اس کے اندر سرکشی کی طاقتور لو (آگ) روشن ہو۔

ایک ٹیچر کے اندر اگر سرکشی کی آگ روشن نہ ہو تو پھر وہ استاد کی بجائے ایک ایجنٹ ہو گا۔ خواہ وہ کوئی پالیسی ہو، کوئی مفاد ہو۔ یہ پالیسی یا مفاد سوسائٹی کا ہو سکتا ہے، مذہب اور سیاست کا بھی۔ ہر ٹیچر کے اندر سرکشی کی روشن آگ کا ہونا بہت ضروری ہے جو اس کی سوچ اور عمل سے ظاہر ہو۔ ” (تعلیمی انقلاب، از گرو رجنیش)

ہمارے تعلیمی ادارے اور ہماری اساتذہ کا یہی حال ہے۔ ہم بجائے برداشت، محبت اور رواداری کے بچوں کو بس یہی سکھاتے ہیں کہ یہ مقابلے کی دنیا ہے جو جتنا زیادہ محنت کرے گا اتنا کامیاب ہو گا۔ در اصل یہ کامیابی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے تعصب، نفرت، عدم برداشت کے احساسات جنم لیتے ہیں جو معاشرے کی تباہی کے علاوہ ہمیں اور کچھ نہیں دے سکتے۔

اس لئے اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں حقیقی معنوں میں ٹیچر بننا ہے یا سوسائٹی کا صرف ایک تنخواہ دار ملازم ہی رہیں گے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عبداللہ شوہاز کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments